بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

کیا فرماتے ہیں علمائے دین؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین؟

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

Econex ملٹی لیول مارکیٹنگ کمپنی میں کاروبار کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایسی کمپنی میں کاروبار کرنا کیسا ہے جس کی تفصیل درجہ ذیل ہے:

صرف3000 ہزار روپے سے… آج ہی اپنا کاروبار شروع کیجیے اور جاز کیش، ایزی پیسہ اور بینک میں اپنی آمدنی لیجیے۔
Daily earning daily with draw
آپ ہماری کمپنیEconex سے زندگی میں ایک بار 3000 روپے کی پروڈکٹس خریدیں، کمپنی آپ کو اپنا لنک دے گی جس سے آپ اپنے دو دوستوں کو مشورہ دے کر کمپنی کے ساتھ جوائن کروائیں، جس سے آپ کو ملیں گے 1900 روپے، اسی طرح آپ کے دوست آگے 2دوستوں کو مشورہ دیں گے، ان دوستوں کو بھی اسی طرح1900 روپے مل جائیں گے اور ہر جوڑے پر آپ کو ملیں گے 500 روپے اس طرح بڑھتے ہوئے آپ کی ٹیم بن جائے گی اور آپ ایک دن میں 500 روپے سے لے کر5000 روپے تک کماسکتے ہیں۔

پاکستان سے رجسٹرڈ اور لائسنس یافتہ کمپنی ہے، آپ اس کاروبار کو کسی بھی جاب اور بزنس( جو آپ پہلے سے کر رہے ہیں اس) کے ساتھ ساتھ سائیڈ بزنس کے طور پر کرسکتے ہیں۔

زندگی میں صرف ایک مرتبہ3000 روپے کی پروڈکٹس خرید کر دو لوگوں کو مشورہ دیں، پھر آپ کی ٹیم میں آنے والا ہر بندہ اگر اپنے ساتھ پورے مہینے میں صرف دو بندے جوائن کراتا ہے تو آپ کی ٹیم بننا شروع ہو جائے گی۔

مثلاً: آپ نے ایک مہینے میں دو لوگ ایڈ کیے، اگلے مہینے ان دونوں نے چار، اور چار نے آٹھ، آٹھ نے سولہ اور سولہ نے بتیس، اس طرح بڑھتے بڑھتے تیرہ ماہ میں 8192 لوگوں کی ٹیم بنے گی اور4096 جوڑے بنیں گے ،ہر جوڑے پر کمپنی 500 روپے دیتی ہے، Pairs 4096 (جوڑوں) کے2078000/= روپے بنتے ہیں جو آپ کی سوچ سے باہر ہیں ،اور اتنے تو20 سال کی نوکری سے کبھی نہیں کماسکتے جو Econex آپ کو13 ماہ میں دے رہی ہے۔

جواب… واضح رہے کہ سوال میں مذکور جس Econex کمپنی کا آپ نے ذکر کیا ہے، وہ ملٹی لیول مارکیٹنگ کے نظام کے تحت کام کرتی ہے او رملٹی لیول نظام کے تحت جتنی بھی کمپنیاں کام کرتی ہیں، ان میں شرعی اعتبار سے مختلف مفاسد اور خرابیاں پائی جا تی ہیں، مثلاً: غرر، دھوکہ دہی اور غیر متعلقہ شرطیں وغیرہ، نیز ان کمپنیوں میں سامان کی خریدوفروخت بنیادی مقصد نہیں ہوتا، بلکہ فرضی اور غیر واقعی فوائد بتا کر، ان میں مبالغہ آرائی کرکے، مختلف سیدھے سادھے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ ممبر بنانے کی کوشش کی جاتی ہے اور دراصل اس کے ذریعے اپنا کمیشن بڑھانے کا ٹارگیٹ اورمنصوبہ ہوتا ہے، اور بعض کمپنیاں آئندہ کی موہوم آمدنی کا سبز باغ دکھا کر کم قیمت کا سامان زیادہ قیمت میں فروخت کرتی ہیں، نیز کمپنی کے اصول کے مطابق ان ممبران کی خریداری پر بھی معاوضہ دیا جاتا ہے،جن کی ممبر سازی میں ان کی کوئی محنت نہیں ہوتی، بلکہ اس کے نیچے کے ممبر میں سے کسی کے بنائے ہوئے ممبر ہوتے ہیں، اس لیے ملٹی لیول مارکیٹنگ کے نظام پر چلنی والی کسی بھی کمپنی کا ممبر بن کر ممبر سازی کا کام کرنا اورمختلف راستوں سے معاوضہ کے نام سے مالی فوائد حاصل کرنا شرعاً جائز نہیں ہے، اس لیے مذکورہ (Econex) کمپنی کے ساتھ کاروبار کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔

کاروبار کی غرض سے گورنمنٹ سے سود پر قرض لینا
سوال… کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس بارے میں کہ میرے ذمہ تقریباً ایک کروڑ روپے کا قرضہ ہے، جس میں سے تقریباً25 لاکھ روپے کا قرض بینک کا ہے جو کہ کریڈٹ کارڈ کے عوض لیا گیا ہے، جس کی ادائیگی کے بغیر میں اپنا کاروبار نہیں کرسکتا، کیوں کہ میرا تجارتی حکم نامہ مسنوخ ہو گیا ہے اوراس کے اجراء کے لیے بینکوں کی ادائیگی ضروری ہے، او راگر میں کاروبار کو چھوڑ کر نوکری کی طرف رجوع کرتا ہوں تو/= 30000 روپے سے زائد کی کوئی نوکری نہیں مل رہی ہے۔

پچھلے ڈھائی ماہ سے میں اپنے بچوں کے لیے اناج کا ایک دانہ بھی نہیں خرید سکا ہوں۔

اس وقت میرے پاس مندرجہ ذیل دوصورتیں ہیں:
1..کسی دوسرے شہر جاکر نوکری کروں اور قرض کے لیے الله سے دُعا کرتا رہوں اور قرض داروں کے مجھے تمام رابطے ختم کرنے پڑیں گے، اس صورت میں کبھی بھی کاروبار نہیں کرسکوں گا۔
2..سود پر گورنمنٹ سے 25 لاکھ روپے کاقرض لے کر دوبارہ اپنا کاروبار شروع کروں۔

کیا ایسی صورت حال میں، میں شرعی طور پر بینک یا گورنمنٹ سے سودی قرض لے ہوں؟

جواب…واضح رہے کہ سود کا لین دین ناجائز،حرام او رگناہ ِ کبیرہ ہے ، نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے سود کھانے او رکھلانے والے، بلکہ اس کے معاملے کو لکھنے اور اس پر گواہ بننے والوں پر بھی لعنت فرمائی ہے، نیز سودی معاملات کرنے والوں کے متعلق اور بھی بہت سی وعیدیں وارد ہوئی ہیں، لہٰذا ہر حال میں سودی لین دین سے بچنا ضروری ہے۔

صورت مسئولہ میں ذکر کردہ عذر کے باوجود گورنمنٹ سے سود پر قرض لینا جائر نہیں ہے ،بلکہ بغیر سود اگر کسی سے قرض ملنا ممکن ہو، تو لے لیا جائے، وگرنہ کاروبار کرنے کے علاوہ اپنی استطاعت کے مطابق کوئی ذریعہ معاش اختیار کیا جائے، اور الله تعالیٰ سے مانگتے بھی رہیں کہ الله پاک آپ کو قرض سے نجات اور خلاصی عطا فرمائے۔

وگرنہ دیکھا یہ گیا ہے کہ سود پر قرض لینے والے روز بروز اس دلدل میں دھنستے چلے جاتے ہیں، پھر ایک وقت آتا ہے کہ ان کا وہاں سے نکلنا صرف مشکل ہی نہیں، بلکہ ناممکن ہوجاتا ہے، اس لیے سود پر قرض لینے سے بہرصورت اجتناب کیا جائے۔

بلاوجہ تقسیم میراث میں تاخیر یا انکار کرنے کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان ِ کرام اس مسئلہ کہ بارے میں کہ ہم تین بھائی ہیں اور دو بہنیں، والد صاحب کی وفات کو تین سال ہو گئے ہیں، ایک جائیداد فروخت ہوچکی ہے جس کو فروخت ہوئے تین مہینے ہو گئے ہیں، اور دوسری جائیداد کا ابھی سودا نہیں ہوا ،جو جائیداد فروخت ہوگئی ہے اس میں سے میرا حصہ جو بنتا ہے وہ مجھے دے دیا جائے، مگر بڑا بھائی اور سب سے چھوٹا بھائی مجھے حصہ دینے سے انکار کر رہے ہیں، بڑا بھائی کہتا ہے کہ جب سب جائیداد فروخت ہو گی اس وقت حصہ ملے گا، میں نے یہ بھی ان کو کہا کہ دوسری جائیداد کو فروخت ہونے میں دو مہینے، چار مہینے، یا چھ مہینے لگیں گے، مجھے ابھی پیسے کی ضرورت ہے، مگر وہ انکار کر رہے ہیں، کیا بڑا بھائی صحیح کر رہا ہے یا غلط؟ اس کا جواب مفتی صاحب مجھے دیا جائے۔

جواب… مورث کے مرنے کے بعد سب ورثاء کا حق کل جائیداد سے متعلق ہو جاتا ہے، جس کا جتنا حصہ بنتا ہے ، ہر ایک کو اُس کا حق پہنچانا ضروری ہے، لہٰذا بلاوجہ کسی وارث کا حق دینے سے انکار کرنے یا تاخیر کرنے سے دوسرے ورثاء گنہگار ہوں گے، صورت مسئولہ میں بھائیوں کا تقسیم میراث میں اس وجہ سے تاخیر کرنا کہ ” سب جائیداد فروخت ہو گی اس وقت حصہ ملے گا“ جائز نہیں، جس قدر جائیداد فی الحال فروخت ہوچکی ہے، اس میں سے آپ کو آپ کا حصہ دے دیں ،اور بقیہ جائیداد کو حتی الوسع جلد فروخت کرنے کے بعد تقسیم کیا جائے۔

کیاموجودہ دور میں فلاحی ادارے  عاملین زکوٰة کے حکم میں داخل ہیں؟
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ہذا کے بارے میں کہ:﴿إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاء ِ وَالْمَسَاکِینِ وَالْعَامِلِینَ عَلَیْہَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُہُمْ وَفِی الرِّقَابِ وَالْغَارِمِینَ وَفِی سَبِیلِ اللَّہِ وَابْنِ السَّبِیلِ فَرِیضَةً مِّنَ اللَّہِ وَاللَّہُ عَلِیمٌ حَکِیمٌ ﴾․(سورہ توبہ، آیت:60)

اس آیت مبارکہ کی روشنی میں موجودہ دور میں …
1..عاملین زکوٰة سے کیا مراد ہے؟.2..رفاہی ادارے جو فلاحی کام سر انجام دے رہے ہوتے ہیں، کیا وہ ان میں شامل ہیں؟ .3..عاملین زکوٰة کو ان کے حق خدمت کے عوض کتنی رقم دی جاسکتی ہے؟ .4..کیا اس طرح کے رفاہی ادارے جو مفلسوں، بیواؤں اور ضرورت مندوں کے لیے اپنے آپ کو فارغ کرتے ہیں اور لوگوں کے عطیات وغیرہ وصول کرکے امدادی اور فلاحی کاموں میں مصروف رہتے ہیں، ان افراد یا اداروں کا اس رقم سے 15 یا25 فیصدتک حق خدمت رکھنے شرعی حیثیت کیا ہو گی؟

جواب…1…3.. واضح رہے کہ مذکورہ آیت میں ”عاملین“ سے مراد وہ لوگ ہیں جن کو امام المسلمین نے صدقات وعشر وغیرہ لوگوں سے وصول کرنے پر مقرر کیا ہو، یہ لوگ چوں کہ اپنے تمام اوقات اس خدمت میں خرچ کرتے ہیں، اس لیے زکوٰة ہی کے مال سے ان کی کفالت کی جاتی ہے۔

اب یہ مسئلہ کہ ان عاملین زکوٰة کو اس میں سے کتنی رقم دی جائے گی؟ سواس کا حکم یہ ہے کہ ان کے لیے معاوضہ کی کوئی خاص مقدار مقرر نہیں، بلکہ ان کے اہل وعیال کی ضروریات کے لیے مناسب اور درمیانہ خرچ دیا جائے گا، تاہم وصول کردہ زکوٰة کی نصف مقدار سے زائد نہیں دیا جائے گا۔

مذکورہ بالا تفصیل سے آپ کے سوالات کے جوابات واضح ہیں کہ موجودہ دور میں فلاحی کام سر انجام دینے والے ادارے ”عاملین زکوٰة“ میں شامل نہیں، اور نہ ان اداروں میں کام کرنے والوں کو زکوٰة کی رقم سے حق خدمت اور تنخواہیں دی جاسکتی ہیں۔

4..سوال میں ذکر کردہ طریقہ شرعاً درست نہیں، اس کی جائز اوردرست صورت یہی ہوسکتی ہے کہ ان کے لیے زکوٰة کی رقم کے علاوہ دوسری رقوم مثلاً: نفلی صدقات وعطیات وغیرہ سے مناسب ماہانہ تنخواہ مقرر کی جائے۔

جائیداد لے پالک کو دینے کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان ِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر ایک شخص کا ایک متبنی (لے پالک) بیٹا ہے ، وہ زندگی میں اپنی جائیداد اس کو دینا چاہتا ہے او رباقاعدہ اس کے نام کروانا چاہتا ہے، جب کہ اس شخص کے بھائی، بہن وغیرہ ابھی حیات ہیں۔

کیا اپنی جائیداد متبنی بیٹے کے نام کرنے کی وجہ سے مذکورہ شخص گناہ گار ہو گا یا نہیں؟ او راس شخص کے مرنے کے بعد یہ جائیداد متبنی بیٹے کی ملکیت میں رہے گی، یا ورثاء کا بھی حصہ ہو گا اس جائیداد میں؟

جواب…واضح رہے کہ کسی کا اپنے رشتہ داروں او رمتعلقین کو اپنی جائیداد او رمال سے محروم کرنا قطعاً مناسب نہیں ، صورت مسئولہ میں صاحب جائیداد کا تمام جائیداد اپنے متبنی (لے پالک) بیٹے کے حوالے کرنا دیگر ورثاء کی حق تلفی ہے کہ دیگر ورثاء وراثت سے محروم ہوجائیں گے، البتہ اگر جائیداد متبنی کے حوالے کی گئی او راس نے اس پر قبضہ کر لیا، تو یہ ہبہ ہو گا اور وہ اس کا مالک شمار ہو گا، لیکن اگر قبضہ کرنے سے پہلے جائیداد دینے والے کا انتقال ہو گیا ،تو پھر شرعی طور پر جائیداد میں وراثت جاری ہوگی او راس متبنی کا اس میں کوئی حق نہیں ہو گا اور نہ ہی یہ ورثاء میں شامل ہو گا۔

وصیت شرعاً کب معتبر ہو گی؟
سوال… کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی یہ وصیت کرتا ہے کہ میرے مرنے کے بعد میرے مال کا اتنا حصہ فلاں جگہ پر خرچ کیا جائے، کیا مرحوم کی اس وصیت پر عمل کرنا ضروری ہے؟ اس میں کوئی تفصیل ہو تو وہ بھی بتادیں، جزاک الله خیرا۔

جواب… واضح رہے کہ کسی کی وصیت مندرجہ ذیل شرائط کے ساتھ معتبر ہوتی ہے:
وصیت کرنے والا عاقل بالغ ہو۔ جائز کاموں میں خرچ کرنے کی وصیت ہو، ناجائز کاموں کی وصیت پر عمل کرنا جائز نہیں اور نہ ہی ایسی وصیت کا اعتبار ہے۔ اپنے وارث کے لیے وصیت نہ کی ہو، کیوں کہ وارث کے لیے وصیت کا اعتبار نہیں۔تجہیز وتکفین کا خرچہ او راگر میت پر قرض ہو تو اس کی ادائیگی کے بعد باقی بچ جانے والے ترکہ کی کم از کم ایک تہائی سے وصیت کو پورا کرنا واجب ہے، البتہ اگر تمام ورثاء عاقل ، بالغ ہوں او رباہمی رضا مندی اور دلی خوشی کے ساتھ مرحوم کی خواہش کے مطابق یہ رقم خرچ کرنا چاہیں، تو درست ہے اور یہ ان کی طرف سے تبرع اور احسان شمار ہو گا، شرعا ان پر لازم وضروری نہیں۔جس مصرف میں خرچ کرنے کی وصیت کی گئی اسی جگہ رقم لگائی جائے، اس کی خلاف ورزی کرکے دوسری جگہ خرچ کرنا جائز نہیں ۔

گیمنگ زون کی دکان کھولنے کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان ِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ گیمنگ زون(Gaming Zone) کی دکان کھولنا کیسا ہے، اگر صرف اس میں کمپیوٹر پر گیم کھیلنے کا انتظام ہو؟ کیوں کہ کچھ حضرات کہتے ہیں کہ جائز ہے، کچھ کہتے ہیں لایعنی ہے، تو منع کیا گیا ہے۔

جواب… واضح رہے کہ گیمنگ زون(Gaming Zone) کی دکان کھولنا درج ذیل مفاسد کی بنا پر ناجائز ہے: فرض نماز اور دیگر واجبات شرعیہ سے محرومی کا سبب۔ ضیاع وقت۔ کھیل ہی کو مقصود بنانا۔ تصویر پر مشتمل گیم کھیلنا۔جوا کھیلنا۔ساز باجا سننا۔ بسا اوقات گیم ہارنے کی وجہ سے ایک دوسرے کو گالم گلوچ کرنا۔ آن لائن گیم کھیلنے کی صورت میں نامحرم کے ساتھ سلام کلام کرنا، لہٰذا آپ کو چاہیے کہ اپنے لیے کوئی اور حلال کاروبار تلاش کریں۔

میراث میں بہنوں کو حق نہ دینے کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہماری قوم میں یہ رواج ہے کہ جب والد صاحب فوت ہو جائے تو اس کا میراث اس کی بیٹیوں کو نہیں دیا جاتا، بلکہ صرف بیٹے آپس میں تقسیم کر لیتے ہیں، او ران کی بیٹیوں کو اس میں سے نہ ایک روپیہ دیتے ہیں، او رنہ ان سے اس کے بارے میں کوئی مشورہ طلب کرتے ہیں آیا میراث بیٹیوں کو نہ دینا گناہ کبیر ہ ہے یا نہیں؟ او راس کے بارے میں جو شرعی حکم ہو آپ بتا دیجیے۔

جواب… واضح رہے کہ قرآن کریم نے میراث کے باب میں ایک ایسا قاعدہ کلیہ ذکر فرمایا ہے کہ جس نے لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کو میراث کا مستحق بھی بنا دیا اور ہر ایک کا حصہ بھی مقرر کر دیا، اور یہ اصول معلوم ہو گیا کہ جب مرنے والے کی اولاد میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں ہوں، تو ان کے حصہ میں جو مال آئے گا اس طرح تقسیم ہو گا کہ ہر لڑکے کو لڑکی کے مقابلے میں دوگنا مل جائے گا۔

قرآن مجید نے لڑکیوں کو حصہ دلانے کا اس قدر اہتمام کیا ہے کہ لڑکیوں کے حصہ کو اصل دے کر اس کے اعتبار سے لڑکوں کا حصہ بتلایا اورقرآن کریم کی اس آیت کریمہ﴿لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَیَیْنِ﴾ نے بتلا دیا کہ میراث کے جو حصے الله تعالیٰ نے مقرر فرمائے ہیں اس کو پورے اطمینان قلب کے ساتھ قبول کرنا چاہیے، اس میں کسی کو رائے زنی یا کمی بیشی کا کوئی حق نہیں ہے، لہٰذا جو لوگ بہنوں کو حصہ نہیں دیتے سخت گنہگار ہیں، اس لیے اس رواج سے بچنا چاہیے اوراس کو ختم کرنا ضروری ہے۔