بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

بچیوں کو میراث دینے کا حکم

بچیوں کو میراث دینے کا حکم

سوال

 کیا فرماتے علمائے کرام ومفتیان عظام مندرجہ ذیل مسئلے کے بارے میں کہ ہمارے ہاں آزاد کشمیر میں آزادی سے قبل ڈوگرہ شاہی کے دورمیں جس عورت کی شادی ہو جاتی تھی، اس کو والد کی وراثت سے حصہ نہیں دیا جاتا تھا اور جو عورت غیر شادی شدہ ہوتی اس کو والد کی میراث سے حصہ دیا جاتا تھا، والد کی وفات کے بعد جب انتقال تصدیق کرایا جاتا تو صرف غیر شادی شدہ لڑکیوں کے نام لکھے جاتے کاغذات میں (شادی شدہ کا نام نہیں لکھا جاتا تھا)، اب معلوم یہ کرناہے کہ یہ طریقہ کار شریعت کی رو سے درست ہے یا نہیں؟؟

اگر یہطریقہ درست نہیں تو وہ عورتیں جو ڈوگرہ شاہی کے دور میں شادی شدہ ہونے کی وجہ سے اپنے حق وراثت سے محروم کر دی گئیں، کیا ان کی اولادیں اپنی ماؤں کے حصوں کا مطالبہ کر سکتی ہیں یا نہیں؟؟

او راگر ان کو مطالبے کا حق حاصل ہے تو کیا ان کے ماموں وغیرہ یا جن رشتہ داروں کے پاس ان کی وراثتیں موجود ہیں ان کے بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب

زمانہ قدیم سے یہ رواج چلا آرہا ہے کہ عورتوں کو میراث سے محروم کیا جاتا ہے، ان کو ان کا حصہ نہیں دیا جاتا ہے، جب کہ یہ بہت ظلم او رناانصافی کی بات ہے، حالاں کہ قرآن پاک میں ا لله تعالیٰ نے جس طرح مردوں کا حصہ متعین کیا ہے،اسی طرح عورتوں کا حصہ بھی متعین کیا اور اس میں کچھ فرق نہیں کیا کہ شادی شدہ ہوں یا غیر شادی شدہ ہوں، سب کو حصہ ملے گا، لہٰذا صورت مسئولہ میں ڈوگرہ شاہی کے د ور میں شادی شدہ عورتوں کو میراث سے محروم کیا جانا درست نہیں تھا اور اب اولادیں اپنی ماؤں کے حصوں کا مطالبہ کر سکتی ہیں اور ان کے وہ ورثاء جن کے پاس وراثتیں ہیں ان بچوں کو ان کی ماؤں کے حصے دینے کے پابند ہیں، بصورت دیگر وہ غاصب شمار ہوں گے اور سخت وعیدوں کے مستحق ٹھہریں گے۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی