بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

کسب حلال ومعاملات کے بارے میں ہدایات وسنتیں

کسب حلال ومعاملات کے بارے میں ہدایات وسنتیں

مولانا عبدالشکور قاسمی

حضرت مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کبھی کسی نے اپنے ہاتھ کی محنت کی روزی سے بہترکوئی کھانا نہیں کھایا۔ اور اللہ تعالیٰ کے نبی حضرت داوٴد علیہ السلام اپنے ہاتھوں کی محنت سے کمائی ہوئی روزی کھاتے تھے ۔

ہاتھ کی کمائی سب سے بہتر روزی ہے
کسب، یعنی اپنی روزی خود پیدا کرنا، انبیاء علیہ السلام کی سنت ہے۔ جو شخص کسی کسب، مثلاً تجارت، زراعت وغیرہ کا پیشہ اختیار کرے، اس پر فرض ہے کہ وہ صرف حلال اور جائز مال کمائے۔ حرام سے کلیةً اجتناب کرے ، اور اپنے پیشے اور ہنر میں احکامِ شریعت بہر صورت ملحوظ رکھے۔ نیز اپنے پیشے وغیرہ میں تمام تر محنت اور جدوجہد کے باوجود، صرف اللہ کی ذات پر توکل اور اعتماد رکھے، کہ رازقِ مطلق صرف اللہ تعالیٰ ہے اور کسبِ محض ایک ظاہر وسیلہ کے درجہ کی چیز ہے۔ اپنے پیشے و کسب کو رازق نہ سمجھے،کیوں کہ یہ شرکِ خفی ہے۔

کسب یعنی کمانا، اس کے چار درجہ ہیں
فرض: اتنا کمانا فرض ہے، جس سے اپنی اور اہل و عیال کی معاشی ضروریات پوری ہوجائیں۔
مستحب: اس نیت سے کمانا مباح ہے کہ اپنی اور اہل و عیال کی ضروریات سے جو کچھ بچے گا،وہ فقراء ومساکین اور مستحق اقربا پر خرچ کرے گا۔
مباح: ضروریات زندگی سے زیادہ کمانا، اس صورت میں مباح ہے جب کہ نیت جائز آسائش کا حصول، اور اپنے وقار کو قائم رکھنا مقصود ہو۔ ریا، دکھلاوا اور ناموری مقصود نہ ہو۔
حرام: یعنی محض مال ودولت جمع کر کے، فخر وتکبر کا اظہار کرنے کے لیے کمانا حرام ہے، اگر چہ حلال ذرائع سے ہی کیوں نہ کمایا جائے۔ کمانے والے کے لیے ضروری ہے کہ اپنی کمائی کو اپنے اہل وعیال پر اس طرح خرچ کرے کہ نہ اسراف میں مبتلا ہو اور نہ بخل کرے۔

قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
اے ایمان والو! تم صرف وہی پاکیزہ اور حلال رزق کھاوٴ، جو ہم نے

تمہیں عطا کیا اور شکر ادا کرو اللہ تعالیٰ کا، اگر تم اس کے بندے ہو۔

حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی  نے اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں یہ لکھا ہے کہ سب سے بہتر کسب جہاد ہے۔ بشرطیکہ جہاد کے ارادے کے وقت مال وغنیمت کے حصول کا خیال دل میں قطعاً نہ ہو، بلکہ نیت میں اخلاص ہو(کہ جو مال غنیمت حاصل ہو، وہ سب سے بہتر رزق ہے)۔ اس کے بعد تجارت کا درجہ ہے۔ تجارت ملکی ہو یا غیر ملکی جو مسلمانوں کی ضروریات کو شامل ہو۔ اس قسم کی تجارت کرنے والا اگر حصول منفعت کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی خدمت کی نیت بھی رکھے، توا س کی تجارت عبادت کی ایک صورت بن جائے گی۔

تجارت کے بعد زراعت کا درجہ ہے۔ زراعت کا پیشہ بھی دنیاوی منفعت کے علاوہ اجروثواب کا ایک بڑا ذریعہ بن سکتا ہے، بشرطیکہ اس میں اللہ تعالیٰ کی رحمت پر توکل واعتماد ہو۔ اس کے بعد لکھتے ہیں کہ کتابت کا پیشہ بھی بہتر درجہ رکھتا ہے، کیوں کہ اس پیشہ میں نہ صرف یہ کہ دین کی خدمت ہوتی ہے، بلکہ دینی علوم، شرعی احکام، انبیاء علیہم السلام اور بزرگوں کے احوال بھی یاد ہوتے ہیں۔

آج کل تجارت ومعیشت کا باب انتہائی وسیع ہوچکا ہے اور مزید پھیلتا جارہا ہے، لہٰذا ایک مسلمان کے لیے بھی کسی خاص تجارت کی کوئی پابندی نہیں ہے، بلکہ ہر وہ تجارت ومعیشت، جو خدا اور رسول کے تابع ہو، اور ان کی یاد سے غافل نہ کرنے والی ہو، جائز ہے۔ جس تجارت وحرفت میں مشغول ہو اور اس سے اس کی ضروریات پوری ہو جاتی ہوں، تو اس پر قناعت کرے۔ اس کی موجودگی میں دوسری تجارتوں اور دوسرے کاروبار کے ذریعہ زیادہ کمانے کی حرص نہ رکھے۔ بلکہ اپنے بقیہ اوقات کو آخرت کی بھلائیوں کو حاصل کرنے میں صرف کرے۔ کیوں کہ صرف اس فانی دنیا کی راحت وتعیش کے حصول میں ہمہ وقت لگے رہنا اور آخرت کی ابدی سعادتوں سے بے پرواہ ہو جانا عقل ودانش سے بعید تر بات ہے۔

تجارت وکاروبار سے متعلق ہدایات وسنتیں
∗…حضرت سالم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک روز حضرت عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہ بازار سے گذرے تو نماز کا وقت ہوگیا۔ لوگوں کو دیکھا کہ دکانیں بند کر کے مسجد کی طرف جا رہے ہیں، تو فرمایا کہ انہیں لوگوں کے بارے میں قرآن مجید کا یہ ارشاد ہے:
یعنی وہ لوگ جو نہیں غافل ہوتے ، سودا کرنے میں اور نہ بیچنے میں اللہ کی یاد سے۔

امام بخاری رحمہ اللہ نے حضرت ابو قتادةرضی اللہ عنہ کا قول نقل کیا ہے کہ صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم تجارت اور خرید وفروخت کیا کرتے تھے، مگر جب اللہ تعالیٰ کا کوئی فرض آپڑتا تو کوئی خرید وفروخت ان کو اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل نہ کرتی ، یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرتے۔ اس سے معلوم ہوا کہ صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم زیادہ تر تجارت پیشہ یا صنعت پیشہ تھے، کیوں کہ تجارت وبیع کی وجہ سے اللہ جل شانہ کی یادسے غافل نہ ہونا، انہی لوگوں کا وصف ہوسکتا ہے جن کا مشغلہ تجارت وبیع ہو۔

∗…آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص پر اپنی رحمت نازل فرمائے، جو بیچنے میں اور خریدنے میں اور تقاضا کرنے میں نرمی کرے۔

∗…حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:” اپنی تجارتی زندگی میں زیادہ قسمیں کھانے سے پرہیز کرو، کیوں کہ تجارتی معاملات میں زیادہ قسمیں کھانا(ظاہراً تو)کاروبار کو رواج دیتا ہے، مگر برکت کھودیتا ہے“۔

فائدہ: یعنی لوگ قسم پہ اعتبار کر کے خریداری کی طرف مائل ہوں گے، لیکن جس شخص کو زیادہ قسمیں کھانے کی عادت ہوگی، تو اس سے جھوٹی قسموں کا صدور ہونے لگے گا، جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ایک تو باطنی طور پر اس کی تجارت کی خیر وبرکت نکل جائے گی، دوسرے اس کا اعتبار آہستہ آہستہ اٹھ جائے گا۔

∗…حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں پر ایک ایسا وقت آئے گا کہ آدمی کو جو ملے گا، وہ اس کی پروا نہیں کرے گا کہ یہ حلال ہے یا حرام۔

فائدہ : یہ قرب قیامت کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔ اس بات سے کو ن انکار کر سکتا ہے کہ یہ پیش گوئی آج کے اس دور میں پوری طرح صادق ہے؟ آج ایسے کتنے لوگ ہیں جو حلال وحرام کے درمیان تمیز کرتے ہیں؟ ہر شخص مال ودولت بٹورنے کی ہوس میں مبتلا ہے۔ مال حلال ہے یا حرام! اس کی کوئی پروا نہیں۔

دعا کے دو بازو ہیں: ایک حلال کھانا، دوسرا سچ بولنا
∗…حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ ( تمام عیوب سے) پاک ہے۔ اس پاک ذات کی بارگاہ میں صرف وہی (اعمال) مقبول ہوتے ہیں جو(شرعی عیوب سے) پاک ہوں۔“نیز اللہ تعالیٰ نے جس چیز کا حکم اپنے رسولوں کو دیا ہے، اس چیز کا حکم تمام موٴمنوں کو بھی دیا ہے۔ چناں چہ

ارشاد باری تعالیٰ ہے:
اے رسولو !حلال روزی کھاوٴ اور نیک اعمال کرو۔ نیز اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اے ایمان والو! صرف وہ پاک اور حلال رزق کھاوٴ، جو ہم نے تمہیں عطا کیا۔

پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (بطور مثال کے) ایک شخص کا حال ذکر کیا کہ وہ طویل سفر اختیار کرتا ہے، پرا گندہ بال اور غبار آلود حالت میں اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھاتا ہے اور کہتا ہے اے میرے رب! اے میرے رب! اے میرے رب! حالاں کہ کھانا اس کا حرام، لباس اس کا حرام، اور پرورش اس کی حرام غذا سے ہوئی ، پھر کیونکر اس کی دعا قبول ہوسکتی ہے؟!“

فائدہ: مثلا ً ایک شخص حج اور دیگر عبادات کے لیے طویل سفر کرتا ہے اور مقامات مقدسہ جاتا ہے، جہاں مانگی جانے والی ہر دعا باب قبولیت تک پہنچتی ہے، پھر وہ دست سوال اٹھاتا ہے اور سفر کی طوالت ومشقت کی وجہ سے بال پرا گندہ اور پورا جسم گرد وغبار سے آلودہ ہے، یعنی ایک تو وہ عبادت گزار، پھر وہ مسافر…جس کے بارے میں حدیث میں ہے کہ اس کی دعا قبولیت کوچھوتی ہے…مزید یہ کہ اس جگہ دعا مانگ رہا ہے جہاں مانگی جانے والی ہر دعا کی لاج رکھی جاتی ہے، الغرض قبولیت کے سارے آثار موجود ہیں، مگر اس شخص کی دعا قبول نہیں ہوتی ، آخر کیوں؟ اس لیے کہ جس ذات سے وہ مانگ رہا ہے، وہ جانتا ہے کہ یہ شخص حرام مال سے پرہیزنہیں کرتا، کیوں کہ دعا کے دو بازو ہیں( جن کے سہارے وہ باب قبولیت تک پہنچتی ہے) ایک تو حلال کھانا اور دوسرا سچ بولنا۔

∗…آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بیچنے والا اور خریدنے والا دونوں کو اختیار حاصل رہتا ہے، جب تک کہ وہ جدانہ ہوں اور جب بیچنے والا اور خریدنے والا سچ بولتے ہیں اور (اس چیز اور قیمت میں جو عیب ونقص ہوتا ہے اس کو) ظاہر کردیتے ہیں(تاکہ کسی کو دھوکہ وفریب کا دخل نہ رہے) تو ان کی خرید وفروخت میں برکت عطا کی جاتی ہے اور جب وہ عیب چھپاتے ہیں اور جھوٹ بولتے ہیں تو ان کی خرید وفروخت میں برکت ختم کردی جاتی ہے۔

∗…حضرت معمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص احتکار کرے( یعنی گراں فروشی کی نیت سے غلہ کی ذخیرہ اندوزی کرے) وہ گناہ گار ہے۔ یعنی ہر ایسی چیز کو جو انسان یا حیوان کی غذائی ضرورت میں کام آتی ہو، گراں بازاری کی حالت میں خرید کر اس نیت سے اپنے پاس روکے رکھے کہ جب اور زیادہ گرانی ہوگی تو اسے بیچوں گا، یہ احتکار کہلاتا ہے۔ ایک حدیث میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تاجروں کو رزق دیا جاتا ہے، اور احتکار کرنے والا ملعون ہے۔

یعنی جو شخص باہر سے غلہ وغیرہ لاتا ہے کہ اسے موجودہ نرخ پر فروخت کرے، تو اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے رزق دیا جاتا ہے، جس میں برکت عطا کی جاتی ہے۔ برخلاف اس کے جو اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی پریشانیوں اور غذائی قلت سے فائدہ اٹھا کر غلہ وغیرہ کی ذخیرہ اندوزی کرے ، تو یہ شخص خیروبھلائی سے محروم ہے اور اسے برکت بھی حاصل نہیں ہوتی۔

∗… سلم ایک طرح کی بیع کا نام ہے، جس میں خریدی جانے والی چیز بعد میں لی جاتی ہے اور قیمت پہلے ادا کردی جاتی ہے۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہٴ منورہ تشریف لائے تو اہل مدینہ پھلوں میں ایک سال، دو سال ، تین سال کی بیع سلم کیا کرتے تھے(یعنی پیشگی قیمت دے کر کہہ دیا کرتے تھے کہ ایک سال یا دوسال یا تین سال کے بعد پھل پہنچا دینا) چناں چہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص کسی چیز کی بیع سلم کرے اسے چاہیے کہ معین وزن اور معین مدت کے لیے سلم کرے۔

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ راوی ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی چیز کے لیے بیع سلم کا معاملہ کرے، تو اس چیز کو قبضہ میں کرنے سے پہلے کسی دوسری کی طرف منتقل نہ کرے۔

چیز جب تک اپنے قبضہ میں نہ آجائے، اسے کسی دوسرے کے ہاتھ فروخت نہ کرے اور نہ ہبہ کرے۔ اسی طرح اس چیز کو کسی دوسری چیز سے نہ بدلے، یعنی جس چیز کی بیع سلم ہوئی ہے، معاملہ کے مطابق اسی کو لے اور جب اپنے قبضہ میں نہ آجائے ، اس کے بدلے میں کوئی دوسری چیز لینا، فروخت کرنا یا تبدیل کرنا، درست نہیں۔