بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

اقامت کہتے وقت امام او رمقتدیوں کو کس وقت کھڑا ہونا چاہیے؟

اقامت کہتے وقت امام او رمقتدیوں کو کس وقت کھڑا ہونا چاہیے؟

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارا جو مروّجہ طریقہ ہے کہ اقامت کے شروع ہوتے ہی نماز کے لیے صف بندی شروع کر دیتے ہیں اور اس کے علاوہ دوسرا طریقہ کہ اقامت کے الفاظ ”حی علی الفلاح“ یا ”قد قامت الصلاة“ پر پہنچتے ہی امام او رمقتدی اٹھتے ہیں اور صف بندی شروع کرتے ہیں، ان میں کون سا طریقہ حدیث سے ثابت ہے ؟ نیز دونوں میں سے کسی ایک کا التزام کیسا ہے ؟ اور اسی طرح ایک کا التزام اور دوسرے کو بُرا سمجھنا کیسا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ احادیث وآثار سے معلوم ہوتا ہے، کہ اقامت او رمقتدیوں کا کھڑا ہونا دونوں امام کے تابع ہیں، لہٰذا مقتدی امام کے کھڑے ہونے کے بعد قیام کریں گے۔

یہی وجہ ہے کہ احناف کی کتابوں میں بھی اس کا ذکر ہے کہ امام جب باہر سے مسجد میں داخل ہو، تو اگر صفوں کی طرف سے آئے تو جس صف سے گزرتا جائے وہ صف کھڑی ہوتی جائے او راگر سامنے سے آئے تو امام کو دیکھتے ہی سب لوگ کھڑے ہو جائیں او راگر امام پہلے سے مسجد میں موجود ہو تو اقامت کے کس لفظ پر امام کھڑا ہو تاکہ مقتدی بھی اس کی اتباع کرتے ہوئے قیام کریں؟

تو اس کے بارے میں حدیث میں کوئی حدِ معین ذکر نہیں، اس لیے جمہور علماء نے اس کے لیے کوئی حد متعین نہیں فرمائی او رابتدا اقامت سے کھڑے ہونے کو مستحب قرار دیا، صحابہ کرام رضوان الله علیہم اجمعین کا تعامل بھی اسی پر تھا۔

اور امام ابوحنیفہ رحمہ الله کا ”حی علی الفلاح“ پر کھڑے ہونے کو مستحب کہنا بایں معنی ہے کہ اس کے بعد بیٹھے رہنا خلافِ اَدب ہے، کیوں کہ مسارعت إلی الطاعت کے خلاف ہے ، جیسا کہ صاحب بحراور علامہ طحطاوی رحمہما الله نے بھی ”حی علی الفلاح“ پر کھڑے ہونے کی یہی علت ذکر کی ہے، یہ مطلب نہیں کہ اس سے پہلے کھڑا ہونا خلافِ ادب ہے، کیوں کہ اس میں تو مسارعت اور زیادہ ہے۔

اسی طرح صفوں کی درستگی کا اہتمام اس وقت آسان ہو گا جب اقامت شروع ہوتے ہی سب کھڑے ہو جائیں، جیسا کہ صحابہ کرام رضوان الله علیہم اجمعین صفوں کی درستگی کا اہتمام فرماتے اور جب تک صفیں درست نہیں ہوتی تھیں نماز کے لیے تکبیر نہیں کہتے تھے، ظاہر ہے کہصفوں کی درستگی کا یہ عمل اگر ”حی علی الفلاح“ یا ”قدقامت الصلوٰة“ پر کھڑے ہو جانے کے بعد کیا جائے تو اقامت کے کافی دیر بعد نماز شروع ہو ئے بغیر یہ نہیں ہو سکتا اور یہ مذموم ہے۔

اسی طرح یہ طریقہ کہ اقامت کے وقت امام باہر یا مسجد کے کسی گوشہ سے چل کر آئے اور آکر مصلے پر بیٹھ جائے اور اس بیٹھنے کو اس قدر ضروری سمجھاجائے کہ جو لوگ پہلے کھڑے ہوں ان کو بھی بیٹھ جانے کی تاکید کی جائے، جو نہ بیٹھے ان پر طعن کیا جائے یہ کسی امام اور فقیہ کا مذہب نہیں۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی