بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

امام اور مقتدی کے لیے سنتیں کہاں پڑھنا افضل ہے؟

امام اور مقتدی کے لیے سنتیں کہاں پڑھنا افضل ہے؟

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ فرض نماز کے بعد سنتیں کہاں پڑھنا افضل ہے؟ اس جگہ سے ہٹ کر مسجد ہی میں پڑھی جائیں،یا اپنے گھر میں پڑھنا افضل ہے؟

امام فرض نماز پڑھ کر اپنی جگہ سے ہٹ کر سنتیں پڑھے یا اسی جگہ پر ؟ اگر اپنے مصلے پر ہی نماز پڑھے تو دائیں طرف ہٹ کر پڑھے یا بائیں طرف ،ان میں افضل طریقہ کیا ہے؟ راہنمائی فرمائیں۔

جواب

واضح رہے کہ فرض نماز کے بعد امام اور مقتدی دونوں کے لیےسنتیں مسجد کی بجائے گھر میں پڑھنا افضل ہے، تاہم مسجد میں پڑھنا بھی جائز اور ثابت ہے۔

         نیز امام کے لیے  بہتر یہ ہے کہ اپنی جگہ سے ہٹ کر سنتیں ادا کرے، اور اس میں امام کو اختیار ہے ،چاہے تو ایک ،دو قدم آگے یا پیچھے ہو جائے،یادائیں، بائیں ہوجائے،البتہ بائیں جانب جگہ ہو تو بائیں جانب ہٹ کر سنتیں پڑھنا افضل ہے۔

لما في المحيط البرهاني:

والبعض يقولون التطوع في المساجد حسن، وفي البيت أفضل، وبه كان يفتي الفقيه أبو جعفر، وكان يتمسك بقوله عليه السلام: «نوروا بيوتكم بالصلاة، فلا تجعلوها قبوراً»، وكان يقول كانت جميع السنن والوتر لرسول الله عليه السلام في بيته.(كتاب الصلاة،الفصل الحادي عشر:التطوع قبل الفرض وبعده،2237،ادارة القران)

وفي الدر المختار:

وفي الخانية: يستحب للامام التحول ليمين القبلة: يعني يسار المصلي لتنفل أو ورد.(كتاب الصلاة،2302،رشيدية)

وفي الهندية:

فأما السنن التي بعد الفرائض فيأتي بها في المسجد في مكان صلى فيه فرضه والأولى أن يتخطى خطوة والإمام يتأخر عن مكان صلى فيه فرضه لا محالة كذا في الكافي وذكر الحلواني الأفضل أن يؤدي كله في البيت إلا التراويح.

(كتاب الصلاة،الباب التاسع في النوافل،1113،ط:ماجدية)۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 170/09,10