بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

انعامی بانڈ کا حکم

انعامی بانڈ کا حکم

سوال

 کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ انعامی بانڈ اسلام میں جائز ہے کہ نہیں؟ اگر جائز نہیں ہے تو وضاحت کریں، کیوں کہ میرا ایک بھائی ہے اور وہ اسے جائز سمجھتا ہے اور دلیل ایک بریلوی بیان کو پیش کرتا ہے، آپ راہ نمائی فرمائیں اور جواب جلدی دے کر مشکور فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ انعامی بانڈ کے ممبران کا حکومت کو دی گئی رقم کی شرعی حیثیت”قرض“ کی ہے اور جس قرض پر زیادتی مشروط ہو تو وہ از روئے شرع سود ہونے کی بنا پر حرام ہے، لہٰذا انعامی بانڈ میں انعام کے نام سے جو اضافی رقم ملتی ہے و ہ سود ہے اور چوں کہ ہر شخص اس اضافی رقم کے حصول کے لیے اس میں اپنی رقم لگاتا ہے، لیکن اضافی رقم صرف ان  کو ملتی ہے، جن کے نام کا قرعہ نکل آئے تو یہ جوّے کے مشابہ ہوا۔ سود اور جوّا دونوں شریعت کی رو سے ناجائز اور حرام ہیں، لہٰذا انعامی بانڈز کی خرید وفروخت بھی ناجائز اور حرام ہے۔

نیز اس سے حاصل شدہ اضافی رقم چوں کہ حرام ہے، اس لیے اس کا استعمال بھی جائز نہیں، بلکہ ثواب کی نیت کیے بغیر اس کا صدقہ کرنا واجب ہے اور رہی بات خریدے گئے انعامی بانڈ کی، تو اس کو واپس کرکے اصل رقم لینا جائز ہے۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی