بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

ڈارون کا نظریہٴ ارتقا

ڈارون کا نظریہٴ ارتقا

ہر باطل فرقہ اپنی آواز کو مؤثر بنانے کے لیے بظاہر قرآن کریم ہی کی دعوت لے کر اٹھتا ہے، بالخصوص موجودہ زمانے میں یہ فتنہ بکثرت پھیل رہاہے ، اس لیے استاذ المحدثین حضرت مولانا شیخ سلیم الله خان صاحب نوّر الله مرقدہ کی دیرینہ خواہش تھی کہ قرآن کریم کی اردو میں ایسی جامع تفسیر منظر عام پر لائی جائے جس میں فرق باطلہ کے مستدلات کا تفصیلی علمی تعاقب کرکے اہلسنت والجماعت کا مؤقف واضح کر دیا جائے، چناں چہ اس مقصد کے پیش نظر جامعہ کے شعبہ دارالتصنیف میں حضرت کے افادات مرتب کرنے کا سلسلہ جاری ہے ، الله تعالیٰ اپنی توفیق سے اسے پایہٴ تکمیل تک پہنچائے ۔ آمین۔ (ادارہ)

وجہ تسمیہ آدم و حوّاء
”آدم“”أدیم“ سے ہے اور أدیم ہر چیز کے ظاہری حصے کو کہا جاتا ہے۔(3)چوں کہ اللہ رب العزت نے حضرت آدم علیہ السلام کو ”أدیم الأرض“یعنی روئے زمین کے مختلف حصوں سے مٹی لے کر بنایا تھا اس لیے ان کا نام” آدم“ رکھا گیا۔

”حوّاء“”حیاة“ سے ہے، حضرت حوّاء کا نام حوّاء اس لیے رکھا گیا کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک زندہ انسان (آدم علیہ السلام) کے عضو (پسلی) سے براہِ راست (بلا طریقہ تناسل) پیدا کیا تھا۔(تفسیر کبیر النساء: ذیل آیت:1)

﴿وَبَثَّ مِنْہُمَا رِجَالًا کَثِیْرًا وَّنِسَاءً﴾․
یہاں پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کہ ”کَثِیْرًا“ کا لفظ صرف ”رجالاً“ کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے، ”نساءً“کے ساتھ ”کَثِیْرَات“کا لفظ نہیں لایا گیا، اس کی کیا وجہ ہے؟ حالانکہ اولادِ آدم میں عورتوں کی تعداد بھی مردوں سے کسی طرح کم نہیں ہے بلکہ بعض روایات میں تو قربِ قیامت میں عورتوں کی تعداد کا مردوں سے بہت زیادہ بڑھ جانا مذکور ہے، جیسا کہ صحیحین کی ایک روایت میں حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

”قیامت کی نشانیوں میں سے ہے کہ علم کی قلت ہو جائے گی اور جہالت کا دور دَورہ ہو گا، زنا عام ہو جائے گا، اور عورتیں بہت زیادہ اور مرد بہت کم ہو جائیں گے، یہاں تک کہ پچاس عورتوں کا منتظم تنہا ایک مرد ہو گا۔“(صحیح البخاری، رقم الحدیث:81)

اس کا جواب یہ ہے کہ آدمی کو چوں کہ کسب معاش، تجارتی معاملات، لوگوں سے لین دین، میل جول، دعوت و تبلیغ اور وعظ ونصیحت کرنے یا سننے کے لیے اکثر گھر سے باہر رہنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے ان کی کثرت واضح اور ظاہر ہوتی ہے، جب کہ عورتوں کا معاملہ اس کے بر خلاف ہے کہ انہیں عام طور پر گھر ہی میں رہنا ہوتا ہے اور گھر سے نکلنے کی نوبت بہت کم اور تھوڑے وقت کے لیے پیش آتی ہے جس کی وجہ سے ان کی کثرت مردوں کی طرح ظاہر نہیں ہوتی، بس اسی ظاہری حقیقت کی رعایت کرتے ہوئے قرآن کریم میں یہ اسلوب اختیار کیا گیا ہے۔ گویا کہ اس آیتِ مبارکہ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بار بار گھر سے نکلنا مرد ہی کو زیب دیتا ہے، جب کہ عورت کے شایانِ شان یہی ہے کہ وہ گھر کی چار دیواری میں رہ کر پردہ نشینی اختیار کرے۔(تفسیر کبیر، النساء، ذیل آیت:1)

نکتہ
علامہ قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں پر اولادِ آدم کو دو جنسوں (مرد و عورت) ہی میں منحصر فرمایا ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ خنثیٰ کوئی مستقل جنس نہیں ہے بلکہ اس کے اعضاء کا مرد یا عورت میں سے جس کی طرف زیادہ میلان پایا جائے گا خنثیٰ کا شمار اسی جنس میں ہو گا۔(تفسیر قرطبی، النساء، ذیل آیت:1)

ڈارون کا نظریہ ارتقاء
ڈارون کے اس نظریے کی سب سے بڑی قابل اعتراض بات تووہ ہے جو کائنات میں زندگی کے نکتہ آغاز کے بارے میں کہی جاتی ہے اور جس کے نتیجے میں حضرت آدم و حوّاء علیہما السلام کا (معاذ اللہ) بندروں کی اولاد میں سے ہونا لازم آتا ہے، اس لیے بحث کی اصل جگہ تو وہ آیات ہیں جن میں حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش کا ذکر ہے لیکن چوں کہ اس نظریے کی بدولت دنیا بھر میں موجود تمام انسانوں کا سلسلہ نسب بندروں سے جا ملتا ہے جو کہ ﴿وَبَثَّ مِنْہُمَا رِجَالًا کَثِیرًا وَّنِسَاءً﴾ کے بھی خلاف ہے، اس لیے یہ بحث یہیں قدرے تفصیل کے ساتھ بیان کر دی جاتی ہے۔

1859ء میں ڈارون نے یہ نظریہ پیش کیا کہ جسم کی ہر نوع خواہ اس کا تعلق جمادات سے ہو یا نباتات سے یا حیوانات سے دیگر اجسام کے ساتھ اپنی بقا کی جنگ لڑتی رہتی ہے، اور اس کے نتیجے میں جو نوع اقویٰ ہو وہ باقی رہ جاتی ہے اور ضعیف فنا ہو جاتی ہے، اور باقی رہ جانے والے اجسام کی ہر نوع اپنے آس پاس کے ماحول سے متاثر ہو کر بتدریج اپنی صورت بدلتی رہتی ہے، مثلاً سونا زمانہ دراز کے بعد اس حالتِ کمال کو پہنچا ہے، جب کہ پہلے وہ سیسہ تھا، پھر رانگ ہوا، پھر پیتل ہوا، اس کے بعد چاندی ہوا، پھر چاندی سے ترقی کر کے سونا بن گیا، اور جیسے اونٹ اور زرافہ کہ پہلے ان کی گردنیں اتنی لمبی نہیں ہوتی تھیں لیکن یہ دراز قد ہونے کی وجہ سے ایک طویل زمانے تک درختوں کے پتے کھانے کے لیے مسلسل اپنی گردنیں درختوں تک اٹھاتے رہے جس کے نتیجے میں ان کے گردنیں لمبی ہوتی گئیں، یا جیسے مچھلیوں کو ایک طویل زمانے تک کسی وجہ سے خشکی پر زندگی گذارنی پڑی تو ان کے پاؤں نکل آئے اور انہوں نے مگرمچھ کی صورت اختیار کر لی، وہیل مچھلی خشکی کا جانور تھا لیکن یہ خشکی کی زندگی گذارنے میں ناکام رہا تو مچھلی بن کر سمندر میں چلا گیا۔ اور اس جیسے بے شمار مفروضات ہیں جو اس نظریے کی تشریحات میں پیش کیے جاتے ہیں۔

ڈارون کے بعد آنے والے ارتقاء پسندوں نے اس نظریے کا اس قدر تعصبانہ دفاع کیا کہ یہ نظریہ ایک مستقل مذہب کی صورت اختیار کر گیا، ارتقاء پسندوں کا دعویٰ ہے کہ روئے زمین پر موجود اجسام کی تمام انواع کا جوہر اور مادہ ایک ہی ہے، اور یہ تمام اجسام ایک ہی مادے میں بے حد تغیرات کے نتیجے میں وجود میں آئے ہیں، جمادات ترقی کرتے کرتے نباتات بن گئے اور نباتات ترقی کرتے کرتے حیوانات کی صورت میں ڈھل گئے۔

ضرورت ایجاد کی ماں ہے، چنانچہ اس دعوے کو مدلل کرنے کے لیے ارتقاء پسندوں کو دلیل کی ضرورت تھی، لہٰذا انہوں نے ایک ایسے یک خلیائی( UNICELLULAR)مادے کی تلاش شروع کی جسے کائنات میں زندگی کا نکتہء آغاز قرار دیا جا سکے، چناں چہ انہوں نے پہلے امیبا (AMOEBA)(جوہڑ میں رہنے والا ایک کیڑا) کو کائنات میں زندگی کی اکائی قرار دیا، پھر ان کی نظر ترقی کر کے امیبا سے آگے نکل کر وائرس (VIRUS)تک پہنچ گئی۔

ارتقاء پسندوں کے خیال میں یہ وہ پہلا جاندار تھا جس کے ذریعے غیر جاندار اجسام کو کسی خاص کیمیائی عمل سے گذر کر جاندار اجسام کی دنیا میں قدم رکھنے کا شرف حاصل ہوا، پھر یہ یک خلیائی جاندار قانونِ ارتقاء کی بدولت کثیر الخلیہ جانداروں کی ہر نوع اپنے اندر بہتر سے بہتر خوبیاں جمع کر کے بعد والی نسلوں میں منتقل کرتی رہی، اور اس ارتقائی عمل کا نہایت ترقی یافتہ نتیجہ بندروں سے ہوتا ہوا انسانی شکل میں سامنے آیا۔

نظریہ ارتقاء کی حقیقت
دیدہٴ وبینا کے لیے تو زمانے کا ہر آنے والا لمحہ ذاتِ باری تعالیٰ کی قدرت و وحدانیت کی طرف ایک نیا دریچہ کھولتا ہے، کائنات میں پردہٴ غیب سے رونما ہونے والا ہر چھوٹے سے چھوٹا اور بڑے سے بڑا واقعہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ پسِ پردہ ضرور ایسی قادرِ مطلق ذات موجود ہے جو اس نظامِ عالم کو چلا رہی ہے، لیکن برق و بھاپ کی پچاری اس قوم پر سوائے افسوس کے اور کیا کیا جا سکتا ہے جو ہر حقیقت کو ظاہر کی آنکھ سے دیکھنے اور محدود عقل سے سمجھنے کی خواہاں ہے۔

قرآن و حدیث کے علاوہ عقلِ سلیم اور خود سائنس کا ہر بڑھتا ہوا قدم اس بات کا اعلان کرتا ہے کہ انسانی تاریخ پر کبھی ایسا وقت نہیں گذرا کہ اس کا تعلق بندروں سے رہ چکا ہو، اگر بالفرض ارتقاء کی یہ کہانی سچ مان بھی لی جائے تو ارتقاء پسند فوسل ریکارڈ (علم رکازیات یا باقیات کا علم جس کے ذریعے کائنات میں ہزاروں لاکھوں سال پہلے موجود اشیاء کے بارے میں معلومات حاصل کی جاتی ہیں) پر کامل دسترس کے باوجود آج تک کائنات میں زندگی کے نکتہء آغاز کا وہ سرا کیوں نہیں پکڑ سکے جو جاندار اجسام کو غیر جاندار اجسام سے ملاتاہو، آخر وہ لمحہ کب اور کس قدر خاموشی سے گذر گیا جب صفحہء ہستی پر حیات کی ابتداء ہوئی، ڈارون کے دعوے کے بعد پھر اجسام کا ایک نوع سے دوسری نوع میں تبدیل ہونا کیوں بند ہو گیا، سیسے نے رانگ، رانگ نے پیتل، پیتل نے چاندی، اور چاندی نے سونا بننا کیوں چھوڑ دیا، اگر کہا جائے کہ اس ارتقائی عمل کی رفتار بہت سست ہوتی ہے تو ڈارون کے اس دعوے کو آج ڈیڑھ سو سے زائد سال گذر گئے ہیں ابھی تک چاندی میں ایسی ادنیٰ سی تبدیلی بھی دیکھنے میں کیوں نہیں آئی جسے سونے کی طرف پیش رفت قرار دیا جا سکے، اور وہ یک خلیائی جاندار جو ابھی تک یک خلیائی ہیں وہ کثیر الخلیہ جانداروں میں کیوں نہیں بدلے، اور اب بندروں پر انسان بننے کا دروازہ کیوں بند ہو گیا، اور انسان نے ارتقائی عمل کی بدولت کسی اور مخلوق کی صورت اختیار کیوں نہیں کی، اور قانونِ ارتقاء (آس پاس کے ماحول سے مطابقت پذیری) کی رُو سے تو موجودہ دور کی تیز رفتاری کا تقاضا تھا کہ انسان بھی پرندوں کی طرح ہوا میں اڑنے اور گھوڑوں کی طرح تیز دوڑنے لگتا، پھر فطرت نے انسان کی یہ ضرورت کیوں پوری نہیں کی؟ یہ اور ان جیسے بے شمار ایسے سوالات ہیں جن کے جوابات سے ارتقاء پسندوں کی زبانیں عاجز ہیں۔

در حقیقت نظریہء ارتقاء ایک ایسی فرضی کہانی ہے جس پر بے شمار مفروضات کا ملمع چڑھا دیا گیا ہے، اور دلیل کے باب سے تعلق رکھنے والی کوئی بھی قطعی بات اس کے دعوؤں کو سہارا دینے کے لیے تیار نہیں ہے، یہ نظریہ محض حیاتیات سے تعلق رکھنے والے ایک سبق کی اجتہادی غلطی نہیں ہے، بلکہ یہ مادہ پرستی کی کوکھ سے جنم لینے والا وہ مذہب ہے جو خالقِ کائنات کے انکار کی بناء پر وجود میں آیا ہے، کاش!کہ یہ ارتقاء پسند علم وحی سے مستفید ہو کر ایک اللہ رب العزت کی ذات کو کائنات کے ہر عمل کا کرد گار مان لیتے تو انہیں ارتقاء کی یہ کہانی گھڑنے کی زحمت نہ کرنی پڑتی، شاعر نے ان جیسے لوگوں کے لیے ہی کہا ہے #
        ڈھونڈنے والا ستاروں کی گذر گاہوں کا
        اپنے افکار کی دنیا میں سفر نہ سکا
        جس نے سورج کی شعاعوں کو گرفتار کیا
        زندگی کی شبِ تاریک سحر کر نہ سکا

قرآنِ پاک میں اللہ رب العزت نے جا بجا انسان کو براہِ راست مٹی سے پیدا کرنے کا ذکر فرمایا ہے، مثلاً:

﴿وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَإٍ مَّسْنُونٍ﴾ (الحجر: 26) (اور بنایا ہم نے انسان کو کھنکھناتے سنے ہوئے گارے سے۔)

﴿إِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلَائِکَةِ إِنِّیْ خَالِقٌ بَشَرًا مِّنْ طِیْنٍ﴾ (ص: 71)(جب کہا تیرے رب نے فرشتوں کو میں بناتا ہوں ایک انسان مٹی کا)۔

ان جیسی اور بھی بہت سی آیات قرآن پاک میں ایسی ہیں جو یہ بتاتی ہیں کہ تخلیق انسان کی ابتداء مٹی سے ہوئی ہے، ایسے ہی بہت سے مقامات پر اللہ رب العزت نے تمام نوعِ انسانی کو آدم کی اولاد کہہ کر مخاطب کیا ہے، مثلاً:

﴿یَا بَنِیْ آدَمَ قَدْ أَنْزَلْنَا عَلَیْکُمْ لِبَاسًا یُّوَارِی سَوْآتِکُمْ وَرِیْشًا﴾ (الأعراف:26)

(اے اولاد آدم کی!ہم نے اتاری تم پر پوشاک جو ڈھانکے تمہاری شرمگاہیں، اور اتارے آرائش کے کپڑے)۔

﴿یَا بَنِیْ آدَمَ لَا یَفْتِنَنَّکُمُ الشَّیْطَانُ﴾․ (الأعراف:27)

(اے اولاد آدم کی! نہ بہکائے تم کو شیطان)۔

﴿یَا بَنِیْ آدَمَ خُذُوْا زِینَتَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ﴾ (الأعراف: 31)

(اے اولاد آدم کی! لے لو اپنی آرائش ہر نماز کے وقت)۔

ان تمام آیات سے یہ بات بالکل واضح طور پر پتا چلتی ہے کہ تاریخِ انسانی کا آدم علیہ السلام سے پہلے کوئی تصور نہیں۔

نیز حضور نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے تمام انسانوں کا آدم علیہ السلام سے اور حضرت آدم علیہ السلام کا مٹی سے پیدا ہونا ارشاد فرمایا ہے:

﴿أنتم بنو آدم و آدم من تراب﴾(سنن أبی داؤد، رقم الحدیث:5116) (تم سب آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہو اور آدم مٹی سے ( پیداہوئے) ہیں۔)

غرض کہ قرآن و حدیث، عقل سلیم اور جدید سائنس یہ سب نظریہء ارتقاء کو جھوٹ قرار دیتے ہیں، لیکن ان سب کے باوجود بھی اگر کوئی اپنے آپ کو بندر کی اولاد کہنے کا شوق رکھتا ہو تو اس کا علاج یہی ہے کہ اسے یہ شوق پورا کرنے کے لیے اس کے حال پر چھوڑ دیا جائے۔

﴿وَاتَّقُوْا اللّٰہَ الَّذِیْ تَسَائَلُونَ بِہِ وَالْأَرْحَامَ﴾

ترغیب و ترہیب
اللہ رب العزت نے اس آیت مبارکہ میں تقویٰ کی تعلیم کے لیے ترغیب و ترہیب کے دونوں طرز اختیار فرمائے، وہ اس طرح کہ اوپر ﴿اتَّقُوْا رَبَّکُمْ﴾فرمایا تھا، اور لفظ ”رب“تربیت، حفاظت اور احسان کے معانی پر دلالت کرتا ہے، اور یہاں پر ”اتَّقُوْا اللّٰہَ“فرمایا ہے، اور لفظِ جلالہ (اللہ) ہیبت اور قہارت کے معانی پر دلالت کرتا ہے، تو پہلے تقویٰ کا حکم بطورِ ترغیب دیتے ہوئے ”اتَّقُوْا رَبَّکُم“فرمایا اور پھر ”اتَّقُوْا اللّٰہَ“فرما کر بطرز ترہیب اس حکم کا اعادہ کیا۔

ان دونوں کو ملا کر آیت کا مطلب گویا یوں ہو گا، خالقِ کائنات نے تم کو عدم سے وجود بخشا اور تم پر بے انتہا انعامات کرتے ہوئے تمہاری تمام ضروریاتِ زندگی کو پورا کیا، اب اس کا حق ہے کہ تم مکمل طور پر اس کی اطاعت و بندگی اختیار کرو اور اس کی مخالفت سے اجتناب کرو اور اگر تم اس کی مخالفت و نافرمانی سے باز نہ آئے تو یاد رکھو کہ وہ ذات قادرِ مطلق ہے اور اس کا عذاب بہت سخت ہے۔(تفسیر کبیر ،النساء، ذیل آیت:1)

﴿الَّذِی تَسَاء َ لُونَ بِہِ﴾
اور اللہ تعالیٰ سے ڈرو جس کی شان یہ ہے کہ تم اس کے نام کی قسمیں دے دے کر ایک دوسرے سے اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے ہو، مثلاً یوں کہتے ہو:”میں تجھے خدا کا واسطہ دیتا ہوں کہ میرا حق ادا کر دے” یا“خدا کے واسطے مجھ پر ظلم نہ کر“وغیرہ۔

﴿وَالْأَرْحَامَ﴾
یعنی قرابت داری کے حقوق ضائع کرنے سے بچو۔

اس کو ”اتَّقُوْا اللّٰہَ“کے ساتھ ذکر کر کے اس بات کی طرف اشارہ کر دیا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کے حقوق میں سے ہے کہ اس سے ڈرا جائے، اسی طرح بندوں کے حقوق میں سے یہ ہے کہ ان کے ساتھ صلہ رحمی کا معاملہ کیا جائے، اور قطع رحمی اختیار کرنے سے بچا جائے۔

حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ:”قطع رحمی کرنے والا جنت میں داخل نہ ہو گا۔“(صحیح البخاری، رقم الحدیث:5984)

﴿وَآتُوْا الْیَتَامَی أَمْوَالَہُمْ وَلَا تَتَبَدَّلُوْا الْخَبِیثَ بِالطَّیِّبِ وَلَا تَأْکُلُوْا أَمْوَالَہُمْ إِلٰی أَمْوَالِکُمْ إِنَّہ، کَانَ حُوبًا کَبِیْرًا﴾ (النساء:2)

(اور دے ڈالو یتیموں کو ان کا مال اور بدل نہ لو برے مال کو اچھے مال سے اور نہ کھاؤ ان کے مال اپنے مالوں کے ساتھ، یہ ہے بڑا وبال)۔

تفسیر
اور یتیموں کا مال سنبھال رکھو تاکہ وقت آنے پر یہ مال صحیح سالم ان کے حوالے کر سکو، اور ان کی اچھی چیز کو بُری چیز سے نہ بدلو، یعنی ایسا نہ کرو کہ ان کے مال میں سے اچھی چیز نکال لو اور اس کے بدلے میں بری چیز شامل کر دو، اور اپنے مالوں کے ساتھ ان کے مالوں کو ملا کر ان میں خُورد بُرد کرنے سے باز رہو، تم تو ایسا کرنے کو معمولی بات سمجھتے ہو لیکن در حقیقت یہ اللہ رب العزت کے نزدیک بہت بڑا گناہ ہے۔

ربط…گذشتہ آیت میں تقویٰ کے ضمن میں حقوق العباد و صلہ رحمی کا ذکر تھا، اب یہاں سے تقویٰ کے مواقع اور حقوق العباد کا مفصلاً بیان شروع ہوتا ہے، جن میں سے ایک یتیموں کے حقوق کی رعایت کرنا بھی ہے، اس آیت میں یتیموں کے ان حقوق میں سے بعض کا ذکر ہے۔

یتیموں کے حقوق
﴿وَآتُوْا الْیَتَامَی أَمْوَالَہُمْ﴾
تمام حقوق العباد میں سے یتیموں کے حقوق کو شاید اس لیے مقدم کیا کہ یتیم اپنی کم عمری، بے کسی اور بے سرو سامانی کی وجہ سے زیادہ مستحق شفقت و عنایت ہوتا ہے۔

”یَتَامٰی“”یتیم“کی جمع ہے اور ”یتیم“”یُتْم“سے ہے جس کا معنیٰ اکیلا اور منفرد ہونا۔(لسان العرب)اسی وجہ سے لغتاًیتیم کا اطلاق ہر اس شے پر ہوتا ہے جس کی نظیر ملنا مشکل ہو، جیسے وہ موتی جو سیپ میں اکیلا ہو اسے درِ یتیم کہتے ہیں۔لغوی معنیٰ کے اعتبار سے تو ہر اس شخص کو یتیم کہا جا سکتا ہے جو اکیلا ہو، لیکن عرف اور شریعت میں یتیم اس نابالغ بچے کو کہا جاتا ہے جس کا باپ فوت ہو گیا ہو۔(روح المعانی، النساء، ذیل آیت:1)

فائدہ…جس بچے کا باپ فوت ہو جائے اسے یتیم اور جس کی ماں فوت ہو جائے اسے منقطع اور جس کے ماں باپ دونوں فوت ہو جائیں اسے لطیم کہتے ہیں، اور جانوروں میں جس کی ماں فوت ہو جائے اسے یتیم کہتے ہیں اور پرندوں میں یتیم اسے کہا جاتا ہے جس کے ماں باپ دونوں فوت ہو جائیں۔(لسان العرب)

”وَآتُوْا الْیَتَامٰی“کے ظاہری معنیٰ سے تو یہ مفہوم ہوتا ہے کہ یتیموں کا مال فی الفور ان کے حوالے کر دیا جائے قطع نظر اس سے کہ ان میں مال کی حفاظت کرنے کی صلاحیت ہے یا نہیں، لیکن تمام فقہا و مفسرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ یتیم جب تک بالغ نہ ہو جائے اس وقت تک مال اس کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔

علامہ آلوسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ رب العزت کے اس ارشاد مبارک”وَآتُوْا الْیَتَامَی“کا مطلب یہ ہے کہ یتیموں کے مال کی حفاظت کرو اور اس میں اپنی ذات کے لیے کوئی ناجائز تصرف نہ کرو، تاکہ اس میں کوئی خرابی پیدا نہ ہو جائے، اور اس کے لیے ”لا تتعرضوا“نہیں فرمایا بلکہ ”وَآتُوْا الْیَتَامَی“فرمایا جس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ عدمِ تعرض بذاتِ خود مقصود نہیں ہے بلکہ مقصد اس کا یہ ہے کہ یتیموں کا مال اس لیے محفوظ رکھا جائے تاکہ وقت آنے پر جوں کا توں صحیح سالم ان کے حوالے کیا جا سکے۔

اور آیت کا یہ معنیٰ اس لیے مراد لیا گیا ہے کہ جہاں پر یتیموں کا مال بالفعل ان کے حوالے کرنے کا حکم ہے وہاں پر ﴿وَابْتَلُوْا الْیَتَامَی﴾ (النساء:6) فرمایا ہے کہ مال ان کے حوالے اس وقت کرو جب کہ وہ اس کی حفاظت کے اہل ہو جائیں، گویا کہ پہلے ﴿وَآتُوْا الْیَتَامَی﴾میں یتیموں کے مال کی حفاظت کا حکم ہے تاکہ وقت آنے پر صحیح سالم ان کے حوالے کیا جا سکے، اور پھر ﴿وَابْتَلُوْا الْیَتَامَی﴾ میں بالفعل مال ان کے حوالے کر دینے کا حکم ہے۔

﴿وَلَا تَتَبَدَّلُوْا الْخَبِیثَ بِالطَّیِّبِ﴾
”خبیث“ سے مراد حرام اور ”طیب“سے مراد حلال ہے، یعنی (اپنے) حلال اور پاکیزہ مال کو (جو تم نے اپنی محنت سے کمایا ہے) حرام مال سے (یعنی یتیموں کے مال سے جس کا استعمال تمہارے لیے جائز نہیں) نہ بدلو۔

زمانہء جاہلیت میں عربوں کی یہ عادت تھی کہ یتیم کے اولیا اس کے مال کی مقدار تو محفوظ رکھتے لیکن اس میں سے اچھی چیز نکال کر خراب چیز شامل کر دیتے، بعض لوگ یتیموں کے مال سے صحت مند بکری نکال کر لاغر بکری اس کی جگہ ڈال دیتے یا کھرے سکوں کی جگہ کھوٹے سکے رکھ دیتے چونکہ اس طرح کرنے میں اس بات کا شبہ تھا کہ نفس دھوکہ دیتا کہ ”ہم نے کوئی چیز لی تو نہیں بلکہ محض تبدیل کی ہے۔“اور اس کے گناہ ہونے کی طرف انسان کا ذہن نہ جاتا اس لیے اللہ رب العزت نے صراحتاً اس کی ممانعت فرما دی کہ ایسا کرنا نفس کا حیلہ اور فریب ہے۔

﴿وَلَا تَأْکُلُوْا أَمْوَالَہُمْ إِلٰی أَمْوَالِکُمْ﴾
یعنی ”یتیموں کے مال کو اپنے مال کے ساتھ ملا کر نہ کھاؤ“ظاہر ہے کہ اس کا مقصد یتیم کا مال ناجائز طور پر کھا جانے کی ممانعت ہے خواہ اپنے مال میں ملا کر کھایا جائے یا علیحدہ رکھ کر کھائے، لیکن عام طور پر ہوتا یہ ہے کہ یتیموں کا مال اپنے مال میں شامل رکھا، اس میں سے خود بھی کھایایتیم کو بھی کھلایا، اس صورت میں جداگانہ حساب نہ ہونے کی وجہ سے ایک دیندار متبع شریعت کو بھی یہ دھوکہ ہو سکتا ہے کہ اس میں کوئی گناہ نہیں، اس لیے خاص طور سے اپنے مال میں ملا کر کھانے کا ذکر اور اس پر تنبیہ فرما دی کہ یا تو یتیم کے مال کو بالکل علیحدہ رکھو اور علیحدہ خرچ کرو جس میں کسی زیادتی کا خطرہ ہی نہ رہے، یا پھر ملا کر رکھو تو ایسا حساب رکھو جس میں یہ یقین ہو کہ یتیم کا مال تمہارے ذاتی خرچ میں نہیں آیا۔

اس طرزِ بیان میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ یتیموں کے مال میں خورد برد کرنے والے عموماً وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے پاس اپنے مال بھی موجود ہوتے ہیں، تو اس عنوان سے ان کو عار دلائی گئی کہ اپنا حلال مال موجود ہوتے ہوئے یتیموں کا مال حرام طور پر کھا جانا بڑی شرم کی بات ہے۔

اللہ رب العزت نے یہاں پر یتیموں کا مال کھانے سے منع فرمایا ہے حالانکہ مقصود تو اس سے ایسے تمام تصرفات ہیں جن سے یتیموں کے مال کا نقصان ہوتا ہے، لیکن ”لا تأکلوا“کی تعبیر اس لیے اختیار فرمائی ہے کہ مال کا سب سے بڑا مقصد اس کو کھانا ہی ہوتا ہے۔(تفسیر خازن ،النساء، ذیل آیت:2)

﴿إِنَّہ، کَانَ حُوبًا کَبِیْرًا﴾
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ”حوب حبشی زبان میں گناہ کو کہا جاتا ہے“ اور اس پر تنوین تعظیم کی ہے، یعنی بڑا گناہ، پھر اس گناہ کی شناعت کو اور بڑھانے کے لیے ”کبیراً“کا بھی اضافہ فرما دیا۔(روح المعانی، النساء، ذیل:2)تو معنیٰ یہ ہوئے کہ یتیم تو اپنی کم عمری اور بے سرو سامانی کی وجہ سے محتاجِ شفقت و عنایت ہے لیکن ولی اس کی بے کسی کو نظر انداز کر دے اور شفقت و مہربانی کے بجائے الٹا اس کے مال میں ناجائز تصرفات شروع کر دے تو اس کا ایسا کرنا بہت بڑا گناہ اور شرم کی بات ہے۔(جاری)