بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

ہماری مشکلات کا یقینی حل

ہماری مشکلات کا یقینی حل

مولانا عتیق احمد بستوی

موجودہ حالات میں کرنے کے چند کام
موجودہ حالات کا مستقل اور دیرپا حل بس یہی کام ہیں: گناہوں سے بچا جائے، خدا کی فرماں برداری زندگی کے ہر گوشے میں کی جائے، اپنی جن بد اعمالیوں اور بُرے کرتوتوں کے سبب یہ مشکلات پیدا ہوئی ہیں، ان سے بچا جائے اور اپنے خدائے قادر مطلق، خالق کائنات سے دعائیں کی جائیں۔ اس کے فیصلے کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا، لہٰذا خدا کے دربار میں استغفار کی کثرت رکھی جائے، تاکہ خدا کی نصرت ومدد کا استحقاق پیدا ہو اور اس سے دعائیں کرکے سنگین حالات اور آفات ومشکلات سے نجات حاصل کی جائے۔

حاصل یہ ہے کہ ان حالات کے ظاہری اسباب میں زیادہ سر کھپانے کے بجائے اس سرچشمہ پر نظر جمائی جائے جہاں سے ان حالات کے پیدا کیے جانے کے فیصلے ہوتے ہیں۔ بے شک الله تعالیٰ ہی حالات کو پلٹنے کی قدرت رکھتا ہے ، شدید نازک حالات میں سچی توبہ اور استغفار کے علاوہ درج ذیل اعمال بھی مصائب ومشکلات کو دور کرنے میں بہت مؤثر ہوتے ہیں:

فرض نمازوں کا اہتمام اور نفل نمازوں کی کثرت۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو جب بھی کوئی مشکل پیش آتی تو فوراً نماز کی طرف متوجہ ہوتے۔ رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم تو ہوا تیز ہو جانے پر بھی الله تعالیٰ کے عذاب سے ڈر جاتے اور نماز پڑھ کر الله تعالیٰ کے حضور میں گڑ گڑاتے کہ کہیں یہ ہوا، آندھی بن کر، عذاب کی شکل نہ اختیار کر لے۔

قرآن پاک میں نماز کے ذریعے مدد حاصل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

ارشاد الہی ہے:”اے ایمان والو ! صبر او رنماز سے مدد حاصل کرو۔“

مشکلات کو دفع کرنے میں صدقہ کرنا بھی بہت کارگر ہے، صدقہ خیرات کرنے سے بلائیں دور ہوتی ہیں، مصائب ومشکلات ،خواہ انفرادی ہوں یا اجتماعی، سب کو دور کرنے کے لیے صدقہ بہت تیربہ ہدف نسخہ ہے۔

رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے:” بے شک صدقہ بلاؤں کو دور کرتا ہے۔“

اس لیے مسلمانوں کو اس کی پابندی کرنی چاہیے کہ خطرناک حالات میں، خاص طورپر پابندی سے زکوٰة ادا کرنے کے علاوہ، نفلی صدقہ اور خیرات بھی کرتے رہیں۔ غریبوں، محتاجوں کی مدد کریں، بیواؤں ، یتیموں کا سہارا بنیں، صدقہ خیرات حتی الامکان اخفا کے ساتھ ہونا چاہیے، راز داری اور اخفا کے ساتھ صدقہ کرنا الله تعالیٰ کے یہاں زیادہ مقبول ہے، جیسا کہ آیات واحادیث سے معلوم ہوتا ہے۔

حضرت یونس علیہ السلام نے مچھلی کے پیٹ میں سخت اندھیروں کے اندر الله تعالیٰ سے جن الفاظ میں فریاد کی تھی، اسے بزرگوں نے مصائب کے ازالے میں بہت مؤثر پایا ہے۔ قرآن پاک میں حضرت یونس علیہ السلام کی یہ دعا اور پکار موجود ہے :﴿لَّا إِلَٰہَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَکَ إِنِّی کُنتُ مِنَ الظَّالِمِینَ﴾․ (انبیاء:87)

ترجمہ:” آپ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، آپ کی ذات پاکیزہ ہے ،بے شک میں ظالموں میں سے ہوں۔“

معنی کا پورا استحضار کرکے دل شکستگی اور احساس بے چارگی کے ساتھ جس قدر اس ذکر ودعا کی کثرت کی جائے، اسی قدر الله کی رحمت متوجہ ہوتی ہے اور خطرات کے بادل چھٹ جاتے ہیں۔

رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم کی ایک پیش گوئی
خاتم النبیین حضرت محمد مصطفی صلی الله علیہ وسلم کا ایک زندہٴ جاوید معجزہ آپ کی پیش گوئیاں ہیں، رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم کی پیش گوئیاں زمانہ گزرنے کے ساتھ درخشاں سورج کی طرح ظاہرہوتی جارہی ہیں۔ موجودہ حالات کے تعلق سے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی ایک پیش گوئی نقل کی جاتی ہے، یہ حدیث نبوی مسلمانوں کے موجودہ حالات کی سچی تصویر ہے، اس میں مسلمانوں کے امراض کی تشخیص بھی زبان نبوت نے کر دی ہے، اگر مسلمان چاہیں تو اپنے امراض کا ازالہ کرکے حالات درست کرسکتے ہیں، دل ودماغ کی پوری توجہ کے ساتھ، رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم کی زبان سے نکلنے والی، چودہ سو سال پہلے کی یہ پیش گوئی پڑھیے اور سنیے:

”حضرت ثوبان کی روایت ہے کہ رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: وہ زمانہ قریب ہے جب دوسری قومیں تم پر اس طرح ٹوٹ پڑیں گی، جس طرح کھانے والے اپنے پیالے پر ٹوٹتے ہیں، ایک شخص نے عرض کیا: کیا زمانے میں ہماری تعداد بہت قلیل ہو گی؟ رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: اس زمانے میں تمہاری تعداد بہت زیادہ ہو گی، لیکن تم لوگ سیلاب کے جھاگ کی طرح ( بے وزن )ہو گے، الله تعالیٰ تمہارے دشمنوں کے سینوں سے تمہاری ہیبت نکال دے گا او رتمہارے دلوں میں ” وہن“ ڈال دے گا، ایک شخص نے سوال کیا: اے الله کے رسول (صلی الله علیہ وسلم)! ”وہن“ کیا چیز ہے؟ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: دنیا کی محبت اور موت کی ناپسندیدگی۔“ (ابوداؤد)

انصاف سے بتائیے کہ کیا یہ دور حاضر کے مسلمانوں کی سچی تصویر نہیں؟ الفاظ کے ذریعے مسلمانوں کے موجودہ حالات کی اس سے بہتر تصویر کشی ممکن نہیں ہے، مسلمان کروڑوں، اربوں کی تعداد میں ہیں، لیکن سیلاب کے جھاگ کی طرح دنیا میں ان کا کوئی وزن نہیں ہے، جو قوم چاہتی ہے ان پر یلغار کرتی ہے، ان کی جان ومال، عزت وآبرو اور دینی شعائر پر حملے کرتی ہے اور مسلمان کثرت تعداد کے باوجود حالات کے سامنے ہتھیار ڈالے ہوئے ہیں اور ہر طرح کی ذلت برداشت کر رہے ہیں۔ اس حدیث میں رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم نے مرض کی جو تشخیص فرمائی ہے، وہ بھی سو فیصد موجودہ حالات پر منطبق ہے، دنیا کی محبت مسلمانوں پر اس قدر غالب آچکی ہے کہ وہ اپنا دین وایمان، عرت وآبرو سب کچھ دنیا کے لیے داؤ پر چڑھائے ہوئے ہیں۔

اگر آپ غور سے جائزہ لیں گے تو محسوس ہو گا کہ مسلمانوں کی دین سے بیزاری اور فرائض سے غفلت کا بنیادی سبب حب دنیا ہے۔ دنیا کی حرص اور محبت نماز او رجماعت کی ادائی سے مانع ہے آج کا مسلمان سوچتا ہے کہ پانچ وقت نماز پڑھنے میں، خصوصاً جماعت کے ساتھ پڑھنے سے، اس کی تجارت، زراعت اور صنعت وحرفت کا کچھ نقصان ہو گا، اسے نماز سی محرومی گوارا ہے، لیکن آمدن میں برائے نام کمی گوارا نہیں، حب دنیا ہی کا نتیجہ ہے کہ مسلمان فرض زکوٰة کی ادائی نہیں کرتا، کتنے لوگ ہیں جن پر حج فرض ہے ،لیکن دنیا کی محبت اس اہم فریضے کی ادائی سے روکتی ہے ، حب دنیا ہی وہ روگ ہے جو ایک مسلمان سے کتنے گناہ کراتی ہے، ایک مسلمان دوسرے مسلمان پر ظلم کرتا ہے، اس کی زمین وجائیداد ہڑپ کر لیتا ہے، دوسروں کے حقوق ادا کرنے میں کوتاہی کرتا ہے، غرض یہ کہ اگر آپ باریک بینی سے جائزہ لیں تو معلوم ہو گا کہ مسلمانوں کی ساری بد اعمالیوں کی جڑ دنیا کی محبت ہے۔

دنیا کی بڑھتی ہوئی محبت کا فطری نتیجہ ہے کہ انسان موت کو سخت ناپسند کرے، کیوں کہ موت طاری ہوتے ہی دنیا سے انسان کا رشتہ ختم ہو جاتا ہے، سچا مومن موت سے نہیں ڈرتا، لیکن دور حاضر کے مسلمانوں پر موت کا خوف چھایا ہوا ہے، مسلمان موت کے تصور سے، بلکہ اس کی پر چھائیں سے گھبرانے لگا ہے، دور حاضر کے مسلمان جب تک قرآن وحدیث میں بتائے ہوئے طریقوں سے اپنے دونوں روگ ( دنیا کی محبت اور موت سے بیزاری اور فرار) دور نہیں کرتے، ان کے لیے باعزت اور پُرسکون زندگی گزارنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔

مسلمانوں کا باہمی اختلاف وعداوت اور اس کی تباہ کاریاں
قرآن پاک اور تعلیمات نبوی صلی الله علیہ وسلم کی روشنی میں جب ہم مسلمانوں کی موجودہ بد حالی اور بے توقیری کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں ایک اور زبردست عامل بھی کار فرما نظر آتا ہے، وہ ہے مسلمانوں کا حد سے بڑھا ہوا باہمی اختلاف، قرآن پاک میں مسلمانوں کے باہمی نزاع او راختلاف کو مسلمانوں کی ہوا اکھڑنے او ران کی دھاک ختم ہونے کا سبب قرار دیا گیا ہے۔

الله تعالیٰ جل شانہ کا ارشاد ہے:
”الله اور اس کے رسول صلی الله علیہ وسلم کی اطاعت کر واور باہم نزاع نہ کرو، ورنہ ناکام ہو جاؤ گے او رتمہاری ہوا اکھڑ جائے گی اور صبر کرو، بے شک الله تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔“ (انفال:46)

دورِ حاضر میں جب ہم گھر اور خاندان کی سطح سے لے کر ملک کی سطح تک مسلم سماج کا جائزہ لیتے ہیں تو ہمیں مسلم سماج میں سب سے نمایاں مرض باہمی عداوت، اختلاف او رانتشار نظر آتا ہے، اسلامی او رانسانی اخوت کا رشتہ بہت کم زور پڑ گیا ہے، گھر گھر میں شدید مخاصمت او رجنگ ہے، قریب ترین عزیزوں میں دشمنوں سے بڑھ کر دوری ہے، بھائی ،بھائی، باپ بیٹے ماں بیٹی میں عداوت اور قطع تعلقی ہے، ہر شخص دوسرے کا بد خواہ ہے، آپس میں اخوت ومحبت، الفت وصلہ رحمی ختم ہوچکی ہے، ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا شریک غم ہونے کے بجائے اس کی مصیبت پر ہنستا اور خوش ہوتا ہے، ہمارے سماجی اتحاد کا شیرازہ بکھر چکا ہے، صلہ رحمی، تعلقات کی اصلاح اور اخوت اسلامی کے سلسلے کی اسلامی تعلیمات بالکل فراموش کر دی گئی ہیں۔ رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم کی تعلیمات تو یہ ہیں:

”تم دوسرے کے متعلق بدگمانی سے بچو، کیوں کہ بد گمانی سب سے جھوٹی بات ہے، تم کسی کی کم زوریوں کی ٹوہ میں نہ رہا کرو اور جاسوسوں کی طرح راز دارانہ طریقے سے کسی کے عیب معلوم کرنے کی کوشش بھی نہ کیا کرو اور نہ ایک دوسرے پر بڑھنے کی بے جاہوس کرو، نہ بغض وکینہ رکھو اور نہ ایک دوسرے سے منھ پھیرو۔ بلکہ اے الله کے بندو! الله کے حکم کے مطابق بھائی بھائی بن کر رہو۔“ (بخاری ومسلم)

حضرت ابودرداء رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ” تمہیں ایک ایسی چیز نہ بتاؤں جس کا درجہ روزے، زکوٰة اور نماز سے بڑھا ہوا ہے؟“ ہم لوگوں نے عرض کیا: آپ ضرور بتائیں! رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:” وہ چیز باہمی تعلقات کی درستی ہے اور باہمی تعلقات کا بگاڑ مونڈ دینے والا ہے“۔ (ابوداؤد)

”سارے اہل ایمان ایک انسان کی طرح ہیں، اگر ایک شخص کی آنکھ میں درد ہوتا ہے او راگر اس کے سر میں درد ہوتا ہے تو سارا جسم مبتلائے درد ہو جاتا ہے ( اسی طرح) اگر ایک مومن کو تکلیف پہنچتی ہے تو تمام اہل ایمان اس درد کی کسک محسوس کرتے ہیں“۔ ( مسلم)

”اس قوم پر رحمت نازل نہیں ہوتی ، جس میں کوئی قطع رحمی کرنے والا ہو“۔ (بیہقی فی شعب الایمان)

لیکن رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی ان تعلیمات کے بالکل برعکس مسلم سماج انتشار او ربکھراؤ کا شکار ہے، گھر کی سطح سے لے کر ملک کی سطح تک مسلمانوں کا شیرازہ بکھر چکا ہے، ان کا اتحاد پارہ پارہ ہو چکا ہے، ہر گھر اور خاندان میں قطع رحمی اور تعلقات کا بگاڑ ہے، اگر کسی کے دل میں مسلمانوں کے اتحاد کا خیال آتا بھی ہے تو وہ گھر او رمحلے کی سطح سے اصلاح واتحاد کی کوشش شروع کرنے کے بجائے ملکی اور بین الاقوامی سطح سے اتحاد کی کوشش شروع کرتاہے، اس لیے یہ غیر فطری کوشش ناکام ہو کر رہ جاتی ہے۔

مسلمان اگر چاہتے ہیں کہ ان کی عزت وشوکت بحال ہو اور ماضی کی طرح اقوام عالم میں ان کا وزن محسوس کیا جائے او رباعزت مقام دیا جائے تو انہیں اپنی صفوں میں دین کی بنیاد پر اتحاد پیدا کرنا ہو گا، آپس کے تعلقات سدھارنے ہوں گے اور رشتہ اخوت مضبوط کرنے کی کوشش کا آغاز اپنے گھر اور خاندان سے کرنا ہو گا اور تدریجاً اسے ملک اور پوری دنیا کی سطح تک لے جانا ہو گا، اصلاح واتحاد کی کوششوں کے بغیر مسلمان نہ تو دنیا میں باعزت مقام پاسکتے ہیں اور نہ آخرت میں الله تعالیٰ کے حضور سرخ رُو ہو سکتے ہیں۔

خلاصہٴ کلام
ان تمام باتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ اسباب کی اس دنیا میں، مسلمانوں کو حالات میں تبدیلی لانے کے لیے، ظاہری اسباب کی طرف توجہ ضروری ہے، لیکن اسی کے ساتھ سب سے ضروری بات یہ ہے کہ اہم اسباب کو اسباب ہی کی حد تک اختیار کریں۔ ان پر تکیہ نہ کر لیں اور واقعات کے حقیقی اور باطنی اسباب، جن کا علم قرآن وحدیث سے ہوتا ہے، ان کی طرف سے ہم غافل نہ ہو جائیں، کتاب وسنت کی روشنی میں مسلمانوں کی مشکلات اور پریشانیوں کا حقیقی علاج یہ ہے کہ ہر مسلمان اپنی بد اعمالیوں کا جائزہ لے کر خلوص دل کے ساتھ گناہوں سے توبہ واستغفار کرے، اپنی زندگی کے تمام تقاضوں کو اسلام کے سانچے میں ڈھالے، اپنے سماج سے برائیوں کو ختم کرنے اور نیکیوں کو پھیلانے کی پوری جدوجہد کرے۔

دوسروں کو اپنے قول وعمل ، اخلاق وکردار سے اسلام کی طرف بلائے، اسلام کی سچی، دل کش تصویر ان کے سامنے پیش کرے، اگر مسلمان اپنی ان ذمہ داریوں کو پورا کریں گے تو ان شاء الله حالات میں اچھی تبدیلیاں ہوں گی، غیبی نظام کے تحت بد تر حالات ختم ہو کر مسلمانوں کے لیے انتہائی ساز گار حالات پیدا ہوں گے اور خدانخوستہ اگر موجودہ حالات ومشکلات کے حقیقی اسباب کو نظر انداز کیا جاتا رہا او ران کے با رے میں مسلسل غفلت کا رویہ اختیار کیا گیا تو تنہا ظاہری اسباب کا اختیار کرنا کچھ کام نہ دے گا او رحالات تیزی سے بگڑتے رہیں گے۔ الله تعالیٰ ہم سب کو اعمال درست کرنے، برائیوں سے دور رہنے او رسماج میں نیکیوں کو پھیلانے کی توفیق عطا فرمائے اور امن وعافیت کی زندگی نصیب فرمائے۔( آمین)