بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

کیا فرماتے ہیں علمائے دین؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین؟

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

مچھلی پکڑنے میں شرکت کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مچھلی کا کاروبار اس طرح کیا جاتا ہے کہ کشتی میں ڈرائیور، سپروائزر، باورچی اور مزدور جاتے ہیں، 20،25 دن بعد مچھلیاں پکڑ کر واپس لوٹتے ہیں اور وہ مچھلیاں فروخت کرتے ہیں، جس کی آمدنی سے سب سے پہلے تیل اور کھانے پینے کے اخراجات منہا کیے جاتے ہیں، پھر بقیہ نفع کا آدھا حصہ کشتی کا مالک بطور ِ اجرت کے رکھتا ہے، بقیہ آدھے میں سے 5 فی صد سپروائزر،3 فی صد ملاح (ڈرائیور) ،ڈیڑھ فی صد باورچی اور ایک ایک فی صد مچھلیاں پکڑنے والے مزدوروں کو ملتا ہے۔

اور اگر کبھی بجائے نفع کے نقصان ہو جائے، مثلاً آمدنی آٹھ لاکھ اور اخراجات دس لاکھ تھے، تو اب ظاہر ہے کہ کسی کو کچھ نہیں ملتا ، اگلی مرتبہ کے نفع میں سے پہلے اس نقصان کو پورا کیا جاتا ہے او رپھر بقیہ ماندہ کو مذکورہ ترتیب پر تقسیم کیا جاتا ہے۔

اب حل طلب امر یہ ہے کہ ،یہاں مزدوروں کی اجرت متعین نہیں، اسی طرح کشتی کے مالک کے لیے کشتی کی اُجرت (کرایہ) بھی متعین نہیں، بلکہ جتنا بھی نفع ہو گا اخراجات منہا کرنے کے بعد، اسے مذکورہ تناسب سے تقسیم کر لیا جائے گا۔

مذکورہ بالا طریقے سے کاروبار کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز نہیں تو عدم ِ جواز کی وجہ اور اس کا جائز طریقہ شریعت کی روشنی میں بیان فرما دیں۔

جواب… صورت مسئولہ میں مذکورہ طریقے سے کاروبار کرنا شرعاً درست نہیں، کیوں کہ یہ کاروبار کشتی کے مالک اور کشتی میں موجود افراد کے مابین عقدِ شرکت ہے اور مباح فعل ، یعنی مچھلیاں پکڑنے میں شرکت کرنا شرکتِ فاسدہ ہے، لہٰذا اس عقد کے نتیجے میں جو مچھلیاں پکڑی جائیں گی اور ان کو بیچنے کے بعد جو آمدنی حاصل ہوگی، وہ کشتی میں موجود ان افراد کی ہوگی، جنہوں نے مچھلیاں پکڑی تھیں، اور باقیوں کو اجرت مثل ملے گی، یعنی کشتی کے مالک کو کشتی کی اجرت ِ مثل اور ڈرائیور وباورچی کو اپنی مزدوری کی اجرت مثل دی جائے گی، اس کاروبار کی جائز صورت یہ ہے کہ اس عقد کے شروع میں آپس میں یہ طے کریں، کہ مچھلیاں تمام پکڑنے والے کی ہوں گی، کشتی کے مالک کو کشتی کی متعین اجرت، مثلاًدس ہزار روپے، ملے گی، ڈرائیور اور باورچی کے لیے بھی اجرت متعین کر دی جائے، اس عقد کی مدت مثلاًایک ماہ بھی متعین کر دی جائے اور اس عقد میں نفع ہو یا نہ ہو، لیکن مذکورہ افراد کو اپنی متعین اجرت ملے گی اور تیل، کھانے کے اخراجات بھی ان ہی کے ذمے ہوں گے جن کی مچھلیاں ہیں۔

طلاق دینے کے بعد شوہر کا مہر کی واپسی کا مطالبہ کرنا
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان ِ عظام مندرجہ ذیل صورت مسئلہ کے بارے میں کہ ایک عورت جس کو اس کے مطالبے پر شوہر طلا ق دے دے او رمہر میں طے شدہ سونا عورت اپنے میکے لے جائے اور عورت کے ساتھ میکے سے آیا ہوا سامانِ جہیز وہیں شوہر کے ہاں رکھا ہوا ہو، لاتے وقت اس سامان کا کرایہ بھی شوہر نے دیا ہو، اب عورت یہ مطالبہ کرے کہ میرا سامان جہیز مجھے واپس دیا جائے، اور شوہر یہ کہہ رہا ہے کہ اس شرط پر سامان دوں گا جب سامانِ پر خرچ شدہ کرایہ او رمہر میں دیا ہوا سونا مجھے واپس دیا جائے، کیا شوہر کا یہ مطالبہ جائز ہے؟ اور اگر عورت کرائے کی رقم اور سونا دینے سے انکار کرے تو شوہر اس سامان کو بیچ سکتا ہے ؟ بالفرض اگر شوہر سامان بیچ دے او راس کے بدلے میں ملنے والی رقم، کرایہ اور سونا کے مقابلے میں بہت کم ہو، مثلاً سامان کی قیمت چالیس ہزار ہو جب کہ کرایہ اور سونے کی قیمت تین لاکھ کو پہنچ رہی ہو، تو چالیس ہزار سے زائد رقم کا کیا حکم ہے ؟کیا اب شوہر اس کا عورت سے مطالبہ کرسکتا ہے ؟

وضاحت… طلاق مطلق دی تھی، مہر میں دیے گئے سونے کی واپسی کی شرط نہیں لگائی تھی، اب شوہر مطالبہ کر رہا ہے، بیوی کا جہیز کا سامان کراچی میں تھا، مانسہرہ لے جانے کا کرایہ شوہر نے ادا کیا تھا، بیوی کراچی اورشوہر مانسہرہ کا رہنے والا ہے۔

جواب… صورت مسئولہ میں چوں کہ طلاق دیتے وقت شوہر نے کوئی شرط نہیں لگائی اور طلاق مطلق دی ہے، اس لیے اب شوہر کے لیے مہر کی واپسی اور سامان کراچی سے مانسہرہ لے جانے کے کرایہ کا مطالبہ درست نہیں اور نہ ہی شوہر کرایہ اور سونے کی مالیت کی وصولی کے لیے عورت کا سامان ِ جہیز بیچ سکتا ہے، کیوں کہ مہر عورت کا حق ہے او رسامان کا کرایہ شوہر نے تبرعاً دیا تھا، ہاں اگر عورت اپنی رضا مندی سے سامان کا کرایہ واپس کر دے تو کوئی حرج نہیں۔

بحالت مجبوری عدت گزارنے کے لیے دوسرے گھر منتقل ہونا
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے شوہر کا انتقال ہوا ہے او رمیں ابھی عدت میں ہوں، جس گھر میں عدت گزار رہی ہوں وہ گھر کرائے کا ہے، جس کا کرایہ زیادہ ہونے کی وجہ سے میں ادا نہیں کر سکتی، جب کہ میرے شوہر کاا پنا ذاتی گھر ہے جو کہ کرائے پر دیا ہوا تھا اور اسی ماہ خالی ہو جائے گا، سوال یہ ہے کہ بحالتِ مجبوری عدت کے دوران میں کرائے کے گھر سے اپنے ذاتی گھر جاسکتی ہوں، راہ نمائی فرما کر شکریہ کا موقع دیں۔

جواب… صورت ِ مسئولہ میں اگر واقعتا کرائے کے گھر میں رہنے کی صورت میں آپ کرائے کی ادائیگی پر قادر نہیں ہیں، تو ایسی صورت میں کرائے کے گھر کو چھوڑ کر اپنے ذاتی گھر میں جاکر عدت گزارناجائز ہے، بصورت دیگر اسی کرائے کے گھر میں ہی عدت گزارنا ضروری ہو گا۔

نمازجمعہ پڑھنے کی اجازت نہ دینے والے ادارے میں کام کرنا
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان ِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ بندہ ایک کمپنی میں بائیس سال سے کام کر رہا ہے، گزشتہ پانچ یا چھ ماہ سے جمعة المبارک کی نماز پڑھنے میں دشواری ہے ، پہلے جمعہ کی نماز پڑھنے کے لیے کمپنی سے باہر چھوڑتے تھے او راب کہتے ہیں کہ پہلے کام ختم کرکے پھر جمعہ پڑھنے جاؤ، کام اتنا ہوتا ہے کہ اُس میں جمعہ کی نماز کا وقت ختم ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے ظہر کی نماز پڑھنا پڑتی ہے، اب جواب طلب مسئلہ یہ ہے کہ ایسے ادارے میں کام کرسکتے ہیں یا نہیں؟ او رجمعہ چھوڑنے کا وبال کس پر ہو گا؟ اس صورت حال میں ظہر کی نماز جمعہ کے قائم مقام ہو سکتی ہے یا نہیں؟

قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب دے کر عندالله ماجور ہوں۔

جواب… احادیث صحیحہ میں نماز جمعہ کے بڑے فضائل او راس کے چھوڑنے پر بڑی وعیدیں وارد ہوئی ہیں،جیسا کہ حضوراکرم صلی الله علیہ وسلم کا پاک ارشاد ہے کہ جو شخص تین جمعے چھوڑ ے، الله تبارک وتعالی اس کے دل پر مہر لگا دیتے ہیں ۔ (ابوداؤد)

دوسرا یہ کہ الله تعالیٰ کی نافرمانی میں کسی بھی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں، لہٰذا آپ کمپنی والوں کو نماز جمعہ کی اہمیت بتلائیں اور اگر ادارے والے آپ کے سمجھانے کے بعد بھی اپنی بات پر مُصرِرہیں اور جمعہ ادا کرنے میں رکاوٹ بنیں تو آپ کا ایسے ادارے میں کام کرنا درست نہیں، اور جمعہ کے چھوڑنے کا وبال آپ اور ادارے دونوں پر ہوگا اور ظہر کی نماز آپ کے حق میں جمعہ کے قائم مقام نہیں ہوسکتی۔

مسجد میں کنگھی کرنے کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مسجد کے اندر ڈاڑھی میں کنگھی کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ کیوں کہ بال مسجد میں گرتے ہیں۔

جواب… واضح رہے کہ حدیث میں مسجد کو صاف ستھرا رکھنے کی تاکید وارد ہوئی ہے، چناں چہ حضرت عائشہ رضی الله عنہا سے مروی ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے گھروں میں مسجد تعمیر کرنے، اس کو صاف رکھنے اور خو شبو لگانے کا حکم دیاہے (ابوداؤد)، مسجد میں کنگھی کرنے سے بال وغیرہ جھڑتے ہیں جس سے مسجد کی تلویث ہوتی ہے، اس لیے مسجد میں کنگھی کرنا مناسب نہیں ،البتہ ضرورت کے وقت کوئی کپڑا وغیرہ بچھا کر ایسا کرے اور بال وغیرہ جو کچھ گرے اس کو باہر پھینک دے، تو پھر کوئی حرج نہیں۔

آن لائن نکاح کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ کے بارے میں مرد اور عورت آن لائن نکاح کرسکتے ہیں؟ مرد او رعورت دونوں الگ ملکوں میں مقیم ہیں ،مرد اپنے گواہوں کے ساتھ مسجد میں حاضر ہو گا او رعورت اپنے گھرو الوں اور گواہوں کے ساتھ اپنے گھر میں ہو گی۔

جواب… واضح رہے کہ نکاح کے انعقاد کے لیے ضروری ہے کہ ایجاب وقبول ایک ہی مجلس میں اس طرح ہو کہ فریقین ایک دوسرے کا کلام براہ راست سن سکیں اور گواہ بھی ایجاب اور قبول اسی مجلس میں سن سکیں، صورت مسئولہ میں مرد اورعورت کا الگ الگ مجلس میں ایجاب وقبول کرنے سے نکاح منعقد نہیں ہوگا، البتہ اگر ایسی صورت ہو کہ عورت فون کے ذریعہ کسی کو اپنا وکیل بنا دے اور وہ مجلس نکاح میں گواہوں کی موجودگی میں عورت کی جانب سے ایجاب یا قبول کر لے تو یہاں مجلس نکاح کے متحد ہونے کی وجہ سے نکاح منعقد ہو جائے گا۔

خوشی کے موقعہ پر پھولوں او رپیسوں کا ہار پہنانے کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان ِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ یہ جو مروج ہے کہ شادی او ر خوشی کے موقع پر ہار پہنائے جاتے ہیں یہ جائز ہے یا نہیں؟واضح رہے کہ ہار سے مراد ہر قسم کا ہار ہے خواہ وہ پیسوں کا ہو، یا پھولوں کا، یا اسی طرح جو تیلوں کا ہار ہوتا ہے۔

راہ نمائی فرمائیں اور شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں۔

جواب…شادی یا دیگر خوشیوں کے موقعوں پر ہار پہننے اورپہنانے سے بوجوہ ذیل اجتناب ضروری ہے:
ہارپہننا عورتوں کے ساتھ خاص ہے، کیوں کہ ہار پہننے میں گلے کی زیب وزینت ہے، جو عورتوں کے ساتھ مخصوص ہے۔ اس میں محض ریا ونمود ہے۔ اس میں اسراف ہے۔ یہ ہندوانہ رسم ہے، ہندو اپنی خوشی کے موقعوں پر گلے میں ہار ڈالتے ہیں۔ نوٹوں کے ہار میں تصویریں ہوتی ہیں، جن کا بلا ضرورت استعمال بالکل حرام ہے او راسی طرح پھولوں کا ہار سلف صالحین کا طریقہ نہیں اور نہ ان سے کہیں ثابت ہے۔

صحابہ کرام رضی الله عنہم اجمعین اور اسلاف اُمت ہر حال میں الله تعالیٰ کے احکامات پر عمل پیرا ہوتے تھے، خوشی کے موقعہ پر شکر ادا کرتے تھے اور غم کے وقت صبر کرتے تھے۔