بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

کیا فرماتے ہیں علمائے دین؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین؟

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

کسی نیک ہستی یا نیک عمل کے وسیلے سے دعا کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ الله کی ذات مقدس کے علاوہ کسی اورکو وسیلہ بنانا جائز نہیں، مثلاً یوں کہنا ” کہ محمد صلی الله علیہ وسلم کے طفیل“ یا”ہمارے نیک اعمال کے طفیل“، وغیرہ کے الفاظ سے دعا مانگنا جائز نہیں، کیا الله کی ذات کے علاوہ کسی اور ہستی یا نیک عمل کو وسیلہ بنانا جائز ہے یا نہیں؟ نیزیہ بھی بتائیں کیا اس طرح دعا کرنا شرک خفی میں داخل ہے، یا نہیں؟

جواب… واضح رہے کہ دعا کے ”أقرب إلی الإجابة“ ہونے کے لیے الله تعالیٰ کے حضور کسی نیک عمل یا کسی بزرگ ہستی کا وسیلہ پیش کرنا جائز ہے، اس لیے کہ وسیلہ سے مقصود الله کی رحمت کو قریب کرنا ہے، نیک اعمال میں جتنا اخلاص ہوتا ہے، اتنا ہی جلد الله کی رحمت اترتی ہے اور دعا بھی جلد قبول ہوتی ہے اور اسی طرح جو شخص بھی الله کے جتنا قریب ہوتا ہے، اس پر الله کی رحمتیں اتنی ہی زیادہ ہوتی ہیں او راس کے اعمال الله کے ہاں اتنے ہی زیادہ مقبول ہوں گے، تو ان رحمتوں کی برکت سے او ران کی قبولیت کے صدقے سے دعا کرنا، تاکہ وہ دعا بارگاہ خداوندی میں جلد شرف قبولیت سے ہم کنار ہو جائے۔

توسل کی مختلف صورتیں ہیں جن میں سے کچھ ناجائز اور کچھ جائز ہیں:
1..توسل بالعمل الصالح: یعنی اپنے کسی نیک عمل کو وسیلہ بنانا، بخاری شریف میں کئی مقام پر ان تین آدمیوں کا واقعہ مذکور ہے، جو بارش سے بچنے کے لیے غار میں داخل ہوئے، غار کا منھ بند ہو جانے کی وجہ سے اندر پھنس گئے تھے، پھر ہر ایک نے اپنے نیک عمل کا وسیلہ بارگاہ خدا وندی میں پیش کرکے دعا کی، تو الله تعالیٰ نے ان کو وہاں سے خلاصی عطا فرمائی، لہٰذا تو سل کی یہ صورت (توسل بالعمل الصالح) بالاتفاق جائز ہے۔

2..توسل بالذات: اس کی پھر تین صورتیں ہیں:
i..مخلوق سے دعا اور فریاد کرنا، ان کو مؤثر بالذات اور مستقل بالذات سمجھ کر، اس کا حکم یہ ہے کہ یہ بالاجماع حرام ہے اور یہ توسل شرک وکفر ہے۔
ii..مخلوق میں سے کسی سے دعا کی درخواست کرنا، اور اس سے دعا کروانا، اس کا حکم یہ ہے کہ دعا کی درخواست زندہ حیات لوگوں سے تو جائز ہے، البتہ جو لوگ وفات پاچکے ہیں ان سے دعا کرانا ثابت نہیں ہے۔
iii..دعا تو الله تعالیٰ سے کی جائے، البتہ ان کو وسیلہ بنا کر جو ا لله کے مقرب بندے ہوں، یعنی ان کے تقرب اور الله تعالیٰ سے تعلق کو وسیلہ بنانا اور اس کی برکت سے دعا کرنا، جیسے کسی نبی، یا الله تعالیٰ کی برگزیدہ ہستیوں کے وسیلے سے دعا کرنا، چاہے وہ حیات ہوں، یا وفات پاگئے ہوں، یہ صورت بھی جائز ہے۔

حاصل یہ ہے کہ توسل کی چار قسموں میں سے ایک قسم کے علاوہ باقی تینوں قسمیں جائز ہیں، لہٰذا صورت مسئولہ میں یہ الفاظ(محمد صلی الله علیہ وسلم کے طفیل“ یا ” ہمارے نیک اعمال کے طفیل“) کہہ کر دعا کرنا جائز ہے، نیز الله کی ذات کے علاوہ”انبیاء کرام، اسلاف اور الله تعالیٰ کی برگزیدہ ہستیوں کے وسیلے سے دعا کرنا جائز ہے اور وسیلے کو شرک کہنا غلط ہے۔

بیوی اور اولاد کا نافرمان ہونا
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان ِ کرام اس مسئلہ کے بارے کہ میرے اور میری بیوی کے درمیان چنددنوں سے بات چیت وغیرہ بند تھی، کیوں کہ وہ بغیر بتائے اپنی مرضی سے کبھی بھی اپنے بچوں کے ساتھ چلی جاتی تھی ،میں نے اپنی بیگم سے کہا کہ آپ کم سے کم بتا کر تو جائیں، تو مجھ سے کہنی لگی میں کسی کو نہیں بتاتی، ایک دن ایک شادی میں جارہی تھی تو میں نے کہا کہ کہاں جارہی ہو؟ تو انہوں نے بتایا کہ فلاں عورت کی بیٹی کی شادی ہے وہاں جارہی ہوں، میں نے کہا اور کون کون جارہا ہے؟ تو میری بیگم نے کہا کہ میری بیٹی اور بیٹا جائیں گے اور بیٹی۔ بیٹے نے مجھے نہیں کہا کہ آپ بھی چلیں گے رات کے وقت اور پھر میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ گھر میں کھانے کو نہیں ہے کھانا لے کر آنا، بیگم نے کہا ٹھیک ہے، تقریباً رات کو دو بجے آئے، میں نے کہا کھانا لائے؟ تو کہا کہ کم پڑ گیا تھا، میں نے کہا ٹھیک ہے، میں رات کو بھوکا سو گیا، صبح اٹھا تو انہوں نے ناشتہ بنایا، میں نے کہا ناشتہ دے دو تو کہنے لگی خود لے لو ، میری یہ دوسری شادی ہے،بعض دفعہ اگر نماز نکل جاتی ہے تو میں نماز گھر میں ادا کرتا ہوں تو یہ باہر موبائل زور زور سے چلاتی ہیں جس سے مجھے نماز پڑھنے میں دشواری ہوتی ہے ، اس بارے میں جب میں نے اپنی بیگم کو بتایا تو انہوں نے کہا کہ میں سمجھاؤں گی نماز کے ٹائم موبائل کی آواز کم کر دیا کرو جس کی وجہ سے ہم دونوں میاں بیوی کے درمیان لڑائی ہوتی رہی۔ میرے تین بچے ہیں سوتیلے، تینوں جوان ہیں، ایک بیٹی ہے جو کہ اپنی تصاویر فیس بک پر لگاتی ہے، جس سے میری دوسری بیگم کے بچے مجھے برا بھلا کہتے ہیں، دو جوان سوتیلے بیٹے ہیں جو کہ رات بھر جاگ کر موبائل چلاتے رہتے ہیں اور صبح سوتے ہیں اور کوئی بھی کام نہیں کرتے، ان تمام معاملوں سے بیزار ہو کر میں نے اپنی بیگم کو کہا کہ میں گھر چھوڑ کر چلا جاؤں گا، میں نے اپنا سامان باندھا اور میں نے باہر جاتے ہوئے اپنی بیگم سے کہا کہ آپ صحیح نہ ہوئے تو میں آپ کو طلاق دے دوں گا، یہ بول کر میں جاہی رہا تھا کہ میری سوتیلی بیٹی نے سوتیلے بیٹے کو اٹھایا کہ ابا نے اماں کو طلاق دے دی ہے ، جب کہ ایسا کچھ بھی نہیں تھا ،میں ناراض ہو کر اپنے گھر جاتا تھا اور آتا تھا، مفتی صاحب میرے دو سوتیلے بیٹے رات جاگ کر فحاشی پر مبنی فلمیں دیکھتے ہیں اور نماز دین کی کوئی بھی بات گھر میں نہیں کی جاتی، جناب والا میں گھر کا کرایہ ادا کرتا ہوں، میری بیگم بیوٹی پارلر چلا کر گھر کا خرچہ چلاتی ہے اور یہ دونوں بیٹھ کر صرف کھانا کھاتے ہیں ،لہٰذا میں مفتی صاحب سے گزارش کرتا ہوں مجھے ان تمام مسئلوں کا حل بتائیں، نیز جو کہ جھوٹی بات میرے خلاف طلاق کے معاملے میں کی گئی اس کا بھی حل بتائیں۔

جواب…اسلامی تعلیمات کے مطابق میاں بیوی کے باہمی مقدس رشتہ کی بقاء کی خاطر دونوں کو ایک دوسرے کے مزاج وطبیعت کے مطابق اپنی زندگیوں کو خوش سے خوش تر بنانے میں ایک دوسرے سے بڑھ کر کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے، لہٰذا شریعت مطہرہ نے دونوں پر ایک دوسرے کے حقوق واجب کیے ہیں، اگر ایک طرف شوہر پر یہ لازم ہے کہ وہ اپنی بیوی کے لیے نان ونفقہ او رسامان راحت کا بندوبست کرے تو دوسری طرف بیوی پر بھی لازم ہے کہ وہ شوہر کی خدمت واطاعت، راحت وسکون کو اپنی ہر خواہش پر مقدم رکھے۔

چناں چہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے کہ ”اگر میں کسی انسان کے لیے سجدہ کرنے کا حکم کرتا تو عورت کو حکم کرتا کہ و ہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے۔

اور ایک موقع پر ارشاد فرمایا کہ :”جو عورت اپنے شوہر کی نافرمان ہو اور شوہر اس سے ناراض ہو تو وہ عورت الله تعالیٰ کی رحمت سے دور رہتی ہے تاوقتیکہ وہ شوہر کو راضی نہ کر لے۔“

اور حضرت انس رضی الله عنہ کی روایت ہے کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ :”جس عورت نے اپنی پانچ نمازوں کو ادا کیا اور اپنے روزوں کو رکھا او راپنے آپ کو پاک دامن رکھا او راپنے خاوند کی مکمل اطاعت کی ، تو وہ عورت جنت کے جس دروازے سے چاہے داخل ہوسکتی ہے۔

ان مذکورہ بالا روایات کے علاوہ شوہر کی نافرمانی اور اُس کی ناراضگی پر بے شمار وعیدیں اور شوہر کی فرماں برداری اور اطاعت پر لاتعداد وعدے ہیں۔

نیز میاں بیوی دونوں پر ایک مشترکہ حکم یہ بھی لازم ہے کہ وہ اپنی اولاد کی دینی تعلیم اور اصلاحی تربیت کا انتظام واہتمام کریں، تاکہ مستقبل میں وہ ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنیں نہ کہ وبال جان، لہٰذا اپنی اولاد کو ہر قسم کے نیک او راچھے کاموں کی ترغیب دیں اور اسی طرح علماء کرام اور تبلیغی جماعت میں شرکت کی ترغیب دیں، بلکہ انہیں اپنے ساتھ لے جائیں اور ہر برُے کاموں سے پیار ومحبت یا پھر سختی سے روکیں، بالخصوص اس پُر فتن دور میں سمارٹ موبائل جیسی نحوست سے۔

او رجہاں تک تعلق ہے الفاظ طلاق کا تو اگر واقعتا آپ نے مستقبل کے الفاظ” اگر آپ صحیح نہیں ہوئے تو میں آپ کو طلاق دے دوں گا“ استعمال کیے ہیں تو یہ طلاق کی دھمکی ہے نہ کہ طلاق، لہٰذا اس سے طلاق واقع نہیں ہوتی او راگر کچھ اور الفاظ استعمال کیے ہیں تو ان کا یہ حکم نہیں ہے۔

فوریکس ٹریڈنگ کاروبار کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ”فوریکس ٹریڈنگ“ کے نام سے ویب سائٹ میں سرمایہ کاری کرکے پیسے کمانا جائز ہے یا ناجائز؟ برائے مہربانی اس کے بارے میں فتوی بھیج دیں تو ہم آپ کے بہت مشکور ہوں گے۔

جواب… واضح رہے کہ ”فوریکس ٹریڈنگ“ کمپنی میں کاروبار کرنے کا تفصیلی طریقہ کار ہماری تحقیق کے مطابق یہ ہے کہ مثلاً کوئی شخص”فوریکس ٹریڈ“ کمپنی میں ایک ہزار ڈالر جمع کرواکر اپنا اکاؤنٹ کھلواتا ہے ، تو یہ کمپنی دیگر سہولیات کے ساتھ ساتھ اکاؤنٹ ہولڈر کو بڑی رقم کی ضمانت بھی فراہم کرتی ہے، مثال کے طور پر کسی شخص نے ایک ہزار ڈالر کی قیمت پاکستانی روپوں کے اعتبار سے پچاس ہزار روپے (50000) روپے جمع کروائی تو کمپنی کی طرف سے اس اکاؤنٹ ہولڈر کو قوت خریداری ایک لاکھ کے برابر ملتی ہے، اس کے بدلے میں مختلف ممالک کی کرنسیوں کی خریدوفروخت کرسکتا ہے اور یہ قوت خرید اس کے لیے نفع کی صورت میں باقی رہتی ہے، جب تک یہ معاملہ ختم نہ کردے، مختلف کرنسیوں کی خرید و فروخت کے بعد جو نفع ہو گا، وہ اس اکاؤنٹ ہولڈر کو ملے گا او رنقصان ہونے کی صورت میں اس کی قوت خرید تو باقی رہے گی، البتہ اس کا نقصان، اس اکاؤنٹ ہولڈر کی جمع شدہ رقم سے اس وقت کاٹا جائے گا، جب وہ کمپنی سے اپنا معاملہ ختم کرے گا، اگر وہ اکاؤنٹ ہولڈر نقصان ہونے کی صورت میں اپنا معاملہ ختم نہ کرے، یہاں تک کہ نقصان بڑھتے بڑھتے اس کی ٹوٹل جمع شدہ رقم (1000) ڈالر کے پندرہ فیصد15% ڈیڑھ سو (150) ڈالر تک پہنچ جائے، تو اس وقت کمپنی کی طرف سے ملنے والی قوت خرید ختم ہو جائے گی اور جتنا نقصان ہوا وہ اکاؤنٹ سے کٹ جائے گا او راکاؤنٹ بھی رک جائے گا، اب اگر یہ شخص دوبارہ ٹریڈنگ کرنا چاہے گا، تو از سر نورقم جمع کرواکر اکاؤنٹ کھلوائے گا، نیز اگر وہ نقصان نہیں کرتا، بلکہ نفع ہی ہوتا ہے، تو نفع میں حاصل شدہ جو ڈالر ہیں ان کے اعتبار سے قوت خرید بڑھتی رہے گی، لہٰذا درج ذیل وجوہات کی بناء پر فوریکس ٹریڈ کمپنی کاروبار جائز نہیں:

1..دو مختلف ملکوں کی کرنسیوں کا تبادلہ، یہ شرعی نقطہ نظر سے بیع صرف کہلاتا ہے اور بیع صرف کے جائز ہونے کے لیے مجلس میں متعاقدین کا عوضین پر قبضہ شرط ہے، جس کا مطلب ہوتا ہے کہ یہ معاملہ واقعی اور حقیقی ہے اور ہر ایک کو عوض مطلوب ہے، لیکن یہاں تو معاملہ مقصود ہی نہیں ہوتا، بلکہ محض کاغذی کاروائی ہوتی ہے۔

2..جیسا کہ اوپر گزر چکا اکاؤنٹ ہولڈر کا اس سارے معاملے سے کوئی چیز خریدنا مقصود نہیں ہوتا، نہ قبضہ مقصود ہوتا ہے، بلکہ محض نفع نقصان برابر کیا جاتا ہے، اس لیے یہ سٹہ کی ایک صورت ہونے کی وجہ سے حرام ہے۔

3..کرنسی کے علاوہ معاملہ سونا چاندی کا ہو، تو سونا، چاندی کی خرید وفروخت کے وقت ایک خرابی یہ بھی ہے کہ مبیع معدوم ہونے کی وجہ سے یہ معاملہ فاسد ہو گا۔

4..کمپنی کی طرف سے فراہم کردہ رقم ( بصورت قوت خرید) پر کمیشن ، یہ قرض پر سود ہے، یا کمپنی جو بڑی رقم کی ضمانت فراہم کرتی ہے، اس ضمان وکفالت پر اجرت ہے، ہر دو (قرض پرسود، ضمان او رکفالت پر اجرت) شرعاناجائز ہیں، لہٰذا مندرجہ بالا مفاسد کی بناء پر فوریکس ٹریڈکمپنی کا کاروبار شرعاًنا جائز ہے۔

خشک نجاست پرپاؤں لگنے اورجائے نماز پر کھڑے ہونے کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص نے وضو کیا او ر گیلے پاؤں اپنے کمرے میں جو قالین بچھا ہوا ہے، اس پر رکھے (حالاں کہ اس قالین پر بچے نے کچھ دن پہلے پیشاب کیا تھا، لیکن اب وہ پیشاب خشک ہو گیا ہے اور اس کا اثر دکھائی نہیں دیتا)، لہٰذا وہ شخص اس قالین پر گیلے پاؤں رکھنے کے بعد جائے نماز پر کھڑا ہو گیا، اب سوال یہ ہے کہ وہ جائے نماز ناپاک ہو گیا ہے یا نہیں؟

جواب…جائے نماز کی پاکی او رناپاکی اور اسی طرح پاؤں کی بھی پاکی اور ناپاکی کا مدار نجاست کے آثار یعنی رنگ، بو وغیرہ کے ظاہر ہونے پر ہے۔

لہٰذا اگر جائے نماز یا اس کے پاؤں پرپیشاب کے آثار (رنگ، بو وغیرہ) ظاہر ہوئے ہیں، تو وہ ناپاک ہوں گے، وگرنہ پاک شمار ہوں گے۔

میاں بیوی کی ناچاقی میں والدین کا کردار
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں صاحبِ ثروت ریٹائرڈ سرکاری افسر ہوں، میری عمر63 سال ہے، میری دوبیٹیوں اورایک بیٹے کی شادی ہوگئی ہے اور ایک بیٹے کی عنقریب ہونے والی ہے، میرے بچوں نے اعلی درجے کی تعلیم اور تربیت دین اور دنیاوی بھی حاصل کی ہے، انگریزی اسکولوں میں پڑھے ہیں اور مدرسے سے بچیوں نے علم بھی حاصل کیا ہے، ایک افسر کی اولاد ہونے کی وجہ سے بچوں نے ایک خوش گوار بچپن گزارا ہے، بڑا گھر، گاڑی او رکام کرنے والے ملازمین اس کے باوجود گھر اور مدرسے سے بچوں کی تربیت کا خاص لحاظ رکھا گیا ہے کہ جب یہ اپنا گھر سنبھالیں تو کوئی پریشانی نہ ہو۔

میری چھوٹی بیٹی کا رشتہ میری زوجہ کے دور کے رشتے داروں کے گھر طے پایا، آج سے تین سال پہلے اس کی ساس نے ہمیں سبز باغ دکھائے کہ میرا بیٹا بہت دین دار او رسمجھ دار ہے، ہمارا گھر کا ماحول دینی ہے، ہم شرعی پردہ کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ، ہم نے دینی اعتبار سے جو باتیں ضروری تھی ان کی تحقیق بھی کی اور بظاہر سب کچھ مناسب لگا، مگر شادی کے تھوڑے ہی عرصے میں ہمیں معلوم ہو گیا کہ انہوں نے ہمیں دھوکے میں رکھا، لڑکے کے معاش کے بارے میں جھوٹ بولا، اپنے دینی ماحول اور شرعی پردے کے بارے میں جھوٹ بولا اور لڑکے کے بھی دین دار ہونے کا جھوٹ بولا، میرا داماد اور بیٹی فیصل آباد میں رہتے ہیں او ربیٹی کے سسرال راولپنڈی میں ہوتے ہیں، ہر چھوٹی عید پر سسرال والے فیصل آباد عید منانے جاتے ہیں اور فیصل آباد والے گھر میں دو کمرے ہیں، ایک کمرے میں اے سی لگا ہوا ہے، تین سال ہو گئے ہیں ہر سال بیٹی کی ساس میری بیٹی کو مجبور کرتی ہیں کہ تم نے اسی اے سی والے کمرے میں تین دیوروں، سسر، ساس اور شوہر کے ساتھ سونا ہے، میری بیٹی کا چھوٹا دودھ پیتا بچہ تھا، اس وقت بھی انہوں نے مجبور کیا اور زبردستی اس کو سلایا او رکہیں سے فتویٰ بھی لے کر آئیں کہ اس طرح سونا جائز ہے، میری بیٹی نے بہت ادب اور پیار سے ان کو سمجھایا کہ آپ سب مہمان ہیں، اے سی میں سوجائیں میں دوسرے کمرے میں سو جاتی ہوں، لیکن وہ نہیں مانتے، میری بیٹی جو کہ دینی علم حاصل کی ہوئی ہے ،اس کے لیے بہت مشکل ہے، ایک ہی کمرے میں دیوروں کے ساتھ سونا، میں نے پہلے سال بیٹی کے سسر کو بہت احترام سے یہ بات سمجھائی، مگر کوئی نتیجہ نہ نکلا، اس سے اگلے سال داماد کو پیار سے علیحدگی میں سمجھایا، اس کا بھی کوئی اثر نہیں ہوا، اس کے ساتھ میں نے سسر اور داماد کو کھلی اجازت دی کہ میری بیٹی سے اگر آپ کو کوئی تکلیف ہو ،مسئلہ ہو اور یہ نہ مانے تو آپ مجھے ضرور بتائیں ، تاکہ میں خود سمجھاؤں، وہ ہر دفعہ میری بیٹی کی تعریف کرتے رہے کہ یہ بہت اچھی، سلیقہ شعار اور عمل والی ہے، اس سال عید پر دوبارہ انہوں نے ایک کمرے میں سلانے پر مجبور کیا، اس کے ساتھ ساتھ اس کی ساس راولپنڈی میں رہتے ہوئے فیصل آباد میں ان کے گھر میں فون کے ذریعے اتنی مداخلت کرتی ہے کہ سالن ،بستر کی چادر اور ہر ہر چیز میں میں اس کی ساس کا داخل ہوتا ہے، پھر وہ میری بیٹی کو اتنے بُرے بُرے طعنے دیتی ہے کہ میں زبان پر لانا مناسب نہیں سمجھتا، اب میرے داماد کو چاہیے تھاکہ وہ اپنی ماں کی زیادتی سے اپنی بیوی کو بچاتا، مگر وہ بالکل نہیں سمجھتا۔

اس تمام صورت حال کو دیکھتے ہوئے اس سال میں اپنی بیٹی کو واپس اپنے گھر اچھے اور احسن طریقے سے بغیر کسی لڑائی جھگڑے کے لے آیا ہوں، تاکہ میرے داماد اور اس کی ماں کو کچھ سوچنے کا وقت ملے او راپنی غلطی کا احساس کرتے ہوئے آئندہ ایسا نہ کریں۔

اب سوال یہ ہے کہ :1.. کیا میرا یہ قدم کہ بیٹی کو واپس لے آنا تاکہ اس وقفے میں میری بیٹی کے سسرال والوں کو کچھ سمجھنے کا موقع ملے تو کیا یہ شرعی اعتبار سے ٹھیک ہے ؟2.. کیا اب میرے اور میری بیٹی کے سسرال والوں میں سے ایک ایک حکم مقرر ہو جو شرعی شرائط مقرر کرے جو بین زوجین ضروری ہیں، کیا ایسا کرنا ٹھیک ہے؟3.. اگر وہ پھر بھی ان شرائط پر عمل نہ کریں تو ہمارا کیا رویہ ان کے ساتھ ہونا چاہیے؟

جواب… واضح رہے کہ نکاح میاں بیوی کے مابین طے پانے والا عمر بھر کا معاملہ ہے، لہٰذا ایک دوسرے کی طبیعت او رمزاج کو سمجھتے ہوئے تمام احکام شرعیہ اور تمام جائز خواہشات کی مکمل رعایت کرتے ہوئے ایک خوش گوار زندگی گزاریں، ورنہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر نوک جھونک کے نتیجے میں دو خاندانوں کا تاب ناک مستقبل تاریک اور ماند پڑ جاتا ہے، لہٰذا شریعت مطہرہ نے دونوں پر کچھ احکام لاگو کیے ہیں جن میں سے ایک حکم یہ بھی ہے کہ بقدر وسعت شوہر اپنی بیو ی کے لیے ایک ایسا علیحدہ کمرہ یا علیحدہ گھر مختص کرے جس میں اس کو مکمل اختیار حاصل ہو اور دوسروں کی دخل اندازی بھی نہ ہو، نیز بیوی کو دوسرے غیر محرموں کے ساتھ رہنے پر مجبو رکرنا شرعاً ناجائز اور غیرت ایمان کے خلاف ہے۔

1..لہٰذا صورت ِ مسئولہ میں بطور تنبیہ آپ کا بیٹی کو درپیش مسائل کی بنا پر اپنے گھر لانے میں شرعاً کوئی قباحت نہیں ہے۔

2..اتنے سمجھانے کے باوجود بھی اگر سسرال والے بات نہ سمجھیں تو پھر آپ کی طرف سے اور سسرال والوں کی طرف سے خاندان وعلاقہ کے سربرآوردہ بااثر شخصیات کو حکم بنا کر فیصلہ کروانا شرعاً درست ہی نہیں،بلکہ ایک عمدہ او ربہترین عمل ہے، جس سے یقینا ان کے باہمی اختلافات سے چھٹکارا ممکن ہے۔

3..اسلامی تعلیمات کا اصل رخ یہ ہے کہ میا ں بیوی کا باہمی محبت بھرا رشتہ ہمیشہ باقی رہے او راس کو توڑنے کی نوبت ہی نہ آئے، مگر کہیں کسی مسئلہ پر باہمی نزاع اور اختلاف کی وجہ سے اور افہام وتفہیم او رسمجھ بوجھ کے ساتھ صلح کروانے سے بھی حل نہ ہونے پائے تو عورت کو بھی شریعت مطہرہ نے یہ اختیار دیا ہے کہ وہ اپنے شوہر کی رضا مندی سے کچھ رقم کے عوض خلع لے لے۔

اوربالفرض اگر شوہر خلع دینے پر راضی نہ ہو تو پھر پنچائیت (علاقے کے بااثر شخصیات پر مشتمل کمیٹی) کے ذریعے شوہر سے زبردستی طلاق دلوا کر لڑکی کو آزاد کرالیں او راگر ان تمام صورتوں میں سے کوئی صورت بھی کارگر نہ ہوئی تو پھر عدالت میں تنسیخ نکاح کا کیس دائر کراکے عورت کو آزاد کراسکتے ہیں۔