بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

ہمارے معاشرے کی حالت زار

ہمارے معاشرے کی حالت زار

مولانا سحبان محمود رحمة الله علیہ

بسم الله الرحمٰن الرحیم. الحمدلله وکفٰی، وسلام علٰی عبادہ الذین اصطفٰی․أمابعد…!

آج کل صرف پاکستان ہی نہیں، دنیا کے بہت بڑے حصہ کے مسلمان مختلف سانحات الم ناک حوادث اور ہوش ربا مصائب میں گرفتار ہیں، زندگی سے امن وسکون رخصت ہوچکا ہے، ہر وقت ایک انجانا خوف دلوں پر مسلط ہے، کسی شعبہ زندگی میں نہ جاذبیت باقی رہی نہ قرار وسکون۔ گویا ہم ایسی فضا میں سانس لے رہے ہیں کہ مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ کی یہ دنیا اپنی تمام تر وسعتوں کے باوجود تنگ ہورہی ہے، بحروبر سے فساد ابل پڑا ہے اور فضاؤں سے ایک نامانوس اور پریشان کن بوسونگھی جارہی ہے یا اس طرح تعبیر کیجیے کہ ہمارے برے اعمال نے ہم کو”شش جہات “سے بصورت قہر خداوندی گھیر رکھا ہے اور ان کا وبال ہم پر ہر جانب سے مسلط ہوکر ہماری دنیا اور آخرت کو تباہ کررہا ہے۔

عمل اور رد عمل
عمل اور رد عمل قانون فطرت ہے، نہ کوئی اسے توڑ سکا ہے اور نہ اس میں ترمیم کرسکا ہے۔﴿فلن تجد لسنة الله تبدیلا ولن تجد لسنة الله تحویل﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کے قانون میں نہ کوئی تبدیلی نظر آئے گی نہ ترمیم وتنسیخ۔دانہ گندم سے گندم کا ہی درخت پیدا ہوگا، جو یا چاول اس سے حاصل نہیں کیا جاسکتا، اسی طرح اچھے اعمال کے اس دنیا میں بھی اچھے اورخوش گوار نتائج سامنے آئیں گے اور گندے اور برے اعمال کے گندے اور برے نتائج۔ زہر قاتل کھا کر کوئی زندگی کی امید رکھے تو یہ اس کی نادانی ہے۔زہر تو اثر کر کے رہے گا، خواہ کھانے والااس کو نہ چاہے۔

ہمارے معاشرے کی حالت
اس زمانے میں سب سے زیادہ الم ناک بات یہ ہے کہ ہم ایسے ظلماتی ماحول، انسانیت سوز معاشرے اور اخلاق باختہ دور میں زندگی بسر کررہے ہیں جس کی نظیر مسلمانوں کی پوری تاریخ میں نہیں ملتی۔ اور جب کبھی اس جیسا ماحول مسلمانوں نے اپنایا تو قہر خداوندی نازل ہوا، عزت ذلت سے بدل گئی، طاقت وقوت کم زوری اور بزدلی میں تبدیل ہوگئی اور سلطنت وحکومت کی جگہ غلامی کے طوق گردنوں میں ڈال دیے گئے، دیکھ لیجیے بغداد میں فتنہ تاتار اور اندلس میں مسلمانوں کی عظیم الشان، ترقی یافتہ اور مہذب ومتمدن حکومت کا انجام کیا ہوا اور اس کے اسباب کیا تھے؟ تاریخ کسی کے ساتھ رعایت نہیں کرتی، بلکہ اپنے آپ کو دہراتی رہتی ہے، تاکہ دیدئہ عبرت رکھنے والے عبرت حاصل کریں اور اپنے آپ کو تباہی سے بچائیں۔

قرآن کریم سابقہ امتوں اور ان پر نعمت کے واقعات کو مؤثر انداز میں جابجا بیان کرتا ہے ،صرف اس لیے کہ یہ امت مرحومہ ان واقعات سے عبرت پکڑے اور وہ راستہ اختیار نہ کرے جو اگلی اُمتوں کے لیے تباہ کن ثابت ہوا، کیوں کہ قانون الہٰی اٹل ہے۔ اور اچھے برے اعمال کی تاثیر اورنتائج بھی مسلّم ، اگر ہم کسی قہر میں مبتلا ہوتے ہیں تو درحقیقت ہم نے ہی اپنے اعمال وکردار سے اس قہر کو خود دعوت دی ہے۔

پورے عالم اسلام کا تجزبہ تو اس وقت ممکن نہیں، نہ قلب وجگر میں وہ طاقت ہے کہ ان تمام سانحات کو برداشت کرسکے اور نہ زبان سے بیان کرنے کا یارا، آپ حضرات مجھ سے زیادہ ان حالات سے واقف ہیں جو افغانستان پر بیت رہے ہیں، فلسطین ان سے دوچا رہے،عرب ممالک کی کسمپرسی ،عراق وایران کی شورش اور خداجانے کیا کیا؟

یہ حالات نہ تواز خود پیدا ہوئے کہ ”اتفاقات“پرمحمول کر کے دل کو مطمئن کیا جاسکے اور نہ فوری طور پر آناً فاناً ان کا ظہور ہوا کہ اچانک پیش آنے والے حوادث کی فہرست میں ان کو داخل کر کے اپنی بے بسی کے عذر کا سہارا لیاجاسکے، بلکہ نگاہ بصیرت سے دیکھا جائے تو یہ ہوش رُبا حالات برسوں کے عمل اور رد عمل کا نتیجہ ہیں۔

تشخیص قرآنی
قرآن وحدیث میں نہایت وضاحت کے ساتھ آیا ہے کہ حوادث، مصائب، ذلتیں، مرعوبیت اور مغلوبیت تمہارے اعمال بد کا نتیجہ ہے، ارشاد ہے کہ جو مصیبت تم پر آتی ہے وہ تمہارے اعمال کے سبب سے آتی ہے اور بہت سی باتوں کو تو اللہ تعالیٰ معاف فرمادیتے ہیں۔(سورئہ شوریٰ) اور ارشاد ہے کہ جب انہوں نے ہم کو ناخوش کیا تو ہم نے ان سے بدلہ اور انتقام لیا ۔(سورئہ زخرف)اور ارشاد ہے کہ ظاہر ہوگیا بگاڑ اور فساد بحروبر میں ان (برے) اعمال کی وجہ سے جو لوگ کررہے ہیں۔(سورئہ روم) حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا ارشاد ہے کہ جب بھی کوئی بلا اور مصیبت آئے گی تو وہ گناہ کی وجہ سے آئے گی اور جب بھی توبہ کی جائے گی تو مصیبت دور ہوجائے گی۔

بعض گناہوں کے نتائج
ان آیات واحادیث سے یہ تو معلوم ہوگیا کہ کسی قوم پر عذاب الٰہی اور قہر خداوندی ، جو پریشانیاں ، مصیبتوں ، ذلتوں اور رسوائیوں کی صورت میں آتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی حد سے بڑھی ہوئی نافرمانیوں اور احکام خدواندی سے غفلت واعراض کی وجہ سے آتا ہے اور احادیث میں بعض خاص خاص گناہوں کے سبب خاص خاص عذاب نازل ہونے کا ذکر بھی بڑی وضاحت سے آیا ہے، چناں چہ ایک حدیث میں ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دس صحابہ کرام کی ایک جماعت حاضر تھی، آپ نے ان سے خطاب کر کے فرمایا کہ”پانچ چیزیں ایسی ہیں کہ میں خدا کی پناہ چاہتا ہوں کہ تم ان کو پاؤ، پھر فرمایا کہ جب کسی قوم میں بے حیائی علی الاعلان ہونے لگے تو وہ طاعون میں اور ایسی ایسی بیماریوں میں مبتلاہوگی جو ان کے بڑوں کے وقت میں نہیں ہوئیں اور جب کوئی قوم ناپ تول میں کمی کرے گی تو قحط اورتنگی میں گرفتار ہوگی اور اپنے حاکموں کے ظلم کی چکی میں پستی رہے گی اورجب کوئی قوم زکوٰة دینا بند کردے گی تو ان پر باران رحمت بند کردی جائے گی، اگر جانور نہ ہوتے تو بارش کا ایک قطرہ بھی نازل نہ ہوتا اور جب کوئی قوم عہد شکنی میں مبتلا ہوگی تو اللہ تعالیٰ ان پر غیر قوم سے دشمن کو مسلط کردے گا جو زبردستی ان کے مال وجائیداد پر قبضہ کرلے گا اور جس قوم میں ربوا یعنی سود خوری کا رواج ہوجائے گا تو ان پر موت کی کثرت ہوجائے گی“۔ اللہ تعالیٰ ہم کو محفوظ رکھیں۔ایک حدیث میں ہے کہ کسی شخص نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے زلزلہ کا سبب دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ جب لوگ زنا کو بے باکی سے کرنے لگتے ہیں، شرابیں خوب پیتے ہیں اور گانے بجانے میں مشغول ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کو آسمان میں غیرت آتی ہے اور زمین کو حکم فرماتے ہیں کہ ان کو ہلاڈال۔ایک حدیث میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی قوم سے انتقام لینا چاہتے ہیں تو بچے بکثرت مرنے لگتے ہیں اور عورتیں بانجھ ہوجاتی ہیں، یعنی خواہ قدرتی طور پر بانجھ یا بانجھ پن کی دوائیں استعمال کر کے یا آپریشن کر کے بانجھ ہوں ، بہرحال ہے یہ بھی اللہ تعالیٰ کا انتقام اور قہر۔

ہمیں اپنے اعمال کا جائزہ لے کر دیکھنا چاہیے کہ جن حوادث سے ہم دوچار ہیں وہ درحقیقت اپنے ہی اعمال بد کے ثمرات ونتائج ہیں یا بغیر کسی سبب کے ہم پر نازل ہوئے ہیں؟

آج ہم ملکی او رقومی سطح پر نہایت ہی کمزور، ناتواں اور دشمنوں کے لیے نرم چارہ کی حیثیت میں زندگی گزار رہے ہیں، اگر صرف ملکی سطح پر جائزہ لیا جائے تو ظاہر ہوجائے گا کہ یہ سب اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے اوپر ہم نے نازل کیاہے۔
         ازماست کہ برماست

قیام پاکستان کی صورت اور اسباب پر غور کیجیے، ہندستان میں مسلمان انگریز اور ہندو کے ظلم وستم کا نشانہ بنے ہوئے تھے، اقتصادی اور معاشرتی زندگی زوال پذیر تھی، اللہ تعالیٰ کو اس حالت زار پر رحم آیا اور دفتر غیب سے ایسے اسباب فراہم فرمادیے کہ ایک اسلامی سلطنت کی صورت میں پاکستان وجود میں آگیا، تاریخ میں یہ بات موجود ہے کہ حصول پاکستان کے لیے مسلمانوں نے اللہ تعالیٰ سے کیسی کیسی دعائیں مانگیں اور مقصد حاصل ہوجانے پر کیسے کیسے وعدے کیے کہ اسلام کی حکم رانی ہوگی، قرآن کریم کا قانون نافذ ہوگا، اسلام کی اور قرآن وسنت کی تعلیمات عام کی جائیں گی، اپنی اور آنے والی نسلوں کی تربیت خالص اسلام کی بنیا دپرہوگی اور اس وعدے کی وجہ سے کروڑوں مسلمانوں نے جان ومال کی قربانی پیش کی، لاکھوں مسلمانوں نے ہجرت کی اور پاکستان آگئے۔

وعدئہ الہٰی اور اس کا ظہور
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کے لیے ہجرت کرنے والوں سے وعدہ کیا گیا ہے کہ ایسے لوگوں کو فراخی، کشادگی اور بڑی گنجائش کی جگہ ملے گی، گویا اللہ تعالیٰ کاقانون یہ ہے کہ جو ہجرت ان کے نام پر کی جائے گی، اسلام کے تحفظ کے لیے کی جائے اور ان کا قانون جاری کرنے کے لیے کی جائے تو وہ ایسے لوگوں کو فراغت کی زندگی عطا فرمائیں گے۔

چناں چہ اللہ تعالیٰ نے قیام پاکستان اور ہجرت کے بعد اہل پاکستان پر اپنی رحمت کے دروازے کھول دیے، قیام پاکستان کے بعد برسوں تک یہ حالت رہی کہ ایک باوقار سلطنت عطا کی گئی۔ پورے ملک میں زرعی، صنعتی، تجارتی اور سائنسی شعبوں میں برکتیں اور روز افزوں ترقیاں حاصل ہوئیں، کثیر تعداد میں اعلیٰ سے اعلیٰ مکانات تعمیر ہوئے، کیسے کیسے بیش قیمت صنعت وحرفت کے کارخانے قائم ہوئے، تجارت گاہیں دنیا کی منڈیوں سے مالا مال ہوگئیں، بے شمار دینی اور دنیوی تعلیم گاہیں جابجا قائم ہوئیں، مدارس، کالج اور یونیورسٹیاں وجود میں آئیں، محلہ محلہ خوش نما اور وسیع مساجد تعمیر ہوئیں۔ غرض ہر شعبہ میں اللہ پاک نے فراوانی عطافرمائی، پھر ایک عرصہ کے بعد 1965ء میں جہاد اسلامی کی نعمت بھی عطا فرمائی، جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی نصرت وحمایت کا علانیہ اظہار فرمایا اور غیر متوقع طور پر دشمن کو شکست سے دوچار کیا اور ساری دنیا نے اس قوم کی جاں بازی، طاقت،شجاعت، اتفاق،محبت،سطوت اور شوکت کا لوہا مان لیا، یہ تو تھا اللہ تعالیٰ کا وعدہ، جو انہوں نے پورا فرما کر دکھلادیا، اس کا تقاضا یہ تھا کہ ہم بھی اپنا وعدہ پورا کرتے ،مگر اس معاملہ میں ہمارا طرز عمل بڑا شرم ناک اور ظالمانہ رہا، جس میں برابر اضافہ ہورہا ہے۔

ہمارا ایفائے عہد
ہم ذرا اپنے ایفائے عہد کا انداز دیکھیں اور اپنے جذبہ ایمانی، حمیت اسلامی اور شرافت انسانی کا جائزہ لے کر غورکریں کہ ہم نے رب ذوالجلال کے انعامات، احسانات کاحق کس طرح ادا کیا؟ غور کیجیے کہ ہمارے اس ملک میں جومحض نعمت خداداد تھا، وقت قیام سے اب تک کتنے سینماؤں کا اضافہ ہوا، کتنے ٹی وی اسٹیشن قائم ہوئے، کتنی بے پردگی اور بے شرمی کا رواج پڑا کہ شریف خاندان کی بہو بیٹیاں بے پردہ ہو کر باہر آگئیں، بال کھلے، سینہ کھلا، پیٹ کھلا، کیسی بے شرمی سے آزادانہ گھومنے لگیں، کتنے نائٹ کلب کھلے، اسمگلنگ اور چور بازاری میں کتنا اضافہ ہوا، غذائیں، فضائیں اور ہوائیں سب مسموم ہوکر رہ گئیں، دھوکہ، ملاوٹ،رشوت ہمارا وطیرہ ہوگیا، تعلیم گاہوں میں مخلوط تعلیم کو پروان چڑھایا گیا، جو ہمارے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے ذہنی اور اخلاقی بربادی کا سبب بنی، لاقانونیت کو عروج حاصل ہوا، تخریب کاری اور ڈاکہ زنی کو فیشن سمجھ کر اپنایا جانے لگا، ہزاروں بینک، بیمہ کمپنیاں اور سودی کاروبار کے ادارے وجود میں آتے چلے گئے، شراب اور جوا عام ہوگیا اور سارا ملک فسق وفجور میں ڈوب گیا، اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں میں غرق ہوگیا اور ایسا مدہوش ہوگیا کہ قدرت کی طرف سے مختلف تنبیہوں اور تازیانوں کے بعد بھی ہوش میں نہ آسکا، تقریباً ہرطبقہ کی یہی کیفیت ہوگئی، إلا ماشاء اللہ۔

اللہ تعالیٰ کی حرام کی ہوئی چیزوں کو ہم نے حلال کرلیا، ایسا کہ ان افعال پر شیطان بھی لعنت کرتا ہوگا، مگر افسوس صد افسوس کہ ملک وقوم کی یہ بربادی اور اسلامی ایمانی شعار کی یہ پامالی سب نے دیکھی، دیکھتے رہے اور دیکھ رہے ہیں، لیکن کسی کو اس حالت کے سدھارنے کی طرف توجہ نہ ہوئی، نہ اہل اقتدار کو نہ راہ نما یان قوم کو، نہ بہی خواہانِ ملک وملت کو، نہ لیڈروں کو اور نہ اہل علم کو، جب ایسے مسخ شدہ حالات ہوں تو بہبود کی کیا صورت ہوسکتی ہے؟!(اللہ تعالیٰ ہم پر رحم فرمائے)

قہر خداوندی کو دعوت
غور کیجیے کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کے انعامات کا کس طرح شکر ادا کیا اور اپنے وعدوں کو کہاں تک نبھایا؟ اگر ایسی ناشکری، وعدہ شکنی اور اللہ تعالیٰ کے احکام سے کھلی ہوئی بغاوت پر قہر الہٰی نہ ہو تو قابل تعجب ہے، ہم نے تو دیدہ دانستہ اس کے قہر کو دعوت دی ہے اور اس قہر سے فضل خداوندی کے علاوہ اورکوئی صورت نجات کی نظر نہیں آتی، دیکھیے اللہ تعالیٰ کا قانون فطرت نہیں بدلاکرتا، اس میں مسلم وغیر مسلم برابر ہیں، عمل اور رد عمل کا قانون قیامت تک جاری رہے گا، البتہ صرف مسلمانوں کے نقصانات کی تلافی کے لیے رحمت ومغفرت کا وعدہ ہے، اعمال بد کا خیال شکست وذلت، نکبت وپریشانی، لاقانونیت وتخریب کاری، افتراق وانتشار، غلامی اور جان ومال،عزت وآبرو کے عدم تحفظ کی صورت میں ظاہر ہوکر رہتا ہے، جب تک ہم اپنے اعمال وکردار سے قہر خداوندی کو دعوت دیتے رہیں گے، قہر خداوندی اسی طرح ظہور پذیر ہوتا رہے گا۔

تباہیوں کا جائزہ
اگر مختلف عنوانات اور مختلف صورتوں سے قہر خداوندی کا جائزہ لیا جائے گا تو موٹی موٹی چیزیں جو اس مختصر سے عرصہ میں سب کی نظروں کے سامنے سے گذریں اس طرح ہیں:
سیلابوں اور طوفانوں کی تباہ کاریاں، جو اولاً مرحوم مشرقی پاکستان میں ظاہر ہوئیں، پھر مغربی پاکستان ان تباہیوں کی لپیٹ میں آیا، لاکھوں افراد چند ساعتوں میں لقمہ اجل ہوگئے، ان کی بے گوروکفن لاشیں بحری یا جنگلی جانوروں کی غذائیں بن گئیں۔ ہزاروں عورتیں بے سہارا اوربے شمار بچے یتیم وخستہ حال ہوگئے،سینکڑوں ایکڑ رقبہ زمین اس کی زدمیں آکر ناکارہ ہوگئیں، کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں اور اناج کے محفوظ ذخیرے ذرا سی دیر میں زیر آب آکر فنا ہوگئے، جب سیلاب اور طوفان بے شمار نقصانات پہنچا کر ختم ہوا تو لازمی طور پر بدحالی، سراسیمگی، خوف، دہشت،وبائیں اور بیماریاں پھوٹ پڑیں، بھلا انسان اس قہر کا مقابلہ کرسکتا ہے؟ ہزاروں تدبیروں اور انتظامات کے باوجود بے شمار انسان ان مصائب کی زد میں آکر ہلاک ہوگئے، قیام پاکستان کے وقت یہ سرزمین تھی جو سونا اگلتی تھی، سیلاب کا نام ونشان نہ تھا، آرام اور چین سے زندگی گذررہی تھی، ہر شخص اپنی جگہ مطمئن تھا او رہر قسم کی ناگہانی آفت سے اپنے آپ کو محفوظ سمجھتا تھا، وہ ہمارا عمل بد تھا اور یہ اس کا رد عمل، قرآن کریم نے تین سیلابوں اور طوفانوں کا قصہ ان کے ہول ناک نتائج اوران کے اسباب کے ساتھ بیان کیا ہے۔

پہلا سیلاب طوفان نوح ہے، جس نے روئے زمین سے ہر چیز کو مٹادیا تھا، اس سیلاب کے بعد دنیا از سرنو آباد ہوئی ہے، سورئہ ھود میں اس سیلاب کا واقعہ اور اس کے اسباب کو ذکر کیا گیا ہے، خلاصہ یہ ہے کہ قوم کی مسلسل اور صبر آزماسرکشی، کلمہ حق سے روگردانی اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ ہدایات وتعلیمات سے انکار وعناد اس طوفان کا سبب تھا۔

دوسرا طوفان وہ ہے جو قوم فرعون پر نازل کیا گیا۔ سورئہ اعراف میں اس کا بیان ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جب قوم فرعون حق واضح ہوجانے کے باوجود مسلسل انکار کرتی رہی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو مختلف قسم کے عذابوں میں مبتلا فر ماکر جھنجوڑا، ممکن ہے کہ اس طرح مان جائیں اور احکام الہٰی کو تسلیم کرلیں، جب کوئی عذاب نازل ہوتا تو وہ وعدے کرتے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی فرماں برداری کریں گے، یہ عذاب ان سے ہٹادیا جائے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا سے وہ عذاب ہٹادیاجاتا، عذاب کے دور ہوتے ہی اپنے وعدوں سے پھر جاتے اور حسب سابق پھر سرکشی اور انکا رکرنے لگتے، ان عذابوں میں سے ایک عذاب پانی کے طوفان کا تھا ،جو ان پر مسلط ہوا کہ ان کے تمام کھیت، باغات حتی کہ رہنے کے مکانات میں پانی بھر گیا، ایک ہفتہ مسلسل اس عذاب میں گرفتار رہے، پھرآخر راہ راست اختیار کرنے کے بڑے پکے وعدے کیے تو یہ عذاب ان سے دور ہوا۔

قرآن کریم اس کا سبب بھی وہی بتارہا ہے کہ احکام الہٰی سے سرتابی، قبول حق سے انکاراپنانا۔

تیسرا سیلاب ملک یمن میں قوم سبا پر عذاب بن کر مسلط ہوا ،جس کا ذکر سورئہ سبا میں ہے، اس کو قرآن کریم سیل عرم یعنی بند اور ڈیم کا سیلاب فرما رہا ہے کہ جو ذخیرہ آب ڈیم کے ذریعہ محفوظ کر کے ملک وقوم کی ترقی وخوش حالی اور راحت وآرام کے لیے رکھا گیا تھا، اس قوم کی ناشکری، سرکشی اور سرتابی کی سزا بھی اس ذخیرئہ آب سے دی گئی کہ بند کو توڑ کر وہ تمام پانی باہر نکالا اور تمام آبادیوں، کھیتوں، باغوں اور زمینوں کو تہس نہس کرتا ہوا گزر گیا، اب نہ زمین کی زرخیزی باقی رہی، نہ سکونت کی جگہ، جگہ جگہ جھاڑ جھنکاڑ اور جنگل درخت نمودار ہوگئے، اس کے بعد سے آج تک یہ جگہ آباد نہ ہوسکی، قرآن کریم نہایت واضح الفاظ میں اس تباہی وبدحالی کا سبب ان کی ناشکری کو قرار دے رہا ہے۔﴿ذٰلک جزینٰھم بما کفروا﴾یعنی ہم نے ان کو ان کی ناشکری کی یہ سزادی پھر ضابطہ خداوندی بیان کیا،﴿وھل نجٰزی إلا الکفور﴾ یعنی ہم تو بڑے ناشکروں کو سزاد یتے ہیں۔

قرآن کریم نے عذاب طوفان کے حسب ذیل اسباب بیان فرمائے :ؤسرکشی وتکبرؤحق قبول کرنے سے انکار او راس انکار پر ڈٹے رہناؤناشکری اور کفران نعمتؤجرم وگناہ کو اپنی عادت بنالینا۔ اب ہمیں اپنی حالت کا جائزہ لے کر خود فیصلہ کرنا چاہیے کہ یہ اسباب کم وبیش ہمارے اندر موجود ہیں یا نہیں؟ پھر فلاح وبہبود کی توقع کیسے کی جائے؟

قیام ملک کے وقت زمین سیم وتھور سے ناآشنا تھی، وقت پر عموماً بارش ہوتی، ہرجگہ سرسبزی اور زرخیزی کے مناظر پیش کرتی،امیدوں سے زیادہ پیداوار ہوتی، جو دوسرے ممالک کو برآمد کر کے تجارتی ساکھ کا سبب بنتی،گویا زمین اپنے خزانے اگل رہی تھی، لیکن چند سالوں کے بعد نقشہ ہی دوسرا ہونے لگا، سیم اور تھور نے زمینوں کو بنجر اور ناکارہ بنانا شروع کردیا، پیداوار گھٹتے گھٹتے اتنی رہ گئی کہ قحط کا اندیشہ ہونے لگا اور اب قوت لایموت کے لیے غیروں، بلکہ اسلام کے دشمنوں کے سامنے کاسئہ گدائی پھیلانے لگے۔

بارشیں یا تو موقوف ہوئیں یا اتنی کثرت سے کہ فصلیں تباہ ہونے لگیں، یہ قہر کیوں نازل ہوا؟ بس اپنے اعمال بد کے نتیجے میں ہم نے وہ وہ نافرمانیاں کیں جن کا لازمی نتیجہ یہی تھا۔ حدیث شریف میں ہے کہ جب ناپ تول میں کمی کرنے کا رواج عام ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر قحط کو مسلط فرمادیتے ہیں اور وہ لوگ اپنے حکام کے ظلم کا نشانہ بنتے ہیں۔ غور کیجیے کہ کیا ہمارے معاشرہ میں یہ نافرمانی عام نہیں ہے، اس نافرمانی کا رد عمل بصورت قحط سامنے آتا ہے، خواہ اس قحط کے اسباب کچھ ہی ہوں، زمین بنجر ہوجائے یا سیم وتھور کی زد میں آجائے یا بارش سے فصلیں تباہ ہوجائیں یا ذخیرہ اندوزی اور اسمگلنگ کی وجہ سے ملک کو کھوکھلا کردیا جائے، یہ تمام قحط کی صورتیں ہیں، اس طرح حاکموں کے ظلم وستم کو بھی اس برے عمل کا نتیجہ قرار دیا گیا ہے۔

زلزلہ بھی اسی قہر خداوندی میں سے ہے۔