بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

یورپ پر اسلام کی حسین کرنیں!

یورپ پر اسلام کی حسین کرنیں!

مولانا حافظ محمد اقبال رنگونی

پچھلے عرصہ سے یورپ کے غیر مسلموں میں اسلام کو جاننے اور سمجھنے کی لہر بڑی تیزی سے ابھری ہے، اس سے یہاں کے بہت سے حلقے پریشان ہیں، ان حلقوں سے یہ بات چھپی نہیں کہ یورپ کے مختلف ملکوں اور شہروں میں آئے روز اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے ہے، بالخصوص یورپ کے اہم ممالک برطانیہ ، فرانس اور جرمنی میں مسلمانوں کی تعداد بڑھتی چلی جارہی ہے ، تازہ ترین رپورٹ کے مطابق جرمنی اور فرانس میں پچاس لاکھ سے زائد مسلمان مقیم ہیں ، جبکہ برطانیہ میں اکتالیس لاکھ مسلمان قیام پذیر ہیں ، وہ بے شک یورپ کے مادر پدر آزاد ماحول میں رہ رہے ہیں، لیکن وہ کسی صورت بھی اپنے مذہب اور دین کے بارے میں کمپر ومائز کرنے کے لیے تیار نہیں ، وہ کتنے ہی گئے گزرے کیوں نہ ہوں، لیکن وہ اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف ایک لفظ سننا برداشت نہیں کرتے اور وہ اس پر اپنا سب کچھ داؤ پر لگادیتے ہیں، اسلام اور مسلمانوں کو بد نام کرنے کی تمام تر چالوں کے باوجود غیر مسلموں میں اسلام کے صاف ستھرے عقائد اور اس کی سادہ اور آسان تعلیمات ہیں، جس نے ان لوگوں کو اپنا گرویدہ بنالیا ہے ۔ حال ہی میں راقم الحروف کے ہاتھ پر اسلام قبول کرنے والی ایک خاتون سے جب قبول اسلام کا سبب معلوم کیا گیا تو اس نے بتلایا کہ وہ ایک عرصہ سے اسلام اور اس کی تعلیمات کا گہرائی سے مطالعہ کررہی تھی ، اسے بعض مقامات پر کچھ شبہات بھی پیدا ہوئے تو ایک اسلامی سکالر نے اس کی راہنمائی کی اور یوں ایک ایک کر کے وہ شبہات دور ہوگئے اور وہ مسلمان ہوگئی۔

راقم الحروف کے ہاتھ پر بحمداللہ! سینکڑوں انسانوں نے اسلام قبول کیا اور کلمہ اسلام پڑھ کر وہ مسلمانوں کی صف میں داخل ہوئے، ان میں اکثریت اسی قسم کے لوگوں کی تھی جنہوں نے اسلام کا باقاعدہ مطالعہ کرنے کے بعد اسے قبول کیا ہے ، اسلام ضرور انہیں اپنی جانب کھینچ لیتا ہے اور پھر وہ اسی کے ہو کر رہ جاتے ہیں ، ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد پانچ فیصد بتلائی جاتی ہے اور دن بدن اس میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

کون نہیں جانتا کہ سوویت یونین کی شکست وریخت کے بعد امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لیے سب سے بڑا مسئلہ اسلام اور مسلمان ہی تھے، یہ لوگ اس انتظار میں تھے کہ کب سوویت یونین کا خاتمہ ہو اور کب ہم عالمی ٹھیکیدار بن جائیں اور جس طرح چاہیں دنیا کا نظام تر تیب دیں مگر ان کے خواب اس وقت چکنا چور ہو کر رہ گئے ، جب انہیں معلوم ہوا کہ ابھی اسلام باقی ہے اور یہی بات نیٹو کے سیکریٹری جنرل کی زبان سے اس وقت نکل بھی گئی تھی جب ان سے پوچھا گیا تھا کہ سوویت یونین کی شکست وریخت کے بعد ان قدیم وجدید ہتھیاروں کا کیا کام ہے؟ تو جواب میں موصوف بولے کہ ابھی اسلام باقی ہے ، کوئی حیاء نہیں آئی اور وہ دنیا جہاں کی ساری خرابیوں کی جڑ اسلام اور مسلمانوں کو بتانے لگے اور اب تک اسی میں لگے ہوئے ہیں، حال ہی میں فرانس کے صدر میکرون نے اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں جو زبان بولی اور اظہار رائے کی آزادی کے نام پر فرانس میں جو قوانین تیار کئے گئے وہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ ابھی اسلام باقی ہے اور ہمیں یہ کہنے میں کوئی تامل نہیں کہ جب تک اسلام باقی ہے تب تک یہ لوگ جھوٹ اور جھوٹ اور صرف جھوٹ کے سہارے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف زہریلی زبان بولتے رہیں گے اور یہ بھی کہ انہیں ہمیشہ منہ کی کھانی پڑے گی۔ یورپ اور امریکا کے دانشور روز بروز اسلام کی مقبولیت سے سخت پریشان ہیں، انہیں سمجھ نہیں آتا کہ یورپ اور امریکا میں ”اسلام باقی ہے“کا جواب کس طرح دیا جائے اور اس کی روز بروز بڑھتی ہوئی مقبولیت کو کس طرح روکا جائے۔اسلام کے خلاف جو بھی ممکن اقدام اور جدو جہد ہوسکتی ہے وہ سارے اقدامات اور کوششیں جاری ہیں اور کوئی گھنٹہ ایسا نہیں گزرتا ، جس میں اسلام اور مسلمانوں کو نیچا دکھایا اور انہیں بدنام نہ کیا جاتا ہو۔

یورپ اور امریکا وغیرہ میں اسلام سے نفرت دلانے کے لیے کیا کچھ حربے نہیں ہورہے ہیں، پچھلے دنوں ہالینڈ، ڈنمارک اور فرانس کے اخبارات میں جو خبریں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں جن شہ سرخیوں کے ساتھ شائع ہوئیں تھیں کیا وہ اس بات کی غمازی نہیں کرتیں کہ ان پر ”اسلام باقی ہے“کا خوف کس طرح سوار ہورہا ہے، یورپ میں مسلمانوں کا قبضہ ہوجائے گا ، گلی گلی میں مسجدیں ہوں گی، گھر گھر میں مدرسے بنیں گے، ان میں قرآن کی تعلیم دی جائے گی اور ہماری اکثریت اقلیت میں تبدیل ہوجائے گی، ایسی باتیں محض اس لیے بار بار دہرائی جاتی ہیں تاکہ یہاں کے باشندوں کے جذبات سے کھیل کر انہیں اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں بد گمان کیا جائے اور مسلمانوں کے بارے میں بد گمان کیا جائے اور انہیں کسی وقت بھی اسلام اور اس کی اعلیٰ تعلیمات کے بارے میں سوچنے کا موقع ہی نہ ملے، بس وہ ہر وقت اس خوف میں مبتلا اور بحث میں الجھے رہیں کہ اسلام اورانسانیت الگ الگ چیزوں کا نام ہے۔

سوال یہ ہے کہ اگر یورپ کا نام نہاد مہذب معاشرہ اور اظہار رائے کی آزادی کے دعوے دار ممالک اور عیسائیت آج کی انسانیت کی روحانی پیاس نہیں بجھا سکتا تو اس میں اسلام کا کیا قصور ہے؟ اگر مادی وسائل اس انسان کی انسانیت کا سبق نہیں دے سکتے تو اس میں اسلام کو کیوں قصور وارٹھہرایا جائے؟ امریکا اور یورپ اور دنیا بھر کے دیگر صدر وزیراعظم اور ان کے سیاسی اور مذہبی رہنما اگر اپنے اپنے ممالک کے لوگوں کو روحانی سکون نہیں دے سکتے اور ان کی پرا گندہ زندگی میں ٹھہراؤ نہیں لاسکتے تو وہ اسلامی تعلیمات اور اسلامی قوانین پر کیوں برستے ہیں؟ دنیا کے یہ اور اس قسم کے نام نہاد دانشور اگر اپنی کوششوں میں ناکام ہوچکے ہیں تو انہیں اسلام کو مورد الزام ٹھہرانے کے بجائے اپنی ناکامی کا کھلے دل سے اعتراف کرلینا چاہیے۔ یہاں روزنامہ جنگ میں چند سال قبل شائع ہونے والی اس خبر کو بھی سامنے رکھ لیجیے:

”چرچ آف انگلینڈ کی دوسری سب سے بڑی شخصیت نے کہا ہے کہ وہ بڑی مشکل ہی سے کہہ سکتے ہیں کہ برطانیہ ایک عیسائی ملک ہے، ارث بشپ آف یارک ڈاکٹر ڈیوڈ ہوپ نے کہا ہے کہ اب لوگ چرچ جانا پسند نہیں کرتے اور سیکولر ازم کا رجحان بڑھ رہا ہے، لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ عیسائی ہیں تا ہم ان کے انداز ڈرامائی طور پر بدل رہے ہیں، انہوں نے امریکا میں ہم جنس پرستوں کو پادری بنائے جانے پر وارننگ دی اور کہا کہ اعتماد اور سالمیت سب سے زیادہ ضروری ہیں، انہوں نے کہا کہ لوگوں کی چرچ سے وابستگی کم ہورہی ہے“۔(روزنامہ جنگ لندن)

یہ صحیح ہے کہ اس وقت اسلام کے سوا جتنے مذاہب اور ان کی تنظیمیں ہیں وہ مادی وسائل سے مالا مال ہیں اور سب کی نظریں مسلمانوں کی نئی نسل پر لگی ہوئی ہیں، وہ دن رات اس کوشش میں ہیں کہ جہاں موقع ملے، مسلمانوں کو اپنے عقیدے کے بارے میں تشکیک میں مبتلا کردیا جائے اور ان کے عقائد واعمال پر بیک وقت حملہ کردیا جائے۔ اس مقصد کے لیے ان ممالک کے حکمرانوں کی جانب سے باقاعدہ سرکاری سطح پر ایک خطیر رقم فراہم کی جاتی ہے، آج سے کئی سال قبل نوائے وقت لندن میں شائع ہونے والی ایک خبر ملاحظہ کیجئے:

”امریکا کے صدر نے دنیا بھر میں عیسائیت کی ترویج کے لیے امریکا کی مشنری تنظیموں کو فنڈ فراہم کرنے کے لیے وہائٹ ہاؤس میں خصوصی شعبہ تشکیل دیا ہے، امریکی صدر نے اس شعبہ کے تحت51 ریاستوں کے دس ہزار پانچ سو اٹھارہ عیسائی مشنری تنظیموں کو صرف 2003ء کے دوران ایک ارب 70 کروڑ ڈالر فراہم کرچکے ہیں، اس شعبے کے ڈائریکٹر مسٹر جم نے ان تنظیموں کو امریکی سوسائٹی کو سخت گیر عیسائی مذہبی معاشرے میں تبدیل کرنے کا ہدف سونپا ہے، امریکی صدر چاہتے ہیں کہ امریکا میں عیسائیت کی ترویج ہو او ر وہ اسلام کے مقابلے کے لیے ایک سخت گیر عیسائی معاشرے کو ضروری سمجھتے ہیں، انہوں نے خصوصی حکم دیا ہے کہ وہ مختص کردہ فنڈ صرف ان تنظیموں کو فراہم کریں جن کے منتظمین پادری ہوں یا پھر ان کا چرچ سے گہرا تعلق ہو، ان کی طرف سے فنڈ کے لیے منتخب کردہ بعض ایسی تنظیمیں بھی ہیں جو روز مرہ زندگی کے مختلف شعبوں کے علاوہ معاشرے کے شرمناک اور ذلیل ترین افعال میں ملوث طوائفوں کو بھی مذہب کی طرف راغب کر کے انہیں نہ صرف کٹر عیسائی عقیدے کا حامل بناتی ہیں بلکہ باقاعدہ تربیت کے بعد انہیں عیسائی مذہبی خدمت گار یعنی ننوں کے درجہ تک پہنچانے کی کوشش کرتی ہیں“۔
(11تا 17 /فروری2005ء،نوائے وقت لندن)

اس پوری خبر میں اگر صرف نام بدل دیا جائے مثلا امریکی یا یورپی حکمران کے بجائے کسی اسلامی حکمران کا نام…عیسائیت کے بجائے اسلام…پادری کے بجائے علماء…اور چرچ کے بجائے کسی مدرسہ کا نام لکھ دیا جائے تو عیسائی دنیا میں قیامت برپا ہوجائے گی، ان حکمرانوں کی راتوں کی نیند اڑ جائے گی، اقوام متحدہ اور نیٹو میں دھڑا دھڑ اجلاس شروع ہوجائیں گے، طرح طرح کی قرار دادیں پاس ہوں گی، اسے بنیاد پرستی، تشدد، مذہبی جنون، دہشت گردی، بد تہذیبی، حیوانیت، غیر انسانیت او رشخصی آزادی کی مخالفت بتا کر پوری دنیا کو اس کی مخالفت پر اکسا دیا جائے گا، یہاں تک کہ وہ لوگ اپنے اس عمل سے باز آجائیں۔بصورت دیگر اسے تہس نہس کر کے ہی دم لیا جائے گا اور کچھ عجب نہیں(بلکہ موجودہ حالات کا یقین ہے)کہ خود مسلمان حکم راں اور بادشاہ اس کارِخیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور زیادہ سے زیادہ اپنا حصہ ڈال کر لبرل، ماڈل اور اچھے دوست کا خطاب لینے کی کوشش کریں گے۔

یورپ اور امریکا کے اسلام کے خلاف ان سارے علمی، فکری، عملی، عسکری اور اقتصادی اقدامات کے باوجود انہی ممالک میں اسلام کی مقبولیت میں حیرت انگیز طور پر اضافہ بتاتا ہے کہ اسلام نہ صرف یہ کہ ابھی باقی ہے بلکہ قیامت تک باقی رہے گا، اس کا مقابلہ کرنے والے تو اپنی موت مریں گے پر اسلام کو مٹانا کسی کے بس کی بات نہیں ہے، اس کو قیامت تک بقا حاصل ہے اور بالآخر سب نے ہی اس چشمہ صافی پر آنا ہوگا، اللہ کے آخری نبی رحمة للعالمین جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت پہلے یہ بات بتلاگئے ہیں اور آپ کی بات ہمیشہ حق اور سچ ثابت ہوئی ہے ، آپ نے اس بات کی پیشگوئی فرمادی ہے کہ ایک وقت آئے گا کہ دنیا میں کوئی علاقہ، محلہ، کچا پکا گھر ایسا نہ ہوگا، جس میں اسلام داخل نہ ہوجائے اور مسلمانوں کو غلبہ حاصل نہ ہوجائے، اللہ جن کو عزت دینا چاہے گا انہیں اسلام کے ذریعہ عزت عطا فرمادے گا، وہ اسلام لے آئیں گے اور جو اسلام سے اعراض کریں گے وہ ذلیل وخوار ہو کر ہی رہیں گے۔

حضرت مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ:
ترجمہ:”نہیں باقی رہے گا زمین پر کوئی پکا او رکچا گھر، مگر اللہ تعالیٰ اس میں اسلام کو داخل فرمائیں گے، معزز شخص کی عزت کے ساتھ یا ذلیل انسان کی رسوائی کے ساتھ“۔(صحیح ابن حبان،15/91)

کہاں ہیں وہ بیمار ذہنیت رکھنے والے مشرقی او رمغربی دانشور جوبات بات پر یہ کہتے نہیں تھکتے کہ اسلام تلوار کے زور پر پھیلا ہے وہ ہمیں بتائیں کہ ان لاکھوں یورپی نو مسلموں پر کس نے تلوار تان رکھی تھی؟ کس نے انہیں زور وجبر کے ذریعہ اسلام لانے پر مجبور کیا ہے؟ برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر کی سالی کے سر پر کس نے تلوار اور بندوق رکھی تھی کہ وہ اسلام قبول کرے اور وہ اسلامی تعلیمات کی نشر واشاعت میں بھی سرگرم رہے؟ اس قسم کے واقعات کیا یہ ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں کہ اسلام کے مخالفین کے اس اعتراض میں کوئی وزن نہیں کہ اسلام تلوار اور جبر وتشدد سے پھیلا ہے او رجو ایسا کہتے ہیں وہ محض حسد وعناد کی بنا پر کہتے ہیں۔

آج مسلمانوں کے ہاتھو ں میں تلوار نہیں، مقابلے کی ان میں سکت نہیں، نئے نئے جنگی ساز وسامان سے دوسرے لدے لدائے ہیں، قوت و طاقت میں وہ دوسروں سے بڑھے ہوئے نہیں اور اگر کوئی سر اٹھائے تو ان کی خیر نہیں تو بتلائیے پھر آخر وہ کون سی تلوار ہے جو یورپ کے باشندوں کے سر پر لٹک رہی ہے اور ان کے دلوں میں اسلام کار عب ڈال رہی ہے اورایک دو نہیں ،ہزاروں ،لاکھوں لوگ یورپ کی آسائش اور مادی سامانوں کے ہوتے ہوئے اسلام کے دامن میں پناہ لینے پر مجبور ہورہے ہیں۔ وہ اس بات کو تسلیم کرنے سے کیوں کتراتے ہیں کہ اسلام تلوار سے نہیں اپنی اعلیٰ وارفع تعلیمات کی وجہ سے پھیلا ہے۔

امریکا ہو یا یورپ یا دنیا کے دیگر ممالک کے حکمرانوں اور نام نہاد تہذیب کے دعوایداروں کو چاہیے کہ وہ دوسروں کو قصور واراور مجرم ٹھہرانے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھ لیں، اگر ان کا ضمیر زندہ ہے تو انہیں خود معلوم ہوجائے گا کہ آج کی انسانیت کا سب سے بڑا مجرم اسلام اور مسلمان نہیں وہ لوگ ہیں جنہوں نے دنیا پر کنٹرول پانے کے لیے ہر طرح کا ظلم وستم برپا کر رکھا ہے، یہی لوگ دنیا بھر کے انسانوں کا چین اور سکون چھیننے کے حقیقی ذمہ دار ہیں اور اس ظلم وستم پر پردہ رکھنے کے لیے وہ ہمیشہ اسلام اورمسلمانوں کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔

یورپ اور امریکا میں رہنے والے مسلمانوں پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اسلام کی خوبصورت اور اعلیٰ تعلیمات سے یورپ کے غیر مسلموں کو روشناس کرائیں، اسلامی کتابوں او راپنے اخلاق سے انہیں بتائیں کہ اسلام خدا کا پسندیدہ اور آخری دین ہے، اس دین پر آخرت میں نجات ہے، اس دنیا میں بھی انسان چین اور سکون کی زندگی پاتا ہے، جس سے آج کا یورپی معاشرہ محروم ہے۔