بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

کیا فرماتے ہیں علمائے دین؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین؟

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

پب جی گیم میں استعمال ہونے والے ”ڈائمنڈ“ بیچنے کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں علمائے کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ میں ایک دکان دار ہوں، میرے پاس گاہک آتے ہیں جو اکثر نوجوان لڑکے ہوتے ہیں اور پب جی گیم کھیلتے ہیں، وہ اپنے گیم میں پیسے ڈالتے ہیں جس کو ڈائمنڈ کہتے ہیں، یہ جو ڈائمنڈ ہوتے ہیں اس کی کوئی بظاہر شکل وصورت نہیں ہوتی بلکہ یہ ایک ڈیجیٹل کرنسی ہے، یہ میں آن لائن دکان سے خریدتا ہوں اور جو کسٹمر میرے پاس آیا ہوتا ہے سیدھا اس کے اکاؤنٹ/ گیم میں ٹرانسفر کر دیتا ہوں۔

ڈائمنڈ کی قیمت میں نے پہلے سے اپنے کسٹمر کو بتائی ہوتی ہے کہ میں اتنے ڈائمنڈز کے اتنے پیسے لوں گا، اس میں ،میں نے اپنے لیے کچھ منافع بھی رکھا ہوتا ہے۔

یہ جو ڈائمنڈ ہیں یہ میری ملکیت میں بھی نہیں آتے ،دیگر الفاظ میں میں اگر یوں کہوں کہ اس پر میرا قبضہ نہیں آتا تو شاید وہ بھی ٹھیک ہو گا، کیوں کہ یہ ڈائمنڈ میں سیدھا اپنے کسٹمر کے اکاؤنٹ یعنی گیم میں ٹرانسفر کر دیتا ہوں۔

دوسری طرف اس پر میرے لیے قبضہ حاصل کرنا بھی میرے خیال میں ناممکن ہے، کیوں کہ یہ جو ڈائمنڈ ہوتے ہیں یہ گیم میں سیدھا ٹرانسفر ہوتے ہیں، اس ڈائمنڈز کی جو قیمت ہوتی ہے وہ میرے ایزی پیسہ اکاؤنٹ سے کاٹ دی جاتی ہے اور ڈائمنڈ سیدھا کسٹمر کے اکاؤنٹ /گیم میں چلے جاتے ہیں، کیا یہ کمائی میرے لیے حلال ہے؟

جواب… واضح رہے کہ لہو ولعب کے وہ آلات جو صرف حرام اور ناجائز لہوو لعب میں استعمال کیے جاتے ہوں کسی جائز اوردرست کام میں ان سے استفادہ ممکن نہ ہو، ان آلات کا بیچنا شرعاً جائز نہیں۔

صورت مسئولہ میں جو ڈائمنڈ آپ بیچتے ہیں،اس سے بھی چوں کہ پب جی گیم کے علاوہ استفادہ ممکن ہے او رنہ ہی کسی اور صحیح کام میں استعمال کیا جاتا ہے، اور پب جی گیم کھیلنا لہوولعب اور دوسرے بہت سارے مفاسد پر مشتمل ہونے کی وجہ سے جائز نہیں، لہٰذا ڈائمنڈ جسے پب جی گیم کھیلنے کے لیے ایک خاص آلے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، اس کا بیچنا شرعاً درست نہیں۔

”رن طلاق“ کے لفظ سے معلق طلاق کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان ِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں ہوش وحواس کے ساتھ یہ بیان حلفی رکھ رہی ہوں کہ یکم شوال1442ھ کو میرے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا کہ میرے سسر کی وفات 13/دسمبر2020ء کو ہوئی، ان کی و فات کے بعد پہلی عید الفطر کے دن جب میں نے کپڑے پہنے تو میری ساس نے میرے شوہر کو کہا کہ یہ ایسے کپڑے پہن کر ہمیں جلا رہی ہے، انہوں نے میرے خلاف او ربھی باتیں کیں میرے شوہر سے، جو میں سن کر خاموش ہوگئی اور شوہر کو اسی وقت بتایا کہ میرے پاس پہننے کے لائق اور کپڑے نہیں تھے، اس لیے یہ کپڑے پہنے جو میں پہلے بھی بہت بار پہن چکی ہوں، اس کے باوجود میرے شوہر نے کمرے میں آکر مجھ پر ہاتھ اٹھایا اور میرا دوپٹہ بھی چھین کر جلا دیا، پھر تھوڑی دیر کے بعد جب میں نے کہا کہ آپ ماں کے اکسانے پر آکے بیوی کو مارنے لگ گئے، تو میرے شوہر نے کہا کہ اگر میں نے ماں کے اکسانے پر یہ کیا ہے تو تمہیں رن طلاق، میں نے پھر کہا کہ مجھے کیوں؟ اپنی بہنوں کو طلاق دلوائیں، جواباً انہوں نے پھر کہا کہ نہیں بس تمہیں ہے، میں یہ دیکھ اور سن چکی تھی کہ ماں نے ہی ان کو اکسایا تھا ،میں اس وقت چھ مہینے کی حاملہ تھی اور حمل کے دوسرے مہینے سے ہی میرے شوہر نے مجھے کہنا شروع کر دیا تھا کہ ابھی مجھے شریعت اجازت نہیں دیتی، لہٰذا بچہ پیدا ہونے کے بعد میں تمہیں فیصلہ دے دوں گا، اور طلاق دینے کے بعد بھی میرا شوہر مجھے یہ الفاظ کہتا رہا کہ تمہیں فیصلہ دے دوں گا، اس لیے میں سمجھی کہ ابھی حمل میں طلاق مؤثر نہیں ہوئی۔

محرم الحرام1443ھ کو بچے کی پیدائش ہوئی اور پیدائش کے تیسرے دن میں نے اپنے والدین کو یہ بات بتائی، تو انہوں نے کہا کہ یہ طلاق اب مؤثر ہوچکی ہے، او رجب انہو ں نے میرے شوہر سے ا س بارے میں پوچھا تو وہ انکاری ہو گیا او رکہنے لگا کہ میں نے کوئی طلاق نہیں دی، میں قرآن اٹھاتا ہوں، جب کہ وہ دو دفعہ کہہ چکا تھا، پھر میں اپنی چار سالہ بیٹی اور بچے کو لے کر اپنے والدین کے پاس آگئی۔

شریعت کا اس بارے میں کیا کہنا ہے؟ اس معاملے پر شرعی فتوی جاری فرمائیں اور علماء کرام میری راہ نمائی فرمائیں۔

جواب…واضح رہے کہ حمل کے دوران بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے، صورت مسئولہ میں اگر کسی غلط بیانی سے کام نہیں لیا گیا، تو جب آپ کے شوہر نے یہ الفاظ کہے کہ ”اگر میں نے ماں کے اکسانے پر کیا ہے تو تمہیں رن طلاق“ تو یہ طلاق معلق تھی، لیکن بعد میں انہوں نے جو آپ کے جواب میں یہ کہا کہ ”بس تمہیں ہے“ تو اس سے ایک طلاق رجعی واقع ہو گئی، آپ کے شوہر دوران عدت ( بچے کے پیداہونے سے پہلے ) رجوع کرسکتے تھے، عدت گزر جانے کے بعد چوں کہ اب رجوع ممکن نہیں، لہٰذا اگر آپ چاہیں تو تجدید نکاح کرکے اپنے شوہر کے ساتھ زندگی گزار سکتی ہیں، لیکن اس کے بعد آپ کے شوہر کے پاس دو طلاقوں کا اختیار باقی ہو گا، البتہ آپ کے شوہر کا یہ کہنا کہ بچہ پیدا ہونے کے بعد فیصلہ دے دوں گا، چوں کہ وضع حمل کے بعد انہوں نے کوئی فیصلہ یا طلاق نہیں دی، لہٰذا اس سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔

میں نے اس کو طلا ق دے دی اور طلاق معلق کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری اپنے شوہر سے کسی بات پر بحث ہوئی تو میرے شوہر نے اپنے بھائی کو فون پر کہا” میں نے اس کو طلاق دے دی، میں آرہا ہوں“، تو بھائی نے کہا ایسا مت بولو، تو میرے شوہر نے کہا” نہیں بس میں آرہاہوں“، میرے بھائی کا بیٹا اس بات کا گواہ ہے۔

دوسری مرتبہ ہم بیٹھ کر آپس میں باتیں کر رہے تھے، میں نے کہا ”میں کل بازار جاؤں گی“ تو میرے شوہر نے کہا کہ” اگر میری اجازت کے بغیر گئی تو تجھے طلاق ہے“، تو پھر میں اس کی اجازت سے بازار گئی، کیا اس اجازت سے شرط ٹوٹی یا نہیں؟

پھر ایک مرتبہ میں نے اپنے شوہر سے کہا کہ آپ مجھے خرچہ نہیں دیتے، تو میں آپ کی جیب سے نکال لیا کروں گی، تو میرے شوہر نے کہا کہ ”اگر تونے میری جیب کو ہاتھ لگایا تو تجھے طلاق ہے“ میں نے غصے میں اس کی جیب سے پیسے زوری زبردستی نکال لیے، اب اس کا کیا حکم ہو گا؟خلاصہ یہ ہے کہ میرا شوہر شراب کا عادی ہے، روز پی کر آتا ہے او رالٹی باتیں کرتا رہتا ہے، او رکہتا ہے مجھ سے خرچہ نہ مانگو، تیرا میرے اوپر کوئی حق نہیں، میں نے یہ بات سن کر کنارہ کشی اختیار کر لی، اب اس کنارہ کشی سے لڑائی روز بڑھتی جارہی ہے، اب آں جناب سے گزارش ہے کہ ان باتوں کوپیش نظر رکھ کر مجھے اپنی رائے سے آگاہ کریں، الله تعالیٰ آپ کا حامی وناصر ہو۔

جواب… صورت مسئولہ میں آپ کو دو طلاقیں رجعی واقع ہوچکی ہیں ،ایک طلاق رجعی اس وقت واقع ہوئی جب آپ کے شوہر نے کہا کہ میں نے اس کو طلاق دے دی“، دوسری طلاق اس وقت واقع ہوئی جب آپ کے شوہر نے یہ بولا تھا کہ” اگر تونے میری جیب کو ہاتھ لگایا تو تجھے طلاق ہے“ او رپھر آپ نے ان کی جیب سے پیسے نکالے تو آپ کو دوسری طلاق واقع ہوگئی، اب آپ کے شوہر کے پاس ایک طلاق کا اختیار باقی ہے، باقی جب آپ کے شوہر نے یہ بولا کہ اگر میر ی اجازت کے بغیر بازار گئی تو تجھے طلاق ہے“ تو آپ ان کی اجازت سے بازار گئی تھی، لہٰذا اس سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، نیز اگر آپ کے شوہر دوران عدت رجوع کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں، لیکن اس وقت تجدید نکاح کی ضرورت نہیں ہے، اگر انہوں نے رجوع نہیں کیا او رعدت گزر گئی تو پھر تجدید نکاح ضرور ی ہو گا، نیز آپ کے شوہر پر آپ کا نفقہ لازم ہے، اگر وہ خرچہ نہیں دیتا اور شراب نوشی سے باز نہیں آتا، تو اولاً اس بات کی کوشش کی جائے کہ دونوں خاندانوں کے بڑے اس کو بٹھا کر سمجھائیں، اگر وہ باز آجائے تو آپ کو چاہیے کہ ان کے ساتھ حسن سلوک کرتے ہوئے زندگی گزاریں، اگر پھر بھی اپنی حرکات سے باز نہیں آتا اور آپ کے لیے ان کے ساتھ رہتے ہوئے الله کی قائم کردہ حدود پر عمل کرنا دشوار ہے، تو آپ علیحدگی کا مطالبہ کرسکتی ہیں۔

زندگی میں تقسیم جائیداد میں اولاد میں کمی بیشی کا حکم  وارث کا اپنے حصے سے دست بردار ہونا، حرام مال  کی تقسیم کا حکم، مشترکہ چیز ہبہ کرنے کا حکم
سوال…1.. کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے دادا کے چار بیٹے او رچار بیٹیاں ہیں، پانچواں بیٹا دادا کی زندگی ہی میں فوت ہو گیا تھا، اب اس فوت شدہ بیٹے کی بیوہ اور اولاد زندہ ہیں، میرے دادا نے اپنی زندگی میں اپنے چاروں بیٹوں اور پانچویں بیٹے کی اولاد کو دس دس ایکڑ زمین اور ایک ایک مکان عطیہ کیا تھا، تقسیم کے وقت دادا کی تمام اولاد عاقل بالغ اور شادی شدہ تھی، کیا میرے دادا کا یہ عمل شرعی لحاظ سے ٹھیک ہے یا نہیں؟

2..۔1997 میں جب میرے دادا فوت ہوئے ، تو اس وقت اس کی وراثت میں ساڑھے بارہ ایکڑ زرعی زمین اور گاؤں کے کچھ مکانات شامل تھے، اس کے علاوہ ان کے پاس نقدی یا اور چھوٹی موٹی اشیاء یا ان پر قرضہ وغیرہ کتنا تھا؟ اس کا مجھے علم نہیں ہے، دادا کی وفات کے وقت ان کے چار بیٹے او رچار بیٹیاں حیات تھیں او رپانچویں فوت شدہ بیٹے کی بیوہ اور اولاد موجود تھی، دادی بیماری سے فوت ہوچکی تھی۔

میرے دادا کی وفات کے بعد میرے والد صاحب اور میرے ایک چچا تمام بہنوں کے پاس گئے جو کہ تمام کی تمام عاقلہ بالغہ تھیں ،او ران سے کہا کہ آپ جائیداد میں سے اپنا حصہ لے لیں، یا اس کے بدلے نقد رقم لے لیں، یا بھائیوں کے حق میں اپنا اپنا حصہ میراث معاف کردیں، ایک بہن نے اپنے حصہ کی نقد رقم لے لی اور باقی تین بہنوں نے اپنا اپنا حصہ میراث معاف کردیا، اس کے بعد ساڑھے بارہ ایکڑ زمین او رپانچ گاؤں کے مکانات چار بھائیوں او رپانچویں بھائی کی اولاد میں برابر برابر تقسیم ہو گئے، پانچویں فوت شدہ بھائی کی اولاد البتہ شرعی وارث نہیں بنتی تھی، لیکن سرکاری قانون او ربھائیوں کی رضا مندی کے ساتھ ان کو بھی برابر حصہ ملا، اس تقسیم کے بعد میرے والد صاحب کے حصے میں ڈھائی ایکڑزمین او ر گاؤں کا ایک مکان آگیا جو کہ انہو ں نے اپنی زندگی میں فروخت کر دیا تھا اور اس کی رقم اپنے استعمال میں لے آئے تھے، کیا یہ تقسیم وراثت درست ہوئی تھی، یا نہیں؟

3.. ہم تین بھائی اور دو بہنیں ہیں، میرے والد صاحب نے اپنی زندگی میں ایک مکان اپنے چھوٹے بیٹے کو قبضہ کے ساتھ عطیہ کیا، اس کی غربت کی وجہ سے، او رایک دوکان مجھے اور میرے بڑے بھائی کو مشترکہ قبضے کے ساتھعطیہ کر دی تھی، دوکان چھوٹی تھی، جس کو اگر مزید تقسیم کرتے تو بازار کے حساب سے ناقابل استعمال ہو جاتی، اسی طرح والد صاحب نے اپنی ایک بیٹی کو کچھ معمولی نقد رقم دی اور دوسری بیٹی جو مالی لحاظ سے امیر تھی، اس کو کچھ نہیں دیا۔

کیا یہ تقسیم درست تھی یا نہیں؟ او رکیا میرے حصے میں جو دکان کا آدھا حصہ آیا ہوا ہے، اس میں میری کسی بہن کا حق ہے یا نہیں؟ اگر حق ہے تو کتنا ہے او ر اس کو ادا کرنے کی کیا ترتیب ہے؟

4..جب میرے والد صاحب کی وفات ہوئی اس کی وارثت میں کل ساڑھے آٹھ ایکڑزمین تھی جو کہ شرعی طریقے سے میری والدہ، ہم تین بھائیوں اور دو بہنوں میں تقسیم ہوگئی او رمیرے حصے میں (1.86) ایکڑزمینگئی، اس وقت جو میرے پاس (1.86) ایکڑزمین جو وراثت میں منتقل ہوئی ہے او ردکان کا آدھا حصہ جو کہ میں پہلے ہی بڑے بھائی کو فروخت کر چکا ہوں، جو کہ مجھے والد نے اپنی حیات میں قبضے کے ساتھ عطیہ کی تھی، کیا یہ میرے حق کے عین مطابق ہے یا میری بہنوں یا میرے والد صاحب کی بہنوں کا کوئی حق میری طرف ہے؟ اگر ہے تو وہ کتنا ہے، میرا اصل حق کتنا بنتا ہے؟ او راس کو ادا کرنے کا طریقہ مجھے بتا دیں۔

ان تمام سوالات کا مقصد خود کو آخرت کے مؤاخذے سے بچانا ہے، اسی طرح اگر میرے والد صاحب سے کو ئی قابل مؤاخذہ غلطی ہوئی ہے، تو اس کا ازالہ کیسے کرسکتا ہوں؟

جواب…1..صورت ِ مسئولہ میں اگر آپ کے دادا نے اپنی بیٹیوں کو بلا کسی معقول وجہ کے جائیداد سے محروم کیا ہو، تو وہ گناہ گار ہو گا، تاہم اس کی وجہ سے مذکورہ تقسیم پر کوئی اثر نہیں پڑتا ہے، بلکہ آپ کے دادا کے بیٹوں میں سے ہر ایک موہوبہ دس ایکڑزمین او رمکان کا بدستور مالک ہے۔

2..تقسیم وراثت سے پہلے کسی وارث کا اپنے حصہ میراث سے دست بردار ہونا شرعاً معتبر نہیں، چناں چہ صورت مسئولہ میں آپ کے والد کی چار بہنوں میں سے جن تین بہنوں نے اپنا حصہ میراث معاف کر دیا تھا، اس کا شرعاً کوئی اعتبار نہیں، لہٰذا آپ کے والد او راس کے بھائیوں پر لازم ہے کہ آپ کے دادا کی میراث کو از سر نو شرعی اصول کے مطابق تقسیم کر لیں اوراپنی تینوں بہنوں سمیت تمام ورثہ کو اپنا حصہ میراث دے دیں، البتہ چوتھی بہن جو صلح کے طور پر نقد پیسے لے کر جائیداد سے دست بردار ہو گئی ، اس کو حصہ میراث نہیں دیا جائے گا۔

باقی تقسیم کے بعد جب ہر وارث کو حصہ مل جائے، تو اس کے بعد اگر کوئی وارث رضا مندی سے اپنا کل یا بعض حصہ میراث دوسرے ورثہ کو ہبہ کرنا چاہے، تو کر سکتا ہے۔

3..صورت مسئولہ میں چوں کہ آپ کے والد کی جائیداد میں اس کی تین بہنوں کا حصہ بھی ہے، اس لیے جو دوکان آپ کے والد صاحب نے آپ دونوں بھائیوں کو عطیہ کی ہے، اگر یہ دوکان اس جائیداد میں سے ہے، جو جائیداد آپ کے دادا کی میراث سے آپ کے والد کے قبضہ میں آئی ہے، تو اس صورت میں اس دکان میں آپ کے والد کی بہنوں کا حصہ ہے، اوراگر اس جائیداد میں سے نہیں ہے، تو اس صورت میں ہبہ تام ہونے کی وجہ سے یہ دکان آپ دونوں بھائیوں کی ملکیت شمار ہوگی، اس میں آپ کی بہنوں یا آپ کے والد کی بہنوں کا کوئی حق نہیں، یہی حکم آپ کے چھوٹے بھائی کے مکان اور آپ کی بہن کو ملے ان نقد پیسوں کا ہے، جو آپ کے والد نے اپنی زندگی میں ان کو ہبہ کیے تھے۔

4..واضح رہے کہ آپ کے دادا کی میراث سے جتنی جائیداد اورمکان آپ کے والد کے قبضہ میں آئے ہیں، ان سب میں چوں کہ آپ کے والد کی تین بہنوں کا حصہ بھی ہے، اس لیے صورت مسئولہ میں آپ سمیت آپ کے والد مرحوم کے تمام ورثہ پر واجب ہے کہ پہلے اس کی میراث سے اس کی تین بہنوں کا وہ حصہ ادا کریں ،جو اس کے قبضے میں آیا ہے، اس کے بعد جتنا ترکہ بچ جائے، اس کو آپس میں تقسیم کر لیں۔

باقی والد کی تین بہنوں پر ان کاحصہ لوٹانے کا طریقہ یہ ہے کہ شرعی اصول کے مطابق آپ کے والد کو آپ کے دادا کی میراث سے جتنا حصہ ملتا ہے اس کے بقدر حصہ آپ کے والد کی میراث سے آپ لوگ (یعنی آپ تینوں بھائی، دو بہنیں اور والدہ) آپس میں شریعت کے مطابق تقسیم کر لیں، جوزائد حصہ بچ جائے، اس کو آپ کے والد کی تین بہنوں پربرابرتقسیم کر لیں۔

طلبہ یا ان کے سرپرستوں سے تحائف لینا، سوکھی روٹی کی رقم کا مصرف، اساتذہ کے لیے خاص سالن تیار کرنے کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان ِ کرام مندرجہ ذیل مسائل کے بارے میں کہ:1.. مدرسے کے مہتمم، ناظم اور مدرس کے لیے طلبہ کرام یا ان کے سر پرستوں سے تحائف لینا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟

2..مدرسہ میں بچی ہوئی سوکھی روٹی فروخت کرکے حاصل شدہ رقم کا کم حصہ طلبہ اور زیادہ حصہ اساتذہ پر خرچ کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟

3..مدرسہ میں ذبح کے لیے باہر سے بکری وغیرہ لائی جاتی ہے، ذبح کرنے کے بعد سری پائے اورکلیجی اساتذہ کرام پکا کر کھاتے ہیں اور وجہ یہ بتاتے ہیں کہ چوں کہ طلبہ زیادہ ہیں اور یہ سری، پائے او رکلیجی ان کے لیے کافی نہیں ہیں ،جب کہ اساتذہ کرام کم ہیں، یہ ان کے لیے کافی ہیں، پھررات کو بکری وغیرہ کے بقیہ گوشت سے عام اجتماعی سالن بنتا ہے اس کو اساتذہ اور طلبہ مل کر کھاتے ہیں، کیا یہ طریقہ شرعاً جائز ہے؟

جواب…1..واضح رہے کہ مدرسے کے مہتمم، ناظم اور مدرس کو اگر کوئی طالب علم بغیر مطالبے کے کوئی تحفہ دینا چاہے، تو ان کے لیے اس تحفے کا لینا جائز ہے، بشرطیکہ دینے والا طالب علم بالغ ہو اور طیب خاطر کے ساتھ دے دے، اگر نابالغ طالب علم کی جانب سے اس کے والدین تحفہ دیناچاہیں تو اس کا لینا بھی درست ہے ،بصورت دیگر لینا جائز نہیں ہے۔

2..طلبا کے کھانے سے بچی ہوئی سوکھی روٹی وہ تملیک کے بعد بچ جاتی ہے، وہ مال زکوٰة میں شمار نہیں ہوتی، لہٰذا مدیر/ مہتمم مدرسہ اس کی قیمت اساتذہ پر بھی خرچ کرسکتا ہے، نیز حاصل شدہ رقم میں سے طلباء کو کم اور اساتذہ کو زیادہ دینے کی گنجائش ہے۔

3..صورت مسئولہ میں اگر بکرے وغیرہ صدقات نفلیہ کی مد میں سے ہوں، تو مہتمم ودیگر اساتذہ اس سے بلا معاوضہ کھا سکتے ہیں، کیوں کہ عرف وعادت میں صدقات وغیرہ طلباء کی ضرورت ومصالح وغیرہ کے لیے دیے جاتے ہیں، او رمذکورہ اشخاص ضروریات ومصالح طلباء میں داخل ہیں، نیز اساتذہ کے لیے عمدہ کھانے ( سری، کلیجی، پائے وغیرہ) پکانے میں اگر اسراف سے کام نہ لیا جائے، تو اس کی گنجائش ہے۔

او راگر مدرسے میں آئے ہوئے بکرے وغیرہ صدقات واجبہ کی مد میں سے ہوں ، تو پھر مہتمم یا اساتذہ مستحق ہونے کی صورت میں کھاسکتے ہیں، بشرطیکہ ان کو تملیکاً دیا جائے ،نہ کہ اباحةً ،او رغنی ہونے کی صورت میں حیلہ تملیک کے بغیر نہیں کھاسکتے ہیں۔

شہر میں مقیم شخص کے لیے آبائی گاؤں میں قصر واتمام کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان ِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص نے اپنے آبائی گاؤں کو چھوڑ کر دوسرے شہر میں رہائش کے لیے مکان بنایا، لیکن آبائی گاؤں میں اس شخص کی جائیداد ہے اور اس شخص کا مستقبل میں اپنے آبائی گاؤں میں مکان بنانے کا ارادہ ہے، اب جب وہ شخص شہر سے سفر شرعی کرکے اپنے آبائی گاؤں جاتا ہے تو اس کی نماز کا شرعی حکم کیا ہے؟ کیا وہ سفر کی نماز ادا کرے گا یا پوری نماز ادا کرے گا؟براہِ کرم شریعت کی روشنی میں مسئلہ سے آگاہ فرمائیں۔

جواب… صورت مسئولہ میں مذکورہ شخص نے اگر اپنے آبائی گاؤں کو مستقل طور پر چھوڑ دیا اور آئندہ بھی کسی وقت جانے کا قصد وارادہ نہیں، تو موجودہ جس شہر میں وہ قیام پذیر ہے وہ اس کا وطن اصلی شمار ہو گا، اورآبائی گاؤں وطن اقامت، لہٰذا آبائی گاؤں پندرہ دنوں سے کم مدت کے لیے جانے کی صورت میں قصر کرے گا، او راگر آبائی گاؤں مستقل طور پرترک کرنے کا قصد وارادہ نہیں، بلکہ یہ ارادہ ہے کہ جب بھی شہر چھوڑنا پڑے، اپنے آبائی گاؤں کی طرف لوٹنا پڑے گا، تو اس صورت میں دونوں جگہیں(موجودہ شہر اور آبائی گاؤں) دونوں وطن اصلی ہوں گے اوردونوں میں بہر صورت اتمام لازم ہو گا، باقی آبائی گاؤں میں جائیداد کے ہونے اورنہ ہونے سے حکم پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔

اُدھار پر زیادہ قیمت کے ساتھ ڈیزل فروخت کرنے کا حکم
سوال…کیا فرماتے ہیں مفتیان ِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ زید او رعمرو ڈیزل کا کاروبار کرتے ہیں او ران کے درمیان معاملات پہلے سے طے ہوتے ہیں ، زید کے پاس چوں کہ پیسے ہوتے ہیں وہ مال دار ہوتا ہے اور عمرو غریب ہوتا ہے، تو زید ڈیزل سے بھری گاڑی جو تقریباً دس ڈرم کی ہوتی ہے، عمرو کو ایک مہینے کے اُدھار پر بیچتا ہے، اور عمرو کو کہتا ہے کہ آج فی ڈرم کی جو مارکیٹ کے حساب سے ریٹ ہے میں آپ کو500روپے زیادہ اس قیمت سے ایک مہینے کے اُدھار پر بیچتا ہوں ، مثلاً آج فی ڈرم کی قیمت پندرہ ہزار ہے تو ایک مہینے کے اُدھار پر 15500 روپے لوں گا، اور وہ دو طریقوں سے کاروبار کرتے ہیں:

پہلا طریقہ یہ ہے کہ زید خود ڈیزل سے بھری گاڑی خرید کر عمرو کو فون کرتا ہے او رمعاملات طے کرکے عمرو کے پاس گاڑی بھیجتا ہے، جتنی قیمت ہوتی ہے وہ بل بنا کر گاڑی والا زید کے پاس آتا ہے اور زید قیمت ادا کرتا ہے، دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ڈیزل والی گاڑی عمرو خود تلاش کرتا ہے، پھر عمرو زید کو فون کرکے کہتا ہے کہ میں نے گاڑی تلاش کی ہے، زید کہتا ہے صحیح ہے، تم ڈیزل اتارو، پھر جتنا اُن کا بل ہوتا ہے، عمرو گاڑی والے کو زید کے پاس بھیجتا ہے، پھر زید گاڑی والے کے پیسے ادا کرتا ہے، باقی اوپر والی ترتیب کے مطابق عمرو ایک مہینے کے بعد زید کو پیسے ادا کرتا ہے۔

کیا ان دو طریقوں سے کاروبار کرنا جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز نہیں ہے تو جواز کی کوئی متبادل صورت بتا کر مشکور فرمائیں۔

جواب… صورت مسئولہ میں پہلی صورت جائز ہے کہ زید نے ڈیزل خرید کر اس پر قبضہ بھی کیا، تو یہی ڈیزل اُدھار پر زیادہ قیمت کے ساتھ عمروکو بیچنا جائز ہے،جب کہ دوسری صورت ناجائز ہے کہ جب عمرو نے اپنے لیے ڈیزل خرید لیا اور عمرو کے ذمہ واجب الاداء رقم زید نے ادا کی، تو یہ قرض ہے، اور قرض دے کر اس پر منافع لینا سود ہے، لہٰذا دوسری صورت میں زید کے لیے منافع لینا جائز نہیں ، جواز کی صورت یہ ہو گی کہ زید عمرو کو وکیل بالشراء والقبض (ڈیزل خریدنے او راس پر قبضہ کرنے کا وکیل) دونوں بنائے اور عمرو کے قبضے کے بعد اسے عمروکو اُدھار بیچ دے، تاہم ایک معاملہ دوسرے کے ساتھ مشروط نہ ہو۔