بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

کرپشن قوموں کی بربادی کا سبب

کرپشن قوموں کی بربادی کا سبب

محترم سجاد سعدی

قرآن کریم نے جن نافرمان قوموں کی بربادی وہلاکت کی عبرت ناک داستان بیان کی ہے ان میں حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم بھی ہے ،جس کی تباہی کی سب سے بڑی وجہ کفر وشرک کے بعد اس میں پائے جانے والی کرپشن ،غبن، ناپ تول میں کمی اور خیانت ہے۔ جلیل القدر پیغمبر علیہ السلام ایک طویل عرصے تک حق واصلاح احوال کی صدا لگاتے رہے اورانہیں بار بار بد عنوانی وکرپشن کی وبا سے نکلنے اور بچنے کی تلقین کرتے رہے۔ وہ فرماتے رہے:”اے میری قوم ! ناپ تول کو مکمل انصاف کے ساتھ پورا کرکے دیا کر واور لوگوں کی چیزوں میں کمی ( اور کرپشن) نہ کرو اور زمین میں فسا دپھیلاتے نہ پھرو“۔ (سورہ ہود) لیکن سرکشی میں مبتلا قوم پر ان پیغامبرانہ صداؤں کا کوئی اثر نہ ہوا، اس قوم کے رگ وریشے میں خیانت وکرپشن اس طرح پیوست ہو گئی تھی کہ اصلاح ِ حال کی یہ صدائیں ان کی سمجھ میں نہیں آرہی تھیں، وہ جواب میں کہتی رہی”اے شعیب! تمہاری اکثر باتیں ہم سمجھ نہیں پاتے۔“ جب وہ کسی طرح نہیں سدھرے اور مہلت کا عرصہ تمام ہوا تو رب کی طرف سے پکڑ آئی اورایک چیخ نے سرکشوں کو صفحہ ہستی سے یوں مٹا دیا جیسے وہ ان بستیوں میں کبھی آباد ہی نہ تھے۔ اعاذنا الله منہ

عصر حاضر میں کئی ایک سماجی برائیاں نسل انسانی کو گھن کی طرح چاٹ رہی ہیں۔ ان سماجی برائیوں میں سر فہرست جس نے نسل انسانی کو نقصان پہنچایا ہے وہ کرپشن کا ناسور ہے۔ کرپشن کو ام الخبائث کہا جاتا ہے، کیوں کہ بے بہا برائیاں اس کی کوکھ سے جنم لیتی ہیں، کرپشن اعلیٰ اقدار کی دشمن ہے، جو معاشرے کو دیمک کی طرح اندر سے چاٹ کر کھوکھلاکردیتی ہے۔ یہ بات روز ِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ قوموں کی تباہی میں مرکزی کردار ہمیشہ کرپشن کا ہی ہوتا ہے، چاہے وہ کسی بھی صورت میں ہو، جس قوم میں جتنی زیادہ کرپشن ہوگی وہ اتنی ہی جلد بربادی کے گڑھے میں گرے گی، اگر کسی قوم میں کرپشن سرایت کر جائے تو وہ اپنی شناخت وساخت اور مقام ومرتبہ سے یوں ہاتھ دھو بیٹھتی ہے جیسے کوئی بلند مقام کبھی اس قوم کوملا ہی نہیں تھا۔

اسی طرح اگر کسی ملک کے مالیاتی نظا م میں بد دیانتی، خیانت اور بے ایمانی سرایت کر جائے تو وہاں دولت کی عادلانہ تقسیم ممکن نہیں رہتی۔ اگر سرکاری کارندے اور افسران بدعنوانی میں ملوث ہو جائیں تو ملکی خزانہ غلط طور پر استعمال ہونے لگتا ہے۔ غیر حق دار لوگ تو ناجائز ذرائع سے سب کچھ لے جاتے ہیں، لیکن حق دار محروم رہ جاتے ہیں۔ ملکی آمدنی عوام تک نہیں پہنچ پاتی۔ عوام سرکاری خزانے اور قومی آمدنی سے مستفید نہیں ہو پاتے۔ سرکاری افسران تو بہت امیر ہوتے جاتے ہیں، لیکن عوام کے حصے میں غربت ہی آتی ہے۔ ملکی خزانہ تو خالی ہوجاتا ہے لیکن ملک غریب اور سرکاری افسران امیر ہو جاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ملکی اخراجات چلانے کے لیے ملک سرمایہ دار ملکوں کا مقروض ہو جاتا ہے اور یہ سرمایہ دار ممالک اکثر اوقات ایسی شرم ناک شرائط کے ساتھ قرض دیتے ہیں کہ ملک سود در سود ادا کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے، بلکہ بعض اوقات یہ شرائط ملکی سلامتی کے سراسر مخالف ہوتی ہیں،کرپشن ایک طرف ملک کے اندر دولت کی تقسیم کو غیر عادلانہ بناتی ہے تو دوسری طرف سرکاری خزانہ عوام کی بجائے با اثر لوگوں کے ہاتھوں میں چلا جاتا ہے۔ وہاں پوری قوم اخلاقی طور پر بدعنوانی کے مرض میں مبتلا ہوجاتی ہے۔ لوگ یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ رشوت کے ذریعے ہر کام ممکن ہو سکتا ہے۔ پوری قوم کی اخلاقی حس مردہ ہو جاتی ہے۔ ہر طرف بد عنوانی کی فضا چھا جاتی ہے۔ لوگ رشوت دے کر ہر جائز وناجائز کام کروا لیتے ہیں اور سرکاری کارندے رشوت کے بغیر کوئی کام نہیں کرتے۔

اگر ہم اس سنگین مسئلے کے حل کے لیے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کی طرف دیکھتے ہیں تو ہمیں بڑا واضح او رقابل عمل مؤثر ضابطہ ملتا ہے۔ آپ کی حکمت عملی کی بنیاد قرآن کریم کی تعلیمات تھیں، جن میں ہمیں حلال وحرام کی تمیز سکھائی گئی ہے اور حرام خوری کے وبال کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی آپ نے امانت ودیانت اور بد دیانتی کا واضح تصور پیش کیا۔ امانت داری کی فضیلت اور بد دیانتی کی نحوست کا ذکر فرمایا اوران پر لوگوں کو گام زن کروایا۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ نے لوگوں کے نفوس کا تزکیہ فرمایا۔ ان میں الله تعالیٰ کا خوف اور یوم آخرت کی مسئولیت کا احساس پیدا فرمایا کہ انسان کو اپنے ایک ایک عمل کا حساب دینا ہو گا۔ آپ نے لوگوں کو یہ احساس دلایا کہ قیامت کے دن کسی بھی شخص کو ایک قدم آگے اٹھانے کی اجازت نہیں ہو گی جب تک کہ وہ پانچ باتوں کے بارے میں جواب نہیں دے لے گا۔ ان میں ایک سوال یہ ہو گا کہ تم نے جو دولت کمائی وہ کہا ں سے اور کن ذرائع سے حاصل کی او رپھر اسے کن جگہوں پر خرچ کیا؟

اصول وضوابط خواہ کتنے ہی اچھے کیوں نہ ہوں اگر لوگوں کے دلوں میں الله کا خوف نہ ہو تو کوئی چیزا نہیں برائی اور خیانت سے روک نہیں سکتی۔ یہ بات کہی جاتی ہے کہ ڈنڈے کے زور سے آپ لوگوں کو زیادہ سے زیادہ اعلانیہ جرائم سے روک سکتے ہیں، لیکن وہ جرائم جو چھپ کر ہوتے ہیں قانون اور اختیار انہیں روک نہیں سکتا۔ اسی طرح اچھائی اور دیانت داری پر کبھی قانون مجبو رنہیں کر سکتا ،اگر دل خوف خدا سے بھرا ہوا ہو تو لوگ خود بخود اعلانیہ اور خفیہ معاملات میں جرم سے اجتناب کریں گے۔ کرپشن کے خاتمہ کے لیے جب تک معاشرے کا ہر فرد اپنا انفرادی کردارادا نہیں کرے گا تو اس کا علاج ممکن نہیں۔ محکمہ انسداد ِ رشوت ستانی کے ساتھ قدم بہ قدم تعاون کی ضرورت ہے۔ یہ امر ایک جہاد ہے۔ اس سماجی برائی کے خاتمہ کے لیے خاص کر اساتذہ کے علاوہ، علمائے کرام او رمیڈیا کا فرض عین ہے کہ وہمعاشرے میں موجود کرپشن کی حقیقت کو بے نقاب کریں۔

مختصر یہ کہ اگر ہم کرپشن کے ناسور سے صحیح معنوں میں چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے ہیں تو اسلامی نظام حیات کو اپنانا ہو گا۔ یہ وہ مکمل نظام ہے جس میں ہر مسئلے کا حل ہے،جس میں اخوت اور بھائی چارے کا درس ہے، جس میں ایک دوسرے کی پاس داری کا سبق ہے،جس میں حلال وحرام کی تمیز ہے، جس میں دوسروں کے ساتھ ہم دردی اورمحبت ہے۔ الغرض جذبہ اسلامی اپنانا ہو گا، اس لیے کہ خالق کائنات کا قانون ہی تمام مسائل کا حل ہے۔