بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

انسانی، حیوانی اور نباتاتی کلوننگ کا حکم

انسانی، حیوانی اور نباتاتی کلوننگ کا حکم

سوال

 کیا فرماتے ہیں علمائے کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ انسانی، حیوانی اور نباتاتی کلوننگ کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ ”انسانی کلوننگ“ درج ذیل مفاسد کا سبب اور ذریعہ ہے، اس لیے جائز نہیں:
1..منشائے خداوندی کے خلاف ایک غیر فطری عمل ہے۔
2..الله تعالیٰ کی خلقت کو بگاڑنا ہے، جوکہ ایک شیطانی فعل ہے، شیطان نے جنت سے نکلتے وقت کہا تھا:” میں انہیں (انسانوں کو) حکم دوں گا کہ وہ الله تعالیٰ کی تخلیق میں تبدیلی کریں۔“ (سورة النساء، آیت:119)
3..”عبث فی خلق الله“ کے زمرے میں د اخل ہے۔
4..انسان کی اہانت لازم آتی ہے، جب کہ اہانت سے منع کیا گیا ہے اور تکریم کا حکم ہے۔
5..شریعت کے بے شمار اصولوں سے روگردانی ہے۔
6..تناسل کی غرض سے نکاح کی طرف احتیاج کم ہو گا، کیوں کہ کلوننگ کو اس غرض کے لیے کافی سمجھا جائے گا، جو کہ سنت نبوی (نکاح) سے اعراض کی ایک صورت ہو گی ۔
7..اس عمل کے تحت پیدا ہونے والا بچہ اپنی شناخت سے محروم رہے گا، اور خاندانی نظام بکھر کر رہ جائے گا، حالاں کہ اسلام میں نکاح کی اہمیت اور زنا کی حرمت ”نسب کی حفاظت “ کے پیشِ نظر بھی ہے اور ظاہر ہے کہ کلوننگ کے عمل سے نسب کی حفاظت میں مشکل ہو گی۔
8..کلوننگ کے عمل سے ایک ہی شکل کے کئی بچے پیدا ہوسکتے ہیں، اس لیے جرائم پیشہ لوگوں کے لیے تلبیس وفریب کے دروازے کھل جائیں گے، اس طرح فریب ودھوکہ دہی میں ان کو آسانی ہو گی، جس سے معاشرتی اور قانونی پیچیدگیاں پیدا ہو جائیں گی۔
9..عورتیں اپنے بیضے او رجنین کی پرورش کے لیے اپنی بچہ دانیاں فروخت کرنے لگ جائیں گی جو کہ شرعاً ناجائز اور قبیح عمل ہے۔
10..یہ بھی احتمال ہے کہ کلوننگ کے عمل کے تحت پیدا ہونے والے بچے فطری صلاحیتوں سے محروم ، نقائص کے حامل بچے ہوں جو کہ بنی نوع انسان کے ساتھ سراسر ظلم وتعدی کی ایک صورت ہو گی، الله تعالیٰ ظالموں کو ناپسند فرماتے ہیں۔
11.. بغیر ضرورت ”ستر“ کو ظاہر کرنا لازم آئے گا جو کہ ایک حرام فعل ہے۔

”حیوانی کلوننگ“ اگرچہ مباح ہے، لیکن چوں کہ اس میں الله تعالیٰ کی خلقت میں بگاڑ، اس کی مخلوق کی حرمت میں اعتداء لازم آئے گا او راس میں بہت سے تاوان بار نتائج کا بھی احتمال ہے، اس لیے حیوانات میں بھی اس عمل سے اجتناب کرنا چاہیے۔

اور رہا”نباتاتی کلوننگ“! تو کلوننگ کے عمل کا یہ میدان پیچیدگیوں سے خالی اور مفاسد او رمخاطر سے پاک ہونے کے سبب نہ صرف جائز بلکہ زراعتی میدان میں ترقی لانے کے لیے مطلوب بھی ہے۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی