بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

کیا فرماتے ہیں علمائے دین؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین؟

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

حافظ قرآن کے لیے قرآن مجید ختم کرنے کی مدت
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان ِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ سال میں حافظ کے لیے کتنی مرتبہ قرآن مجید ختم کرنا قرآن کا حق ہے؟

جواب… سال میں ایک مرتبہ قرآن کریم کا ختم کرنا قرآن کا حق ہے، اسی طرح ایک روایت میں ختم قرآن کے لیے ایک مہینہ کا عرصہ بتایا گیا ہے، ایک روایت میں سات دِن کا، بعض علماء کرام نے تین دِن میں ختم کرنے کی اجازت بھی دی ہے، صاحب الدر المختار فرماتے ہیں کہ حافظ قرآن کے لیے بہتر یہ ہے کہ وہ چالیس دِن میں ایک مرتبہ قرآن مجید کو ختم کیا کرے۔

ممتحن کا اجمالی نمبر دینے  اور مہتمم کا بغیر اجازت طالب علم کو بلانا
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان ِ کرام ان مسائل کے بارے میں کہ1.. ایک ادارے میں جب ممتحن قاعدہ، ناظرہ اور حفظ کی کلاس کا امتحان لیتا ہے تو مکتب کے مہتمم ، ممتحن کو ایک شیٹ دیتے ہیں جس کے خانوں میں یہ چیزیں لکھی ہوتی ہیں: ضبط کیسا ہے، تجوید کیسی ہے، تلفظ کیسے ہیں، تلاوت کی رفتار کیسی ہے، مسنون دعائیں یاد ہیں، وضو اور غسل کے فرائض یاد ہیں وغیرہ؟ ممتحن صاحب کو ان سب کا جائزہ لے کر ہر ایک طالب علم کو نمبر دینے ہوتے ہیں تاکہ طالب علم کے متعلق معلوم ہو کہ بچے پر کتنی محنت ہو رہی ہے، ممتحن صرف اجمالی نمبر لکھ دیتا ہے، تو کیا ممتحن کو اس طرح نمبر دینا ضروری ہے یا اجمالی طور پر بھی لکھ سکتا ہے؟

2..نیز مکتب کے ادارے میں قاری کلاس میں پڑھاتے ہیں، اس دوران مہتمم صاحب کلاس میں آکر قاری صاحب سے بغیر اجازت یا ان کو اطلاع دیے بغیر طالب علم کو کسی کام سے بھیج دیتے ہیں، جس سے قاری صاحب کو تکلیف پہنچتی ہے، مہتمم صاحب کا طالب علم کو قاری صاحب کی اجازت یا اطلاع دیے بغیر کسی کام کے لیے بھیجنا شرعاً کیسا ہے؟

جواب…1..اگر مہتمم اجمالی نمبر کی اجازت دیتا ہے تو اجمالی نمبر لکھ سکتا ہے ،ورنہ تفصیلی2.. نیز اجازت لینا چاہیے، البتہ طالب علم سے خدمت نہیں لینا چاہیے، ہاں اگر خدمت لینے کی وجہ سے طالب علم کی پڑھائی میں خلل نہ آتا ہو، تو خدمت لینے میں مضائقہ نہیں، لیکن پھر بھی خدمت نہ لینا بہتر ہے۔

بھائی کا بہن کو سخت مارنا اور الدین سے بدسلوکی کرنا
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان ِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں بہن بھائیوں میں سب سے بڑی ہوں، شادی کے بعد چند گھریلو ناچاقیوں کی وجہ سے میرا رشتہ ختم ہو گیا تھا ،اب میں اپنے والدین کے ساتھ رہتی ہوں، والدہ صرف وہیل چیئرکی مدد سے ہی چلتیہیں، بھائی میرا ایک ہی ہے ،ڈیڑھ سال ہوا ہے اس کی شادی ہوئی، ماشاء اللہ اب ان کے ہاں خوشی ہے، بھائی کی شادی کے بعد میرے اور بھاوج کے تعلقات تنازعات کا شکار رہے، میری والدہ ایک کمرے کی حد تک محددو ہیں ،میری بھاوج راشن کا ضیاع کرتی ہے، صفائی کا خیال نہیں رکھتی، گندگی پھیلاتی ہے کچن گندا رکھتی ہے، بہت بار تو گندے برتنوں میں کھانادیتی ہے۔…یہ ہیں چھوٹی چھوٹی باتیں جو بڑھ جاتی ہیں،گھر کا خرچہ میرے والدکی پنشن سے چلتا ہے، بھائی بجلی، پانی، دوا، گیس کے بل دیتا ہے…الگ ہونا نہیں چاہتا،مگربیوی کو کمرے سے باہر بھی نہیں نکلنے دیتا…پچھلے رمضان بھی بہت لڑائی جھگڑے ہوئے تھے، اسی وجہ سے والدہ نے اسے اپنے میکے بھیج دیاتاکہ وہ بھی اپنا رمضان سکون سے گزارے اور ہم بھی،، مگر پھر وہی لڑائی جھگڑے کے بعد رمضان کی چاند رات کووہ میکے گئی…بھائی نے رمضان تو خاموشی سے گزارا…اور عید کی نمازکے بعد میں نے ناشتہ لگایا سب کے لیے تو سب پھینک دیا اور مجھے جانوروں کی طرح مارا، کبھی بوتل سے، کبھی ، چپل سے مارتا رہا، لکڑی کی ٹیبل اٹھا کی مجھ پر پھینکی وہ ٹوٹ گی، پھر بھی دل نہیں بھرا تو چاقو لایا میرا ہاتھ کاٹنے لگا، والدہ روتی رہیں ،روکتی رہیں اوروہ نا رکا،والدکو بھی دھکا دے کے چپ کرا دیا کہ آپ جب کوئی فیصلہ ٹھیک سے نہیں کرسکتے تو آج سے میں گھرکابڑا ہوں، جو میں چاہوں گا وہی ہوگا کوئی کُتّا پَنَانہ چلے گا، میری بیوی کوالگ کر دیا،گھرکے شیطان نے (یعنی میں)، مجھے صحبت نہیں مل پا رہی ہے بہن کی وجہ سے، وہاں میری بیوی بھی تڑپ رہی ہے،اس طرح کی فحش باتیں کرتا رہا ماں باپ اورمجھ سے…حالاں کہ دین کی سمجھ بوجھ رکھنے والا پڑھا لکھا لڑکاہے ،گالیاں دیتا رہا،کہتاہے کہمیں والدہ کے کان بھرتی ہوں، کہتا ہے کہ میں نفسیاتی اسپتال جا کر چیک اپ کراوں، کہتا ہے کہ میری شادی دیر سے ہوئی، میری چاہت کے مطابق نہیں ہوئی۔

میں گھر سے دفع ہو جاؤں، میں شیطان ہوں ،فساد ہوں، اب میں کہاں جاؤں، بیوی پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی، میرے فیصلے پر بھی کوئی دلچسپی نہیں لیتا میرا بھائی، میں والدہ کو چھوڑ کرکہاں جاوں، کس کے آسرے پے چھوڑ کے جاوں؟

میرا بھائی کہتا ہے کہ جو میں نے بڑی بہن کو مارا پیٹا بالکل صحیح کیا قرآن و احادیث میں ہے کہ اگرکوئی پیار سے نا مانے تو مارو۔

اسی لیے مارا، ٹھیک کیا، کسی سے بھی معلوم کروا لو،میں ان کی بیوی کو کچھ بولنے کا حق نہیں رکھتی؟…غلط پربھی نہیں ٹوک سکتی؟…قرآن واحادیث کی روشنی میں مجھے بتائیں کہ ہمارے اس پیارے دین میں یہ جبر لکھا ہے؟یہ سلوک کرو بڑی بہن کے ساتھ عید کے دن، ا س سے پہلے بھی دو بار ہاتھ اٹھا چکا ہے میرا چھوٹا بھائی مجھ پر…اپنی بیوی کی وجہ سے…لیکن اس عید کے دن جو مارا ہے، میرے جسم میں ہرجگہ نیل پڑ گئے ہیں اور ابھیتک تکلیف میں ہوں، اس عید کے تحفے کومیں نے اللہ کی بارگاہ میں پیش کر دیا ہے اور اس کااجروثواب،سزاو جزا اللہ تعالیٰ سے مطلوب ہے،جسم کے ساتھ ساتھ دل بھیبہت دکھتاہے،میرا اور میری ماں کا بھی،میری آزمائش ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی، فحش سوالات کرنا والدین سے، عید کے دن اس بے دردی سے مار پیٹ کرنا…مجھے بتائیں کہمیں کیا کروں؟اور کیا بھائی کا عمل ٹھیک تھا؟قرآن واحادیث کی روشنی میں میری رہنمائی فرمائیں۔

جواب… واضح رہے کہ ہمارا دین، دِین اسلام دوسروں کی معمولی غلطیوں او رکوتاہیوں پر معافی اور درگزر کی تعلیم دیتا ہے او را س کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، کیوں کہ کوئی بھی انسان غلطی او رخطاء سے مبرا اور پاک نہیں ہوتا، غلطی اور خطاء ہر انسان کے ساتھ لگی ہوئی ہے، معافی اور برداشت سے کام لینا پڑتا ہے، ورنہ ہر معمولی بات پہ نوک جھونک او ربحث مباحثے نہ صرف گھر کا سکون برباد کر دیتے ہیں، بلکہ خاندان کے خاندان اس فساد کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں، گھر کا سکون برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہر شخص اپنے اوپر عائد ہونے والی شرعی اور اخلاقی ذمہ داریوں کو بحسن وخوبی نبھانا شروع کر دے، تو اس سے نہ صرف یہ کہ گھر کا ماحول پُرسکون رہے گا بلکہ اپنی اور دوسروں کی راحت کا بھی ذریعہ ہو گا، آپ کو چاہیے کہ معمولی معمولی باتوں پر اپنی بھابی سے نہ الجھیں ،البتہ اگر کوئی بڑی بات ہو تو اپنے بھائی، یا بڑوں سے اس کا ذکر کریں، تاکہ مناسب انداز میں اس کی اصلاح کی جائے اور اصلاح کی صورت دکھائی نہ دے تو صبر سے کام لیں، وگرنہ خود الجھنے کی صورت میں مسائل ختم ہونے کی بجائے بڑھیں گے، پھر انہیں لڑائی جھگڑوں کی وجہ سے بھائی کو بیوی سے علیحدہ کرنا او راس کی بیوی کو میکے بھیج دینا یہ طریقہ کار درست نہیں، کیوں کہ اس مسئلے کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے، اس کی بیوی کو واپس بلا کر مصالحت کی کوشش کی جائے، البتہ اگر پھر بھی لڑائی جھگڑے کا اندیشہ ہو، تو رہائش او رکھانے پینے کا نظام الگ کر دیا جائے یا اس سے زیادہ مناسب تجویز جو والدین کے ذہن میں ہو اس پر عمل کیا جائے، تاکہ ان مسائل کا سدّ باب کیا جاسکے۔

باقی آپ کے بھائی کا آپ کے ساتھ، خصوصاً آپ کے والدین کے ساتھ یہ جارحانہ سلوک انتہائی غیر مہذب اور غیر اخلاقی تھا، بڑی بہن ہونے کے ناطے اس کو قطعا زیب نہیں دیتا کہ وہ اس طرح آپ کو مارے، پیٹے، اسلام تو بڑوں خصوصاً والدین کے ادب واحترام پر خوب زور دیتا ہے اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کی تعلیم دیتا ہے چہ جائے کہ ان کی اس طرح نافرمانیاں کی جائیں اور ان کو دکھ دیے جائیں، آپ کے بھائی پر لازم ہے کہ اپنے اس برئے سلوک کی والدین اور آپ سے معافی مانگے اور ندامت کے ساتھ الله تعالیٰ سے معافی مانگے، توبہ واستغفار کرے، آپ کے بھائی کی طرف سے جو آپ پر زیادتی ہوئی ہے اور آپ نے صبر کیا، ان شاء الله! الله کے ہاں آپ ماجور ہوں گی، نمازوں، دعاؤں اور تلاوت قرآن کریم کا اہتمام کریں، الله تعالیٰ ضرور آپ کی مشکلات کو آسان اور آزمائشوں کو ختم فرمائے گا۔ ان شاء الله تعالیٰ۔

پھوپھی اور بھتیجی کو ایک ساتھ نکاح میں رکھنا ناجائز ہے
سوال… کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میں شادی شدہ آدمی ہوں اور میری شادی کو دس سال ہوچکے ہیں، اب میں دوسرا نکا ح کرنا چاہتا ہوں اپنی بیوی کی بھتیجی سے، میں اسے بہت زیادہ پسند کرتا ہوں اور محبت کرتا ہوں، لیکن معلوم یہ کرنا ہے کہ یہ نکاح جائز ہے؟ جب کہ سورہ نساء میں بھی آیا ہے اور ایک حدیث کے مطابق بھی یہ نکاح جائز نہیں۔

اس کا کوئی حل بتائیں یا کوئی دوسرا راستہ، کیا میری بیوی کی بھتیجی کی ولدیت بدل دی جائے تو یہ نکاح ممکن نہیں؟ کوئی صورت بتائیں میں اپنی پہلی بیوی کو طلاق دینا نہیں چاہتا ہوں اور اس کی بھتیجی سے نکاح کے ذریعہ پاک رشتہ کرنا چاہتا ہوں۔

یہ مسئلہ بہت عجیب ہے، کوئی حل نہیں مل رہا، مہربانی فرماکر میری مدد کر لیں اور اس معاملہ میں راہ نمائی فرمائیں، میری او رمیری بیوی کی فیملی الگ الگ خاندان سے ہیں، اس پر میری مدد فرمائیں۔

جواب… واضح رہے کہ شریعت مطہرہ میں پھوپھی اور اس کی بھتیجی کو ایک ساتھ نکاح میں جمع کرنا جائز نہیں۔

لہٰذا جب تک آپ کی پہلی بیوی آپ کے نکاح میں رہے گی، آپ اس کی بھتیجی سے نکاح نہیں کرسکتے اور بھتیجی کی ولدیت تبدیل کرنے سے نکاح کے ناجائز ہونے پر کوئی فرق نہیں پڑتا، اگرچہ ولدیت تبدیل کرنا شرعا حرام ہے، نیز اجنبی لڑکی سے محبت اور دل لگی کرنا حرام ہے، او رمؤمن کی شان یہ ہے کہ حرام کاموں سے بچتا ہے۔

سودی قرض دلوانے کی شرعی حیثیت
سوال… میں اپنے ایک دوست کے لیے بینک سے لون لے رہا ہوں، میری گورنمنٹ جاب ہے، بینک کی طرف سے یہ شرط ہے کہ لون صرف گورنمنٹ جاب والے کو دیں گے، پتہ یہ کرنا ہے کہ میرے اور میرے دوست کے لیے یہ لون لینا کیسا ہے ؟ اگر میں نے انہیں منع کیا کہ یہ سود ہے، تو وہ مجھ سے ناراض ہو جائیں گے، جب کہ وہ میرے رشتہ دار بھی ہیں۔ جزاکم الله خیراً۔

جواب… واضح رہے کہ سودی قرض کا لین دین قرآن وحدیث کی رو سے ناجائز وحرام ہے اور کسی حرام وناجائز کام میں کسی کی معاونت کرنا بھی ناجائز او رگناہ کا باعث ہے، لہٰذا صورت مسئولہ میں آپ کے لیے رشتہ دار کی ناراضگی کی وجہ سے سودی قرض لینا کسی طرح بھی جائز نہیں۔

مہتمم کا مجلس میں استاد کی خامیاں بیان کرنا، والدین کی شکایت پر استاد پر سختی کرنا اور طلبہ کا اساتذہ کی نقل اتارنا
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان ِ کرام ان مسائل کے بارے میں کہ1.. مکتب کے ادارے میں اساتذہ کرام کا ماہانہ مشورہ ہوتا ہے جس میں مہتمم قاری کو اکیلے میں خامی بتانے کے بجائے تمام اساتذہ کرام کے سامنے ذکر کرتا ہے۔ جس کی وجہ سے قاری کی دل آزاری او راساتذہ کرام کے سامنے شرمندگی محسوس ہوتی ہے، مہتمم کا قاری کو اکیلے میں خامی بتانے کے بجائے مشورہ میں تمام اساتذہ کرام کے سامنے خامی کو ذکر کرنا شرعاً کیسا ہے؟

2..مکتب کے ادارے میں قاری صاحب کی شکایت طالب علم کا والد مہتمم سے کرتا ہے، جس کی وجہ سے مہتمم قاری سے نرمی کے بجائے سختی سے پیش آتا ہے، مہتمم کا طالب علم کے والد کی شکایت پر قاری پر سختی کرنا شرعاً کیسا ہے؟

3..مکتب کے ادارے میں قاری صاحب سے پڑھنے والے طلباء قاری صاحب کی پیٹھ پیچھے نقل اتارتے ہیں۔ طلباء کرام کا قاری کی پیٹھ پیچھے نقل اتارنا شرعاً کیسا ہے؟

جواب…1.. جس قاری کو تنبیہ کرنا مقصود ہو اسے تنہائی میں بلا کر سمجھایا جائے، ماہانہ مشورہ میں کسی کو خاص طور پر ہدف بنانا مناسب رویہ نہیں، ہاں اگر عمومی تدکرہ کیا جائے اور بعض ہونے والی خامیوں کے نام لیے بغیر نشاندہی بھی کر دی جائے، تو کوئی حرج نہیں، اس سے ان شاء الله خامیاں بھی دور ہوں گی اور کسی کی عزت ِ نفس بھی مجروح نہیں ہوگی۔

2..طلبہ کے ذمہ داران اگر مہتممین سے کوئی ایسی شکایت کریں جو شریعت یا باہمی معاہدے کی مخالفت پر مبنی ہو، تو قراء حضرات کی تنبیہ نہ صرف جائز بلکہ لازم ہے، البتہ اگر کوئی بے سود شکایت کریں، تو نہ صرف بُرا بلکہ درست بھی نہیں۔

3..اساتذہ ، والد کی مانند ہیں، بلکہ بعض فقہاء نے اساتذہ کے حقوق کو والدین کے حقوق سے بھی مقدم رکھا ہے ، نیز غیبت جس طرح زبان سے کی جاتی ہے اسی طرح ہاتھ، آنکھ، حرکات، سکنات اور نقل اتارنے سے بھی ہوتی ہے، بلکہ علماء نے نقل اتارنے کو غیبت کی سخت ترین قسم قرار دیا ہے، لہٰذا طلبہ کا قاری کے پیٹھ پیچھے نقل اتارنا غیبت کے زمرے میں آنے کی وجہ سے ناجائز ہے، جس سے طلبہ کے مستقبل کا ویران ہونا بعید نہیں۔

نقد وقسطوں پر موٹر سائیکل کی خرید وفروخت
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام ان مسائل کے بارے میں1.. اگر کوئی اپنے لیے موٹر سائیکل خریدے او رپھر اس کو دوسرے آدمی کو قسط پر دے دے تو یہ سود میں آتا ہے یا نہیں، مثال کے طور پر بکر نے50000 ہزار میں موٹر سائیکل خریدا اور100000 میں قسطوں پر انعام کو دے دیا۔10000 روپے مہینہ قسط پر۔ یہ سود میں آتا ہے یا نہیں؟ 2..اگر کوئی موٹر سائیکل خریدے لیکن اپنے لیے نہیں دوسرے کے لیے نقد پر اور پھر اس آدمی سے قسطوں پر وہ پیسہ وصول کرے۔ تو یہ سود میں آتا ہے یا نہیں؟ مثال کے طور پر زید نے50000 میں نقد پر انعام کے لیے موٹر سائیکل خرید اور پھر انعام سے کہا کہ آپ مجھے100000 دو گے لیکن قسطوں پر۔ مثلاً10000 روپے مہینہ قسط پر لگا لیا تو یہ سود میں آتا ہے یا نہیں؟3.. بعض لوگ یہ خرید اور فروخت کا کام کرتے ہیں گاڑیوں کی لیکن گاڑی موقع پر نہیں ہوتی صرف کاغذ ایک دوسرے کو دیتے ہیں۔ یہ سود میں آتا ہے یا نہیں۔

جواب…1.. صورت مذکورہ میں جب اکرم اپنے لیے موٹر سائیکل پچاس ہزار نقد پر خریدے اور پھر ایک لاکھ روپے میں قسطوں پر انعام کو بیچ دے او رماہانہ قسط دس ہزار روپے مقرر کرے، تو یہ معاملہ درست ہے، لیکن یہ بات ملحوظ رہے کہ دونوں عقدوں میں الگ الگ قبضہ کرے اور قسطوں کی مدت اور مقدار متعین کرے۔

2..مذکورہ صورت جائز نہیں کیوں کہ اکرم نے جب انعام کے لیے پچاس ہزار روپے نقد پر موٹر سائیکل خریدا تو وہ انعام کے ذمہ اکرم کا قرض ہو گیا، اور قرض مقررہ رقم سے زیادہ وصول کرنا سود شمار ہوتا ہے۔

3..صورت مسئولہ میں اگر گاڑی بیچنے والے کی ملکیت اور قبضہ میں آچکی ہے، تب اس طریقے سے خرید وفروخت جائز ہے، البتہ خریدار کو گاڑی دیکھنے کے بعد اختیار ہوگا، رکھنے کا اور واپس کرنے کا۔