بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

بارہ سال کے لڑکے سے پردہ کرنے کاحکم

بارہ سال کے لڑکے سے پردہ کرنے کاحکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے کہ میرے سسرال میں تمام نامحرموں سے شرعی پردہ ہے، لیکن اب سوال یہ ہے کہ میرے جیٹھ کا بیٹا جو گیارہ سال کا ہے اور دماغ سے بھی اتنا عقل مند نہیں ہے او رگھر میں ہروقت ہوتا ہے، ہر جگہ آتا جاتا رہتا ہے تو کیا اس کے بارہ سال پورے ہونے پر مجھے اس سے بھی مکمل شرعی پردہ کرنا فرض ہے؟ جب کہ میرا شوہر بھی اس بچے سے پردہ کرنے میں میرے خلاف ہے، یا میرے لیے اس عذر میں کوئی گنجائش ہے؟

جواب

واضح رہے کہ بارہ سال کے بعد جب بھی بلوغت کی علامات ظاہر ہو جائیں جیسے، احتلام وغیرہ، تو پھر بچہ بالغ سمجھا جائے گا، اگر علامات ظاہر نہ ہوں تو پھر پندرہ سال پورا ہونے پر بالغ سمجھا جائے گا، لیکن فقہاء کرام نے دس سال کے لڑکے کو مراھق ومشتھی قرار دیا ہے، کیوں کہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے دس سال کی عمر کو حدّ شہوت قرار دیا ہے اور فرمایا ہے کہ :”جب تمہاری اولاد سات سال کی ہوجائے تو تم ان کو نماز کا حکم دو اور جب دس سال کی ہو جائے تو نماز نہ پڑھنے پر ان کی پٹائی کرو اور ان کے بستر الگ کردو۔”

مذکورہ حدیث میں دس سال کی عمر میں بستر الگ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، جس کی عِلت شہوت کا احتمال ہے، لہٰذا دس سال کی عمر میں بھی پردہ کرنا چاہیے، تاہم بچے کی جسمانی حالت ، نشو ونما اور ماحول کے اعتبار سے پردہ کی عمر میں کمی بیشی ہوسکتی ہے، آخر حد بلوغت پندرہ سال ہے، لہٰذا پندرہ سال کی عمر کے بچے سے پردہ بہرحال لازم اور ضروری ہے۔  فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی