بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

بعض سورتوں کو ثلث قرآن یا ربع قرآن کہنے کے معنی

بعض سورتوں کو ثلث قرآن یا ربع قرآن کہنے کے معنی

سوال

… کیا فرماتے ہیں مفتیان ِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ قرآن شریف کی بعض سورتوں کے فضائل کے بارے میں ہے کہ اگر انہیں تین دفعہ یا چار دفعہ پڑھا جائے تو پورا قرآن پڑھنے کا ثواب ملتا ہے یا فلانی سورت قرآن کا دل ہے تو اس سے کیا مراد ہے اور علمائے دین اس بارے میں کیا کہتے ہیں؟

جواب

…جن احادیث میں قرآن کریم کی بعض سورتوں کو ثلث (تہائی) قرآن یا ربع (چوتھائی) قرآن قرار دیا گیا ہے ان احادیث کی علمائے کرام نے مختلفتوجیہات بیان فرمائی ہیں، جن میں سے کچھ ذیل میں نقل کی جاتی ہے:

الف۔ سورہ اخلاص کو ثلث قرآن فرمانے کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کریم میں تین قسم کے علوم کا بیان ہے: علم توحید، علم شرائع اور تزکیہ اخلاق کا علم۔ اور سورہ اخلاص میں چوں کہ اول الذکر: علم توحید کا بیان ہے، اس بنا پر اسے ثلث (تہائی قرآن فرمایا گیا اور سورہ کافرون یا ایک روایت کے مطابق سورہ زلزال کور بع قرآن فرمانے کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کریم میں بنیادی طور پر چار امور خصوصیت کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں : توحید، نبوّت، احکام معاش اور احکام معاد۔ اور سورہ زالزال میں چوں کہ آخر الذکر: احکام معاد (آخرت کے احکام) کا بیان ہے اور سورہ کافرون میں اول الذکر: توحید کا بیان ہے، اس بنا پر انہیں ربع (چوتھائی) قرآن فرمایا گیا ہے۔

ب۔ جو ان سورتوں میں مذکور جلیل القدر معانی پر عمل کرے وہ ایسا ہے کہ جیسے اس نے قرآن کا تہائی یا چوتھائی حصہ پڑھ لیا۔

ج۔ ان سورتوں کے ایک مرتبہ پڑھنے سے تہائی قرآن یا چوتھائی قرآن کے پڑھنے کا ثواب ملتا ہے، لیکن یہ ثواب بغیر تضعیف کے ہے، بغیر تضعیف کے معنی یہ ہیں کہ تہائی قرآن یا چوتھائی قرآن کے پڑھنے کا حقیقی اجر تو مل جائے گا، لیکن اس کے علاوہ جو اجر ہے، یعنی قرآن کے ہر ہر حرف پر دس نیکیوں کا ملنا ، وہ نہیں ملے گا۔

د۔ تہائی یا چوتھائی قرآن پڑھنے کے ثواب کی فضیلت اس صحابی کے ساتھ خاص ہے جس کو آپ صلی الله علیہ وسلم نے یہ حدیث ارشاد فرمائی تھی اور یہ ان صحابی کی خصوصیت ہے۔

ہ۔ بعض حضرات علمائے کرام کی رائے یہ ہے کہ اس جیسی احادیث کی کوئی توجیہ نہ بیان کی جائے، بلکہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے جس طرح ارشاد فرمایا بلاکم وکاست اسی طرح اس پر یقین رکھا جائے۔

جہاں تک ان احادیث کا تعلق ہے جن میں سورہ یس کو قرآن کریم کا دل فرمایا گیا ہے تو دل سے مراد مغز اور خلاصہ ہے، یعنی سورہ یس قرآن کا مغز اور اس کا خلاصہ ہے او راس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کا ایک بنیادی اور بڑا مقصد انسان کوآخرت اور احوال آخرت کی ہمہ وقت یاددہانیہے اور سورہ یس میں جس شستہ پیرایے میں آخرت اور احوال آخرت کا نقشہ کھینچا گیا ہے ویسا کہیں اور نہیں، اس واسطے اس سورت کو قرآن کا دل یعنی اس کا مغز اور خلاصہ فرمایا گیا۔ یا سورہ یس کو قرآن کا دل فرمانے کے معنی یہ ہیں کہ اس کے پڑھنے سے اور اس کے معانی میں غور کرنے سے مُردہ دل زندہ ہو جاتے ہیں اور غفلت سے طاعت اور عبادات کی طرف پھر جاتے ہیں۔