بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

کیا بدعت میں کوئی خوبی ہوتی ہے؟

کیا بدعت میں کوئی خوبی ہوتی ہے؟

حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ

دنیا میں شاید ہی کوئی چیز ایسی ہو،جس میں اس کی خرابی کے باوجود اس میں کوئی خوبی نہ ہو۔ شراب اور جوئے جیسی بدترین چیزوں کے بارے میں قرآن کریم میں الله تعالیٰ کا ارشاد یوں ہے۔

﴿ِ قُلْ فِیْہِمَا إِثْمٌ کَبِیْرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ﴾․(بقرہ آیت:219)
ان دونوں میں گناہ بڑا ہے اور لوگوں کے لیے ان میں کچھ منافع بھی ہیں۔

یہ ٹھیک ہے کہ ان میں گناہ بہت ہے، مگر الله تعالیٰ نے ان میں فی الجملہ منافع کا ذکربھی کیا ہے، لیکن ان قلیل منافع کی وجہ سے ان کو جواز کا درجہ حاصل نہ ہو سکا، بلکہ ان کے مضرات اور مفاسد کے پہلو کو غالب قرار دے کر ان کو ہمیشہ کے لیے حرام قرار دے دیا گیا او راکبر الکبائر کی مد میں ان کا شمار کیا گیا۔ جب بھی کسی گم راہ فرقہ نے کوئی بد سے بد تر بدعت، دین کے نام پر ایجاد کی ہے تو اس نے اس میں محاسن اور خوبیوں کا دعویٰ بھی ضرور کیا ہے اور اس کی ترویج اور اشاعت کے لیے خدا اور مذہب کے نام پر، رسول اور اولیاء سے عشق ومحبت کے نام پر کچھ ناکچھ دلائل بھی تراشے ہیں اور ضرور ایسا پیرایہ اختیار کیا ہے جس سے ایک عام اور سادہ لوح مسلمان خواہ مخواہ مغالطہ میں مبتلا ہوسکتا ہے۔ مشرکین ِ عرب نے شرک جیسے بدترین اور قبیح ترین فعل کو جائز او رمستحسن ثابت کرنے کے لیے تقربِ الہٰی کا نام ہی تو لیا ہے، چناں چہ قرآن کریم میں الله تعالیٰ نے فرمایا:

﴿مَا نَعْبُدُہُمْ إِلَّا لِیُقَرِّبُونَا إِلَی اللَّہِ زُلْفَیٰ﴾․(سورہٴ زمر آیت:3)
(مشرکوں نے کہا) ہم ان (درمیانی وسائط) کی پوجا نہیں کرتے، صرف اس لیے کہ یہ ہمیں خدا تعالیٰ کے قریب کرتے ہیں۔

دوسرے مقام پر ذکر فرمایا کہ مشرکین نے یوں کہا کہ:﴿ہَٰؤُلَاء ِ شُفَعَاؤُنَا عِندَ اللَّہِ ﴾․(سورہٴ یونس آیت:18)

یہ ہمارے وسائل الله تعالیٰ کے یہاں ہماری سفارش کرتے ہیں۔

دیکھا آپ نے کہ مشرکین نے شرک کے اثبات کے لیے تقرب ِ خداوندی کے خوش کن الفاظ سے تسکین قلب کا سامان مہیا کیا، پھر انہی مشرکین نے ملت ِ ابراہیمی میں ایک بدترین بدعت ایجاد کی کہ خانہ کعبہ کا طواف کرتے وقت بالکل مادرزاد ننگے ہو جاتے تھے، حتی کے عورتیں بھی ایک معمولی سے چیتھڑے کے علاوہ ( جو شرم گاہ کو ڈھانکنے کے لیے بھی کافی نہ ہوتا) تمام لباس اتار کر یہ کہتے ہوئے طواف کرتی تھیں ”الیوم یبدو بعضہ أو کلہ/ فما بدا منہ فلا أحلہ․“(مسلم :2/422، وسنن الکبریٰ وغیرہ)

یعنی اگر آج کے دن میرے بدن کا بعض حصہ یا سارا ظاہر ہے تو میں اس ظاہر شدہ حصہ کو کسی کے لیے حلال نہیں کرتی اور اس قبیح فعل کی توجیہ یوں نقل کی گئی ہے کہ وہ کہا کرتے تھے کہ کپڑے پہن کر ہم روز مرہ گناہ کرتے ہیں، پھر انہی کپڑوں میں الله تعالیٰ کے پاک گھر کا طواف کیسے کریں؟ نیز ہم کپڑے پہن کر فی الجملہ دنیا دار ہوتے ہیں او ررب العزت کے گھر کا طواف ہم دنیا کی تمام الائشوں سے پاک ہو کر کیوں نہ کریں؟ مگر آپ نے دیکھا کہ خدا تعالیٰ نے (قرآن کریم میں ) اورجناب نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے ان کے اس باطل اور بیہودہ تصوف کی کیسی خبر لی؟ اور کس طرح 8ھ میں جب مکہ مکرمہ فتح ہوا تو جناب نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے ایام ِ حج میں یہ اعلان کروایا کہ خبردار آج کے بعد کوئی مشرک اور کوئی برہنہ طواف نہیں کرسکتا۔ (بخاری:1/220) صدیوں کی بدعت الله تعالیٰ کے پیارے رسول صلی الله علیہ وسلم نے یوں ختم کی۔

حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمة الله علیہ نے کیا ہی پتہ کی بات ارشاد فرمائی ہے:”أما بعد أوصیک بتقویٰ الله والاقتصاد فی أمرہ واتباع سنة نبیہ صلی الله علیہ وسلم وترک ما أحدث المحدثون بعد ماجرت بہ سنتہ وکفوا مؤنتہ فعلیک بلزوم السنة، فإنھا لک بإذن الله عصمة․ ثم اعلم انہ لم یبتدع الناس بدعة إلاقد مضی قبلھا ماھو دلیل علیھا أو عبرة فیھا؛ فإن السنة إنما سنھا من قد علم ما فی خلافھا من الخطا والزلل والحمق والتعمق، فارض لنفسک مارضي بہ القوم لأنفسھم؛ فإنھم علی علم وقفوا وببصر نافذ کفوا ولھم علی کشف الأمور کانوا أقویٰ وبفضل ماکانوا فیہ أولیٰ، فإن کان الھدی ما أنتم علیہ لقد سبقتموھم الیہ“․ (ابوداؤد:2/277)

ترجمہ: اما بعد! میں تجھے خدا تعالیٰ سے ڈرنے او راس کے حکم میں میانہ روی اختیار کرنے او راس کے نبی صلی الله علیہ وسلم کی سنت کی اتباع کرنے کی وصیت کرتا ہوں اور یہ وصیت کرتاہوں کہ اہل بدعت نے جو بدعتیں ایجاد کی ہیں ان کو ترک کرنا جب کہ سنت اس سے قبل جاری ہے اور سنت کی موجودگی میں بدعت کے ایجاد کرنے کی کیا مصیبت ہے؟ سنت کو مضبوطی سے پکڑنا، کیوں کہ خدا تعالیٰ کے حکم سے سنت حفاظت کا ذریعہ ہے اور جان لے کہ لوگوں نے جو بدعت ایجاد کی ہے اس سے قبل ہی وہ چیز گزر چکی ہے جو کہ اس پر دلیل ہوسکتی تھی یا اس پر عبرت ہوسکتی تھی، کیوں کہ سنت ان پاک نفوس کی طرف سے آئی ہے جنہوں نے اس کے خلاف خطا، لغزش، حماقت اور تعمق کو بغور دیکھ لیا تھا او راس کو اختیار نہ کیا۔ تو بھی صرف اس چیز پر راضی رہ جس پر قوم راضی ہوچکی ہے، کیوں کہ انہوں نے نے علم پر اطلاع پائی اور دور رس نگاہ سے دکھ کر بدعت سے اجتناب کیا اور البتہ وہ معاملات کی تہہ تک پہنچنے میں قوی تر تھے او رجس حالت پر وہ تھے وہ افضل تر حالت تھی۔ سو اگر ہدایت وہ ہے جس پر تم گام زن ہو تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ تم ان سے فضیلت میں بڑھ گئے۔

حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ الله کا ارشاد واضح ہے کہ سنت جناب ِ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم او رآپ صلی الله علیہ وسلم کے حضرات صحابہ کرام کا بتلایا ہوا اور متعین کیا ہوا طریقہ ہے۔سنت کے خلاف جو بدعت تھی اس طریقہ پر ان کی نگاہ اٹھی ہے۔ مگر انہوں نے اسے ہر گز اختیار نہیں کیا اور آج جو دلائل اہل بدعت پیش کرتے ہیں بعینہ یہ دلائل اُس وقت بھی موجود تھے مگر نہ تو اُن کو اِن دلائل سے بدعت کا جواز معلوم ہوا اور نہ ان میں ان کے نزدیک کوئی آنکھ کو بھانے والی عبرت ہی نظر آئی۔ پھر کیا وجہ ہے کہ آج ان دلائل سے بدعت کا جواز اور ثبوت مل سکتا ہے اور اس وقت نہ مل سکا؟ لہٰذا تم اس چیز کو پسند کرو جس کو وہ پسند کرچکے ہیں۔ وہ بڑی فضیلت کے مالک اور دوررس نگاہ رکھنے والے تھے اور ہدایت ِ مستقیمہ پر تھے۔ پھر اگر آج یہ بدعات جائز اور کار ثواب ہیں تو اس کا یہی مطلب نکلے گا کہ ہم علم وتقوی میں، دیانت وہدایت میں ان سے سبقت لے گئے ہیں کہ یہ عبادات اور طاعات ان کو باوجود عمدہ ہونے کے نہ سوجھیں او رہمیں دست یاب ہو گئیں۔ (العیاذ بالله تعالیٰ)

علامہ شاطبی رحمہ الله تحریر فرماتے ہیں:
”إنک لا تجد مبتدعا ممن ینسب إلی الملة إلا ھو یستشھد علی بدعتہ بدلیل شرعي فینزلہ علی ماوافق عقلہ وشھوتہ“․ (الاعتصام:1/171)

تم کسی ایسے مبتدع کو نہ پاؤگے جو کہ ملت سے وابستگی کا مدعی ہو، مگر یہ کہ وہ اپنی بدعت پر کسی شرعی دلیل سے ضرور استشہاد کرتا اور اس طریق سے وہ اس کو اپنی عقل اور خواہش کے مطابق بنا لیتا ہے۔

اور حضرت مجدد الف ثانی رحمہ الله ارقام فرماتے ہیں:” زیراکہ ہر مبتدع وضال عقائد فاسدہ خود را بزعم فاسد خود از کتاب وسنت اخذ می کند، پس ہر معنی از معانی مفہومہ ازینہا معتبرنہ باشد“․ (مکتوبات حصہ سوم، مکتوب:193)

کیوں کہ ہر بدعتی اور گم راہ اپنے فاسد عقائد کو اپنے فاسد خیال کے مطابق کتاب وسنت سے اخذ کرتا ہے، لیکن ہر معنی معانی مفہومہ میں سے حجت او رمعتبر نہیں ہو سکتا۔

ان عبارات سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ ہر مبتدع اور گم راہ جو ملت ِ اسلام سے وابستگی کا دعویٰ کرتا ہے اپنے باطل اور فاسد عقائد اور خود تراشیدہ بدعات پر کتاب وسنت سے تسکین قلب یا الزام خصم کے لیے ضرور دلائل تلاش کرتا ہے او ران دلائل کو اپنی نارسا عقل اوراپنی خواہش کی زنجیروں میں جکڑنے کی کوشش کرتا ہے، مگر اس کا قرآن اور حدیث کا نام لے کر خود فریبی میں مبتلا ہونا اور لوگوں کو مغالطہ میں ڈالنا کسی طرح صحیح نہیں، نہ اس کی سمجھ درست ہے او رنہ ہی قرآن کریم اور حدیث شریف سے اس کی پیش کردہ دلیل ہی صحیح ہے۔ کیوں کہ یہی دلائل حضرات صحابہ کرام رضوان الله علیہم اجمعین اور تابعین اور تبع تابعین کے سامنے بھی تھے، مگر ان کو یہ فاسد عقائد اور خود تراشیدہ بدعات اور رسوم ان سے سمجھ نہ آسکے۔ تو پھر کیا وجہ ہے کہ آج ان سے یہ عقائد باطلہ اور بدعات ِ فاسدہ ثابت ہوں؟!

حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ الله نے منکرین تقدیر کے ایک مغالطے کو ( کہ قرآن کریم میں ایسی آیات بھی موجود ہیں جن سے تقدیر تک کی نفی معلوم ہوتی ہے ) دور کرنے کے لیے یہ ارشاد فرمایا کہ :”لقد قرؤا منہ ما قرأتم، وعلموا من تاویلہ ما جھلتم، وقالوا بعد ذلک کلہ بکتاب وقدر“․(ابودادؤ:2/278)

یعنی حضرات صحابہ کرام وتابعین اور سلف ِ صالحین نے یہ آیتیں بھی پڑھی ہیں جن کو تم پڑھتے ہو، لیکن وہ ان کے مطلب کو سمجھے ہیں او رتم نہیں سمجھے او رانہوں نے یہ سب آیات پڑھنے کے باوجود تقدیر کا اقرار کیا ہے۔

مطلب واضح ہے کہ اگر تمہاری طرف سے پیش کردہ آیات کا وہی مفہوم ہوتا جو تم پیش کرتے ہو تو یہ آیات حضرات صحابہ کرام او راہل خیر القرون کے سامنے بھی تو تھیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ ان آیات سے ان کو یہ مطلب سمجھ نہ آسکا او رتم اس مطلب کو سمجھ گئے؟! کیسے باور کر لیا جائے کہ تم حق پر ہو اور وہ باطل پر تھے؟! حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمہ الله (المتوفی1239ھ) نے کیا ہی فیصلہ کن بات ارشاد فرمائی ہے :” ومیزان در معرفت حق وباطل فہم صحابہ وتابعین است چناں چہ این جماعت از تعلیم آنحضرت صلی الله علیہ وسلم بانضمام قرائن حالی و مقالی فہمیدہ اند در آں تخطیہٴ ظاہر نکردہ واجب القبول است الی ان قال اگر برخلاف قرنِ اول حمل میکند پس دربدعت أو ملاحظہ باید نمود، اگر مخالفت اولہ قطعیہ یعنی نصوص متواترہ واجماع قطعی ست او راکافر باید شمرد اگر مخالفت اولہ ظنیہ قریبة الیقین أست مانند اخبار مشہورہ واجماع عرفی گمراہ توان فہمیدہ دون الکفر“․(فتاوی عزیزی ج:1/156)

حق اور باطل کے سمجھنے کے لیے میزان اور معیار حضرات ِ صحابہ کرام اور تابعین کا فہم ہے، جو کچھ اس جماعت نے آں حضرت صلی الله علیہ وسلم کی تعلیم سے حالی او رمقالی قرائن کے انضمام کے ساتھ سمجھا ہے جب کہ اس فہم میں خطاظا ہر نہ کی گئی ہو تو وہ فہم واجب القبول ہے ( پھر آگے فرمایا) اگر قرون اولیٰ کے خلاف کسی بدعتی نے کوئی مفہوم لیا تو اس کی بدعت کو ملاحظہ کرنا ہو گا، اگر اس کا متعین کردہ مفہوم کسی قطعی دلیل مثلاً نصوص متواترہ اور اجماع قطعی کے خلاف ہے تو ایسے بدعتی کو کافر شمار کرنا چاہیے او راگر یہ مخالفت ظنی دلائل کی ہے، جو کہ یقین کے قریب ہیں، مثلاً اخبار ِ مشہورہ اور اجماع ِ عرفی تو ایسے بدعتی کو گم راہ سمجھنا چاہیے، نہ کہ کافر۔

ان عبارات سے چند امور نہایت وضاحت سے ثابت ہوتے ہیں:
یہ کہ کوئی بدعتی اور گم راہ محض دعویٰ کرکے ہی خاموش نہیں ہوجاتا، بلکہ وہ اپنے اس دعویٰ پر دلائل پیش کیا کرتا ہے۔

دلائل بھی محض عقلی نہیں، بلکہ قرآنِ کریم او راحادیث سے وہ اپنے مز عوم پر دلائل لاتا ہے۔

مگر قرآنِ کریم اور احادیث سے جو کچھ اس نے سمجھا ہے وہ ہر گز صحیح نہیں ہے ۔

اس لیے کہ یہی قرآن وحدیث حضرات صحابہ کرام اور تابعین وغیرہ اور سلفِ صالحین کے سامنے بھی تھے، مگرانہوں نے ان سے یہ مفہوم نہیں سمجھا جو اہل ِ بدعت سمجھتے ہیں۔

قرآن ِ کریم اور حدیث کا صحیح مفہوم صرف وہی ہو گا جو حضرات صحابہ کرام او رتابعین نے سمجھا ہے۔

اہل ِ بدعت کا پیش کردہ مفہوم اگر دلائل ِ قطعیہ کے خلا ف ہے تو کفر ہو گا او راگر ظنی دلائل کے خلاف ہے تو بدعت اور گم راہی ہو گا۔

بلکہ حضرت شاہ ولی الله صاحب رحمہ الله فرماتے ہیں جو شخص اس زبان سے ناواقف ہے جس میں قرآن کریم نازل ہوا تھا او راسی طرح جو شخص آں حضرت صلی الله علیہ وسلم، حضرات صحابہ کرام اور تابعین کی منقول تفسیر کو نہیں جانتا تو اس کے لیے فن تفسیر میں سرے سے دخل دینا ہی حرام ہے۔ چناں چہ فرماتے ہیں :”أقول یحرم الخوض في التفسیر لمن لا یعرف اللسان الذی نزل القرآن بہ والماثور عن النبي صلی الله علیہ وسلم وأصحابہ والتابعین من شرح غریب وسبب نزول وناسخ ومنسوخ․“ (حجة الله البالغہ:1/172)

میں کہتا ہوں کہ جو شخص اس زبان سے ناواقف ہو جس میں قرآن کریم نازل ہوا تھا او راسی طرح جو شخص غریب لفظ اور شان ِ نزول اور ناسخ ومنسوخ سے بے خبر ہو جوآں حضرت صلی الله علیہ وسلم ،حضرات صحابہ رضی الله عنہم اور تابعین سے منقول ہے تو ایسے شخص کے لیے تفسیر میں دخل دینا ہی حرام ہے ۔ (حجة البالغہ:1/172)

اور اہل ِ بدعت کی اپنی بدعت کی تائید میں ہر تفسیر نہ صرف یہ کہ آں حضرت صلی الله علیہ وسلم او رحضرات صحابہ کرام وتابعین سے منقول وماثور ہی نہیں ہوتی، بلکہ اس کے بالکل خلاف ہوتی ہے اور لطف یہ کہ وہ بھی محض خود تراشیدہ اور خود ساختہ اور ایسے ہی خود تراشیدہ افراد کی تفاسیر نے امت ِ مرحومہ کا شیرازہ بکھیر کر انہیں گم راہ کر دیا ہے۔ سچ ہے #
        ایں چنیں ارکان ِ دولت ملک را ویراں کند

اگر کوئی تفسیر منقول اور ماثور بھی وہ پیش کرتے ہیں تو اس کی بنیاد بھی موضوع، معلول، شاذ اور منکرو ضعیف وغیرہ روایات اور آثار پر قائم کی جاتی ہے اور صحیح تفاسیر سے عمداً اغماض کیا جاتا ہے او رکوئی روایت سند کے لحاظ سے صحیح ہوتی ہے تو اس کا معنیٰ غلط لیا جاتا ہے اور یہی کچھ وہ قرآنِ کریم سے کرتے ہیں کہ اپنے باطل عقائد اور آراء کو اس میں د خل دیتے ہیں ۔ چناں چہ امام سیوطی رحمہ الله (المتوفی911ھ) لکھتے ہیں:
”مثل طوائف من أھل البدع اعتقدوا مذاہب باطلة وعمدوا إلی القرآن فتأولوہ علیٰ رأیھم ولیس لھم سلف من الصحابة والتابعین لا في رأیھم ولا في تفسیرھم ولا في تفسیرھم“․

جیسے اہل ِ بدعت کے مختلف گروہوں نے باطل اعتقادات قائم کر لیے اور قرآن ِ کریم سے اپنی باطل آراء سے استدلال کرکے اپنی مرضی پر اس کو ڈھا لا، حالاں کہ حضرات ِ صحابہ اور تابعین میں ان کا کوئی بھی پیش رو نہیں، نہ رائے میں اور نہ تفسیر میں۔

پھر آگے تحریر فرماتے ہیں:”وفي الجملة من عدل عن مذاھب الصحابة والتابعین وتفسیرھم إلیٰ ما یخالف ذلک کان مخطئا في ذلک بل مبتدعا لأنھم کانوا أعلم بتفسیرہ ومعانیہ کما أنھم أعلم بالحق الذی بعث الله بہ رسولہ․“ (الاتقان:2/178، طبع مصر)

حاصل کلام یہ ہے کہ جس نے حضرات ِ صحابہ کرام اور تابعین کے مذاہب او ران کی تفسیر سے اعراض کیا او راس کے خلاف کو اختیار کیا تو وہ شخص خطا کار بلکہ مبتدع ہو گا، کیوں کہ حضرات صحابہ کرام اور تابعین قرآنِ کریم کی تفسیر او راس کے معانی کو زیادہ جانتے تھے، جیسا کہ وہ اس حق کوزیادہ جانتے تھے جو الله تعالیٰ نے رسول ِ برحق ( صلی الله علیہ وسلم ) کے ذریعہ بھیجا تھا۔

یہی علامت ہے غلط مذہب کی کہ اس کی بنیاد غلط روایت اور بے بنیاد روایت پر رکھی جاتی ہے۔ اگر اہل ِ بدعت حضرات صرف اسی اصول کو اچھی طرح سمجھ لیں تو ان کو جملہ محدثات او ربدعات پر دورازکار دلائل پیش کرنے سے یقینا رست گاری حاصل ہو جائے۔
        من آنچہ شرط بلاغ است با تو میگویم
        تو خواہ ازیں سخنم پند گیر خواہ ملال