بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں!

کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں!

محترم عبدالرشید طلحہ نعمانی

سیدالکونین، امام الثقلین ،محسن اعظم، رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے والہانہ عقیدت ومحبت جزوِ ایمان ہے اورلازمہٴ اسلام ہے ، اس کے بغیردین و ایمان کاتصور بھی محال ہے ۔محبت ایک ایسا لطیف جذبہ ہے جو ہر انسان کو اپنی جانب کھینچتا ہے ،بالخصوص اس وقت جب محبوب،محسن بھی ہو،معلم بھی مربی بھی ہو،مزکی بھی۔رحیم وخیرخواہ بھی ہو اور شفیع و سفارشی بھی ۔محبت کا تقاضا ہے کہ محبوب کے رنگ میں رنگ جاوٴ! اس کی چاہت پر ہر چاہت کو مغلوب کردو! اس کے حکم پر کسی حکم کو غالب نہ آنے دو۔ سویدائے قلب سے بار بار یہی صدائیں آتی رہیں:جو تیری خوشی وہ میر ی خوشی،جو تیرامشن وہ میرا مشن،جو تیری لگن وہ میری لگن۔غرض، ہر لمحہ اسی کی یاد… اسی کا احساس… اس کی تڑپ…اور اس کی چاہ ہو۔

معروف محدث وفقیہ علامہ عینی (1361-1451ء) رحمہ اللہ محبت کی حقیقت بیان کرتے ہوئے ارقام فرماتے ہیں:”دل کا تعلق اورمیلان کسی چیز کی طرف ہونا، اس تصور سے کہ اس میں کوئی کمال اور خوبی وعمدگی ہے ، اس طرح کہ وہ شخص اپنے رجحان اورآرزووخواہش کا اظہار اس چیز میں کرے جو اس کو اس سے قریب کردے“۔ (عمدة القاری 1/142)

اسبابِ محبت
عام طور رپرکسی بھی شخص سے محبت وتعلق کے چار اسباب ہوسکتے ہیں :حسن وجمال۔لیاقت وکمال۔احسان ونوال۔قرابت و رشتہ داری۔ علامہ نووی (631-676 ھ)فرماتے ہیں: "محبت کی اصل یہ ہے کہ دل کسی ایسی چیز کی طرف مائل ہوجو مرغوب وپسندیدہ ہو۔ پھر دل کا میلان کبھی ایسی چیز کی طرف ہوتا ہے جس میں انسان لذت محسوس کرتا ہواور اسے حسین سمجھتا ہو، جیسے حسن صورت اور کھانا وغیرہ اور دل کا میلان کبھی ایسی چیز کی طرف ہوتا ہے جس کی لذت باطنی وجوہ کی بنا پر اپنی عقل سے معلوم کرتا ہو، جیسے صلحا، علماء اور اہل فضل کی مطلق محبت اور کبھی دل کا میلان کسی کی طرف اس کے احسان اور اس سے کسی تکلیف دہ اور ناپسندیدہ چیزوں کو دور کرنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔“ (المنھاج شرح صحیح مسلم بن الحجاج 2/14)۔

جب ہم گہرائی کے ساتھ سیرت طیبہ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں اس بات کا یقین حاصل ہوجاتاہے کہ یہ تمام اسباب آپ صلی الله علیہ وسلم کی مبارک ذات میں بدرجہٴ اتم پائے جاتے ہیں۔

حسن وجمال: ایک آدمی کسی سے محبت اس کی ظاہری خوب صورتی کی وجہ سے کرتا ہے ، جیسا کہ دنیا میں اسی سبب کو محبت کی کلید کہاجاسکتا ہے ۔ زلیخا نے حضرت یوسف علیہ السلام سے حسن وجمال کی وجہ سے محبت کی۔ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم تو دنیا کے حسین ترین انسان تھے ۔ آپ صلی الله علیہ وسلم کے حسن وجمال کی گواہی متعدد صحابہٴ کرام نے دی ہے ۔ حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ چاندنی رات میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کو اس حال میں دیکھاکہ آپ پر سرخ رنگ کا دھاری دار حلہ(جوڑا)تھا،میں حضور صلی الله علیہ وسلم کو بھی دیکھتا اور چاند پر بھی نظر کرتا۔ پس حضورصلی الله علیہ وسلم میرے نزدیک چاند سے زیادہ حسین تھے ۔ (شمائل ترمذی)حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی الله علیہ وسلم سے زیادہ خوب صورت کوئی چیز نہیں دیکھی، گویا سورج آپ صلی الله علیہ وسلم کے چہرے میں رواں (چہرہ نہایت ہی منور) تھا۔ (ایضاً )

کمال: کسی سے محبت کا ایک سبب اس کے اندر کا کمال ولیاقت اورخوبی وعمدگی بھی ہوتی ہے ، جیسے علم وفضل اور صلاحیت وصالحیت وغیرہ۔ آپ صلی الله علیہ وسلم میں سیکڑوں کمالات تھے۔ آپ صلی الله علیہ وسلم پر نبوت ختم ہوئی اور آپ صلی الله علیہ وسلم خاتم النبیین تھے ۔ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ پر نبوت ختم ہوئی اور میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔“ (المعجم الاوسط: 3274 ) اللہ تعالی نے آپ صلی الله علیہ وسلم کو اولین وآخرین کے علم سے نوازا تھا۔ پھر مخلوقات میں جتنے بھی کمالات ہیں وہ سب آپ صلی الله علیہ وسلم کے ہی واسطے سے ہیں ؛ کیوں کہ آپ صلی الله علیہ وسلم ہی مبلغ اور قاسم ہیں جیساکہ آپ کا فرمان ہے: میں تقسیم کرنے والا ہوں اور اللہ عطا کرنے والا ہے ۔

احسان: ایک آدمی کسی کے احسان کی وجہ سے بھی اس سے محبت کرتا ہے ۔ صفت احسان بھی نبی اکرم میں حد درجہ پائی جاتی تھی۔ حدیث میں ہے کہ آپ کے در سے کوئی خالی ہاتھ نہیں لوٹتا تھا ،آپ اپنی وسعت کے مطابق ہر سائل کا دامن مراد بھر کر واپس فرماتے تھے ۔اس عمومی بخشش کے علاوہ خاص خاص مواقع پر آپ کا جود و کرم انتہا کو پہنچ جاتا۔جیسے بخاری شریف کی روایت ہے کہ : ”اللہ کے رسول صلی الله علیہ وسلم لوگوں میں سب سے زیادہ سخی تھے ۔ جب رمضان کا مہینہ آتا؛ تو آپ جبرئیل علیہ السلام کے ساتھ قرآن کریم کا دور کرتے تھے ۔ (اور خاص طور پر رمضان میں)آپ صلی الله علیہ وسلم کی سخاوت ہوا سے بھی زیادہ تیز ہوتی تھی۔ “

قرابت ورشتہ داری:محبت کا ایک سبب رشتہ داری بھی ہے ۔اس کی وجہ سے بھی باہمی تعلقات مضبوط ومستحکم ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کے لیے ہم دردی و جاں نثاری کے جذبات ابھرتے ہیں۔رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم اس حیثیت سے بھی محبت کیے جانے کا اولین حق رکھتے ہیں ۔ ارشاد خداوندی ہے : ”ایمان والوں کے لیے یہ نبی ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ قریب تر ہیں اور ان کی بیویاں مومنین کی مائیں ہیں۔ “(الاحزاب: 6) ایک روایت میں سرکار دوعالم صلی الله علیہ وسلمنے خود فرمایا :میں تمہارے لیے شفیق باپ کے درجہ میں ہوں۔(ابو داؤد)

یہاں توسرسے پہلے دل کا سودا شرط ہے یارو !
جب ہم صحابہ کرام اورتابعین عظام کی سیرت وسوانح کامطالعہ کرتے ہیں تو ہم کوپتہ چلتا ہے کہ یہ نفوس قدسیہ، رسول صلی الله علیہ وسلم کی محبت میں اس قدر ڈوبے ہوئے تھے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم کی خاطر مرنے کٹنے کے لیے ہمیشہ تیار رہتے تھے ۔ حضرت عمررضی اللہ عنہ وفات رسول صلی الله علیہ وسلمکی خبر سن کر بے تاب ہوگئے اور کہنے لگے "خبردار! جس کسی نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے ہیں، میں ایسے شخص کی گردن اڑا دوں گا…! میرے آقا تو اللہ تعالی سے ملاقات کرنے گئے ہیں، جیسے موسی علیہ السلام اپنے رب سے ملاقات کے لیے گئے تھے ، وہ لوٹ آئیں گے اور بہت جلد لوٹ آئیں گے …! بلال حبشی نے حضور کی وفات کے بعد اذان دینا چھوڑدیا۔ حضرت اویس قرنی نے حضور کی محبت میں اپنے دانت اکھاڑ لیے۔ ایک صحابی رسول کو آپ کی وفات کی اطلاع ملی تو انہوں نے وہیں پرکھڑے کھڑے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور دعا کی کہ خدایا! میری بینائی ختم فرمادیجیے! اس لیے کہ اب وہ ذات ہمارے درمیان نہیں رہی؛ جس کے دیدار سے ہم اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرتے تھے۔ (الادب المفرد)

علماء کرام فرماتے ہیں: حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی محبت اور عقیدت تو جذبہ و جنون اور اطاعت و وفاداری دونوں سے عبارت تھی۔ اس لیے اس کا رنگ سب سے الگ تھا اور اسی وجہ سے زمانہ ہمیشہ ان کی کوئی مثال لانے سے قاصر رہا ہے ۔ مگر اس عقیدت و محبت کے اظہار کا انداز جدا جدا تھا۔ حضرت ابوبکر صدیق اپنی زندگی کی سب سے بڑی خواہش کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مجھے اس دنیا میں تین چیزیں پسند ہیں: جناب نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے چہرہ انور کی زیارت کرتا رہوں، میرا مال نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم پر خرچ ہوتا رہے اور میری بیٹی نبی اکرم کے نکاح میں ہو۔

مگر حضرت عمرو بن العاص کی محبت کا اندازہ اس سے مختلف ہے ، وہ فرماتے ہیں کہ اگر مجھ سے کوئی دریافت کرے کہ حضرت محمد رسول اللہ کے چہرہٴ انور اور حلیہ مبارک کی کیفیات بیان کروں تو نہیں کر سکوں گا، اس لیے کہ زندگی بھر آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کے چہرہٴ مبارک کو آنکھ بھر کر دیکھ ہی نہیں پایا۔ جب کافر تھا تو اس قدر نفرت تھی کہ نظر ڈالنے کو جی نہیں چاہتا تھا اور جب مسلمان ہوا تو آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہٴ انور کا رعب اتنا تھا کہ آنکھ بھر کر دیکھنے کی ہمت ہی نہیں تھی۔ یہ اظہارِ محبت اور احترام و ادب کے اپنے اپنے انداز ہیں، وارفتگی کی ایک ایسی قدرِ مشترک ہے کہ جس نے سب کو محبت وعقیدت کے بے مثال رشتے میں پرِو رکھا ہے ۔( رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی محبت اور مسلمانوں کے جذبات)

طبقات ابن سعد میں عاصم بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو جب کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تذکرہ کرتے ہوئے سنا ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوتے ہوئے دیکھا۔ یہی وہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا ہیں جو آثار رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی حد درجہ عشق کرتے تھے ۔ کنز العمال کی روایت کے مطابق جہاں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا فرماتے ابن عمر بھی وہاں نماز ادا فرماتے، اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کسی درخت کے نیچے فروکش ہوئے ہوتے تو ابن عمر رضی اللہ عنہ اس کی نگہ داشت کرتے اور اس کی جڑوں میں پانی ڈالتے کہ وہ کہیں سوکھ نہ جائے ۔

طبقات ابن سعد میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ کوئی رات ایسی نہیں گزرتی جس میں اپنے محبوب کو نہ دیکھتا ہوں! یہ بیان کرکے روتے جاتے۔بعض صحابہ رضی اللہ عنہم کو آنکھیں محض اس لیے عزیز تھیں کہ ان کے ذریعے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار ہوتا تھا۔

اسی طرح شواہد النبوة میں ملا جامی علیہ الرحمہ نے یہ روایت بیان کی ہے کہ جب حضور علیہ الصلاة و السلام کی وفات کی خبر موٴذن رسول حضرت عبداللہ بن زید انصاری رضی اللہ عنہ نے سنی تو وہ اس قدر غم زدہ ہوئے کہ نابینا ہونے کی دعا مانگنے لگے کہ میرے حبیب کے بعد یہ دنیا میرے لیے قابل دیدنہ رہی اور خدا کی قدرت کہ آپ اسی وقت نابینا ہوگئے ، لوگوں نے کہا تم نے یہ دعا کیوں مانگی؟ فرمایا: لذت نگاہ تو آنکھوں سے ہے ، مگر سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اب میری آنکھیں کسی کے دیدار کا ذوق نہیں رکھتیں۔

معلوم ہواکہ عشق، زبانی دعویٰ کا نام نہیں، بلکہ وہ ایک جذبہ ہے جو عاشق کو اپنے محبوب کے لیے ہر شے کو نثار کردینے پر ابھارتا ہے ۔ عشق رسول ایک ایسی چاشنی ہے جو بھی اسے چکھ لیتا ہے توپھرکفار کے روح فرسا مظالم جلادانہ بے رحمی و سفاکی دنیا بھر کی اذیتیں اس کے پائے استقامت کو متزلزل نہیں کرسکتیں۔ عشق رسول کا مزہ پوچھنا ہوتو حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے دل سے پوچھیے! جنہوں نے عشق کی راہ میں کیسے کیسے صدمات سہے ، ریگستان عرب کی سخت تپتی ریت پر انہیں بار بار لٹایا جاتا اور ان کے اس سینہ پر، جس میں محبت رسول کے ہزاروں چراغ جل رہے تھے، کفار مکہ کی جانب سے وزنی پتھر رکھا جاتا اور ان پر کوڑے برسائے جاتے، پھر بھی وہ محبتِ رسول صلی الله علیہ وسلم کے دامن کو نہیں چھوڑتے اور زبان حال سے یہ اعلان کرتے جاتے تھے ۔
        میں مصطفی کے جامِ محبت کا مست ہوں
        یہ وہ نشہ نہیں جسے ترشی اتار دے

خلاصہٴ تحریر
آج ذکر رسول اور جلسہائے سیرت کے ساتھ ہمیں اس بات پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا ربیع الاول کی اتنی سی اہمیت رہ گئی کہ ملت کے کچھ افراد اسے جشن کے طور پر مناکر فارغ ہوجائیں؟کچھ دیر کے لیے جلسے جلوس کا انعقاد کرلیا جائے ؟کچھ نعتیہ مشاعروں اور مدحیہ مجلسوں کا اہتمام ہوجائے !اس کے بعد سال کے گیارہ مہینے سنتوں کا جنازہ نکلے، فرامین رسول سے سرتابی ہو، تعلیمات نبوی کو پامال کیاجائے اور جانتے بوجھتے خلاف شرع امور انجام دیے جائیں اور ہماری پیشانیوں پر شکن تک نہ آئے ؟

نہیں نہیں! ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا۔ امت مسلمہ کو اس نادر موقع سے بہت کچھ فیض لینا ہے ،بہت کچھ نفع پہنچانا ہے ،امت کے لیے یہ موقع اس اہم ترین سبق کی یاد دہانی ہے جسے اس نے فراموش کردیا ہے اور اسی وجہ سے اقوام عالم کے درمیان نشان عبرت بنی ہوئی ہے ۔

ربیع الاول کا مہینہ پوری امّت کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا مہینہ ہے ، حالاں کہ سارے مہینے ہمارے آقا علیہ السلام کے ہیں؛ مگر یہ مہینہ آپ علیہ السلام کی ولادت کے ساتھ مخصوص ہے، اس لیے امت کو چاہیے وہ اس نادر موقع سے بھرپور فائدہ اٹھائے ،سیرت النبی صلی الله علیہ وسلم کا مطالعہ کرے،اپنی نسلوں کو اس سلسلہ میں توجہ دلائے،لوگوں میں دین کے ضروری امور سے متعلق شعور بیدار کرے اور سنت کے مطابق زندگی گزارنے کو ترجیح دے۔ حقیقی محبت کے حوالے سے مفتی محمد تقی عثمانی صاحب مدظلہ کے ان بصیرت افروز اشعار پر ہم اپنی بات ختم کرتے ہیں :
        محبت کیا ہے؟ دل کا درد سے معمور ہوجانا
        متاع جاں کسی کو سونپ کر مجبور ہوجانا
        یہاں تو سر سے پہلے دل کا سودا شرط ہے یارو!
        کوئی آساں نہیں ہے سرمد ومنصور ہو جانا