بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

کیا فرماتے ہیں علمائے دین؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین؟

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

کتے اور بلی کے رونے اور اُلو کا کسی  کے گھرپر بیٹھنے سے بدشگونی
سوال… کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ کتے اور بلی کے رونے سے کوئی حادثہ واقع ہوتا ہے ؟ اکثر ہمارے یہاں کتے فجر کی اذان کے وقت روتے ہیں، کیا وجہ ہوتی ہے ان کے رونے کی؟ ایسے ہی ہمارے ہاں یہ بھی مشہور ہے کہ اُلو اگر کسی گھر کی چھت پر بیٹھ جائے وہ جگہ برباد ہو جاتی ہے؟

جواب… واضح رہے کہ کتے یا بلی کے رونے کی وجہ سے نہ کسی قسم کے حادثے کا امکان ہوتا ہے، اور نہ الوّ کے کسی کے گھر پر بیٹھنے کی وجہ سے گھر برباد ہوتا ہے، یہ ایک غلط قسم کا عقیدہ ہے جس سے احادیث میں منع کیا گیا ہے اور فجر کی اذان کے وقت یا اوراوقات میں کتے وغیرہ کا آواز نکالنا اتفاقا بھی ہو سکتا ہے اور ممکن ہے کہ شیطان کو دیکھنے کی وجہ سے ہو، اس لیے کہ احادیث میں آتا ہے کہ جب اذان ہوتی ہے تو شیطان وہاں سے بھاگتا ہے۔

عورت کا حالت ِ احرام میں چہرہ ڈھانپنا
سوال… کیا فرماتے ہیں علمائے کرام او رمفتیان عظام مندرجہ ذیل مسائل کے بارے میں کہ حج اور عمرہ کے دوران کیا عورت چہرے پر حجاب لگا کرمنہ ڈھانک سکتی ہے؟ یا چہرے پر کپڑا لگنے کی وجہ سے اس پر دم لازم ہوگا؟

جواب… واضح رہے کہ عورت کے لیے نامحرموں سے پردہ کرنا ایک الگ حکم ہے اور حالت احرام میں چہرے کو کپڑا لگنے سے بچانا الگ حکم ہے، حالت احرام میں دونوں احکام پر بیک وقت عمل کرنا ضروری ہے۔

اب اس حکم کی انجام دہی کے لیے عورت حسب سہولت کوئی بھی ایسی صورت اختیار کر لے کہ پردہ بھی ہو جائے اور احرام کی پابندی پر عمل بھی، مثلاً: ایسے ہیٹ کا استعمال کرے جس کے آگے چہرہ ڈھانپنے کے لیے کپڑا لگا ہوا ہو یا گھونگھٹ کو اس طرح گرائے رکھے کہ پردہ بھی ہو او ر کپڑا بھی چہرے پر نہ لگے وغیرہ۔

یہ سب تفصیل اس صورت میں ہے کہ عورت حالت احرام میں ہو، احرام اتارنے کے بعد پردے کا حکم عام حالت کی طرح ہے۔

نیز اگر عورت نے ایک دن کامل یا ایک رات کامل چہرے کو کپڑے وغیرہ سے ڈھانپ لیا بایں طور کہ کپڑا چہرے پر لگتا رہا، تو جنایت کامل ہونے کی وجہ سے دم لازم ہو گا اور اس سے کم ڈھانپنے میں صدقہ واجب ہو گا۔

عمرہ کے احرام کے بغیر میقات سے گزرنا
سوال… اگر کسی کو عمرہ نہیں کرنا ہے تو کیا وہ میقات سے نہیں گزر سکتا اور حدود حرم میں داخل نہیں ہو سکتا؟ اور اگر حرم میں داخل ہو جائے تو اس پر دم لازم ہو گا یا نہیں؟

جواب… اس بات پر تو اہل ِ علم کا اتفاق ہے کہ آفاقی (یعنی میقات سے باہر رہنے والے ، مثلاً: ریاض اور دمام کے رہنے والے، اسی طرح ہندوستان وپاکستان کے رہنے والے) جب بھی حج یا عمرہ کی نیت سے مکہ مکرمہ جائیں تو انہیں پانچ میقاتوں میں سے کسی ایک میقات پر یا اس کے مقابل یا اس سے پہلے پہلے احرام باندھنا ضروری ہے۔

اگر آفاقی حدود میقات کے اندر مثلاً: مکہ مکرمہ یا تنعیم (جہاں مسجد عائشہ بنی ہوئی ہے) یا جدہ سے احرام باندھ کر حج یا عمرہ کی ادائیگی کرے گا توایک دم ( یعنی ایک قربانی) واجب ہو گا، ہاں اگر وہ حج یا عمرہ کی ادائیگی سے قبل میقات پر آکر نیت کر لے تو دم ساقط ہو جائے گا۔

اگر کوئی آفاقی حج یا عمرہ کی نیت کے بغیر مکہ مکرمہ جانا چاہتا ہے تو کیا وہ احرام کے بغیر جاسکتا ہے یا نہیں؟ اس بارے میں علماء کا اختلاف ہے، لیکن تمام علماء اس بات پر متفق ہیں کہ احتیاط اسی میں ہے کہ جب بھی آفاقی مکہ مکرمہ جائے تو وہ احرام باندھ کر ہی جائے۔ امام ابوحنیفہ رحمة الله علیہ، امام مالک رحمہ الله اور امام احمد بن حنبل رحمہ الله کی رائے یہ ہے کہ حرم کے تقدس کو باقی رکھنے کے لیے اسے احرام باندھ کر ہی مکہ مکرمہ جانا ضروری ہے۔ لیکن امام شافعی رحمہ الله کی رائے یہ ہے کہ ضروری نہیں ہے، بلکہ مستحب ہے، جیسا کہ امام نووی رحمہ الله نے ذکر کیا ہے۔

جمہور علماء حضرت عبدالله بن عباس رضی الله عنہما کی حدیث کو دلیل کے طور پر پیش فرماتے ہیں کہ حضوراکرم صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: احرام کے بغیر میقات سے آگے نہ بڑھو۔ اسی طرح مشہور تابعی حضرت سعید بن جبیر رحمہ الله فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کوئی شخص بغیر احرام کے میقات سے آگے نہ بڑھے۔

عصر حاضر میں تاجر اور ڈرائیور وغیرہ باربار مکہ مکرمہ آتے جاتے رہتے ہیں اور انکے لیے ہر مرتبہ احرام کو لازم قرار دینے میں دشواری لازم آئے گی، لہٰذا وہ حضرات جن کو کاروبار یا ملازمت وغیرہ کی وجہ سے بار بار مکہ مکرمہ جانا پڑتا ہے، ان کے لیے بغیر احرام کے مکہ مکرمہ جانے کی گنجائش نکل سکتی ہے۔

حائضہ عورت کا حرم اور مکہ کے ہوٹل میں قیام
سوال… کیا حائضہ عورت حدودِ حرم میں رہ سکتی ہے یعنی مکہ مکرمہ میں یا ہوٹل میں؟

جواب…حائضہ عورت کے لیے مسجد حرام(یعنی مسجد شرعی کا جو حصہ ہے اس) میں داخل ہونا شرعاً جائز نہیں ہے، باقی مَسعیٰ(صفاء مروہ) اور مکہ مکرمہ میں اپنے ہوٹل وغیرہ میں رہنا جائز ہے۔

بے سند معالج کا علاج، کمائی اورتاوان /ضمان کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ان مسائل کے متعلق کہ ہر وہ معالج جو نہ قانوناً کسی مرض کا علاج کرنے کا مجاز ہو اور نہ وہ کسی مستند طبی ادارے سے سند یافتہ ہو، لیکن وہ فن طب کے متعلق تجربہ اور واقفیت رکھتا ہو، تو شرعی اعتبار سے ایسے معالج کے لیے کسی مریض کا علاج کرناجائز ہے یا نہیں؟

اگر ایسے شخص کے لیے علاج کرنا جائز نہ ہو تو اس کے علاج سے حاصل شدہ کمائی کا کیا حکم ہے؟ اگر ایسے معالج سے کسی کو غیر معمولی ضرر لاحق ہو جائے تو کیا ایسے معالج پر ضمان لازم ہو گی یا نہیں؟

جواب…واضح رہے کہ ہر وہ شخص ، چاہے وہ حکیم ہو یا معالج یا ڈاکٹر، جسے علم طب کے نشیب وفراز، پیچ وخم میں خوبی کے ساتھ واقفیت اور تجربہ حاصل ہو، لیکن وہ مستند (کسی ادارے سے سند یافتہ) نہ ہو ، اس کے لیے اگرچہ مریض کا علاج کرنے میں کوئی شرعی قباحت نہیں، البتہ چوں کہ حکومت کی طرف سے ایسے حضرات کے لیے علاج کرنے کی اجازت نہیں ہوتی اور حکومتی قوانین کی پاس داری اور حکم عدولی سے بچنا بھی شریعت کا ہی حصہ ہے، اس لیے ایسے حضرات کا اپنی عزت وآبرو کو بچانے کی خاطر علاج کرنے سے اجتناب بہتر ہے۔

لیکن پھر بھی اگر کسی نے خلاف ورزی کرکے کچھ آمدنی کمائی، تو آمدنی حرام نہیں، بشرطیکہ وہ واقعتا علاج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

مذکورہ بالا معالج کی دوائی کے استعمال کرنے کی وجہ سے اگر کوئی نقصان لاحق ہوا، تو شرعاً اس پر کوئی ضمان لازم نہیں، البتہ درج بالا شخص کے فعل (انجکشن یا آپریشن کرنے) کی بنا پر نقصان لاحق ہو، تو اگر علاج قواعد ِ طب اور اجازت کے ساتھ کیا ہے تو وہ ضامن نہیں ہو گا۔

داڑھی رکھنا واجب ہے
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ داڑھی رکھنا سنت ہے یا واجب وفرض ہے؟ اور داڑھی میں ڈیزائن کرنا اور کاٹنااس کے بارے میں کیاحکم ہے؟

جواب… الله رب العزت نے انسانوں کی راہ نمائی کے لیے حضرات انبیاء علیہم السلام کو عملی نمونہ بنا کر مبعوث فرمایا، اور ان کی اطاعت کو ہم پر لازم فرمایا، تمام انبیاء علیہم السلام، اولیاء اور صلحاء نے داڑھی رکھنے کو فطرت اور مردوں کی زینت کہا ہے۔

قرآن کریم میں حضرت ہارون علیہ السلام کی داڑھی کا ذکر آیا ہے، احادیث مبارکہ میں الله تعالیٰ کے پیارے حبیب صلی الله علیہ وسلم کی داڑھی مبارک کے بارے میں آتا ہے کہ ”کان عظیم اللحیة“ اور ”کث اللحیة“ اسی لیے آپ علیہ السلام نے اپنی امت کو ”وفروا اللحیٰ“ اور ”أعفوا اللحی“ کا حکم فرمایا۔

شریعت مطہرہ میں داڑھی رکھنا واجب ہے او رایک مشت اس کی آخری حد ہے اور اس سے کم کرنا جائز نہیں، او رایسا شخص فاسق ہے، جہاں تک داڑھی میں ڈیزائن بنانے کا تعلق ہے ، تو یہ بہت بڑا گناہ ہے، اگر یہ آدمی داڑھی کی توہین اور استہزا کی غرض سے ڈیزائن بناتا ہے تو پھر ایسے آدمی کا ایمان سلامت رہنا دشوار ہے۔

حضرت عبدالله بن عمر رضی الله عنہما کے بارے میں آتا ہے کہ ایک مشت سے زائد داڑھی کے بالوں کو کاٹ لیا کرتے تھے، حالاں کہ آپ کی احتیاط اور سنتوں پر عمل مشہور ہے۔

ان کے علاوہ او ربہت سے اصحاب رسول رضی الله عنہمسے یہ بات منقول ہے اور کسی صحابی کا ان کے اس عمل پر انکار ثابت نہیں، تو گویا داڑھی کی مقدار مسنون کی آخری حد پر صحابہ کرام رضی الله عنہم اجمعین کا اجماع ہے۔

فدیہ کی ادائیگی کے بعد روزہ رکھنے پر قدرت کے حصول کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں علمائے حق مذکورہ مسئلہ کے حوالے سے کہ اگر کسی مرد یا عورت پر قضاء روزے ہوں اور اس کو یقین یا ظن غالب ہے کہ ضعف یا بیماری کی وجہ سے میں یہ روزے رکھ نہیں سکتا ، تو کیا وہ زندگی میں اپنے روزے کا فدیہ دے سکتا ہے؟ او راگر وہ فدیہ دینے کے بعد تندرست ہو گیا تو پھر ادا کردہ فدیہ کا کیا حکم ہے؟ کیا اس فدیہ کی وجہ سے روزے ذمے سے ساقط ہو جائیں گے یا فدیہ صدقہ نافلہ بن جائے گا اور دوبارہ اس کے لیے قضاء ضروری ہے؟ تفصیلی اوراطمینان بخش جواب عنایت فرمائیں، اس لیے کہ بعض علاقوں میں اس مسئلے میں بہت سارے لوگ مبتلا ہیں۔

جواب…واضح رہے کہ شریعت مطہرہ میں روزوں کے بدلے فدیہ دینے کی رخصت ایسے شخص کے لیے ہے جو بڑھاپے کی وجہ سے روزہ رکھنے کی طاقت نہیں رکھتا، یا ایسے دائمی مرض میں مبتلا ہے کہ روزہ رکھنے سے عاجز ہے، البتہ اگر ایسے آدمی کو فدیہ کی ادائیگی کے بعد روزہ رکھنے پر قدرت حاصل ہو گئی، تو سابقہ تمام روزوں کی قضا کرے گا اور فدیہ صدقہ نافلہ بن جائے گا، لہٰذا جو شخص عارضی مریض ہے، اگر اسے غالب گمان ہے، یا دین دار وماہر ڈاکٹر کی رائے کے مطابق روزہ رکھنااس کے لیے نقصان دہ ہے، یا مرض بڑھ جائے گا، یا مریض شدت ِ مرض کی وجہ سے فی الحال روزہ رکھنے کی طاقت نہیں رکھتا، تو اسے افطار کی اجازت ہے، صحت یاب ہونے کے بعد روزہ کی قضا ہی کرے گا، فدیہ دینا باطل ہو گا۔

بارہ سال کے لڑکے سے پردہ کرنے کاحکم
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے کہ میرے سسرال میں تمام نامحرموں سے شرعی پردہ ہے، لیکن اب سوال یہ ہے کہ میرے جیٹھ کا بیٹا جو گیارہ سال کا ہے اور دماغ سے بھی اتنا عقل مند نہیں ہے او رگھر میں ہروقت ہوتا ہے، ہر جگہ آتا جاتا رہتا ہے تو کیا اس کے بارہ سال پورے ہونے پر مجھے اس سے بھی مکمل شرعی پردہ کرنا فرض ہے؟ جب کہ میرا شوہر بھی اس بچے سے پردہ کرنے میں میرے خلاف ہے، یا میرے لیے اس عذر میں کوئی گنجائش ہے؟

جواب… واضح رہے کہ بارہ سال کے بعد جب بھی بلوغت کی علامات ظاہر ہو جائیں جیسے، احتلام وغیرہ، تو پھر بچہ بالغ سمجھا جائے گا، اگر علامات ظاہر نہ ہوں تو پھر پندرہ سال پورا ہونے پر بالغ سمجھا جائے گا، لیکن فقہاء کرام نے دس سال کے لڑکے کو مراھق ومشتھی قرار دیا ہے، کیوں کہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے دس سال کی عمر کو حدّ شہوت قرار دیا ہے اور فرمایا ہے کہ :”جب تمہاری اولاد سات سال کی ہوجائے تو تم ان کو نماز کا حکم دو اور جب دس سال کی ہو جائے تو نماز نہ پڑھنے پر ان کی پٹائی کرو اور ان کے بستر الگ کردو۔“

مذکورہ حدیث میں دس سال کی عمر میں بستر الگ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، جس کی عِلت شہوت کا احتمال ہے، لہٰذا دس سال کی عمر میں بھی پردہ کرنا چاہیے، تاہم بچے کی جسمانی حالت ، نشو ونما اور ماحول کے اعتبار سے پردہ کی عمر میں کمی بیشی ہوسکتی ہے، آخر حد بلوغت پندرہ سال ہے، لہٰذا پندرہ سال کی عمر کے بچے سے پردہ بہرحال لازم اور ضروری ہے۔