بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

استاد کا بیک وقت کئی طلبہ سے سبق سننا

استاد کا بیک وقت کئی طلبہ سے سبق سننا

سوال

یا فرماتے ہیں مفتیان کرام ان مسائل کے بارے میں1.. مکتب میں ایک قاری صاحب کے پاس طلبہ کرام جو قاعدہ، ناظرہ پڑھتے ہیں، قاری صاحب پانچ چھ طلبائے کرام کو ایک ساتھ پڑھنے کا کہتے ہیں، جس سے قاری صاحب کے لیے ہر ایک طالب علم کی غلطی نوٹ کرنا مشکل ہوتا ہے، بعض طلبہ کرام غلط بھی پڑھتے ہیں، جس کا قاری صاحب کو پتہ نہیں چلتا ،تو قاری صاحب کا تمام طلبہ سے ایک ساتھ سبق سننا شرعاً کیسا ہے؟
2..مکتب کے مہتمم صاحب اپنے ادارے میں کتنی عمر کی بچیوں کو شرعاً داخلہ دے سکتا ہے؟
3..ایک قاری صاحب کی کسی ادارے میں تقرری ہو جائے اور وہ پانچ چھ دن یا اس سے کم پڑھا کر ادارہ چھوڑ کر چلا جائے، تو ادارے کے مہتمم صاحب قاری صاحب کو پانچ چھ دن یا اس سے کم پڑھانے کا معاوضہ شرعاً ادا کرے گا؟

جواب

1.. واضح رہے کہ یہ مسئلہ استاد کے تجربے اور مہارت سے متعلق ہے، اگر استاد بیک وقت کئی طلبہ سے قرآن سن سکتا ہو اور سب کی غلطیاں نوٹ کرسکتا ہو، تو اس میں مضائقہ نہیں، لیکن اگر ایسا کرنا استاد کے لیے مشکل ہو کہ ہر بچے کی غلطیاں نوٹ نہیں کرسکتا تو اس طرح کرنا صحیح اور درست نہیں ہے، اس لیے کہ قرآن مجید کو صحیح پڑھانا فرض کے درجے میں ہے، لہٰذا استا درس گاہ کے اوقات کو مدنظر رکھتے ہوئے، امانت داری کے ساتھ، اپنی ہمت او راستطاعت کے مطابق ،ہر ایک طالب علم پر پوری توجہ دیتے ہوئے صحیح طریقے سے جتنے طلبہ کو پڑھاسکتا ہو اور اچھی طرح جتنے طلبہ سے سن سکتا ہو اتنے ہی طلبہ کو قرآن پڑھائے او ران سے سنے، تاکہ کسی طالب علم کی حق تلفی بھی نہ ہو او راستاد پر اس کی ہمت واستطاعت سے زیادہ بوجھ بھی نہ ہو۔
2..بچیاں جب تک اشتہاء کی عمر کو نہ پہنچی ہوں اس وقت تک مکتب میں ان کو شرعاً داخلہ دینا درست ہے۔
3..مہتمم صاحب پر قاری صاحب کے لیے پانچ، چھ دن یا اس سے کم پڑھانے کا معاوضہ لازم اور ضروری ہے۔