بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

آئندہ مجھ سے پردہ کروگی کے لفظ سے طلاق

آئندہ مجھ سے پردہ کروگی کے لفظ سے طلاق

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے اپنی بیوی سے کہا بطور ڈرانے کے کنائی الفاظ سے استعمال کرکے  “  آئندہ مجھ سے پردہ کرو گی” حالانکہ اس سے میری نیت طلاق کی بالکل بھی نہیں تھی،اور نہ ہی مذاکرہ طلاق کی حالت تھی، تو آیا  طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں؟

 

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ الفاظ سے بغیر نیت کے طلاق بائن واقع ہو جائے گی،اس بناء پر اگر آپ اپنی زوجہ کو ساتھ رکھنا چاہتے ہیں تو آپ کے لیے عدت کے دوران یا عدت کے بعد نکاحِ جدید کر کے ان کو اپنے ساتھ رکھنا جائز ہوگا، یاد رہے کہ اس کے بعد آپ کے پاس فقط دو طلاقو ں کا حق باقی رہے گا۔

لما في الشامية:

وفي البحر عن شرح قاضيخان لو قال استتري مني خرج عن كونه كناية اه وهل المراد عدم الوقوع به أصلا أو أنه يقع بلا نية والظاهر الثاني وعليه فهل الواقع بائن أو رجعي والظاهر البائن لكون قوله مني قرينة لفظية على إرادة الطلاق بمنزلة المذاكرة     (كتاب الطلاق، باب الكنايات،4517، رشيدية)

وفي البحر الرائق:

واقتصر على قوله استتري فأفاد أنه لو قال استتري مني خرج عن كونه كناية كما ذكره قاضي خان في شرح

 (كتاب الطلاق، باب الكنايات،3525، رشيدية)۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 169/91