بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

کیا فرماتے ہیں علمائے دین؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین؟

دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی

8 Ball Pool گیم کھیلنے اور کوائنز فروخت کرنے کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ انٹر نیٹ میں 8 ball Pool ایک گیم ہے، اس گیم کو انسٹال کرکے کسی بھی سوشل میڈیا اکاؤنٹ کے ذریعے اس میں اپنا گیم اکاؤنٹ بناسکتے ہیں، تقریباً سنوکر(Snooker) کی طرح کھیلا جاتا ہے، اس میں جب کوئی ایک اسٹیج (مرحلہ) مکمل کرتا ہے تو اس کو ایک ڈالر ملتا ہے، یا پورے ہفتے میں کوئی اپنے سب دوستوں میں پہلے نمبر پر آتا ہے، یا ملکیسطح پر ،یا پوری دنیا کی سطح پر پہلے، دوسرے یا تیسرے نمبر پر آتا ہے تو اس کو گیم میں انعامی ڈالرز ملتے ہیں۔

واضح رہے کہ یہ ڈالر صرف گیم کے لیے آپ استعمال کرسکتے ہیں، جیسے ان سے کوئی کھیلنے والی چھڑی خریدلی، یا کھیلنے کے لیے کوائنز(Coins) لے لیے وغیرہ۔ اس میں دو آدمی کو ائنز جیتنے کے لیے گیم کھیلتے ہیں، جتنے کو ائنز کا گیم کھیلا جائے جیتنے کے بعد اتنے کوائنز آپ کو دیے جاتے ہیں، مثلاً:100 کوائنز کی بازی لگی، ہر کھلاڑی50،50 کوائنز جمع کرے گا، جو جیتا اسے یہ 100 کوائنز مل جائیں گے اور ہارنے والا اپنے 50 کوائنزگواں کر خالی ہاتھ لوٹ جائے گا، لیکن یہ کوائنز بھی صرف گیم ہی میں استعمال ہوسکتے ہیں۔

اس گیم میں کچھ کھیل کی چھڑیاں اس طرح بھی ہیں کہ اگر آپ اس سے کھیلتے ہیں تو آپ کو پورے کوائنز نہیں دینے پڑتے، بلکہ، 8 Ball Pool والوں کی طرف سے اس کو پورے ملتے ہیں اور آپ کو ہارنے کے بعد بھی کچھ فی صد واپس مل جاتے ہیں۔

ظاہر ہے کچھ کھیلنے والے اچھا کھیلتے ہیں تو ڈالر اور کوائنز زیادہ جیتتے ہیں او رپھر ان گیم کوائنز کو دوسرے کھلاڑیوں کو حقیقی پیسوں کے بدلے فروخت کرتے ہیں کیا یہ خرید وفروخت صحیح ہے؟ کچھ لوگ خود کوائنز خریدتے ہیں پھر آگے دوسرے کھلاڑیوں کو منافع کے ساتھ فروخت کرتے ہیں ، کچھ لوگ کریڈٹ کارڈ کے ذریعے کوائنز لیتے ہیں پھر آگے فروخت کرتے ہیں۔

کچھ لوگ فیک ( نقلی) آئی ڈی بناتے ہیں پھر اس میں زیادہ ڈالرز اور کوائنز بنا کر پوری آئی ڈی کو فروخت کرتے ہیں، کیا اس طرح کرنا صحیح ہے؟

اس میں ہر 30 منٹ گیم استعمال کرنے پر کمپنی کی طرف سے کچھ کوائنز مفت ملتے ہیں، جب کہ کچھ کوائنز نیٹ ورک پر موجود دوست بھی ایک دوسرے کو سینڈ کرتے ہیں، اس گیم کے کھیلنے کا کیا حکم ہے؟

جواب…اسلام نے اگرچہ جائز تفریحات کی ایک حد کے اندر اجازت دی ہے، البتہ 8 Ball Pool جیسے گیمز سے مندرجہ ذیل وجوہات کی بنا پر اجتناب کیا جائے:

1..اس گیم میں اگرچہ حقیقی اموال کے ساتھ قمار (جوا) نہیں، البتہ قمار کی صورت موجود ہے، جب کہ قرآن نے میسر (جوا) کی کھلی مذمت بیان کی ہے او راسے شیطانی کام کہا ہے، الله تعالیٰ کا ارشاد ہے:

” اے ایمان والو! شراب، جوا، بتوں کے تھان او رجوے کے تیر، یہ سب ناپاک شیطانی کام ہیں ، لہٰذا ان سے بچو، تاکہ تمہیں فلاح حاصل ہو، شیطان تویہی چاہتا ہے کہ شراب اور جوے کے ذریعے تمہارے درمیان دشمنی اور بغض کے بیج ڈال دے اور تمہیں الله کی یاد او رنماز سے روک دے، اب بتاؤ کہ کیا تم (ان چیزوں سے ) باز آجاؤ گے؟“ (المائدہ:91-90)

2..جوے کو کھیل کے طور پر اختیار کرنا حکم ِ الہی کو عملاً ہلکا سمجھنا ہے۔

3..فساق کے ساتھ تشبہ ہے، جس سے بچنا از حد ضروری ہے۔

4..وقت کا حد سے زیادہ ضیاع، حتی کہ اکثر کھیلنے والوں کو اس کی ایسی لت پڑ جاتی ہے کہ سارا سارا دن کھیل میں گزر جاتا ہے، جو یقینا ایک مسلمان کے شایانِ شان نہیں۔

5..فرائض وواجبات اور دیگر ذمہ داریوں میں رکاوٹ ہے اور ایسی تفریح اختیار کرنا جو حقوق الله اور حقوق العباد کی ادائیگی سے مانع ہو ، جائز نہیں۔

6..حقیقی پیسوں سے گیم کو ائنز، کیش خریدنا او رپھر اسے باقاعدہ لین دین کی چیز بنانا، ایک طرح کا وِرچُوَل کرنسی (Virtual Currencey) کے ساتھ معاملہ ہے او راس سے اجتناب کرنا چاہیے۔

مذکورہ بالا مفاسدکی بنا پر 8Ball Pool گیم کھیلنے اور اس کے کوائنز یا کیش خریدنے اور لین دین سے اجتناب کرنا چاہیے۔

شادی ہال کی بکنگ کے لیے زکوٰة مانگنے اور دینے کا حکم
سوال… کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے کے بارے میں کہ ہمارے ایک دوست اپنے مرحوم بھائی کی بیٹی کی شادی پر شادی ہال کی بکنگ کے لیے درج ذیل پیغام اپنے احباب کو بھیج رہے ہیں:

”75000/= میں سے ہم نے50000 کا انتظام کر لیا ہے، آپ سے بھی گزارش ہے جتنا ہو سکے زکوٰة میں سے تعاون کریں، تاکہ بروقت میرے مرحوم بھائی کی بیٹی کی شادی کے لیے ہال کی بکنگ کی جاسکے“۔

آپ سے التماس ہے کہ قرآن وسنت کی روشنی میں راہ نمائی فرمائیں کہ:

1..کیا بھتیجی کی شادی پر شادی ہال کی بکنگ کے لیے اس طرح زکوٰة سے امداد مانگنا جائز اور درست ہے؟

2..کیا اس طرح جمع کی گئی زکوٰة کی رقم سے شاہانہ اخراجات کیے جاسکتے ہیں؟

3..کیا اس مد میں زکوٰة سے تعاون کرنے والے حضرات کی زکوٰة ادا ہو جائے گی؟

جواب… واضح رہے کہ زکوٰة دیتے ہوئے ترجیحی بنیادوں پر مستحقین کا جائرہ لینا چاہیے، پھر جس کی ضرورت اشد ہو اسے زکوٰة دینے میں مقدم کیا جائے، نیز اسلام نے شادی بیاہ میں سادگی کو پسند کیا ہے اور شریعت میں پُر تکلف انتظامات کی حوصلہ افزائی نہیں کی گئی، آں حضرت صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ” سب سے بابرکت نکاح وہ ہے جو بوجھ کے اعتبار سے سب سے ہلکا ہو۔“ (رواہ البیھقی فی شعب الإیمان)۔

صورت ِ مسئولہ میں اگر زکوٰة کے پیسے براہ ِ راست ہال پر لگائے جارہے ہیں تو اس سے زکوٰة ادا نہیں ہو گی، اور اگر لڑکی کو مالک بنا کردی جارہی ہے، تو زکوٰة تو ادا ہو جائے گی، البتہ جیسے ہی لڑکی نصاب کے بقدر مال کی مالک بن جائے گی تو اس کے لیے مزید زکوٰة لینا جائز نہیں ہو گا۔

لہٰذا لڑکی کو نصاب سے کم کا مالک بنا کر زکوٰة دینا درست ہے اورمنکرات سے خالی شادی کے لیے اس طرح زکوٰة سے امداد مانگنا اگرچہ ناجائز تو نہیں، البتہ اخلاقی اقدار اس بات کو گوارا نہیں کرسکتی کہ زکوٰة سے سہولتیں حاصل کی جائیں ،جب کہ مستحقین کی ایک طویل فہرست بنیادی ضروریات ِ زندگی کو بھی ترس رہی ہو۔

خلاصہ یہ کہ تنگ دستی کے وقت فضول خرچی سے بچتے ہوئے، شادی کے لیے صرف ضروری سامان مہیا کرکے سادگی سے لڑکی کو بیاہ دیا جائے، لمبے چوڑے انتظامات کے لیے زکوٰة جمع کرنا درست نہیں، مزید یہ کہ کسی مستحق کو بغیر کسی شدید ضرورت کے زکوٰة کی اتنی رقم دینا جس سے وہ خود صاحب نصاب ہو جائے، مکروہ ہے۔

مسجد ومدرسہ میں غسل میت کے لیے جگہ بنانا
سوال… کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ:

1..مسجد ومدرسے کے لیے سوسائٹی کی طرف سے وقف شدہ زمین میں غسل میت کے لیے جگہ الگ کی جاسکتی ہے؟

2..اگر ہاں، تو اس کے تعمیری اور دیگر (یوٹیلٹی وغیرہ) اخراجات مسجد کی آمدنی سے پورے کیے جاسکتے ہیں؟

جواب…2،1 .وقف میں غرض ِ واقف کی رعایت ضروری ہوتی ہے، اس لیے جو زمین مسجد ومدرسہ کے نام پر وقف ہوئی ہو، اس کو مسجد ومدرسہ یا ان کے مصالح کیعلاوہ کسی او رکام میں استعمال کرنا جائز نہیں۔

واضح رہے کہ غسل میت مسجد اور مدرسہ کے مصالح میں سے نہیں، لہٰذا مسجد ومدرسہ کے لیے وقف کردہ زمین میں غسل میت کے لیے جگہ الگ کرنا جائز نہیں، اس کام کے لیے الگ کسی جگہ کا انتظام کیا جائے۔

طلاق ثلاثہ کو معلق کرنے کی ایک صورت اور تین طلاقوں سے بچنے کی ایک تدبیر
سوال… کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان ِ عظام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک آدمی کے دو بیٹے ہیں اور وہ دونوں شادی شدہ اور صاحب ِ اولاد ہیں ، جو بڑا بیٹا ہے اس نے کچھ عرصہ قبل اپنے والد سے یہ خواہش ظاہر کی کہ والد صاحب میں دوسری شادی کرنا چاہتا ہوں، تو والد صاحب نے کہا کہ اگر آپ کا کوئی شرعی عذر ہے تو اس پر میں غور کروں گا، اوراگر بغیر کسی شرعی عذر کے تم ایسا کرو گے تو میں تمہیں اجاز ت نہیں دیتا۔ اوربڑیبیٹے کو والد نے اور خاندان کے معزز لوگوں نے سمجھانے کی بہت کوشش کی،مگر اس نے کسی کی بھی نہ سنی ، دو مرتبہ والدہ محترمہ نے بھی اسے کافی سمجھایا جس کے جواب میں بیٹے نے والدہ کے لیے نازیبا الفاظ استعمال کیے اور والدہ سے بد تمیزیبھی کی ،مفتی صاحب! بڑے بیٹے نے لڑکی بھی خود سے تلاش کی او رنکاح کی تاریخ بھی خود سے رکھی ، چھوٹا بیٹا شروع سے ان کے ساتھ رہتا ہے، والد نے چھوٹے بیٹے سے کہا کہ آپ کا بڑا بھائی میری اور تمہاری والدہ کی اجازت کے بغیر شادی کر رہا ہے، لہٰذا تمہیں اس کے نکاح میں شریک نہیں ہونا۔ لیکن چھوٹے بھائی نے والد سے اصرار کیا کہ مجھے آپ شادی میں شرکت کی اجازت دے دیں، چھوٹے بیٹے کے اصرار پر والد نے اس سے کہا ”اگر تم نے بڑے بھائی کے نکاح میں شرکت کی تو میری بیوی مجھ پر تین طلاق“ اس بات پر جھوٹا بیٹا بھائی کے نکاح میں شریک نہیں ہوا اور والد نے چھوٹے بیٹے سے کہا ”اگر تم نکاح کے بعد اس سے تعلقات رکھو گے تو تم میرے بیٹے نہیں ہو گے“ او راگر اس سے تعلقات رکھتے ہوئے میرے پاس آؤ گے تو میں تمہیں کبھی گھر نہیں چھوڑوں گا او رتم سے تعلقات نہیں رکھوں گا، اور والد نے چھوٹے بیٹے سے کہا کہ جب بھی تم میرے پاس آنا تو بڑے بھائی سے تعلقات ختم کرکے آنا تو پھر میں ان الفاظِ طلاق کا پابند نہیں ہوں گا او رتمہیں گھر چھوڑ دوں گا، مفتی صاحب! اب اگر کچھ وقت کے بعد چھوٹا بیٹا والد کے پاس آنا چاہتا ہے تو اس صورت میں والد صاحب کے لیے بیٹے کے بارے میں کیا حکم ہے ؟ اور والد صاحب کون سا راستہ اختیارے کہبیٹے کو گھر آنے کی اجازت دے دے، مفتی صاحب! میری جو پہلے والی شرط ہے، نکاح میں شرکت والی تو اس پر بیٹے نے شرکت نہیں کی، اور دوسری شرط تعلقات والی کہ ”تعلقات ختم کرکے آؤگے تو پھر میں ان الفاظ طلاق کا پابند نہیں ہوں اور میں تمہیں گھر آنے کی اجازت دے دوں گا “اور تیسری شرط رہن سہن والی، اس میں بھی وہ اپنے بڑے بھائی کے ساتھ رہائش پذیر ہے۔ اب مفتی صاحب میرا چھوٹا بیٹا تین شرائط میں سے ایک پر تو پورا اترا ہے، مگر دوسری اور تیسری شرط پر ابھی پورا نہیں اترا، اس کے بارے میں قرآن او رحدیث کی روشنی میں راہ نمائی فرما کر مشکور فرمائیں۔

جواب… واضح رہے کہ شریعت مطہرہ نے ہر مرد کو حسب ضرورت وحسب قدرت ادائے حقوق چار شادیوں کی اجازت دی ہے، یہ ہر آدمی کا شرعی حق ہے او رکوئی بھی اس شرعی حق کو کسی سے سلب کرنے کا اختیار نہیں رکھتا۔

نیز یہ بھی واضح رہے کہ والدین کے ادب اور احترام کی بڑی تاکید شریعت نے فرمائی ہے، یہاں تک کہ اگر کسی کے والدین خوانخواستہ مشرک ہوں تو بھی شریعت کا یہ حکم ہے کہ ناجائز بات میں اگرچہ ان کی اطاعت نہ کی جائے، لیکن ان کے احترام او رادب کو بہرحال پامال نہ کیا جائے۔

صورت ِ مسئولہ میں اگر چھوٹا بیٹا اپنے بھائی کے ساتھ تعلقات اور رہن سہن برقرار رکھتے ہوئے اپنے والد کے گھر جائے اور والد اسے گھر میں چھوڑ دے، تو تین طلاقیں واقع ہو جائیں گی۔

اب تین طلاقوں سے بچنے کی صورت یہ ہے کہ والد اپنی بیوی کو ایک طلاق بائن دے دے، او رجب بیوی کی عدت ختم ہو جائے تو چھوٹا بیٹا اپنے بڑے بھائی کے ساتھ تعلقات اور رہن سہن برقرار رکھتے ہوئے والد کے گھر آئے اور والد اسے گھر آنے کی اجازت دے دے، تو اس صورت میں تعلیق بھی ختم ہو جائے گی او رمزید کوئی طلاق بھی واقع نہیں ہو گی، اس کے بعد بیوی سے مہر جدید کے ساتھ نکاح کرلیا جائے۔

نافرمان اولاد کے بارے میں مشورہ اور دعا
سوال… کیا فرماتے ہیں مفتیان عظام اس مسئلے کے بارے میں کہ میرا ایک بیٹا ہے او ربیٹی ہے، بیٹا میرا بڑا ہے، اس کی عمر 27 سال ہے، میرا بیٹا دین کی راہ سے بھٹک گیا ہے،16,15 سال کی عمر تک نماز پڑھتا تھا، مسجد بھی جاتا تھا، پھر اچانک سے اسے پتہ نہیں کیا ہو گیا ہے کہ وہ بالکل بدل گیا، ہر وقت لڑائی جھگڑے کرنے لگا، بری بری گالیاں دینے لگا ہے، چھوٹے، بڑے، ماں ،باپ، بہن، بھائی اور نانی، خالہ سب کا احترام کرنا چھوڑ دیا ہے، پہلے تو مہینوں یا ہفتوں میں ایسا ہوتا تھا، مگر اب روز کوئی نہ کوئی بہانہ مل جائے اسے اور وہ شروع ہو جائے، بس کوئی بات مزاج کے خلاف نہ ہو، پورا پورا دن لگا دیتا ہے جھگڑے میں، کھانا تک نہیں کھاتا، او رکسی سے لڑائی ہو جائے تو اسے معاف نہیں کرتا کہتا ہے کہ میں غلط نہیں ہوں اور نہ میں غلطی معاف کرتا ہوں، چاہے وہ بندہ کتنی بھی معافیاں مانگ لے، اتنا ضدی ہو گیا ہے کہ کچھ سننے سے پہلے چیخنا شروع کر دیتا ہے، میں اپنے بیٹے کے لیے بہت پریشان ہوں، مولانا صاحب! میں پانچ وقت کی نمازی ہوں جہاں کوئی دعا بتا دے یا وظیفہ مل جائے میں اسے پڑھ کر پھونک دیتی ہوں، آج کل کے لڑکوں میں جتنی برائیاں ہیں اور جتنی گندی عادتیں ہیں سب اس میں آگئی ہیں، مولانا صاحب! الله سے اس کے لیے دعا کریں۔ الله تعالیٰ میرے بچے پر رحم کرے، اس کا رنگ دن بدن ماند پڑتا جارہا ہے، میں بہت پریشان ہوں، آپ مجھے کوئی ایسا وظیفہ بتائیں کہ میرے بیٹے کی دنیا بدل جائے، اس کے دل میں الله کا خوف اور اس کے رسول صلی الله علیہ وسلم کی محبت بھر جائے۔ بڑوں کا احترام کرنے لگے، نمازی ہو جائے، گندی عادات او رگندی زبان کا استعمال چھوڑ دے، اس کے لہجے میں مٹھاس آجائے، میرا بیٹا اپنے برے رویے اور لہجے کی وجہ سے لوگوں سے دور ہوتا جارہا ہے، دوست ہوں یا رشتے دار۔ میرے بیٹے کا نام عمر ہے، اس کی دادی نے رکھا تھا اس کا نام، مولانا صاحب! الله آپ کو اجر دے، آپ اس کے لیے کوئی دعا یا وظیفہ بتا دیں اور اس کے لیے دعا بھی ضرور کرئیے گا، ایک ماں کی فریاد ہے یہ، میں آپ کو ساری عمر دعا دوں گی۔

جواب… سب سے پہلے حکمت وبصیرت کے ساتھ انہیں سمجھانے کی کوشش کی جائے، نماز کی اہمیت ، والدین کی اطاعت اورلڑائی جھگڑے کی نحوست کے بارے میں مسلسل ان کی ذہن سازی کی جائے، علماء اور صلحاء کی مجلسوں میں شرکت کی ترغیب دی جائے، اس کے ماحول کو تبدیل کرنے کے لیے تبلیغ میں سہ روزہ کے لیے انہیں بھیج دیا جائے اور ساتھ ساتھ ان کی ہدایت کے لیے خشوع اور خضوع کے ساتھ دعاؤں کا اہتمام کیا جائے، امید ہے کہ ان کی عادتیں بدل جائیں اور راہ راست پر آجائے، ہماری دعا ہے کہ الله تعالیٰ آپ کے بیٹے کو فرماں بردار بنا کر راہ راست پر لائیں، الله جل جلالہ اس کو والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنائیں۔

اس کے ساتھ ہر نماز کے بعد اس آیت کو پڑھا کریں اور ﴿ذُرِّیَّتِی﴾کی جگہ اپنے بیٹے ”عمر“ کا نام ذہن میں رکھیں: ﴿وَأَصْلِحْ لِی فِی ذُرِّیَّتِی إِنِّی تُبْتُ إِلَیْکَ وَإِنِّی مِنَ الْمُسْلِمِینَ﴾․(سورة الأحقاف، آیت:15)