بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

کیا فرماتے ہیں علمائے دین؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین؟

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

ترکہ کی تقسیم میں بلاوجہ تاخیر کرنے کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اور مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک صاحب کا انتقال ہو گیا، ورثاء میں چھ بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں، آٹھ افراد کل ہیں ،آٹھ میں سے چار بھائی گھر میں رہائش پذیر ہیں اورجائیداد میں سے فائدہ بھی اٹھا رہے ہیں، جب کہ بقایا چار حضرات میں دو بھائی اور دو بہنیں باہر رہتے ہیں او رجب جائیداد کی تقسیم کی بات ہوتی ہے تو رہائش پذیر حضرات غیر رہائش پذیر حضرات کو یہ جواب دیتے ہیں کہ تین سال سے پہلے کوئی بٹوارے یا تقسیم کی صورت ممکن نہیں ہے۔

جب کہ جائیداد سے فائدہ اٹھانے والے چار بہن بھائیوں میں سے ایک بھائی او رایک بہن تا حال کرایہ کے مکان میں رہائش پذیر ہیں اور ان میں سے ایک بہن انتہائی مالی اعتبار سے کم زور، مقروض او رمستقل بیمار رہتی ہیں۔

تو ایسی صورت میں رہنے والوں کا یہ اصرار او رکہنا کہ تین سال سے پہلے جائیداد فروخت کرنے کا فیصلہ نہیں ہو گا…، تو آیا رہنے والوں کا یہ عمل قانوناً اور شرعاً درست ہے؟ اورزبردستی بغیر اجازت بغیر رضا مندی جبراً اس جائیداد سے چند لوگوں کا فائدہ اٹھانا ٹھیک ہے یا نہیں؟

جواب… واضح رہے کہ مورث کے انتقال کے بعد ہی ورثاء کا حق اس کی متروکہ جائیداد کے ساتھ متعلق ہو جاتا ہے ، لہٰذا صورت مسئولہ میں بلا وجہ ترکہ کی تقسیم میں تاخیر او رٹال مٹول اور بعض ورثاء کا جائیداد سے انتفاع اوردوسرے بعض ورثاء کو ان کے حق سے محروم کرنا شرعاً جائز نہیں ہے، جب کہ ان میں سے بعض ضرورت مند اور اس ترکے کے محتاج بھی ہوں ،بلکہ جلد ہی ترکہ تقسیم کرکے ہر ایک کو اس کا حق دے دیا جائے یا غیر رہائش پذیر افراد کی رضا مندی سے ان کے حصوں کے بقدر ان کے لیے کرایہ مقرر کیا جائے اور رہائش پذیر افراد مکان فروخت ہونے تک متعینہ کرایہ ادا کرتے رہیں۔

شادی نہ ہونے اور دیگر پریشانیوں کی صورت میں کرنیکے اعمال
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے گھر میں والدین اور بہن بھائیوں کی نہیں بنتی، چھ بہنیں اور دو بھائی ہیں اتنی مشکل سے دو بہنوں کی شادی ہوئی ہے،ہماری برادری میں شیعہ زیادہ ہیں ،ایسی کون سی بات ہے کہ جو ہمارے گھر میں اچھے رشتے آتے ہیں مگر گھر والے مانتے نہیں ہیں، اگر ہماری برادری میں سے آتے ہیں تو ہمیں اچھے نہیں لگتے، وہ تو ہمیں پتہ ہے کہ وہ کیسے ہیں ،برادری میں تو سب شیعہ ہیں، پھر رشتے آتے بھی ہیں، رشتہ پکا بھی ہو جاتا ہے، جب شادی کا وقت آتا ہے تو رشتہ ٹوٹ جاتا ہے، جب رشتہ لگتا ہے تو سب اپنے غم مناتے ہیں کہ ان کے گھر میں رشتہ کیسے آیا؟ کیوں آیا؟ ایسا کیوں بولتے ہیں؟ پھر جب رشتہ ٹوٹ جاتا ہے ، تو سب خوش ہوتے ہیں کہ اچھا ہوا کہ ٹوٹ گیا، ہمارے بابا کو ہمارے اوپر بالکل بھی پیار نہیں ہے، اب تو اور زیادہ غصہ رہتا ہے کہ جو رشتہ آئے سب ”ہاں“ کر دو، اب تو وہ رشتے بھی نہیں آتے، پھر کبھی کبھار جو آتا ہے، وہ تو شیعہ ہوتے ہیں، بابا تو ”ہاں“ بولتے ہیں، پر ہم اپنے بابا کو تو نہیں بولتے، لیکن تھوڑا بہت اپنی ماں کو بولتے ہیں، وہ بھی کچھ بھی نہیں کرسکتی، وہ بھی بولتی ہیں کہ آپ کے بابا نہیں مانتے، میں کیا کروں؟ ہمارا مطلب یہ ہے کہ ہمارے گھر میں رشتے ٹکتے نہیں ہیں اور جو آتے ہیں تو شیعہ ہوتے ہیں، بس ہمیں اچھے رشتے کی تلاش ہے، بس جو بھی ہو ،غیر ہو،چاہے دور بھی رہے ،بس خوش رہیں، آپ لوگوں کی نظر میں اچھے رشتے ہوں تو بتائیے، پلیز دعا بھی کیجیے، تاکہ ہمارے رشتے اچھے آئیں اور وجہ بھی بتائیے۔

ایسا کچھ بتائیے کہ ابو اچھے رشتے کے لیے مان جائیں، ان کو منانے کا طریقہ بھی بتا دیجیے۔
جواب… الله جلّ جلالہ کی ذات اپنے بندوں پر بے حد مہربان او رانتہائی مشفق وکریم ہے اور الله جل شانہ کا وعدہ ہے کہ جو شخص تقوی یعنی پرہیز گاری کی زندگی گزارے گا، تو الله تبارک وتعالیٰ اس کو ہر تنگی سے نجات عطا فرمائیں گے، یعنی جو شخص الله تعالیٰ کے احکامات اور حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کی مبارک سنتوں کی پیروی کرے گا، الله تعالیٰ اس کو دنیا اورآخرت میں کام یابیوں اور راحتوں سے مالا مال کر دیں گے، لہٰذا آپ سب بہنیں گھر پر پانچ وقت کی نمازوں کا خاص طور پر اور ساتھ ساتھ گناہوں سے بھی بچنے کا اہتمام کیجیے اور شرعی پردہ کا بھی بھرپور اہتمام کریں، ان شاء الله الله تعالیٰ آپ لوگوں کی پریشانیوں کو دور فرمادیں گے اور الله تعالیٰ سے دعا بھی مانگیں، خاص طور پر فرض نمازوں کے بعد ،اس لیے کہ اس کے بعد دعا قبول ہوتی ہے اور والد صاحب کی خوب خدمت کیجیے ان شاء الله وہ بھی آپ لوگوں سے خوش ہو جائیں گے۔ الله تعالیٰ آپ لوگوں کی تمام پریشانیوں کو ختم فرمائیں اور چلتے پھرتے جب بھی فرصت ملے ، مندرجہ ذیل دونوں آیتوں کا اہتمام فرمائیں:

﴿لَا إِلَٰہَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَکَ إِنِّی کُنتُ مِنَ الظَّالِمِینَ﴾﴿حَسْبُنَا اللَّہُ وَنِعْمَ الْوَکِیلُ﴾ اور شادی کے لیے سورہ”یسٓ“ کی مندرجہ ذیل آیت نمبر(36) کا دن میں سو(100) بار پڑھنے کا اہتمام فرمائیں:﴿سُبْحَانَ الَّذِی خَلَقَ الْأَزْوَاجَ کُلَّہَا مِمَّا تُنبِتُ الْأَرْضُ وَمِنْ أَنفُسِہِمْ وَمِمَّا لَا یَعْلَمُونَ﴾․

گھر کے مزدور کو اُجرت دینے کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ دو آدمیوں نے شراکت سے ایک ہوٹل کھولا ہے اور ہوٹل کے چند مزدور دونوں شرکاء کے اپنے اپنے گھر کے افراد ہیں اور چند مزدور اور اجنبی لوگ ہیں۔

اب ہوٹل کے دونوں شرکاء نے یہ طے کر دیا کہ اجنبی مزدور کی طرح شرکاء کے اپنے گھر کے مزدور افراد کو بھی معقول ماہانہ تنخواہیں دی جائیں اور باقی نفع دونوں شرکاء کے درمیان برابر تقسیم کر دیا جائے تو کیا دونوں شرکاء کے گھر کے مزدور افراد کو الگ سے ماہانہ تنخواہ دینا او رپھر باقی منافع کو شرکاء کے درمیان تقسیم کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟

جواب… واضح رہے کہ اُجرت (مزدوری) ہر مزدور کا حق ہے، چاہے اپنا قریبی رشتہ دار ہو یا کوئی او راجنبی، لہٰذا صورت مسئولہ میں آپ کے اپنے گھر کے افراد، جو کہ ہوٹل میں بحیثیت مزدور کام کررہے ہیں، ان کو بھی اپنے کام کے مطابق ماہانہ تنخواہ دینا جائز ، بلکہ ضروری ہے، اس کے بعد ہوٹل کے دونوں شریک، بقدر طے شدہ حصص کے ،منافع کو تقسیم کرسکتے ہیں۔

جھوٹ بول کر لڑکی کو نکاح کے لیے راضی کرنا
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ لڑکی کی والدہ نہیں ہے ، باپ اور بڑی بہن ہے، جب کہ اس لڑ کی کی بڑی بہن کے کسی لڑکے کے ساتھ غلط تعلقات ہیں، بڑی بہن اس لڑکے سے اپنی چھوٹی بہن کا نکاح کروانا چاہتی ہے ،جب کہ لڑکی عاقلہ بالغہ ہے تو بڑی بہن چھوٹی بہن کی عدم موجودگی میں گھر آئی اور اس کے کپڑوں جوتوں وغیرہ کا ناپ دیا، چھوٹی بہن نے کہا کہ میں مذکورہ لڑکے سے شادی نہیں کروں گی، پھر بعد میں بڑی بہن نے اپنی چھوٹی بہن سے جھوٹ کہا کہ باپ ناراض ہو رہا ہے تو اس طرح زبردستی چھوٹی بہن کا نکاح بڑی بہن نے پیسوں کے چکر میں کرا دیا تو سوال یہ ہے کہ آیا یہ نکاح درست ہوا کہ نہیں؟

اگلی بات یہ ہے کہ یہ لڑکی کسی اور لڑکے سے شادی کرنا چاہتی تھی،جب کہ یہ لڑکی ایک بچی کی ماں ہونے کے باوجودبھی کہتی ہے کہ میرا نکاح اس لڑکے سے ختم کر دو تو اب اس لڑکے کونکاح کرنا چاہیے؟ اس طرح پہلے نکاح کوتوڑنا جائز ہے یا کہ نہیں؟ مذکورہ لڑکی ابھی بھی اس لڑکے کے ساتھ راضی نہیں، آئے روز لڑائی جھگڑے ہوتے رہتے ہیں۔

جواب…صورت مسئولہ میں اگرچہ اس لڑکی سے نکاح کے لیے جھوٹ بولا گیا تھا، لیکن چوں کہ وہ نکاح کے وقت راضی تھی تو یہ نکاح شرعاً درست ہے ، لہٰذا اس لڑکی کو چاہیے کہ صبر کرتے ہوئے الله کی رضا پر راضی رہے اور اس نکاح کو برقرار رکھتے ہوئے اپنے شوہر کے ساتھ خوشی سے زندگی گزارے او ران کی اطاعت کرے اور اجنبی مرد سے کسی قسم کا تعلق رکھنے سے اجتناب کرے، کیوں کہ معاشرے کا کام یاب ترین اورنیک بخت گھرانہ وہی ہوتا ہے، جس میں میاں بیوی کے درمیان محبت والفت اوراتحاد واتفاق کا رشتہ ہو، نیز لڑکے کو بھی چاہیے کہ وہ اس لڑکی کی خوش گوار زندگی میں خلل نہ ڈالے اوراس نکاح کو ختم کرانے کی بلاوجہ کوشش نہ کرے، تاہم اگر وہ اپنے خاوند کے ساتھ رہتے ہوئے الله کے بتائے ہوئے احکامات پر عمل نہیں کرسکتی، تو خلع یا طلاق کے ذریعے نکاح کو ختم کراسکتی ہے۔

باپ کا اپنی زندگی میں جائیداد تقسیم کرنا
سوال… کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص اپنی جائیدا دکو ( جو کہ زمین او رمکانات کی شکل میں ہے) اپنی زندگی میں تقسیم کرنا چاہتا ہے، جن کے دو بیٹے ہیں اور تین بیٹیاں ہیں، اب ایک بیٹے کا انتقال ہو چکا ہے اور ان کی سات اولادیں ہیں، دو بیویوں سے، ایک بیوی سے ایک بیٹا او رایک بیٹی ہے، جب کہ دوسری بیوی سے ایک بیٹا اور چار بیٹیاں ہیں، اب اس میں جائیداد کی شرعی تقسیم کا طریقہ کیا ہو گا؟

جتنا حصہ اس کے اس بیٹے کو ملے گا جو کہ حیات ہے اسی طرح اتنا حصہ مرحوم بیٹے کی اولاد کو دے دیا جائے گا او رپھر وہ اسی کو آپس میں تقسیم کریں گے یا کوئی اور طریقہ اختیار کیا جائے گا؟

جواب… صورت مسئولہ میں آپ کے والد صاحب کی جائیداد چوں کہ ان کی ذاتی ملکیت ہے، وہ زندگی میں اس میں جیسے چاہے تصرف کرسکتے ہیں، لہٰذا آپ کے والد صاحب کا زندگی میں اپنی جائیداد تقسیم کرنا یہ ہبہ کے حکم میں ہے، لیکن بغیر کسی معقول وجہ سے اولاد میں کسی کو کم دینا اور کسی کو زیادہ دینا مناسب نہیں ہے، بلکہ سب اولاد میں برابری کریں، لہٰذا آپ کے والد کو چاہیے کہ اپنے لیے جتنا حصہ رکھنا چاہیں، رکھ لیں اور اس کے بعد جائیداد کو برابر حصوں میں تقسیم کرکے ہر ایک بیٹے او ربیٹی کو برابر حصہ دے دے، نیز جس بیٹے کا انتقال ہوا ہے، ان کی اولاد کو بھی اگر کچھ دینا چاہیں تو اپنی مرضی سے جتنا چاہیں دے سکتے ہیں۔

بے پردہ اور مَردوں سے اختلاط کرنے والی عورتوں کی کمائی کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بے پردہ عورت کی کمائی کیسی ہے؟ جائز ہے یا نہیں؟

جواب… واضح رہے کہ شریعت مطہرہ میں معاشی انتظام اور محنت ومزدوری کی تمام تر ذمہ داری مرد پر عائد کی گئی ہے، جب کہ عورتوں پر امور خانہ داری اور بچوں کی ابتدائی تعلیم وتربیت کا بوجھ ڈالا گیا، عصر حاضر میں آزادی اورمساوی حقوق کا جھانسہ دے کر عورت کو گھر سے نکلنے اورمعاشی ذمہ داری کا بوجھ اٹھانے پر مجبور کیا گیا، جس کی بنا پر بے پردگی اور مرد وزن کے بے جا اختلاط میں مسلسل اضافہ ہوا او رکئی معاشرتی مفاسد اورخرابیاں وجود میں آئیں اور خاندانی نظام بری طرح متاثر ہوا، ان خرابیوں سے چھٹکارا پانے اور دنیا اور آخرت کی کام یابی کے لیے، مرد وزن کے اختلاط سے چھٹکارا حاصل کرنا ہمار ی مذہبی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔

نیز عورت کو شریعت مطہرہ نے ”قرار فی البیت“ یعنی گھر میں ٹھہرنے کا حکم دیا او ربلا ضرورت اس کے گھر سے نکلنے کو ناجائز قرار دیا، البتہ کسی ضرورت، مثلاً: اس کے لیے کمانے والا کوئی نہ ہو، تو نان ونفقہ کی طلب میں گھر سے باہر نکل سکتی ہے، مگر یہ اجازت بھی چند شرائط کے ساتھ مشروط ہے:

شرعی پردے کا مکمل اہتمام ہو، نامحرم مردوں سے اختلاط نہ ہو، نامحرم مردوں سے بلا ضرورت بات چیت بھی نہ کرے، ضرورت کی بات کرتے وقت بھی لہجے میں سختی پیدا کرے، تاکہ اس کی طرف کسی کا میلان نہ ہو۔

چوں کہ اس طرح کی ملازمت میں ان شرائط کا لحاظ رکھنا انتہائی مشکل ہے، بامر مجبوری ملازمت ناگزیر ہو تو یہ اس ملازمت ترک کرکے ایسی ملازمت اختیار کی جائے، جس میں مذکورہ بالا شرائط کا مکمل پاس رکھا جاسکے، البتہ اس کے باوجود اس ملازمت سے حاصل ہونے والی کمائی حرام نہیں ہو گی، بلکہ جائز ہی ہوگی، اگرچہ کراہت سے خالی نہیں۔

صدقہ کی قسمیں، مصارف اور ادائیگی کا طریقہ
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان ِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ صدقے کی کتنی قسمیں ہیں؟ صدقہ کن لوگوں کو دے سکتے ہیں اور کن کن کو نہیں دے سکتے؟

غریب اور نادار رشتہ داروں کو بغیر بتائے ( کہ یہ صدقہ کی رقم ہے) صدقہ دے سکتے ہیں یا ان کو بتانا ضروری ہے؟ اور کون سا صدقہ ہے جو بغیر بتائے دے سکتے ہیں؟

جواب…صدقہ کی دو قسمیں ہیں1.. صدقہ واجبہ2.. صدقہ نافلہ۔

صدقہ واجبہ جیسے: زکوٰة، فطرانہ، فدیہ، کفارات وغیرہ، صدقہ نافلہ جیسے عام خیروخیرات وغیرہ۔ صدقہ واجبہ فقیر، مسکین، مقروض، مسافر فی سبیل الله، ایسا غنی مسافر جس کا توشہ سفر میں ختم ہو گیا ہو اور عامل (جس کو حکومت وقت نے زکوٰة وغیرہ لینے کے لیے مقرر کیا ہو ) کو دے سکتے ہیں، صدقہ نافلہ مذکورہ مصارف کے علاوہ دیگر رفاہی کاموں میں بھی خرچ کر سکتے ہیں، نیز سید (ہاشمی) اور اپنے قریبی رشتہ دار، والدین، اولاد ، اولاد کی اولاد، دادا، دادی، نانا، نانی، وغیرہ کو صدقہ واجبہ دینا جائز نہیں ہے، البتہ صدقہ نافلہ دینا جائز ہے، صدقہ واجبہ میں افضل یہ ہے کہ بتا کر اور اعلانیہ دیا جائے، چاہے اپنے رشتہ دار یا کسی اور کو دیا جائے، لیکن اگر اعلانیہ او ربتا کر دینے میں فقیر(مستحق) کو اذیت ہوتی ہو تو بغیر بتائے اور چھپا کر دینا بہترہے، باقی صدقہ نافلہ میں افضل یہ ہے کہ چھپا کر او ربغیر بتائے دیا جائے۔