بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

کیا فرماتے ہیں علمائے دین؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین؟

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

حالت ِ حیض میں بیوی کو طلاق دینے کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان ِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص حالت حیض میں اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے او راس کا خیال یہ ہے کہ حیض میں طلاق واقع نہیں ہوتی،جب اس سے وجہ پوچھی تو کہتا ہے کہ عبدالله بن عمر رضی الله عنہما نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دی تھی اور پھر آپ صلی الله علیہ وسلم کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے رجوع کا حکم دیا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حالت حیض میں طلاق واقع نہیں ہوتی۔

اس مسئلہ میں چند سوال ہیں:
1..کیا حالت حیض میں طلاق واقع ہوتی ہے؟
2..جو واقعہ ذکر کر رہے ہیں اس کی وضاحت بتا دیں اور حوالہ؟
3..اس واقعہ میں مطلقاً طلاق کا ذکر ہے، پہلی اور تیسری کا ذکر نہیں، تو کیا یہ پہلی طلاق تھی؟
4..اس شخص نے یہ تیسری طلاق دی تھی، او رکہتا ہے کہ اس واقعہ میں رجوع کا ذکر ہے اس لیے طلاق نہیں ہوئی اور تیسری طلاق کا مجھے اختیار حاصل ہے، کیا یہ درست ہے؟
5..رجوع کا حکم کیوں دیا؟

جواب…1.. حالت حیض میں طلاق دینا اگرچہ ممنوع اور بدعت ہے، لیکن اس کے باوجود وہ طلاق شرعاً واقع ہو جاتی ہے۔

2..اکثر کتب حدیث میں یہ واقعہ الفاظ کی معمولی تبدیلی کے ساتھ مذکور ہے، چناں چہ بخاری شریف میں ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ:”حضرت ابن عمر رضی الله عنہما نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں ایک طلاق دی ، تو حضور علیہ السلام نے ان کو رجوع کرنے کا حکمدیااور فرمایا کہ دوسرے طہر میں اگر طلاق دینا چاہیں تو طلاق دے دیں، جب کہ اس طہر میں جماع نہ کیا ہو، پس یہی وہ عدت ہے جس کے متعلق الله رب العزت نے حکم فرمایا: ﴿یَا أَیُّہَا النَّبِیُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاء فَطَلِّقُوہُنَّ لِعِدَّتِہِنَّ﴾ کہ اپنی بیویوں کو عدت کے وقت میں طلاق دو، حضرت عبدالله بن عمر رضی الله عنہما سے جب اس کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے ان میں سے ایک شخص کو فرمایا کہ:”إن کنت طلقتھا ثلاثا فقد حرمت علیک حتی تنکح زوجا غیرک“ اگر تو بیوی کو تین طلاق دے دے تو وہ تجھ پر حرام ہے یہاں تک کہ وہ عورت تیرے علاوہ کسی اور سے نکاح کر لے، اور آگے فرمایا کہ :” لوطلقت مرة أو مرتین فإن النبی صلی الله علیہ وسلم أمرني بھذا“ اگر ایک مرتبہ یا دو مرتبہ طلاق دے تو نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے مجھے یہ حکم فرمایا، یعنی مذکورہ بالا رجوع والا حکم تب ہے جب کہ ایک مرتبہ یا دو مرتبہ طلاق دے چکے ہوں۔

3..سنن دارقطنی کی ایک روایت ہے، جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جب نبی علیہ السلام نے رجوع کا حکم فرمایا تھا، اس وقت حضرت عبدالله بن عمر رضی الله عنہما کے لیے طلاق کا اختیار باقی تھا؛ یعنی وہ تیسری طلاق نہیں تھی۔ وہ روایت مندرجہ ذیل ہے:”أن رجلا أتی عمر، فقال: إني طلقت امرأتي وھي حائض، وقال ابن صاعد: أن رجلا قال لعمر:إني طلقت امرأتي البتة وھي حائض، وقالا جمیعا: فقال: عصیت ربک وفارقت امرأتک، فقال الرجل: فإن رسول الله صلی الله علیہ وسلم أمر ابن عمر حین فارق امرأتہ أن یراجعھا، وقال ابن صاعد: فإن رسول الله صلی الله علیہ وسلم قال لعبدالله بن عمر حین فارق امرأتہ وھي حائض فأمرہ أن یرتجعھا، وقالا جمیعاً: فقال لہ عمر: إن رسول الله صلی الله علیہ وسلم أمرہ أن یراجع امرأتہ بطلاق بقي لہ، وقال ابن صاعد: أن یرتجعھا في طلاق بقي لہ وأنت لم تبق ماترتجع امرأتک․“

ترجمہ:” ایک آدمی حضرت عمر رضی الله عنہ کے پاس آیا اور عرض کی کہ میں نے اپنی بیو ی کو حالت حیض میں طلاق دی ہے، او رابن صاعد راوی یہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت عمر رضی الله عنہ سے یہ عرض کی کہ میں نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق البتہ (تین طلاق) دی ہے ، جواب میں حضرت عمر رضی الله عنہ نے فرمایا کہ: تونے اپنے رب کی نافرمانی کی او راپنی بیوی کو اپنے سے جدا کر دیا، پس اس آدمی نے عرض کیا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے تو حضرت ابن عمر رضی الله عنہما کو ایسی صورت میں رجوع کرنے کا حکم فرمایا تھا ،او رابن صاعد راوی نے کہا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے حضرت ابن عمر رضی الله عنہما کو رجوع کا حکم فرمایا تھا، جب انہوں نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دی تھی، تو حضرت عمر رضی الله عنہ نے اس آدمی کو کہا کہ: حضور علیہ السلام نے جو انہیں رجوع کا حکم فرمایا تھا، وہ اس لیے کہ ان کے پاس طلاق کا اختیار باقی تھا، اور ابن صاعد نے کہا کہ انہوں نے اپنی بیوی سے رجوع کیا تھا، اس طلاق کے ساتھ جس کا اختیار انہیں باقی تھا اور تیرے لیے اپنی بیوی سے رجوع کرنے کا اختیار باقی نہیں ہے۔

4..تین طلاق دینے کے بعد شوہر کے لیے رجوع کا حق ختم ہو جاتا ہے، اگرچہ تیسری طلاق حالت حیض میں دی گئی ہو، لہٰذا مذکورہ شخص کے لیے رجوع کا حق باقی نہیں ہے۔

5..اس کی وجہ فقہاء کرام یہ بیان فرماتے ہیں کہ حالت حیض میں طلاق دینے سے عورت کی عدت طویل ہو جائے گی، کیوں کہ جس حیض میں طلاق دی جارہی ہے وہ حیض عدت میں شمار نہیں ہوتا، بلکہ حیض کے بعد جب طہر ہو گا، اس کے بعد والے حیض سے عدت شمار کی جائے گی، تو اس عدت کی طوالت کی وجہ سے عورت کو جو مشقت اور ضرر لاحق ہو رہا تھا سے بچانے کے لیے یہ حکم فرمایا گیا کہ فی الحال رجوع کر لیا جائے، پھر جب حیض سے پاک ہوجائے او رپھر دوبارہ حیض آنے کے بعد جب اس حیض سے پاک ہو جائے، تو حالت طہر میں طلاق دی جائے، نیز رجوع کی صورت میں اس گناہ ( جو کہ عورت کو ضرور پہنچانے کی وجہ سے پایا گیا) کی ایک گونا تلافی بھی ہے، اگرچہ مکمل تلافی نہیں ہے، کیوں کہ وہ طلاق تو واقع ہوچکی ہے۔

داماد سسرال میں قصر کرے گا یا اتمام؟
سوال… کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کوئی شخص سسرال میں جائے تو قصر کر ے گا یا پوری نماز پڑھے گا؟ جب کہ مفسر قرآن حضرت مولانا عبدالحمید خان صاحب سواتی نے اپنی کتاب ”نماز مسنون“ میں ،صفحہ نمبر712 میں یہ لکھا ہے کہ: اگر کوئی شخص سسرال میں جائے تو وہ مقیم سمجھا جائے گا، اس کو پوری نماز پڑھنی چاہیے، مکمل تفصیل سے جواب دیں، نیز عورت جب اپنے والدین کے گھر جائے گی، تو قصر کرے گی یا اتمام؟

جواب… اگر کوئی شخص اپنے سسرال چلا جائے او راس کے وطن اصلی اور سسرال کے درمیان سفر کی مسافت شرعی موجود ہو او رپندرہ دن سے کم ٹھہرنے کی نیت ہو تو وہ قصر کرے گا، اسی طرح اگر کوئی عورت اپنے والدین کے گھر (میکے) چلی جائے اور اس کے شوہر کے گھر اور والدین کے گھر کے درمیان مسافت شرعی موجود ہو اور پندرہ دن سے کم ٹھہرنے کی نیت ہو، تو وہ بھی اپنے والدین کے گھرجاکر قصر کرے گی۔

حضرت مولانا عبدالحمید سواتی رحمہ الله نے اپنی کتاب ”نماز مسنون“ میں پوری نماز پڑھنے کا جو حکم لگایا ہے، وہ صرف اس صورت میں درست ہو سکتا ہے ، جب کوئی شخص گھر داماد ہو، یعنی وہ اپنے بیوی بچوں کے ساتھ اپنے سسر کے گھر میں رہتا ہو، اگر گھر داماد کہیں سفر پر چلا جائے اور واپسی پر اپنے سسرال آئے، تو وہ مقیم سمجھا جائے گا اور پوری نماز پڑھے گا، اس لیے کہ اس صورت میں اس کا سسرال ہی اس کا وطن ِ اصلی ہو گا۔

حضرت مولانا عبدالحمید سواتی صاحب رحمہ الله نے مذکورہ مسئلے کی دلیل حضرت عثمان رضی الله عنہ کا مکہ میں پوری نماز پڑھنے کو ٹھہرایا ہے اورجب ان سے ان کے اس فعل کے متعلق پوچھا گیا، تو انہوں نے جواب دیا کہ میں نے ایک شادی مکہ میں کی ہے، اور چوں کہ بیوی کا وطن ان کا بھی وطن اصلی تھا، اس لیے وہ مکہ میں پوری نماز پڑھتے تھے۔

حافظ ابن حجر رحمة الله علیہ نے ”فتح الباری“ میں اس حدیث کو منقطع کہا ہے اور فرمایا ہے کہ اسے دلیل نہیں بنایا جاسکتا او رحضرت عثمان رضی الله عنہ کے پوری نماز پڑھنے کے دیگر کئی اسباب بھی بیان کیے ہیں، جن سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت عثمان رضی الله عنہ کا پوری نماز پڑھنا ان کا اپنا اجتہاد تھا۔

الغرض حضرت عثمان رضی الله تعالیٰ عنہ کی مذکورہ روایت سے مطلقاً ہر شخص کے لیے سسرال میں پوری نماز پڑھنے کا حکم لگانا صحیح نہیں۔

تکبیرات انتقال میں آواز کھینچنے کی حد
سوال… کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ نماز میں انتقالات کے وقت تکبیر کہتے ہوئے آواز کو کھینچنے کی اجازت ہے؟ بالخصوص امام کے لیے اس میں کوئی حرج تو نہیں ہے ؟

جواب… تکبیرات ِ انتقال میں طریقہ یہ ہے کہ تکبیر کو ایک رکن سے دوسرے رکن کی طرف منتقل ہوتے ہوئے پڑھ لیا جائے، انتقال کے شروع سے تکبیر کا آغاز کرے اور انتقال کی انتہاء پر آواز ختم کر دی جائے، اس سے زیادہ آواز نہ کھینچی جائے۔

وطن اقامت کب باطل ہوتا ہے؟
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص اپنا وطن اصلی مثلاً: لاہور چھوڑ کر دوسری جگہ مثلاً:کراچی میں عارضی مقیم ہو جاتا ہے، او رپھر وہاں سے گاڑی چلاتا ہے اور روزانہ کے حساب سے اتنا سفر کرتا ہے، جس سے وہ مسافر سمجھا جاتا ہے، تو ایسی صورت میں کیا شخص مذکور کی عارضی اقامت جو کہ کراچی میں ہے، اس سفر شرعی سے باطل ہو جائے گی ؟کیوں کہ ہم نے یہ پڑھا ہے کہ وطن ِ اقامت دو چیزوں سے باطل ہو جاتا ہے، وطن اصلی اور سفر۔

اگر مذکورہ شخص لاہور چھوڑ کر کراچی کو اس نیت سے آتا ہے کہ اب میں یہاں رہوں گا، لیکن روزانہ سفر، مسافر کی مسافت سے زیادہ کروں گا، تو ایسی صورت میں مذکورہ شخص کے لیے کیا حکم ہے؟ قصر کرے یا اتمام؟

جواب… واضح رہے کہ وطن اقامت ( جہاں آدمی پندرہ دن یا اس سے زیادہ رہنے کی نیت کرے ) تین چیزوں سے باطل ہو جاتا ہے؟
1..وطن اصلی۔ 2..وطن اقامت۔ 3..سفر ، لیکن سفر سے مطلق سفر مراد نہیں، بلکہ سفر بقصد الإرتحال مراد ہے، یعنی وطن اقامت سے بنیت سفر جاتے ہوئے اپنا سارا سامان اور بیوی بچے بھی ساتھ لے جائے، اور فی الحال واپس ہونے کا کوئی ارادہ نہ ہو۔

جب کہ صورت مسئولہ میں مذکورہ شخص کا وطن اقامت، مثلاً کراچی سے سفر کرتے ہوئے واپس وطن اقامت ( کراچی) میں آنے کا ارادہ بہرحال موجود ہے،اس لیے اس سفر سے مذکورہ شخص کا وطن اقامت باطل نہیں ہو گا اور وطن اقامت میں آتے ہی پور ی نماز پڑھے گا۔

اس صورت میں بھی پوری نماز پڑھے گا، اس لیے کہ وہ شخص کراچی کو خواہ وطن اصلی بنائے یا وطن اقامت (جیسا کہ اُوپر پہلی صورت میں گزرا) مذکورہ نوعیت کے سفر سے دونوں باطل نہیں ہوتے۔

حالت سجدہ میں پاؤں کا زمین سے اٹھانا
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر نماز کے دوران پاؤں سجدے کی حالت میں زمین سے اٹھ جائیں تو کیا نماز فاسد ہو جائے گی یا نہیں؟ اگر فاسد ہو جائے گی تو کتنی دیر اٹھے رہنے سے فاسد ہوگی؟

جواب… بحالت سجدہ دونوں پاؤں میں سے کسی ایک کا کوئی جز بقدر تسبیح واحد زمین پر رکھنا کافی ہے، پس اگر پورے سجدے میں بقدر ایک تسبیح کے دونوں پاؤں میں سے کسی کا کوئی جز زمین پر رکھ لیا تو واجب ادا ہو جائے گا، اگر اتنی مقدار بھی نہ رکھا تو ترک واجب کی وجہ سے نماز واجب الاعادہ ہو گی، واضح رہے کہ قدم کا بالائی حصہ یاصرف ایک قدم کو زمین پر بغیر عذر رکھنے سے واجب تو ادا ہو جائے گا، مگر مکروہ ہے، اس لیے دونوں پاؤں زمین پرر کھنا سنت ہے۔