بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

اوجھڑی اور جھینگا کی خرید و فروخت اور ان کو کھانے کا حکم

اوجھڑی اور جھینگا کی خرید و فروخت اور ان کو کھانے کا حکم

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ

۱۔ اوجڑی کے بارے میں  کہ آیا گائے ،بکرے ْاونٹ وغیرہ کی اوجڑی حلال ہےیاحرام ؟اگر حلال ہے تو اس کو فروخت کرنا اور کھانا کیسا ہے؟

۲۔ نیز جھینگا کا کیا حکم ہے ؟ آج کل اس کو فروخت کیا جاتا ہے اور کھایا بھی جاتا ہے، کیا اس کو فروخت کرنے اورکھانے کو عرف سمجھا جائے گا کہ جس کی وجہ سے حلت کا حکم لگایا جاسکے

جواب

۱۔  اوجڑی کا کھانا حلال ہے، نہ مکروہ ہےاور نہ حرام۔

۲۔ ”جھینگا“  جس کو اربیان بھی کہتے ہیں ،بعض حضرات نے اس کو مچھلی کی ایک قسم قرار دے کر حلال کہا ہے اور بعض  حضرات نے اس کو حرام کہا ہے، لہذا  احیتاط اسی میں ہے کہ اسے نہ کھایا جائے ۔

لما في تنوير مع الدر:

" ( كره تحريما ) وقيل تنزيها والأول أوجه ( من الشاة سبع الحياء والخصية والغدة والمثانة والمرارة والدم المسفوح والذكر ) للأثر الوارد في كراهة ذلك "(كتاب الخنثى،مسائل شتى:10/513،ط:رشيدية)

وفي البدائع:

" وأما بيان ما يحرم أكله من أجزاء الحيوان المأكول  فالذي يحرم أكله منه سبعة الدم المسفوح والذكر والأنثييان ( ( ( والأنثيان ) ) ) والقبل والغدة والمثانة والمرارة لقوله عز شأنه { ويحل لهم الطيبات ويحرم عليهم الخبائث } وهذه الأشياء السبعة مما تستخبثه الطباع السليمة فكانت محرمة"(كتاب الذبائح والصيود،فصل فيما يحرم أكله من أجزاء الحيوان:6/273،ط:دارالكتب)

وفي تكملة فتح الملهم:

"فلا ينبغي التشديد في مسئلة الروبيان عند الإفتاء،وسيما في حالة كون المسئلة مجتهدا فيها من أصلها،ولا شك أنه حلال عندالأئمة الثلاثة، واختلاف الفقهاء يورث التخفيف،كما تقر في محله غير أن الاجتناب عن أكله أحوط"

( كتاب الصيدوالذبائح،باب اباحةميتات البحر:3/515،ط:دار العلوم كراتشي) فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر:171/102,103