بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

اولاد کا نفقہ والد پر لازم ہے یا نہیں؟

اولاد کا نفقہ والد پر لازم ہے یا نہیں؟

سوال

 کیا فرماتے ہیں علماء کرام مفتیان عظام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک آدمی کے پاس مال کثیر ہو اور ساتھ ساتھ کاروبار تجارت بھی ہو اور ایک سرکاری نوکری بھی ہو، تقریباً اس کی تنخواہ چالیس ہزار تک ہو، لیکن یہ آدمی اپنے بیوی اور بچوں پر خرچ نہیں کرتا او راپنے اوپر کافی خرچ کرتا ہو اور ساتھ فریضہ حج بھی ادا نہیں کرتا او ربڑے بیٹوں کی شادی بھی نہیں کرتا، اوراگر کسی ایک بیٹے کی شادی کرادی تو بعد میں اس سے شادی کے خرچ کا مطالبہ کرتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ بیٹوں اور بیٹیوں کا میرے اوپر کوئی حق نہیں ہے، یاد رہے کہ اولاد بالغ اور نابالغ دونوں طرح ہے، تو مذکورہ صورت میں بیٹوں کا اپنے باپ پر حق ہے یا نہیں؟

جواب

 بیوی کا نان نفقہ شوہر کے ذمے واجب ہے، اولاد کے نفقہ میں تفصیل یوں ہے کہ شادی ہو جانے تک بیٹیوں کا نفقہ ہر حال میں والد کے ذمے ہے، چاہے وہ بالغ ہوں یا نابالغ، جب کہ بیٹے اگر نابالغ ہوں تو ان کا خرچ اٹھانا والد کی ذمے داری ہے، او ربالغ بیٹے اگر کسی عذر کی وجہ سے خود کما کر کھانے پر قادر نہ ہوں تب تو ان کا نفقہ والد کے ذمے ہے، ورنہ نہیں۔

اس تفصیل کے بعد یہ بھی جان لینا چاہیے کہ نفقہ کی طرح بچوں کی بر وقت شادی کرانا بھی والدین کی ذمے داری ہے ،البتہ اگر بالغ بیٹے کمانے کے قابل ہوں مگر پھر بھی والد خود ہی ان کی شادی بیاہ کا خرچ برداشت کرے تو بعد میں اسے واپسی کے مطالبہ کا حق نہ ہو گا۔

گھر والوں پر خرچ کرنے کی احادیث میں ترغیب وارد ہوئی ہے ، لہٰذا صاحبِ وسعت آدمی کو چاہیے کہ اس معاملہ میں بخل سے کام نہ لے۔ ساتھ ہی اگر وہ فریضہٴ حج پر بھی قادر ہو، تو بلاعذر اس میں تاخیر کرنا گناہ ہے۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی