بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

اپنی دادی کا دودھ پینےسےرضاعت ثابت ہوجائے گی

اپنی دادی کا دودھ پینےسےرضاعت ثابت ہوجائے گی

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ میرے بڑے بھائی نے میری دادی کا دودھ پیا ہے، جب کہ میرے دادا جان کا وصال تقریباً بیس سال  پہلے ہوچکا  تھا، اب کیا اس صورت میں رضاعت ثابت ہوگئی یا نہیں؟

       اور اگر ہوگئی تو صرف اسی دادی کی اولاد سے ہوگئی  یا میرے دادا  کی وہ اولا  جو اس دادی کے علاوہ  دوسری دادی سے  ہیں، اس سے بھی ہوگی؟

وضاحت:ڈیڑھ سال کی عمر میں دودھ پیا تھا، دادی کے پستانوں میں اس وقت دودھ موجود تھا،  دادانے دو شادیاں کی تھیں۔

جواب

صورت مسئولہ میں آپ کے بھائی نے اپنی دادی کا دودھ چونکہ مدت رضاعت کے اندر (جو کہ دو سال ہوتی ہے) پیا ہے،اس لئے رضاعت ثابت ہو گئی ،اور دونوں دادیوں (حقیقی اور سوتیلی )کی اولاد اس کے رضاعی بہن بھائی ہیں لہذا ان سے نکاح جائز نہیں۔

لما في التنوير:

     (هو)...(مص من ثدي آدمية)... (في وقت مخصوص)...(حولان ونصف عنده وحولان) ...(عندهما وهو الاصح). (باب الرضاع،4/387،ط:رشيدية)

و في البحر:

     و حرم به و ان قل في ثلاثين شهر اما حرم منه بالنسب اي حرم بسب الرضاع ما حرم به النسب قرابة و صهرية في هذه المدة.(كتاب الرضاع،3/388، ط:رشيدية)

وفي تحفة الفقهاء:

     و أولاده من غير المرضعة اخوة و اخوات له الأب.(باب الرضاع،1/329، ط:رشيدية)

و في فتح القدير:

    و كل صبيين اجتمعا علي ثدي واحدة لم يجز لأحدهما أن يتزوج بلأخري ) هذا هو أصل لأن أمهاواحدة فهما أخ و أخت.(كتاب الرضاع،3/431،ط:دار الكتب العلمية)

و في الدر المختار:

     ولا حل بين الرضيعة وولد مرضعتها وولدها،للأنه ولد الأخ.(باب الرضاع،3/217،ط:سعيد)  فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر:171/251