بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

کیا فرماتے ہیں علمائے دین؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین؟

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

نماز کے دوران جیب سے موبائل نکال کر اس کی لائٹ جلانے کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ نماز عشاء کی تیسری رکعت کے دوسرے سجدہ میں اچانک لائٹ بند ہو گئی، او رجیسے ہی امام صاحب نے چوتھی رکعت کے لیے تکبیرکہی تو سارے نمازی قیام میں گئے، لیکن ایک شخص نے بیٹھ کر اپنی جیب سے موبائل نکال کر لائٹ جلائی اور لائٹ جلا کر موبائل کو نیچے زمین پر رکھ کر پھر قیام میں شریک ہوا، اب سوال یہ ہے کہ کیا اس شخص کا ایسا کرنا عمل کثیر میں داخل ہے یا نہیں؟ اور کیا ان کے اس عمل سے نماز فاسد ہو گئی یا نہیں؟

جواب… مذکورہ شخص کا نماز کے دوران جیب سے موبائل نکال کر اس کی لائٹ جلانا، لائٹ جلا کر موبائل نیچے رکھنا ،پھر قیام میں شریک ہونا عمل کثیر میں داخل ہے، اس کے اس عمل کی وجہ سے اس کی نماز فاسد ہو گئی ہے، لہٰذا اس پر لازم ہے کہ اپنی نماز کا اعاد ہ کر لے۔

غیر محرم عورت کے لیے نکاح کا وکیل بننے کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان عظام اس مسئلے کے بارے کے بارے میں کہ شادی میں لڑکی سے جو وکالت لی جاتی ہے، وہ غیر محرم لیتے ہیں، اب پوچھنا یہ ہے کہ محرم کی موجودگی میں غیر محرم کی وکالت کا کیا حکم ہے؟ اس سے نکاح پر کوئی اثر پڑے گا یانہیں؟ اور وکالت کے گواہوں میں بھی اسی طرح غیر محرم مرد مقرر کرنا کیسا ہے؟

نیز یہ بھی واضح فرمادیں کہ غیر محرم جب وکالت لیتا ہے اس وقت لڑکی کا مسکرانا یا خاموش رہنا علامت ِ رضا مندی قرار دیا جائے گایا نہیں؟

جواب… واضح رہے کہ محرم اور ولی کے ہوتے ہوئے غیر محرم کا لڑکی کے پاس جانا ناجائز ہے، البتہ غیر محرم وکیل بن کر اپنی وکالت پر گواہ مقرر کرکے غیر محرم لڑکی کا نکاح کرواتا ہے، تو نکاح صحیح ہو گا، اس سے نکاح پرکوئی اثر نہیں پڑے گا، لیکن بے پردگی کی وجہ سے یہ معاملہ کراہت سے خالی نہ ہوگا۔

نیز غیر محرم جب وکالت لیتا ہے تو آیا اس وقت لڑکی کا مسکرانا یا خاموش رہنا رضا مندی شمار ہو گا یا نہیں؟

تو اس میں یہ تفصیل ہے کہ اگر اس غیر محرم کو لڑکی کے ولی نے وکیل بنایا ہے، تو لڑکی کا مسکرانا یا خاموش رہنا رضامندی شمار ہو گا، لیکن اگر وہ نکاح خواں یا اپنی طرف سے وکیل بنا ہے تو اس صورت میں لڑکی کا مسکرانا یا خاموش رہنا رضا مندی شمار نہ ہو گا، بلکہ اس کے لیے صریح رضا مندی ضروری ہے۔

چالیس دن چلہ پر نکلنے والے احباب  دو مختلف تشکیلوں میں قصر کریں گے یا اتمام؟
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ تبلیغی جماعت والے گھر سے چالیس دن کے چلے کی نیت سے نکلتے ہیں، جس کی صورت یہ ہوتی ے کہ علاقائی مرکز والے احباب کے مشورے سے ان کو اسی مرکز سے دو تشکیلیں دی جاتی ہیں، ایک تشکیل چھوٹی بارہ یا تیرہ دن کی شہر کے قریبی علاقے میں یعنی چالیس، پچاس کلو میٹر کے فاصلے پر ہوتی ہے، جب کہ دوسری تشکیل دور پنجاب، بلوچستان وغیرہ کی طرف ( یعنی مسافت شرعیہ کے فاصلے پر) ہوتی ہے ، آپ سے پوچھنا یہ ہے کہ یہ جماعتیں چھوٹی تشکیل میں اتمام کریں گی یا قصر؟

یہ جماعتیں اس جگہ تک مسافت شرعی سے کم چالیس ، پچاس کلو میٹر کے فاصلہ پر ہوتی ہیں یعنی سواستتر کلو میٹر سے کم پر، لیکن یہ قیام کی جگہ ان کے اپنے شہر یادیہات کی آبادی سے باہر ہوتی ہے اور اس چھوٹی تشکیل کے بعد انہوں نے واپس اپنے شہر نہیں آنا ہوتا، بلکہ آگے یعنی رائے ونڈ جانا ہوتا ہے جو مسافت شرعیہ پر واقع ہوتا ہے، وہاں چوبیس گھنٹے کے قیام کے بعد لمبی یعنی دور کی تشکیل پر جانا ہوتا ہے، یہ جماعت والے احباب گھر سے چالیس دن کی نیت سے ہی نکلتے ہیں اور یہ چھوٹی تشکیل بھی اسی چالیس دن میں شمارکی جاتی ہے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ جماعتوں کی اصل منزل لمبی تشکیل والی جگہ ہوتی ہے، چھوئی تشکیل میں ان جماعتوں کے مقیم یا مسافر ہونے کی وضاحت فرما دی جائے۔

جواب… صورت ِ مسئولہ میں چالیس دن چلہ کی نیت سے سفر پر نکلنے والے احباب کی اصل منزل لمبی تشکیل والی جگہ ہے( جس کی انہوں نے نیت کر رکھی ہے اور راستہ کا بارہ، تیرہ دن کا قیام جسے چھوٹی تشکیل کہا جاتا ہے، گویا راستہ کا پڑاؤ ہے، مقصود ومنزل یہ نہیں، بلکہ یہاں یہ جماعتیں کام کرکے آگے رائے ونڈ جائیں گی اور پھر وہاں سے آگے لمبی تشکیل کی طرف گامزن ہوں گی۔

پس چالیس دن چلہ کی نیت سے نکلنے والے احباب اس چھوٹی تشکیل والی جگہ پر قصر کریں گے، اگر منفرداً نماز پڑھیں یا مسافر امام کے پیچھے، اور اگر مقیم امام کے پیچھے نماز پڑھیں گے تو پھر اتمام ہی کریں گے۔

البتہ اگر جماعت میں ایسے احباب بھی شامل ہوں، جن کی نیت صرف یہی چھوٹی تشکیل بارہ، تیرہ دن کی ہے اور آگے جانے کی نیت نہیں ہے،بلکہ یہیں سے واپسی کریں گے، تو وہ اتمام کریں گے، کیوں کہ ان کے حق میں مسافر ِ شرعی ہونا یہاں متحقق نہیں۔

گٹر کے پانی کو جدید مشینوں کے ذریعے صاف کرنے کے بعد استعمال کرنے کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ گٹر کے پانی کو جدید مشینوں کے ذریعے صاف کیا جائے، یہاں تک کہ اس کا رنگ ،ذائقہ اور بو اس میں محسوس نہ ہو، تو یہ پانی شرعی طور پر کیا استعمال کرنا جائز ہے؟

جواب… واضح رہے کہ سوال میں مذکور گٹر کے پانی کو صاف کرنے کے بعد اگرچہ رنگ، بو او رذائقہ محسوس نہ بھی ہو تب بھی یہ پانی نجس ہی رہے گا، اس کوطہارت وغیرہ کے لیے استعمال کرنا درست نہیں ہوگا، کیوں کہ مشینوں کے ذریعے سے صاف کرنے کی وجہ سے نجس پانی کی حقیقت وماہیت تبدیل نہیں ہوتی ہے، لہٰذا پانی اپنے حال پر نجس ہی رہے گا اور یہ نجس پانی کپڑے یا بدن کے جس حصے کو لگ جائے اس کو دھونا ضروری ہو گا۔

بغیر آستین والے کپڑوں، یاآستینوں والے کپڑے میں آستین چڑھاکراور ننگے سر نماز پڑھنے کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کسی نے پینٹ شرٹ پہنی ہوئی ہو، جب کہ اس کی کہنیاں بھی ظاہر ہیں اور اس کا سر بھی ننگا ہے، لیکن ٹوپی کے بارے میں کوئی رائے نہیں ہے کہ بغیر ٹوپی کے نماز جائز ہے، یا ناجائز، یا بہتر ہے، تو ایسے شخص کی نماز کا حکم کیا ہے؟ نیز ٹوپی کی نماز میں شرعی حیثیت کیا ہے؟ برائے مہربانی جواب عنایت فرمائیں۔

جواب… واضح رہے کہ ایسے کپڑے جس کی آستین چھوٹی ہو، یا جس کی آستین ہی نہ ہو، ان میں نماز پڑھنا مکروہ ہے، اسی طرح آستینوں والے کپڑوں میں آستین چڑھانے کی صورت میں بھی نماز پڑھنا مکروہ ہو جاتا ہے۔

لہٰذا صورت مسئولہ میں ایسی پینٹ شرٹ جس میں کہنیاں ظاہر ہوں، نماز پڑھنا مکرو ہ ہے، اسی طرح اگر پینٹ اتنی چست ہو، کہ جسم کے ساتھ بالکل چپکی ہوئی ہو، تو اسے پہننا بھی جائز نہیں اور اس میں نمار پڑھنا مکروہ ہو گا۔

نماز کی حقیقت چوں کہ الله تعالیٰ کے دربار میں حاضری دینا ہے، اس لیے بڑے ادب، احترام اور وقار کے ساتھ نماز پڑھنی چاہیے، لہٰذا اگر سستی کی وجہ سے، یا آج کل بالوں کے فیشن کی وجہ سے بغیر ٹوپی پہنے نماز پڑھ لی، تو مکروہ ہوگی۔

بھابی کو اپنے دیور سے پردہ کرنے کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک طالب علم ہے جو مدرسے میں رہائش پذیر ہو کر پڑھتا ہے،وہ طالب علم جس گھر میں رہتا ہے وہ چھوٹا گھر ہے، اس گھر میں اس کے والدین اور اس کا بڑا بھائی (جو کہ شادی شدہ ہے)، اس کی بیوی اور اس کے تین بچے بھی اسی گھر میں رہتے ہیں، ہمارے خاندان میں بھابی سے پردہ نہیں کیا جاتا ہے ، بلکہ اس کی عزت واحترام کیا جاتا ہے اور ماں جیسا رشتہ ہوتا ہے ،مگر جب طالب علم کو پتہ چلا کہ دیور کو بھابی سے پردہ کرنا ہوتا ہے شریعت کی رو سے تو طالب علم کو تشویش ہو گئی کہ آیا وہ گھر جائے تو پردہ نہیں کرسکتا ہے او راگر نہیں جاتا ہے تو قطع رحمی ہوتی ہے، اور پھر والدین کو کس طرح چھوڑ سکتا ہے؟ اس لیے مہربانی فرماکر راہ نمائی کر دیں کہ شریعت اس طرح کی صورت میں کیا حکم دیتی ہے؟

جواب… احادیث مبارکہ میں رسول صلی الله علیہ وسلم نے دیور سے پردہ کرنے کی تاکید فرمائی ہے، اس لیے بھابی کو اپنے دیور سے پردہ کرنا ضرور ی ہے۔

صورت مسئولہ میں بھابی کو مذکورہ طالب علم (دیور)سے پردہ کرنا لازم اور ضروری ہے، لیکن اس کی وجہ سے طالب علم گھرجانا اور والدین سے ملنا نہ چھوڑے، اس لیے کہ اسلام مل جل کر رہنے کی اجازت دیتا ہے، بشرطیکہ شرعی حدود کا مکمل خیال رکھا جائے ، اس لیے مذکورہ طالب علم گھر بے شک جائے، گھر میں داخل ہوتے وقت دروازہ کھٹکھٹا کر، یا گلا کھنکار کر، یا کسی اور طریقے سے اپنی آمد کی اطلاع کر لے، تاکہ گھر کی خواتین اپنی حالت درست کر لیں، اور اپنی نظروں کو جھکائے رکھیں، اگر غلطی سے نگاہ پڑ جائے تو فوراً نظر ہٹالیں، بقدر ضرورت بھابی سے بات کرسکتے ہیں، ضرورت کے بغیر بات کرنے کی اجازت نہیں اور نہ ہی ہنسی مذاق کریں اور خلوت سے بھی اجتناب کریں۔