بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

استاد کے حقوق

استاد کے حقوق

سوال

 کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مکتب کے استاد (قاری صاحب) کے طلباء کرام، یعنی اپنے شاگردوں پر کیا حقوق لازم ہیں؟ استاد کے حقوق شاگردوں پر کیا ہیں؟ تفصیل سے ذکر فرما کر عندالله ماجور ہوں۔

جواب

واضح رہے کہ شاگرد کے لیے اپنے استاد کا ادب واحترام، ان کی عظمت کو اپنے دل میں بٹھانا اور ان کے حقوق بجا لانا لازمی ہے۔ استاد کی بے ادبی، ان کی تحقیر اور ان کے حقوق کو بجا لائے بغیر نہ تو ان سے صحیح معنوں میں حصولِ علم ممکن ہو گا اور نہ ہی ان سے حاصل کردہ علم میں برکت ہو گی۔

استاد کے حقوق بجالانے کے سلسلے میں جن باتوں کا خاص طور پر اہتمام والتزام کرنا چاہیے ،ان میں سے چند ضروری باتیں درج ذیل ہیں:
٭…استاد کا کہا مانے۔٭…استاد کی خدمت کو اپنے لیے دنیا وآخرت کی سعادت سمجھے اوراستاد سے اپنے لیے دعائے خیر طلب کرتا رہے۔ ٭…استاد کی باتوں کو ہمہ تن گوش ہو کر سنے او ران پر عمل کرنے کی بھر پور کوشش کرے۔٭…ان کی طرف پشت کرکے نہ بیٹھے اور نہ ہی ان کی طرف پاؤں پھیلائے۔٭…ان سے آگے نہ چلے۔٭…ان کو ان کے نام سے نہ پکارے۔٭… ان کا دیا گیا سبق خوب یا دکرنے کا اہتمام کرے۔ ٭…ایسا کوئی کام نہ کرے جو ان کے لیے پریشانی کا سبب بنے۔ ٭…ان سے لغو اور بے فائدہ سوال نہ کرے۔٭… جو امور ان کی راحت وآسانی کا سبب بن سکتے ہوں ،ان امور کا خوب اہتمام کرے، جیسا کہ ان کی جگہ کو صاف وستھرا رکھنا، ان کے جوتے مناسب جگہ پر رکھنا وغیرہ۔ ٭… ان کی مخصوص نشست پر بیٹھنے سے گریز کرے او راسی طرح جو چیزیں ان کے استعمال کے لیے مخصوص ہوں، ان کو استعمال نہ کرے اور ان کی نگہداشت کو اپنے اوپر لازم کرے۔٭… اپنے اہم امور کو سرانجام دینے سے پہلے ان سے مشورہ لے۔٭… ان کے بلانے پر بر وقت ان کی خدمت میں حاضری دے۔ ٭…ان کو سلام میں پہل کرے۔٭… مدرسے کے اوقات کے علاوہ چھٹیوں میں بھی ان سے رابطہ میں رہے۔٭… اپنے والدین کے ساتھ ساتھ ان کے لیے بھی ہر وقت دعا گو رہے۔٭… ان کے سامنے اپنی آواز بلند نہ کرے اور ہنسی مذاق سے گریز کرے۔٭… ان کی اولاد، رشتہ داروں او ران کے دوسرے متعلقین کے ادب کو بھی ملحوظ رکھے۔

نیز استاد کو بھی چاہیے کہ اپنے شاگرد کے اخلاق کی درستگی او راس کو آداب سکھانے میں ہر وقت کوشاں رہے، اس پر انتہائی مہربان رہے اور اس کو اپنی اولاد کی طرح سمجھے، استاد کے اپنے شاگرد پر شفقت او راس کے ساتھ نرمی برتنے کے حوالے سے حضرت معاویہ ابن حکم سلیمی رضی الله عنہ کا یہ قول راہ نما کی حیثیت رکھتا ہے :"فَمَا رَأَیْتُ مُعَلِّمًا قَطُّ أَرْفَقَ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ ․” (سنن أبي داؤد: کتاب الصلاة، تشمیت العاطس في الصلاة،ح: 931) کہ”میں نے الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم سے زیادہ مہربان استاد کبھی بھی نہیں دیکھا”۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی