بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

اہل میت کے یہاں تین دن تک کھانا لے جانے کو لازم سمجھنا

اہل میت کے یہاں تین دن تک کھانا لے جانے کو لازم سمجھنا

سوال

 کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مسئلہ ہذا کے بارے میں کہ ہمارے ہاں جب کوئی میت ہو جاتی ہے، میت کی تدفین کے بعد لوگ مستقل طور پر تین دن تک میت کے گھر کھانا لے جانے کو ضروری سمجھتے ہیں اور اس میں میت کے تمام اقارب بھی شریک ہوتے ہیں، اگر کوئی نہ کرے تو اس کو طعنہ دیا جاتا ہے ۔

کیا شریعت میں اس کی گنجائش ہے ؟ کیا مستقل طور پر تین دن تک کھانا لے جانا ضروری ہے ؟ کھانا نہ لے جانے والے کو طعنہ دینا، اس چیز کو اپنے اوپر لازم کرکے دین سمجھنا کس حد تک درست ہے ؟

قرآن وحدیث کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ اہل میت کے پڑوسیوں اور دور کے رشتہ داروں کے لیے مستحب ہے کہ وہ ایک دن ایک رات کا کھانا تیار کرکے میت والوں کے یہاں بھجیں، ایک دن کے بعد دوسرے یا تیسرے دن کھانا لے جانے کو لازم اور دین سمجھنا بے اصل، خلافِ شرع اور بدعت ہے اور اسی طرح کھانا نہ لے جانے والے کو طعن وتشنیع کا نشانہ بنانا بھی ہر گز مناسب نہیں، بلکہ سراسر جہالت ہے، اس سے مکمل اجتناب کیا جائے۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی