بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

کیا فرماتے ہیں علمائے دین؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین؟

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

تعزیت سے متعلق چند ضروری مسائل
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان ِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ پورے پٹھانی معاشرہ میں اور خصوصاً ہمارے ہاں یہ ابتداء سے چلا آرہا ہے کہ جس گھر او رخاندان میں فوتگی ہو جاتی ہے تو محلہ والے احباب میت کی تدفین کے بعد غم زدہ خاندان کے ساتھ تعزیت کے لیے تین ، چار دن حجرہ میں بیٹھتے ہیں وراہل خانہ کے لیے، ان کے رشتہ داروں اور مہمانوں کے لے باضابطہ طور پر کھانے کا انتظام کیاجاتا ہے، یہ کھلانے پلانے کا انتظام کئی محلے والے اجتماعی طور پر کرتے ہیں اورکئی محلے والے انفرادی طور پر چھ، سات اوقات کھانا پکاتے ہیں او راہل خانہ بمع رشتہ دار ومہمانوں کو کھلانے کے لیے گھر پر لے جاتے ہیں، اس کے علاوہ غم زدہ خاندان کے گھر میں تعزیت کے لیے جمع رشتہ داروں او رمہمان خواتین کو کھلانا تین یوم تک محلہ والے اپنی ذمہ داری اور ثواب سمجھتے ہیں، مزید صبح، دوپہر، بعد نماز ظہر اور عشاء کو اہل خانہ کو بمع مہمانوں ورشتہ داروں چائے پلانے کا باضابطہ اہتمام کیا جاتا ہے ، اب ہمارے گاؤں کے چند ذی فہم احباب کو درج بالاترتیب پر اعتراض ہے اور ساتھ یہ بھی سمجھاتے ہیں کہ یہ بیٹھنا ، کھانا کھلانا اور دور داز کے نادر احباب کو تعزیت او رجنازہ میں شرکت کے لیے بلانا، گاؤں اور علاقہ میں جنازہ کے لیے عام اعلان کرانا یہ سب کام شریعت کے خلاف ہیں، اب ہم مؤدبانہ گزارش کرتے ہیں کہ:

1..میت کی تدفین کے بعد محلے والے، رشتہ دار، دوست احباب او رمہمانان منتشر ہو جائیں، یا غم زدہ خاندان کے ساتھ تعزیت کے لیے ذاتی یا اجتماعی حجرہ میں بیٹھ جائیں؟2..اگر تعزیت کے لیے بیٹھنا ہو، تو کتنے عرصہ، وقت او رایام کے لیے بیٹھنا درست ہے؟3.. غم زدہ خاندان یا محلے والوں کا میت کے جنازہ میں شرکت کے لیے علاقہ میں اعلان کروانا اور دور دراز کے رشتہ داروں اور یا ر دوست کو بلانا جائز ہے؟ 4..محلے والوں کا غم زدہ خاندان ان کے رشتہ داران، مہمانوں او رگھر کے اندر مجتمع خواتین کو کھاناکھلانا جائز ہے یا گناہ ہے؟ 5..غم زدہ خاندان کو اگر کھانا کھلانا ہو، تو ترتیب کی ضرور راہ نمائی فرمائیں ۔6.. سو گواران اور غم زدہ خاندان کا تعزیت کے لیے جمع شدہ احباب، رشتہ داروں اور مہمانان کو اپنی طرف سے کھانا کھلانے کی شرعی حیثیت ضرور واضح فرمائیں۔

محترمین! درج بالا ترتیب ہمارے رسم ورواج کا حصہ ہے، غم زدہ خاندان کی سہولت کی خاطر ہم ایسا کرتے ہیں، دین کا حصہ نہیں، بلکہ پٹھانی معاشرت او رتہذیب کا حصہ سمجھ کر ایسا کرتے ہیں۔

امید ہے آپ حضرات قرآن وحدیث کی روشنی میں ہماری راہنمائی اور اصلاح فرمائیں گے اور آگے تنازع اور مخالفت کے تدارک میں اپنا کردار ضرور ادا فرمائیں گے۔

جواب…1..تدفین کے بعد میت کے رشتہ د اروں اور محلے والوں کا میت کے گھر میں جمع ہونا لازم نہیں، بلکہ ان کے لیے بہتر ہے کہ تدفین کے عمل سے فارغ ہونے کے بعد منتشر ہو کر اپنے اپنے کاموں میں لگ جائیں، البتہ اگر بعض قریبی رشتہ دار یا مہمان ایسے ہوں کہ ان کا ٹھہرنا اہل ِ میت کے لیے باعث ِ تسلی وتسکین ہو، یا گھر دور ہونے کی وجہ سے اپنے گھروں میں نہیں جاسکتے ہوں، تو ان کا اہل ِ میت کے ہاں ٹھہرنے میں کوئی حرج نہیں۔
2..اہل ِ میت کا تعزیت کے لیے تین دن تک بیٹھنا درست ہے، اس کے بعد بیٹھنا مکروہ ہے، البتہ اگر تعزیت کرنے والا سفر میں ہو، یا میت کے عزیز واقارب غائب ہوں او رتین دن کے بعد آجائیں، تو اس صورت میں تین دن کے بعد بھی تعزیت کرنے میں کوئی کراہت نہیں۔
3..درست ہے۔
4،5.. میت کے عزیز واقارب، پڑوسیوں او رمحلے والوں کے لیے مستحب یہ ہے کہ اپنی استطاعت کے مطابق ایک دن ایک رات کا کھانا تیار کرکے اہل میت کے یہاں بھیجیں، البتہ اس حوالے سے چند باتوں کا سمجھنا ضروری ہے:
٭…اہل میت کے یہاں یہ کھانا بھیجنا مستحب ہے، لہٰذا اس کو اسی درجے میں رکھنا چاہیے،اس کو لازم سمجھ کر فرض یا واجب کا درجہ نہ دیا جائے۔
٭…اس عمل کو صرف الله تعالیٰ کی رضا اور اہل ِ میت کے ساتھ خیر خواہی اور ہم دردی کی نیت سے کرنا چاہیے، ریا کاری، رواج یا بدلے وغیرہ کی نیت سے کرنا درست نہیں۔
٭… شریعت نے اہل ِ میت کے ہاں صرف ایک رات دن کا کھانا بھیجنا مستحب قرار دیا ہے، تاہم اگر کوئی تین دن تک بھیجنا چاہے تو اس کی گنجائش ہے، لیکن محلے والوں کا تین دن تین رات تک اہل میت کے ہاں کھانا بھیجنے کو لازم سمجھنا ( جیسا کہ آج کل رواج ہے ) درست نہیں اور یہ خلاف شریعت ہے۔

6..فوتگی کے موقع پر اہل ِ میت کی طرف سے بڑی اور پُرتکلف دعوتوں کا اہتمام کرنا جس میں باقاعدہ طور پر مہمانوں کوبلایا جاتا ہے، سراسر شریعت کے خلاف او رمکروہ عمل ہے، اس لیے کہ اس طرح کی بڑی دعوتوں کا انتظام تو خوشی کے موقع پر ہوتا ہے نہ کہ غم کے موقع پر۔

البتہ اگر میت کے گھر میں اس کے عزیز واقارب میں سے کچھ ایسے مہمان جمع ہو گئے ہوں، جن کے گھر دور ہوں، یا میت کی تجہیز وتکفین میں مصروف ہوں، ان کے لیے اہل ِ میت کی طرف سے کھانا تیار کرنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں۔

مسجد میں رقم، قالین وغیرہ کی ضرورت نہ ہو تو دوسری مسجد میں دینے کا حکم
سوال…1.. ایک سرکاری مسجد ہے او رمسجد کا مکمل انتظام وغیرہ وہ بھی سرکاری فنڈ سے ہوتا ہے، جب کہ مسجد کے باہر چندہ کے لیے گلہ رکھا ہوا ہے، اس کے علاوہ ویسے بھی لوگ مسجد کے لیے امام صاحب کو چندہ وغیرہ دیتے ہیں، اب اس مسجد میں ان پیسوں کی ضرورت نہیں ہے، ایسی صورت میں ان پیسوں کو کس مد میں خرچ کیا جائے؟ کسی او رمسجد میں د ے سکتے ہیں یا نہیں؟
2..اسی سرکاری مسجد میں پچھلے دنوں ایک آدمی 10 سے 15 قالین کی جائے نماز دے کر گیا ہے جب کہ وہاں ان کی ضرورت نہیں ہے، اب ان جائے نماز کا کیا حکم ہے؟ کیا امام صاحب یا مؤذن وغیرہ ان کو اپنے گھر لے جاسکتے ہیں یا نہیں؟ یا کسی او رمسجد کو دے دیے جائیں؟ اسی طرح امام صاحب قیمتاً ان کو لے جاسکتے ہیں یانہیں؟ وضاحت فرما دیں۔

جواب…صورت مسئولہ میں مسجد کا فنڈ سرکاری ہونے کی وجہ سے چوں کہ مسجد کا مکمل انتظام سرکار کی طرف سے ہوتا ہے او راس مسجد کے لیے فنڈ کی ضرورت نہیں پڑتی تو چندے کے گلہ کو وہاں سے ہٹا دیا جائے اورجتنا چندہ جمع کیا جاچکا ہے، اگر وہ اس مسجد کی ضرورت سے زائد ہے اورمستقبل میں بھی اس چندے کی ضرورت پڑنے کا بظاہر کوئی امکان نہیں ہے تو اس رقم کو قریب کی کسی ضرورت مند مسجد میں خرچ کیا جاسکتا ہے۔
2..قالین وغیرہ کا بھی یہی حکم ہے، بشرطیکہ مسجد کی کمیٹی دینے پر راضی ہو، امام اورمؤذن کا اس کو اپنے گھر کے استعمال میں لانا جائز نہیں ہے او رمسجد کو چوں کہ رقم کی ضرورت بھی نہیں، اس لیے اس کوبیچنے کی بجائے دوسری قریب کی مسجد میں دے دیا جائے۔

بیوی کو طلاق دینے یا دوسری شادی  کرنے پر جرمانہ عائد کرنے کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان ِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری شادی کو دو سال ہو چکے ہیں، نکاح کے دوران میرے سسرال والوں نے حق مہر میں ڈیڑھ تولہ سونا، 5 مرلہ زمین ومکان اور 5000 روپے لکھوایا تھا او رساتھ ہی یہ بھی لکھوایا تھا کہ اگر میں نے اسے طلاق دی یا دوسری شادی کی تو مجھے 5000000 ادا کرنا ہوں گے۔

جناب ان دو سالوں میں میری بیوی نے حق زوجیت بالکل بھی ادا نہیں کیا، لیکن اب وہ طلاق کا مطالبہ کر رہی ہے، اگر میں نے اسے طلاق دی یا دوسری شادی کی تو کیا وہ ان سب چیزوں کی حق دار ہوگی یا نہیں؟

جواب… صورت مسئولہ میں آپ کے سسرال والوں نے دوسری شادی کرنے یا بیوی کو طلاق دینے کی صورت میں آپ پر جو ”پچاس لاکھ (5000000) روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے، اس کا شرعاً کوئی اعتبار نہیں۔

لہٰذا اگر آپ نے دوسری شادی کر لی، یا اپنی بیوی کو طلاق دے دی، کسی بھی صورت میں آپ پر پچاس لاکھ روپے ادا کرنا لازم نہیں، البتہ صرف مقرر شدہ مہر ڈیڑھ تولہ سونا، 5 مرلہ زمین ومکان اور پانچ ہزار روپے ادا کرنا آپ کے ذمے لازم ہے، بشرطیکہ آپ نے اس سے پہلے ادا نہ کیا ہو ۔

مردوں کے لییلمبے بالوں میں پونی لگانے کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ لمبے بالوں میں پونی باندھنا یا (Hair Band) لگانا جائز ہے؟ اس میں عورتوں کی مشابہت کیوں ہے؟ پونی تو اس لیے باندھی جاتی ہے کہ کوئی بھی کام کرتے ہوئے بال بار بار منھ پر آتے ہیں تو اس سے بچنے کی لیے پونی یا (Hair Band) لگایا جاتا ہے، اب اگر پونی باندھ کر کوئی آدمی اچھا لگ رہا ہے تو اس میں کیا قباحت ہے؟

جواب… لمبے بالوں میں پونی باندھنا یا ہیئر بینڈ(Hair Band) لگانا یہ عورتوں کا طریقہ ہے او ران کے لیے جائز ہے، مگر مردوں کے لیے پونی باندھنا یا ہیئر بینڈ لگانا جائز نہیں ہے، مردوں کے لیے کام کے دوران بالوں کو روکنے کے لیے دیگر طریقے اختیار کرنا جائز ہے جس میں عورتوں سے مشابہت نہ ہو، مثلاً ٹوپی پہننا، رومال باندھنا وغیرہ، مگر ایسا طریقہ اختیارکرناجو عورتوں کے ساتھ خاص ہو، تو مردوں کے لیے اس صورت کو اختیار کرنا عورتوں سے مشابہت کی بنا پر جائز نہیں، اگرچہ اس صورت میں بہتر او راچھے لگ رہے ہوں، حضرت ابن عباس رضی الله عنہ کی روایت ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:” الله کی لعنت ہو عورتوں پر جو مردوں کی مشابہت اختیار کرتی ہیں او رمردوں پر جو عورتوں کی مشابہت اختیار کرتے ہیں۔“

اسنیک ویڈیو ایپ کے استعمال کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان ِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ آج کل ایک اپیلیکیشن(Snack Video) کے نام سے مشہور ہوا ہے جس پر ویڈیو دیکھنے سے پیسے ملتے ہیں او راس کی ترتیب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ایک ویڈیو کسی بھی چیز کے متعلق دیکھتا ہے تو باقی وِیڈیوز بھی اسی طرح آتے ہیں، تو اس میں اسلامی ویڈیوز دیکھ کر پیسے کمانا جائز ہے؟

جواب…(Snack Video App) اسنیک ویڈیو ایپ کے متعلق یہ معلومات حاصل ہوئی ہیں کہ یہ ایپ اس زمانے میں سوشل میڈیا کے فتنوں میں سے ایک بہت بڑا فتنہ ہے، اس ایپ کا استعمال شرعی نقطہ نظر سے ناجائر اورحرام ہے، اگرچہ اس پر فقط اسلامی نامی ویڈیوز بنائی اوردیکھی جائیں، اس کے مفاسد سے بچنا مشکل ہے، جن میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں:
٭…اس میں لوگ فحاشی اور عریانی پر مبنی ویڈیوز بنا کر نشر کرتے ہیں۔ ٭…مرد وخواتین رقص وسرود کی ویڈیوز بنا کر بے ہودگی پھیلاتے ہیں۔٭…میوزک او رگانے کا عمومی استعمال، حتی کہ اسلامی نامی ویڈیوز میں بھی میوزک کا استعمال ہوتا ہے۔٭… لہوولعب پر مشتمل ہونا اوروقت کے ضیاع کا سبب ہونا۔٭…بدنظری کا گناہ۔ ٭…ذی روح کی تصویر اور ویڈیو سازی کا مستقل گنا ہ۔

ان وجوہات کی بنا ء پر اس ایپ کو استعمال کرنے والا ضرور بالضرور ان گناہوں میں مبتلا ہو جاتا ہے، لہٰذا اس کا استعمال جائز نہیں ہے۔