بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

استخارہ کا مقصد اور اس کا وقت

استخارہ کا مقصد او راس کا وقت

سوال

 کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلے کے بارے میں کہ:
1..استخارے کا مقصد کیا ہے ؟ اگر کسی کام کے متعلق خیر یا شر معلوم کرنے کے لیے کیا جاتا ہے ، تو پھر لفظ استخارہ کا معنیٰ صادق نہیں آتا۔
2..اگر کسی کام کے متعلق بندہ نے فیصلہ کرلیا ہو کہ میں نے یہ کام کرنا ہے، پھر استخارے کی افادیت کیا ہے ؟

جواب

1..’استخارے’ کا مقصد رفع تردد اور دل کا کسی ایک پہلو پر مطمئن ہونا ہے، جس جانب شرحِ صدر ہو اُسی پہلو کے اختیار کرنے میں ان شاء الله خیر وبرکت ہو گی او راگر دل کسی ایک طرف مائل نہ ہو ( دونوں طرف مساوی ہوں) تو اختیار ہے، جس پہلو پر بھی عمل کرے اُسی میں اپنے لیے بھلائی وکام یابی سمجھے۔

مذکورہ تمہید سے یہ بات واضح ہو گئی کہ استخارہ در حقیقت ‘ طلبِ خیر’ کے لیے کیا جاتا ہے، شر معلوم ہونے پر اس سے بچنا بھی طلبِ خیر ہے، کیوں کہ دفعِ شر خیر ہی کو مستلزم ہے، پس یہ کہنا کہ ” شر معلوم ہونے پر استخارہ کا معنی صادق نہیں آتا“ درست نہیں۔

2..’استخارہ’ اس وقت کیا جاتا ہے جب کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے میں تردد ہو اور ابھی تک اس کام کے کرنے یا نہ کرنے کے متعلق پختہ عزم نہ کیا ہو، کیوں کہ عزمِ مصمّم کرنے کے بعد استخارہ کرنے میں نفسانی خواہش کے شامل ہونے اور خیر کے مخفی رہ جانے کا اندیشہ ہے۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی