بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

کردار کی بلندی کام یابی کا بہترین راستہ ہے

کردار کی بلندی کام یابی کا بہترین راستہ ہے

مولانا عبدالسلام قدوائیؒ

قرآن حکیم میں ہے:﴿کُنتُمْ خَیْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنکَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللَّہِ﴾ الله تعالیٰ مسلمانوں کو مخاطب کرکے فرماتا ہے کہ تم سب سے اچھی قوم ہو لیکن خیر الامم ہونے کے لیے یہ ضروری ہے کہ اغراض وخواہشات سے بلند ہو، کر تمہارے اندر خدمت خلق کا جذبہ او رخدا کے بندوں کو برائیوں سے بچا کر صحیح راستہ دکھانے کا ولولہ ہو اور اس خدمت کا خدا کے سوا اور کسی سے کوئی صلہ مطلوب نہ ہو۔ بندگان خدا کی بے غرض خدمت ایک مومن کا مقصد زندگی ہے۔ حضور صلی الله علیہ وسلم نے الخلق عیال الله کہہ کر ساری خلقت کو خدا کا کنبہ قرار دیا اور اس کی خدمت کرنے کوحسن کردار کا معیار قرار دیا۔ سردار کے لیے قوم کا خادم ہونا ضروری ہے ( سید القوم وخادمہم)․ اسی تعلیم کا اثر تھا کہ آپ صلی الله علیہ وسلم کے پیروؤں نے شروع ہی سے اس کی جانب توجہ کی۔ صحابہ کرام اور بزرگان دین کی زندگی میں بہ کثرت خدمت ِ خلق کے واقعات ملتے ہیں۔

حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ ایک بوڑھی عورت کی بکریاں دوھ دیا کرتے تھے۔ جب وہ خلیفہ ہوئے تو اس عورت کی چھوٹی بچی نے کہا اب یہ خلیفہ ہو گئے ہیں، ہماری بکریاں نہیں دو ہیں گے۔ حضرت ابوبکر رضی الله عنہ نے فرمایا کہ میں اب بھی یہ خدمت انجام دیتا رہوں گا۔ چناں چہ وہ برابر اس پر عمل کرتے رہے۔ تجارت ذریعہ معاش تھی، خلافت کے بعد لوگوں نے کہا آپ تجارت میں لگے رہیں گے تو ملک کا نظام اور رعایا کی خبر گیری کون کرے گا؟! لوگوں کے اصرار سے بیت المال سے معمولی تنخواہ لینے پر راضی ہو گئے، لیکن دل اس سے مطمئن نہ ہوا، انتقال کے وقت وصیت کی کہ میری جائیداد فروخت کرکے یہ ساری رقم بیت المال کو واپس کر دی جائے۔ وفات کے بعد حضرت عمر رضی الله عنہ کے سامنے جب معاملہ آیا تو بہت متاثر ہوئے۔ دیر تک روتے رہے اور فرمایا ابوبکر رضی الله تعالیٰ عنہ اپنے بعد والوں کے لیے بہت مشکل کر گئے۔ یہ مثال ہمیشہ ان کے سامنے رہی۔ مرتے وقت اپنے غلام کو ہدایت کی کہ یہ مکان اور املاک فروخت کرکے وہ رقم جو تنخواہ کے طور پر مجھے ملتی رہی ہے بیت المال میں داخل کر دی جائے۔ خلافت کا سارا زمانہ روکھا پھیکا اورموٹا جھوٹا پہن کر گزار دیا، غریبوں مسکینوں کی مدد کرتے رہے۔

حضرت عثمان رضی الله عنہ کی خوش حالی بہت مشہور ہے، غنی ان کے نام کا جز ہو گیا ہے، لیکن خلافت ملی تو اپنے عیش وآرام کو چھوڑ کر دوسروں کی راحت کی فکر میں لگ گئے۔ مؤرخین نے تصریح کی ہے کہ دوسرے لوگوں کو امیرانہ کھانا کھلاتے، لیکن خود سرکہ اور روغن ِ زیتون سے روٹی کھاتے تھے، ایک پیسہ بیت المال سے نہیں لیا، اپنا تجارتی سرمایہ او رجائیداد سب خدمت ِ خلق میں صرف کر دی۔

حضرت علی رضی الله عنہ کا زہد وتقویٰ ضرب المثل ہے۔ رات دن خلافت کے کاموں میں لگے رہتے تھے، ان کے دور میں کیسے کیسے فتنوں کے دروازے کھل رہے تھے، لیکن علی مرتضی رضی الله عنہ نے آخری لمحات حیات تک حق وصداقت کا علم بلند رکھا او رخدا کے بندوں کو راہ نجات دکھاتے رہے اور ان کی راحت رسانی میں لگے رہے۔

صحابہ رضی الله تعالیٰ عنہم اور بزرگان دین کی اسی بے لوث زندگی اور بے غرض خدمت کا نتیجہ تھا کہ الله تعالیٰ نے انہیں مخلوق کا محبوب بنا دیا تھا۔ جدھر وہ نکل جاتے تھے لوگ ان کے نقوش ِ قدم کو دلیل ِ راہ او ران کی خاک ِ پاکو سرمہٴ چشم بناتے تھے۔ آج بھی اس نور زندگی میں یہی تاثیر ہے، صدیاں گزر گئیں لیکن خواجہ نظام الدین اب بھی محبوب الہٰی ہیں اور ان کا آستانہ بندگان خدا کا مرکز عقیدت ہے۔

تقریباً تیس برس ہوئے ہوں گے، علی گڑھ کے قریب ایک صاحب مولوی رحمت الله رہتے تھے، بڑے مخلص اور درد مند تھے۔ جامعہ کے سنسکرت اور ہندی تھیالوجی کے استاد پنڈت حکم چند نے مجھے ان کا ایک عجیب واقعہ سنایا۔ مولوی صاحب کا تمام گھر گرستیوں کی طرح قاعدہ تھا کہ فصل کے زمانہ میں سال بھر کی ضرورت کا سامان خرید لیا کرتے تھے۔ جس سال دوسری جنگ عظیم شروع ہوئی تو وہ حسب معمول اناج خریدچکے تھے۔ جنگ کے بعد قیمتیں بڑھنے لگیں اور چند ماہ میں ایک روپے کے بیس سیر والے گیہوں چار سیر کے بکنے لگے۔ ایک دن خبر ملی کہ مولوی صاحب اپنا اناج فروخت کررہے ہیں۔ خیال ہوا کہ بڑھی ہوئی قیمت سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں، لیکن جب لوگوں نے گیہوں کے دام پوچھے تو کہا کہ ایک روپے کے بیس سیر۔ لوگ حیرت سے مولوی صاحب کو دیکھنے لگے۔ سمجھے مذاق کر رہے ہیں۔ لیکن جب مولوی صاحب نے سنجیدگی کے ساتھ بار بار یہی کہا تو ان کے ایک بے تکلف دوست نے کہا مولوی صاحب! کیا غضب کرتے ہو؟ کیا گھر لٹانے کا ارادہ ہے؟ کہنے لگے پنڈت جی! اب مجھ سے یہ گیہوں کھائے نہیں جاتے، نوالے حلق میں پھنستے ہیں، میں بیس سیر فی روپے کے بھاؤں کے کھا رہا ہوں اور میرے غریب بھائی چار سیر کے حساب سے خرید رہے ہیں، یہ فرق طبیعت کو گوارہ انہیں ہوتا، اس لیے جس طرح بیس سیر کے خریدے تھے، اسی طرح بیس سیر فی روپے کے حساب سے بیچ دیتا ہوں اور اب اپنے دوسرے بھائیوں کی طرح میں بھی چار سیر فی روپے کے حساب سے کھاؤں گا۔ اس کے بغیر طبیعت کو چین نہیں آئے گا۔ اس واقعہ کے چند برس بعد مولوی صاحب کا انتقال ہو گیا اور 1947ء کا ہول ناک زمانہ آیا مولوی صاحب کے لڑکوں نے بھی وطن چھوڑنا چاہا، مگر گاؤں والوں نے ان کے قدم پکڑ لیے اور کہا کہ گھبراؤ نہیں ،ہم تمہاری حفاظت کریں گے۔ تم مولوی رحمت الله کی اولاد ہو۔چناں چہ اس قتل وغارت گری کے زمانے میں ان کے لڑکے آرام اور حفاظت سے رہے اور ان کی طرف کسی نے آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا۔

اب ایک ٹیچر کا کردار بھی سنیے۔ لکھنؤ کے جوبلی کالج میں ایک استاد صدیقی تھے ( شاید کہیں اور ہوں) غیر مسلموں کی بہت بڑی اکثریت کے درمیان رہتے تھے! مگر ایمان داری کی بدولت سب کی آنکھوں کا تاراتھے۔ کالج کے ہزاروں روپے کا سامان ان کی معرفت خریدا جاتا تھا ،مگر کبھی ایک پیسے کا فائدہ نہیں اٹھایا۔ دکان داروں نے انتہائی کوشش کی کہ ان کی کوئی نذر قبول کر لیں، لیکن ناکام رہے۔ ان کے ایک ساتھی نے مجھے بتایا کہ ایک مرتبہ کسی بڑے دکان دار کو کسی سامان کے لیے انہوں نے ٹیلی فون کیا۔ ملازم نے فون مالک کو دیا تو مالک کھڑا ہو گیا، نوکر نے کہا بیٹھ جائیے ، دوکان دار بولا بیٹھ کیسے جاؤں؟ آدمی نہیں،بھگوان بول رہا ہے۔ میں اس شخصکو کبھی ایک پیالی چائے بھی پیش نہ کرسکا۔ ایک مزدور کا حال بھی سنیے، اجرت دو روپے زیادہ لیتا تھا، مگر متعصب سے متعصب لوگ اس کو ہرانے کی کوشش کرتے تھے او رکہتے تھے دو روپے زیادہ لیتا ہے، مگر کام چار روپے سے بھی زیادہ کا کر لیتا ہے اور پھرایمان دار ایسا کہ اگر گھر میں جواہرات پڑے ہوں تب بھی ان پر نظر نہیں ڈالتا۔

دوستو! گنتی کے پھیر میں نہ پڑو، وزن پیدا کرو، کاغذ کے سینکڑوں پرزے ہوا کے ایک جھونکے میں تتربتر ہو جاتے ہیں، مگر پتھر کی چٹان کو بڑی سے بڑی آندھی بھی نہیں ہلا پاتی۔ شکایت کی عادت چھوڑ دو، اپنا کیریکٹر بلند کرنے کی کوشش کرو، دوسروں کو بُرا کہنے میں اپنا بھلا نہیں ہے، طاقت باہر نہیں ہے، خود اپنے اندر ہے۔ آپ کے اخلاق بلند ہوں گے، دل میں خلوص اور طبیعت میں بے غرضی ہو گی تو دشمن بھی آپ سے محبت کرنے لگیں گے۔ لیکن کج خلقی اور نفس پروری دوستوں کو بھی متنفر کر دے گی۔ ذرا پیچھے پلٹ کر اپنی تاریخ کو دیکھو! تمہارے پاس ملک، سازو سامان کیا کچھ نہیں تھا اور خود غرضی اور ہوا ہوس کے ہاتھوں دانے دانے کو محتاج ہو گئے، عروج وزوال کی اس داستان سے سبق لو، دوسروں کی طرف نہ دیکھو، اپنی طرف دیکھو، اپنے اخلاق کو سنبھالو، اپنی عادت درست کرو، اپنے ایمان و اعمال صالح سے آراستہ ہو کر زندگی کے میدان میں قدم رکھو اور دنیا کو دکھا دو کہ رحمت عالم صلی الله علیہ وسلم کے نام لیوا آج بھی بند گان خدا کے لیے باعث ِ زحمت نہیں، باعث ِ رحمت ہیں۔ اگر تم نے ایسا کر لیا تو دیکھو گے کہ وقت کا دھارا کس طرح تمہارے موافق ہو جائے گا اور عزت وسرفرازی اور عروج واقبال کی متاع ِ گم گشتہ پھر تمہارے ہاتھ میں آجائے گی۔ عہد کرو کہ آج کے بعد تمہاری زندگی کا ایک نیا دور شروع ہو گا، حرص وہوا کی تاریکیوں سے نکل کر ایمان ویقین کی روشنی میں قدم آگے بڑھاؤ گے اور بے اعتدال اور بے راہ روی کے بجائے صراط مستقیم پر گام زن رہو گے۔