بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

اذان غلط دینے کی وجہ سے مؤذن کو معزول کرنے کا حق کس کو ہے؟ اور اس غلطی کی وجہ ایمان پر اثر پڑے گا؟

اذان غلط دینے کی وجہ سے مؤذن کو معزول کرنے کا حق کس کو ہے؟ اور اس غلطی کی وجہ ایمان پر اثر پڑے گا؟

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مندرجہ ذیل  مسئلہ کے بارے میں کہ آج کل مساجد کے اندر بڑی عمر والے بزرگ اذان دیتے ہیں،جس میں بہت غلطیاں  ہیں، مثال کے طور پر “ اللہ” کے ہمزہ کو کھینچ کر پڑھنے سے ہمزہ استفہامیہ بن جاتا ہے۔

اسی طرح  أشهد أن لا الٰه الا الله کی جگہ آشّهد أن لا الٰه الا الله، اور حيّ على الفلاح  کی جگہ حيّ على الپلاح  یا         آلله اکبر  جس سے معنی پر اثر پڑتا ہے ،تو ایسے مؤذن کو اذان سے روکنا امام کی ذمہ داری ہے یا کمیٹی کی؟ قران و حدیث کی روشنی میں مسئلہ واضح کریں۔

یا اسی طرح اذان دینے والے کے ایمان میں فرق آئے گا ،یا نہیں؟

جواب

1 واضح رہے  کہ مؤذن ایسا شخص ہونا چاہیے جو متقی پر ہیزگار ہونے کے ساتھ ساتھ الفاظ کے صحیح ادا کرنے پر بھی قادر ہو ،لہذا صورت مسئولہ میں کمیٹی والوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اگر مذکورہ مؤذن کے تلفظ کی اصلاح  كى كوئى صورت  نہ بنے،تو کسی دوسرے ایسے شخص كو مؤذن مقرر کریں جو صحیح  الفاظ کے ادا کرنے پر قادر ہو۔

2-  اگر کوئی شخص محض جہالت اور صحیح تلفّظ پر قادر نہ ہونے کی وجہ سے مذکورہ طریقے سے اذان دے ،تو اس سے اس کے ایما ن پر اثر نہیں پڑتا،مگر ایسے شخص کو چاہیے کہ الفاظ کی ادائیگی درست  کرنے کی کوشش کرے۔

لما في سنن إبن ماجة:

عن ابن عباس، قال:قال رسول الله-صلى الله عليه وسلم -: "ليؤذن خياركم، وليؤمكم قراؤكم".

(باب فضل الأذان و ثواب المؤذنين،رقم:726،ص:53،دار السلام)

و في الرد:

اعلم أن المد إن كان في الله فإما في أوله أو وسطه أو آخره فإن كان في أوله لم يصر به شارعا وأفسد الصلاة لو في أثنائها ولا يكفر إن كان جاهلا لأنه جازم والإكفار للشك في مضمون الجملة.

كتاب الصلاة،باب الأذان:1/480،سعيد)

في مراقي الفلاح:

( ويكره التلحين ) وهو التطريب والخطأ في الإعراب. (باب الأذان:107،قديمي)

 

و في السعاية:

قال العلامة عبدالحي اللكهنوي:لا يقـول المؤذن آلله أكبر بمد الألف فإنه إستفهام و إنه لحن شرعي الخ.

(باب الأذان:2/15،قديمي)

و في الرد:

قوله ( ولم أر حكم عزله لمدرس وإمام ولاهما ) أقول وقع التصريح بذلك في حق الإمام والمؤذن ولا ريب أن المدرس كذلك بلا فرق ففي لسان الحكام عن الخانية إذا عرض للإمام والمؤذن عذر منعه من المباشر ستة أشهر للمتولي أن يعزله ويولي غيره وتقدم ما يدل على جواز عزله إذا مضى شهر بيري. أقول إن هذا العزل لسبب مقتض والكلام عند عدمه.(كتاب الوقف:4/427،سعيد)۔ فقط واللہ اعلم بالصواب

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

فتوی نمبر: 170/117,118