بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

بوڑھے بیمار شخص کو نماز میں تلقین کرنا

بوڑھے بیمار شخص کو نماز میں تلقین کرنا

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس   مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی بوڑھا ہونے کی وجہ سے نماز میں غلطی کرتا ہے،اگرکوئی  بتائے  پھر بھی غلطی کرتا ہے،اب اس بوڑھے شخص کو  وتر جماعت کے ساتھ رمضان المبارک کے علاوہ پڑھنا کیسا ہے؟

یا کوئی نماز سے باہر غلطی بتائے کہ اب دعائے قنوت پڑھو، تو کیا یہ طریقہ ازروئے شریعت درست  ہے؟ مدلل جواب عنایت فرمائیں۔

 

جواب

:      واضح رہے کہ وتر کی جماعت تراویح کی جماعت کے تابع ہے ، اس لیے یہ رمضان المبارک کے ساتھ خاص ہے، رمضان المبارک کے علاوہ وتر  کی جماعت کرنا مکروہ ہے، نیز  اگر ایسا بوڑھا  یا بیمار شخص جو نماز میں غلطی کرتا رہتا ہے، جب تک نماز سے باہر والا شخص اس کو نہ بتائے تب تک وہ غلطی کرتا  رہے گا، تو  نماز سے باہر والے شخص کے بتائے بغیر  اگرکوئی چارہ کار نہ ہو ، تو ایسے بوڑھے  یا بیمار شخص کے  لیے  تلقین کرنے کی گنجائش ہے۔

وفي الهندية:

ويوتر بجماعة في رمضان فقط عليه إجماع المسلمين كذا في التبيين الوتر في رمضان بالجماعة أفضل من أدائها في منزله وهو الصحيح هكذا في السراج الوهاج.

(كتاب الصلاة: الباب التاسع في النوافل:فصل في التراويح:1/176،ط: دارالفكر)

وفي الرد مع الدر:

ولوكان يشتبه على المريض أعداد الركعات أو السجدات لنعاس يلحقه لا يلزمه الأداء ولو أداها بتلقين غيره ينبغي أن يجزئه.

قوله ( ينبغي أن يجزيه ) قد يقال إنه تعليم وتعلم وهو مفسد كما إذا قرأ من المصحف أو علمه إنسان القراءة وهو في الصلاة. قلت وقد يقال إنه ليس بتعليم وتعلم بل هو تذكير أو إعلام فهو كإعلام المبلغ بانتقالات الإمام فتأمل  قوله ( كذا في القنية ) الإشارة إلى ما ذكره المصنف والشارح.

(كتاب الصلاة: باب صلاة المريض:2/538-540،ط: رشيدية) ۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 168/323