بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

انبیائے علیہم السلام کے ناموں کے ساتھ ص یا صلعم وغیرہ لکھنا

انبیائے علیہم السلام کے ناموں کے ساتھ ص یا صلعم وغیرہ لکھنا

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ جب انبیائے کرام علیہم السلام کے نام لکھے جاتے ہیں، تو بطور دعا، صلی الله علیہ وسلم کو مختصر کرکے ص لکھنا، علیہ السلام کو مختصر کرکے ع لکھنا یا صلعم لکھنا، اسی طرح صحابہ رضی الله عنہم کے لیے مختصرا رض لکھنا اور بزرگان دین کے لیے مختصراً  رح لکھنا کیسا ہے؟ کیا ان سے درود کا مقصد ادا ہو جائے گا یا نہیں؟ اور کوئی کراہیت ہے یا نہیں؟ اور یہ کہ انبیائے کرام علیہم السلام کے علاوہ بعض اشخاص کے ساتھ  علیہم السلام لکھا جاتا ہے، جیسے حضرت مریم کا نام ذکر کیا جاتا ہے تو ساتھ  علیھا السلام لکھتے ہیں ، تو اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

 انبیائے کرام علیہم الصلوٰة والسلام کے نام نامی اسم گرامی کے بعد  علیہ الصلوٰة والسلام یا صلی الله علیہ وسلم لکھنے کے بجائے ع یا  ص یا صلعم لکھنا، اور حضرات صحابہٴ کرام کے اسمائے گرامی کے ساتھ  رضی الله عنہ کے بجائےرض اور بزرگانِ دین کے اسماء کے ساتھ رحمہ الله کے بجائے رح لکھنا اسی طرح  تعالیٰ اور جل جلالہ کے بجائے  تعہ اور ج لکھنا درست نہیں، اور خلافِ ادب ہونے کے ساتھ ساتھ قلتِ محبت پر دال ہے، او رمقصود جو کہ صلوٰة وسلام کہنا ہے ان حروف سے حاصل نہیں ہوتا، بلکہ علیہ الصلوٰة وسلام اور صلی الله علیہ وسلم وغیرہ پورا کرکے لکھنا چاہیے۔

اور اگر دیکھا جائے تو تمام کتب حدیث میں محدثین رحمہم الله تعالیٰ نے جہاں بھی نام مبارکہ ذکر کیا ہے وہاں پر پورا پورا درود وسلام لکھا ہے، تو گویا کہ اس کو ایک طرح کی اجماعی حیثیت حاصل ہے، لہٰذا پورا پورا علیہ الصلوٰة والسلام لکھنا چاہیے، اور یہ بھی ملاحظہ ہو کہ بعض ائمہ کرام رحمہم الله تعالیٰ اس کے قائل ہیں کہ جب اسم گرامی مکرر ذکر ہو تو ہر ہر مرتبہ تکرار کے ساتھ درود پڑھنا واجب ہے، اگرچہ ایک مجلس میں ہو، تو یہ بھی صلوٰة وسلام کی اہمیت کی دلیل ہے، لہٰذا صلوة و سلام پورا لکھنا چاہیے، تاکہ مقصود اچھے طریقے سے حاصل ہو ۔

صلوة وسلام انبیائے کرام علیہم الصلوٰة والسلام کے ساتھ خاص ہے، لہٰذا دیگر بزرگ اشخاص کے ساتھ منفرداً صلوة وسلام پڑھنا یا لکھنا مکروہ ہے، لیکن اگر تبعاً ان پر درود لکھا یا پڑھا جائے تو جائز ہے، اس طرح کہ ان اشخاص کا نام انبیائے کرام علیہم الصلوٰة والسلام کے ساتھ مذکور ہو اور صلوة وسلام میں ان کو بھی شامل کیا جائے۔ جیسے ؛ اللھم صل علی محمد وعلی آل محمد وصحبہ وسلم۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی