بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

بھائی کو ہبہ میں ملی ہوئی جائیداد میں بہن حصّہ دار نہیں ہوگی

بھائی کو ہبہ میں ملی ہوئی جائیداد میں بہن حصّہ دار نہیں ہوگی

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ زید کے دوبیٹے خالد اور بکر اور ایک بیٹی فاطمہ ہے،زید نے اپنی حیات میں  اپنی بیٹی کو حصہ دے دیا ،جو کہ شرعی وراثت کے  اعتبار سے کم تھا،لیکن فاطمہ نے بخوشی قبول کرلیا،بعد ازاں  زید نے پوری  ملکیت عبداللہ کے حوالے کردی جو کہ اس کا بھتیجا ہے، اور زید نے اسے یہ کہہ کر ملکیت حوالے کی کہ یہ پوری ملکیت تمہاری ہے،اس میں میرے بچوں کا کوئی حصہ نہیں،عبداللہ نے اس وقت  زمین پر قبضہ کیا ،لیکن وہ غیر آباد  زمین تھی۔

زید کے انتقال کے بعد عبداللہ نے وہ پوری ملکیت  زید کے بیٹے خالد حوالے کردی اور فاطمہ نے بھی وہ حصّہ جو کہ زید نے اپنی حیات میں اسے دیا تھا،خالد کے حوالے کردیا خوشی سے دستخط کے ساتھ،اب فاطمہ بیس سال بعد وراثت کا دعوی کررہی ہے،اپنے بچوں کے کہنے پر تو آیا اس کو میراث ملے گی، یا نہیں؟اگر ملے گی تو کس حساب سے؟ ازسر نو میراث کو تقسیم کیا جائے گا یا  وہ حصّہ  جو زید نے اپنی  حیات میں دیا جس کو خالد کے حوالے کردیا اور یہ بھی وضاحت فرمائیں کہ زید کا اپنی حیات میں اپنی بیٹی کو حصّہ دینا اس کا اعتبار کیا جائے گا ، یا نہیں؟نیز زید کا دوسرا بیٹا بکر بچپن میں انتقال کرگیا تھا۔ اس مسئلے میں راہنمائی فرمائیں ۔ شکریہ

جواب 

  صورت مسئولہ میں اگر واقعی زید نے اپنے بھتیجے عبد اللہ کو  باقی زمین ہبہ کردی ،اور مالکانہ اختیارات کے ساتھ اس میں تصرف کرنے کا حق بھی دیا ہو،اگر چہ عبداللہ نےاس میں تصرف نہ بھی کیا ہو،تب  بھی عبداللہ اس زمین کا مالک بن گیاہے،لہذا جب عبداللہ نے اپنی مرضی سےمذکورہ زمین  زید مرحوم کے  بیٹےخالد کےحوالے کردی ،تواب اس زمین میں فاطمہ کی وراثت کا کوئی حق نہیں ہے۔

     اور زید نے اپنی حیات میں اپنی بیٹی کو جو حصہ دیا تھا اس کا اعتبار کیا جائے گا،اس حصے کی فاطمہ مالک بن گئی تھی ،لیکن جب اس نے اپنی رضامندی سے اپنے بھائی خالد کو وہ زمین دی ،تو اب اس زمین میں اس کا کوئی حق باقی نہیں رہا،لہذا فاطمہ یا اس کے بچوں کا پوری جائداد یا  اپنے حصے میں وراثت کا دعوی کرنا شرعا درست نہیں۔

 لما في شرح المجلة:

والمختار أن القبض يحصل بالتخلية في الهبة الصحيحة لا في فاسدها.(الباب الأول،المادة:837،ج:1/463،دار الكتب)

وفي الرد:

وحاصله: أن التخلية قبض حكما لو مع القدرة عليه بلا كلفة.(كتاب البيوع،مطلب:في شروط التخلية،  7/96،رشيدية)

وفي المحيط البرهاني:

       في «فتاوي أبي الليث» رجل قال لختنه بالفارسية :اين زمين ترا،فاذهب وازرعها إن كان قال الختن عندما قال هذه المقال: قبلت صارت الأرض له، وإن لم يقل قبلت لا شيء له.

(كتاب الهبة،الفصل الثاني:فيما يجوز من الهبة وما لا يجوز،9/173،إدارة القرآن)

       وفي البدائع:

            وعلى هذا يخرج ما إذا وهب أرضا فيها زرع دون الزرع أو شجرا عليها ثمر دون    الثمر أو وهب الزرع دون الأرض أو الثمر دون الشجر وخلى بينه وبين الموهوب له أنه لا يجوز لأن الموهوب متصل بما ليس بموهوب اتصال جزء بجزء فمنع صحة القبض(كتاب الهبة،فصل في شرائطها،8/109، دار الكتب العلمية) فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر:170/279