بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

پیر ِ طریقت، مفسر قرآن..حضرت مولانا افتخار الحسن کاندھلوی

پیر ِ طریقت، مفسر قرآن
حضرت مولانا افتخار الحسن کاندھلوی
مختصر حالات، خدمات

مولانا سیّد زین العابدین

مورخہ2/جون2019ء مطابق27/رمضان المبارک1440ھ شام ساڑھے پانچ بجے حضرت مولانا عبدالقادر رائے پوری کے خلیفہ مجاز؛ موجودہ وقت میں ہندوستان کے سب سے بڑے بزرگ حضرت مولانا افتخار الحسن کاندھلوی کا تقریباً سو سال کی عمر میں انتقال ہوا۔ انالله وانا الیہ راجعون!

مولانا افتخار الحسن کاندھلوی ان بزرگوں کی آخری کڑی تھے،جنہوں نے مولانا اشرف علی تھانوی، مولانا سید حسین احمد مدنی اور مولانا محمد الیاس کاندھلوی جیسے انقلابی راہ نماؤں کی زیارت کی تھی اور تبلیغ جماعت کے تینوں امرا مولانا محمد الیاس، مولانا محمدیوسف او رمولانا انعام الحسن کا مکمل دور دیکھا تھا، وہ اس وقت بہت سے حالات وواقعات کے واحد عینی شاہد تھے اور اس پر مستزاد یہ کہ وہ ایک عالم باعمل اور متبع سنت شیخ اور ایک ماہر مفسر قرآن تھے۔ اپنی زندگی کا پون صدی کا عرصہ دینی خدمات میں گزار کر اور نہ جانے کتنی ہی خلق خدا کو خالق کی طرف رجوع کروا کر اپنے رب کی بارگاہ میں حاضر ہو گئے۔اللّٰھم اغفرلہ وارحمہ!

مولانا افتخار الحسن کاندھلوی کی پیدائش11/جمادی الاولیٰ1340ھ مطابق10/جنوری1922ء کو کاندھلہ میں مولانا رؤوف الحسن کاندھلوی کے گھر میں ہوئی تھی۔ ابتدائی تعلیم حافظ رحیم بخش صاحب سے حاصل کی اور حافظ سعادت خان صاحب سے قرآن کریم حفظ کیا۔ فارسی اور عربی کی ابتدائی تعلیم مدرسہ مراد یہ مظفر نگر میں ہوئی۔ اس کے بعد مظاہر علوم سہارن پور میں داخلہ لیا، جہاں شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی، مولانا عبداللطیف، مولانا عبدالرحمن کامل پوری اور مولانا اسعد الله جیسے اساتذہ سے قرآن وحدیث اور دوسرے علوم حاصل کیے۔1362ھ/1948ء میں مظاہر علوم سہارن پور ہی سے فاضل ہوئے۔ پہلی بیعت مولانا محمد الیاس کاندھلوی سے ہوئی، ان کی وفات کے بعد حضرت مولانا عبدالقادر رائے پوری سے بیعت ہوئے۔حضرت رائے پوری سے ہی آپ کو اجازت وخلافت نصیب ہوئی۔ پاکستان میں حضرت رائے پوری کے آخری خلیفہ مجاز دعوت وتبلیغ پاکستان کے امیر حضرت الحاج محمد عبدالوہاب صاحب  تھے، جب کہ مولانا افتخار الحسن صاحب  کے انتقال کے بعد ہندوستان میں اب حضرات رائے پوری کے ایک آخری خلیفہ مجاز مولانا پیر مکرم حسین سنسار پوری رہ گئے ہیں، الله تعالیٰ ان کو صحت وایمان کے ساتھ لمبی عمر عطا فرمائے۔ بہرحال مولانا افتخار الحسن صاحب موجودہ وقت میں ہندوستان کے سب سے بڑے متشرع اورمتبع سنت پیر تھے، بہت بڑی تعداد میں پوری دنیا میں آپ کے مریدین موجود ہیں، مگر اس سب کے باوجود خلافت ملنے کے بعد ستر سالہ عرصہ خانقاہی زندگی میں گزرا اور صرف 53/لوگوں کو خلافت دی، اس سے سمجھنا چاہیے کہ یہ اجازت وخلافت کوئی معمولی چیز نہیں ہے، حضرت رائے پوری کی طرف سے آپ کو ”صوفی“ کا لقب دیا گیا تھا، یہی وجہ ہے کہ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کاندھلوی اپنی آپ بیتی میں آپ کا تذکرہ ”صوفی افتخار“ کے نام سے کرتے ہیں۔

مولانا افتخار الحسن صاحب نے فراغت کے بعد قرآن وحدیث کی خدمت کو ہی اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا تھا، چناں چہ کاندھلہ کی جامع مسجد میں اپنے روزانہ کے درسِ قرآن کے ذریعہ نصف صدی تک قرآن کریم کی تفسیر بیان کرنے کی خدمت انجام دیتے رہے۔ آپ اپنے وقت کے عظیم مفسر قرآن تھے، آپ نے 52 سال مسلسل کاندھلہ کی جامع مسجد، پھر اپنے محلہ کی مسجد میں فجر کے بعد ایک ڈیڑھ گھنٹہ درس ِ قرآن دیا او راس عرصہ میں 5 بار درسِ قرآن مکمل فرمایا، جس کا آخری ختم غالباً1993ء میں ہوا، جس میں بڑا عظیم الشان اجتماع ہوا تھا، کاندھلہ کی پوری عیدگاہ بھر گئی تھی اور حضرت مولانا علی میاں ندوی رحمہ الله نے شرکت فرمائی تھی۔ اقرا روضة الاطفال کے نائب مدیر مفتی خالد محمود صاحب نے مجھے بتایا کہ 1980ء میں جب میں دارالعلوم دیوبند کے صد سالہ اجلاس میں بہنچا تو وہاں کاندھلہ جانا ہوا اور بعد فجر مولانا افتخار الحسن صاحب کاندھلوی کے درسِ قرآن میں بھی شرکت ہوئی، آپ ایک ایک آیت پر علم کے دریا بہا دیتے تھے اور آیت کے ایک ایک جزئیہ پر بحث فرماتے، جس کو مکمل کرنے میں کئی کئی دن لگ جاتے تھے، معلوم ہوا کہ سورة البقرة کی صرف ایک آیت :﴿وَإِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلَائِکَةِ إِنِّی جَاعِلٌ فِی الْأَرْضِ خَلِیفَةً﴾ پر آپ نے کم وبیش 45 دن تک کلام فرمایا تھا، خدا کرے آپ کا پورا درس قرآن محفوظ کر لیا گیا ہو اور اس کو مرتب کرکے شائع کیا جائے تو یہ بڑی زبردست چیز اور عظیم الشان خدمت ہو گی۔

یہ بھی معلوم ہوا کہ علم کے استحضار کا عالم یہ تھا کہ دوران تقریر بڑی بڑی احادیث، عربی عبارتیں زبانی پڑھ دینا عام بات تھی۔ انہی علمی خدمات کی وجہ سے آپ کو مظاہر علوم سہارن پور اور دارالعلوم ندوة العلماء لکھنوٴ کے ذمہ داران نے اپنی مجلس شوریٰ کا رکن بھی بنایا ہوا تھا۔ آپ مولانا محمد الیاس کاندھلوی کے برادر ِ نسبتی او رمولانا الیاس صاحب  کے پڑ پوتے مولانا محمد سعد کاندھلوی کے شیخ ہیں، یہی وجہ ہے کہ آپ کی جنازہ کی نماز بھی مولانا سعد کاندھلوی نے پڑھائی ( نماز جنازہ میں بہت بڑا مجمع تھا)۔ آپ نے تبلیغی جماعت کے ذمہ داران حضرت مولانا زبیر الحسن صاحب کاندھلوی اور حضرت مولانا محمد سعد صاحب کاندھلوی دونوں کو اجازت وخلافت بھی عطا فرمائی تھی۔ جب کہ مولانا افتخار الحسن صاحب  شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کاندھلوی کے صاحب زادے مولانا محمد طلحہ کاندھلوی کے خسر بھی ہیں۔ مولانا افتخار الحسن صاحب  نے پس ماندگان میں تین بیٹے اور چار بیٹیاں چھوڑی ہیں۔ بڑے بیٹے مولانانور الحسن راشد کاندھلوی دورِ حاضر کے ممتاز محقق، مصنف اور شان دار صاحب قلم ہیں۔ مولانا راشد کی کئی تحقیقی اور نادرونایاب کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔

دنیا میں جو بھی آیا ہے اسے جانا ہے ، لیکن اتنی صفات وکمالات کی جامع شخصیت کا دنیا سے جانا پیچھے رہ جانے والوں کے لیے صدمہ کا باعث بنتا ہے اور اُن بزرگوں کی برکات سے محرومی ہوتی ہے، لیکن بہرحال الله کی طرف سے موت کا فیصلہ اٹل ہے، اس لیے جانے والے بزرگ کو دعاؤں میں یاد رکھنا چاہیے اور ہر ایک کو اپنی زندگی بھی شریعت وسنت کے مطابق گزارنے کی فکر کرنی چاہیے، تاکہ کل قیامت میں رب العزت کی بارگاہ میں شرمندگی نہ اٹھانی پڑے۔خدا تعالیٰ مولانا افتخار الحسن صاحب کاندھلوی کی مغفرت فرما کر ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کے پس ماندگان کو صبر جمیل سے نوازے۔ آمین !