بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

پاکستان کو ”قرضستان“ بننے سے بچائیں

پاکستان کو ”قرضستان“ بننے سے بچائیں

مولانا محمد اعجاز مصطفی

بسم الله الرحمن الرحیم
الحمدلله وسلام علی عبادہ الذین اصطفیٰ
پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا، اس کے لیے مسلمانوں نے جان، مال، عزت وآبرو او رگھر بار کا نذرانہ پیش کیا۔ اسلام کے نام پر لاکھوں جانیں اور ہزاروں عزتیں ضائع ہوئیں، بچے یتیم ہوئے، سہاگ لٹے اور کروڑوں کی املاک تباہ ہوئیں، مگر اسلام کے نام پر حاصل کیے گئے ملک میں اسلام نہیں آسکا۔ مسلمانوں نے نہایت خلوص واخلاص سے پاکستان میں نفاذِ اسلام کی متعدد بار کوششیں کیں، مگر لا حاصل۔ پاکستان سے لادین طبقے کی بالادستی ختم کرنے، یہودی، عیسائی اور قادیانی مہروں کو ہٹانے کے لیے تحریکیں چلائی گئیں، جانوں کا نذرانہ پیش کیا گیا، مگر ”زمین جنبد نہ جنبد گل محمد نہ جنبد“ کے مصداق آج تک پر نالہ وہیں کاوہیں ہے، یہاں جتنے بھی حکم ران آئے، انہوں نے حصول ِ اقتدار کے لیے نفاذِ اسلام اور عوام کی فلاح وبہود کے نعرے ضرور لگائے، مگر اقتدار ملنے کے بعد سب سے پہلے انہوں نے مظلوم اسلام اور مظلوم عوام پر ہی تیشہ زنی کی مشق ناز فرمائی۔

ہمارے حکم رانوں کے نزدیک جو بات مغرب سے آئے، چاہے سمجھ میں آئے یا نہ آئے، اس پر عمل کرنا وہ اپنے لیے سعادت او رباعث ِ فخر وابتہاج سمجھتے ہیں، حالاں کہ الله تبارک وتعالیٰ نے ہماری کام یابیوں اور کام رانیوں کے لیے اسلام جیسی دولت ہمیں عطا فرمائی، جس میں زندگی کے تمام مراحل اور تمام معاملات کا حل موجو دہے۔
قرآن کریم نے اقتصاد او رمعیشت کی کام یابی کے لیے سود کو حرام قرار دیا ہے، اس کی حرمت نصِ قطعی سے ثابت ہے، قرآن کریم، سنت ِ رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم اور فقہائے امت کی واضح نصوص اس پر شاہد ہیں ۔ سود، سودی نظام اور سود خوروں کے نتائج وعواقب کو قرآن کریم میں جس تفصیل سے بیان کیا گیا ہے، اس کے لیے درج ذیل آیات ملاحظہ ہوں:
﴿الَّذِیْنَ یَأْکُلُونَ الرِّبَا لاَ یَقُومُونَ إِلاَّ کَمَا یَقُومُ الَّذِیْ یَتَخَبَّطُہُ الشَّیْْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ذَلِکَ بِأَنَّہُمْ قَالُواْ إِنَّمَا الْبَیْْعُ مِثْلُ الرِّبَا وَأَحَلَّ اللّہُ الْبَیْْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا فَمَن جَاء ہُ مَوْعِظَةٌ مِّن رَّبِّہِ فَانتَہَیَ فَلَہُ مَا سَلَفَ وَأَمْرُہُ إِلَی اللّہِ وَمَنْ عَادَ فَأُوْلَئِکَ أَصْحَابُ النَّارِ ہُمْ فِیْہَا خَالِدُونَ، یَمْحَقُ اللّہُ الْرِّبَا وَیُرْبِیْ الصَّدَقَاتِ وَاللّہُ لاَ یُحِبُّ کُلَّ کَفَّارٍ أَثِیْمٍ، إِنَّ الَّذِیْنَ آمَنُواْ وَعَمِلُواْ الصَّالِحَاتِ وَأَقَامُواْ الصَّلاَةَ وَآتَوُاْ الزَّکَاةَ لَہُمْ أَجْرُہُمْ عِندَ رَبِّہِمْ وَلاَ خَوْفٌ عَلَیْْہِمْ وَلاَ ہُمْ یَحْزَنُونَ، یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ اتَّقُواْ اللّہَ وَذَرُواْ مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبَا إِن کُنتُم مُّؤْمِنِیْنَ، فَإِن لَّمْ تَفْعَلُواْ فَأْذَنُواْ بِحَرْبٍ مِّنَ اللّہِ وَرَسُولِہِ وَإِن تُبْتُمْ فَلَکُمْ رُؤُوسُ أَمْوَالِکُمْ لاَ تَظْلِمُونَ وَلاَ تُظْلَمُون﴾․ (سورة البقرہ، آیت:279-275)
ترجمہ:”جو لوگ کھاتے ہیں سود وہ نہیں اٹھیں گے قیامت کو مگر جس طرح اُٹھتا ہے وہ شخص کہ جس نے حواس کھو دیے ہوں شیطان کے چھونے کی وجہ سے۔ انہوں نے کہا کہ سود اگری بھی تو ایسی ہی ہے جیسے سود لینا، حالاں کہ الله نے حلال کیا ہے سوداگری کو اور حرام کیا ہے سود کو۔ پھر جس کو پہنچی نصیحت اپنے رب کی طرف سے اور وہ باز آگیا تواس کے واسطے ہے جو پہلے ہو چکا اور معاملہ اس کا الله کے حوالہ ہے اور جو کوئی پھر سود لیوے تو وہی لوگ ہیں دوزخ والے ، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ مٹاتا ہے الله سود کو اور بڑھاتا ہے خیرات کو اور الله خوش نہیں کسی ناشکر گناہ گار سے۔ جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کیے اور قائم رکھا نماز کو اور دیتے رہے زکوٰة، ان کے لیے ہے ثواب ان کا اپنے رب کے پاس او رنہ ان کو خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ اے ایمان والو! ڈرو الله سے اور چھوڑ دو جو کچھ باقی رہ گیا ہے سود اگر تم کو یقین ہے الله کے فرمانے کا۔ پھر اگر نہیں چھوڑتے تو تیار ہو جاؤ لڑنے کو الله سے اور اس کے رسول سے او راگر توبہ کرتے ہو تو تمہارے واسطے ہے اصل مال تمہارا، نہ تم کسی پر ظلم کرو اور نہ کوئی تم پر۔“
ان آیات میں سود کی حرمت ، قباحت، نجاست اور شناعت کو بڑی تفصیل سے بیان فرمایاگیا ہے اور یہ بتلایا گیا ہے کہ جو شخص سود جیسی لعنت کو نہیں چھوڑتا، اس کے خلاف الله تعالیٰ اور اس کے رسول صلی الله علیہ وسلم کی جانب سے کھلا اعلان جنگ ہے۔

افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہم نے ظاہری طور پر انگریز سے آزادی حاصل کر لی، لیکن ملکی نظم ونسق چلانے کے لیے آج تک ہمارے پاس وہی قوانین ہیں جو انگریز اپنی یاد گار کے طور پر چھوڑ کر گیا ہے۔ ہم نے بظاہر 1973ء میں مکمل آئین اور دستور بنا لیا، لیکن اس میں بھی ہمارے اشرافیہ طبقہ کا رجحان او رمیلان ہمیشہ انگریزی قوانین کی طرف رہا ہے۔
ان قوانین میں سے ایک قانون سو دکا ہے، حالاں کہ یہود ونصاریٰ کے نزدیک بھی سود لینا دینا حرام ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ سود معاشی نظام کے لیے نہایت مہلک اور تباہ کن ہے، لیکن ہمارے ارباب ِ اقتدار انہی کی تقلید میں اتنا آگے جاچکے ہیں کہ انہی کی آنکھ سے دیکھتے او ران کے دماغ سے سوچتے ہیں، وہ جو کچھ کہتے ہیں، یہ اس پر فوراً سر تسلیم خم کرتے ہیں، حتیٰ کہ ان کی دیکھا دیکھی ہر جائز وناجائز کو اپنے لیے فوز وفلاح او رکلید ِ سعادت سمجھتے ہیں۔

اسلامی نظریاتی کونسل نے سود اور اس کی تباہ کاریوں کی نشان دہی کرتے ہوئے سفارشات مرتب کیں تو انہیں خاطر میں نہیں لایا گیا۔ 1991ء میں اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کی روشنی میں وفاقی شرعی عدالت نے سود کو غیر اسلامی قرار دیا اوراپنے فیصلے میں لکھا کہ سودی نظام کو فوری ختم کیا جائے، اس لیے کہ یہ غیر اسلامی، ناجائز اور حرام ہے اور الله تعالیٰ سے کھلی بغاوت اور اعلان ِ جنگ ہے،لیکن اس وقت کے وزیراعظم جناب میاں محمد نواز شریف صاحب اور پاکستانی بینکوں نے اس کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی اور یہ کو شش کی کہ وفاقی شرعی عدالت کا یہ فیصلہ تبدیل کیا جائے۔ نواز شریف کو اس کی سزا ملی کہ 12/اکتوبر1999ء کو اقتدار سے محرو م کر دیے گئے، اس کے بعد سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ 8/مارچ2001ء تک بلا سودی اقتصادی نظام متعارف کرایا جائے، اس کے بعد پرویز مشرف نے اپنی مرضی کے جج مقرر کرکے اس فیصلہ کو بھی رکوا دیا اور آج تک سود کے متعلق فیصلہ عدالتوں کی فائلوں میں کہیں دبا ہوا ہے۔

قیام ِ پاکستان سے اب تک ہر دور میں علمائے کرام اور دینی جماعتوں نے سود جیسی لعنت کو پاکستانی معیشت واقتصاد سے ختم کرنے کا مطالبہ ہر حکومت اور عدلیہ سے کیا او راب بھی عدالتوں میں ایسی کئی درخواستیں زیرِ سماعت ہیں۔ مگر یہ ایک المیہ اور حقیقت ہے کہ پاکستان میں انسداد سود کی کاوشوں میں سب سے بڑی رکاوٹ حکومتی کردار او راس کی دوغلی پالیسی رہی ہے۔ پاکستان کے معرض ِ وجود میں آنے کے تقریباً 74 سال اور 1973ء کا آئین بننے سے اب تک تقریباً پچاس سال ہونے کو ہیں، مگر اسلامی جمہوریہ پاکستان میں سودی معاملات جوں کے توں چلے آرہے ہیں۔ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل38 الف کے مطابق سود کا عملی طور پر خاتمہ حکومت کی ذمہ داری میں شامل ہے، مگر جب بھی سپریم کورٹ کے شریعت اپیلٹ بنچ نے سود کو غیر قانونی اور اسلامی احکامات کے منافی قرار دیتے ہوئے حکومت کو اس کے خاتمہ کا حکم دیا، حکومت نے ہر بار اس فیصلہ کی خلاف ورزی کی، بلکہ عمل درآمد تو کیا کرتی، خود ہی اس فیصلے کے خلاف مدعی بن گئی او ربہانہ بہانہ سے اس معاملہ کو ٹالتی رہی، حتی کہ مئی2002ء میں ایڈووکیٹ جنرل آف پاکستان نے اس حکومتی موقف کا اظہار کیا کہ : ” اب حکومت ایسے علماء کی آرا سے استفادہ کرے گی جو بینک انٹرسٹ (Interest Bank) کو ”رِبا“ نہیں سمجھتے۔“ حکومتی ترجمان کے اس فرمان سے حکومت کی فاسدنیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ علمائے کرام اور دینی جماعتیں اس معاملہ میں جتنا کردار ادا کرسکتی تھیں، انہوں نے ہر دور میں کیا بھی اور آئندہ بھی ان شاء الله کرتی رہیں گی، مگر ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت بھی اسلام اور ملک کے ساتھ مخلص ہو کر آئین کے مطابق شریعت اپیلٹ بنچ کے فاصلہ کو نافذ کرے۔ اس ملک اور اس کی عوام کو سود جیسی لعنت اور اس کے نقصانات سے بچانے کی فکر کرے اور الله اور اس کے رسول کے خلاف بغاوت اور جنگ کو بند کرے۔

25/ربیع الثانی1443ھ مطابق یکم دسمبر2021ء بروز بدھ چیف جسٹس نور محمد مسکانزئی کی سربراہی میں وفاقی شرعی عدالت کے تین رکنی بنچ نے سود کے خاتمہ کے لیے دائر درخواستوں پر سماعت کی۔ عدالتی معاون انور منصور نے کہا کہ آئین کے مطابق ریاست دس سال میں ہر طرح کے استحصال کے خاتمے کی پابند تھی، سود بھی استحصال کی ہی ایک قسم ہے، عدالتی معاون نے کہا کہ ربا کا خاتمہ ضروری ہو گیا ہے۔ سپریم کورٹ بھی قرار دے چکی ہے کہ تمام قوانین کو اسلامی تعلیمات کے مطابق ڈھالا جائے، قرآن وسنت سے متصادم کوئی بھی قانون سازی نہیں ہوسکتی۔ خبر میں ہے کہ : مشیر ِ خزانہ نے اعتراف کیا کہ سودی نظام سے امیر او رغریب کا فرق بڑھ گیا ہے۔ مشیر ِ خزانہ نے کہا کہ : ”سود ادا کرنے کے لیے مزید قرض لینا ہو گا۔ سودی نظام کی وجہ سے معیشت ترقی نہیں کر رہی۔“ آج اسی کا شاخسانہ ہے کہ 1957ء میں پہلا قرض 7 کروڑ ڈالر لیا گیا اور آج اس قرض کا حجم بڑھ کر پچاس اعشاریہ 5 کھرب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔

اخلاقی اعتبار سے اگر سود کے نقصانات کا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ سود کی تباہ کاریوں سے سود لینے والے، سود دینے والے اور جس معاشرہ میں سودی کاروبار کا چلن ہوتا ہے سبھی متاثر ہوتے ہیں اور کوئی بھی اس کے اخلاقی نقصانات سے نہیں بچ سکتا، چناں چہ اس کی وجہ سے سود لینے والوں کے اندر سے اپنے بھائیوں کے ساتھ ہم دردی ، محبت ، ایثاراور دوسرے انسانوں کا الله کی رضا کے لیے تعاون کا جذبہختم ہو جاتا ہے۔ سود خوروں کو اس سے سودی قرض لینے والے غریبوں کے دکھ درد، مجبوریوں اور پریشانیوں کا ذرا بھی احساس نہیں ہوتا۔ اسی طرح سودی قرض لینے والوں کے دل بھی اس کی نحوست سے ایمان داری ، سچائی، وفاداری او راحسان شناسی کے اوصاف حمیدہ سے خالی ہو جاتے ہیں او ران کے اندر بے ایمانی، کذب بیانی، بے وفائی اور احسان فراموشی جیسے اوصاف خبیثہ پیدا ہو جاتے ہیں۔

یہ سودی قرضوں کا اثر ہے کہ مسلم حکم ران اپنے آقاؤں کے حکم پر دینی تحریکوں کو کچلتے، دینی واخلاقی لٹریچر پر پابندی لگاتے اور فحش لٹریچر کی اشاعتکرتے او راجازت دیتے ہیں اور طلبہ وعلما کرام سمیت دینی طبقہ کی شہادتیں ہوتی ہیں۔ یہ اسی سود کا ہی نتیجہ ہے کہ دینی اداروں اور مساجد ومدارس بنانے پر پابندیاں اور ہندوؤں کے مندر اور سکھوں کے گردوارے قومی سرمائے سے بنائے جاتے ہیں۔ دینی مدارس پر پابندیاں، لیکن یہود ونصاریٰ کی خواہشوں اور سازشوں کے مطابق سرکاری قومی نصاب میں آئے روز تبدیلیاں کی جارہی ہیں۔ ان میں مخلوط تعلیم ، اسکول کے طلبہ وطالبات کے لیے جنسی تعلیم کو لازم قرار دیا جارہاہے، جس سے اخلاق وحیا اور عفت وپاک دامنی کا جنازہ نکل رہا ہے۔

میڈیا اور اخبارات کے حوالہ سے یہ رپورٹ آئی ہے کہ پاکستان پر واجب الادا قرض بمع سود پچاس اعشاریہ پانچ کھرب ڈالر سے متجاوز ہو چکا ہے او ربتایا گیا ہے کہ اس طرح ہر پاکستانی دو لاکھ پینتیس ہزار روپے کا مقروض ہے۔ گزشتہ حکومتوں نے جو قرض دس سالوں میں لیا تھا، موجودہ حکومت نے اتنا قرض صرف تین سالوں میں لیا ہے۔ حکومت ماضی کی ہو یا حال اور مستقبل کی، جب بھی کوئی حکومت قرض لیتی ہے ، اس کے قرض اور اس پر لگنے والے سود دونوں کا بوجھ عوام پر ہی پڑتا ہے او رعوام بجلی، گیس، پٹرول اور دوسرے ٹیکسیز کے علاوہ مختلف روز مرہ کی اشیاء ضروریہ کی قیمتوں کی صورت میں اسے بھگتتی اور ادا کرتی ہے۔

پاکستان پر آج جتنا قرض چڑھ چکا ہے، اس میں اصل قرض سے کہیں زیادہ وہ سود ہے جو اس دیے گئے قرض پر سال بہ سال بڑھ رہا ہے، بلکہ آج تو نوبت یہاں تک آگئی ہے کہ اس سودی قسط کو ادا کرنے کے لیے مزید سود پر قرض لیا جاتا ہے اور قرض دینے والے ادارے اپنی من مانی شرائط لگاتے ہیں، جیسے حالیہ اقتصادی بحران میں ہماری گورنمنٹ آئی ایم ایف کے سامنے گھٹنے ٹیکے ہوئے ان کی من مانی شرائط پر قرض لینے پر مجبور نظر آتی ہے۔ آئی ایم ایف کا آرڈر آتا ہے، ادھر بجلی کا نرخ بڑھا دیا جاتا ہے، کبھی گیس مہنگی کر دی جاتی ہے، کبھی پٹرول کی قیمت کو پر لگ جاتے ہیں، کبھی دوسرے ٹیکسوں میں اضافہ کیا جاتا ہے۔ عوام ہے کہ اسے دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ یہ سب نحوست ہے اس سود کی جس کو قرآن کریم سوا چودہ سو سال پہلے حرام قرار دے چکا ہے او ربتا چکا ہے کہ:﴿وَأَحَلَّ اللَّہُ الْبَیْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾”حالاں کہ الله نے حلال کیا ہے سود اگری کو اور حرام کیا ہے سود کو۔“ اور کہہ چکا ہے کہ:﴿یَمْحَقُ اللَّہُ الرِّبَا وَیُرْبِی الصَّدَقَاتِ﴾”مٹاتا ہے الله سود کو اور بڑھاتا ہے خیرات کو۔“

سود ہمیشہ اجتماعی معیشت میں دولت کے بہاؤ کو ناداروں سے مال داروں کی طرف پھیر دیتا ہے، حالاں کہ اجتماعی فلاح کا تقاضا یہ ہے کہ وہ مال داروں سے ناداروں کی طرف جاری ہو۔ ظاہر ہے کہ کوئی تاجر، زمین دار اور صنعت کار اپنی گرہ سے سود ادا نہیں کرتا، جو اسے سرمایہ دار کو دینا ہوتا ہے، وہ سب اس بار کو اپنے اپنے مال کی قیمتوں میں ڈالتے ہیں او راس طرح عام لوگوں سے پیسہ پیسہ چندہ اکٹھا کرکے لکھ پتیوں اور کروڑ پتیوں کی جھولی میں پھینکتے رہتے ہیں۔

دیکھیے! جو مسلمان اپنے دین اسلام کی بات نہیں مانتے، قرآن وسنت کے احکامات پر عمل نہیں کرتے اور ہر معاملہ میں یہود ونصاریٰ سمیت کفار کی تقلید کرنے کو باعث فخر سمجھتے ہیں۔ الله تبارک وتعالیٰ نے ان کی فہمائش اور عبرت کی غرض سے یہودیوں کے بارے میں فرمایا ہے، ان یہودیوں نے جن کے اوپر ان کی شریعت میں سو دکو حرام قرار دیا گیا تھا اور اس مخالفت کی پاداش میں انہیں بہت سی پاکیزہ اور عمدہ چیزوں اور نعمتوں سے محروم کر دیا گیا، جیسا کہ الله رب العالمین نے فرمایا:﴿فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِینَ ہَادُوا حَرَّمْنَا عَلَیْہِمْ طَیِّبَاتٍ أُحِلَّتْ لَہُمْ وَبِصَدِّہِمْ عَن سَبِیلِ اللَّہِ کَثِیرًا، وَأَخْذِہِمُ الرِّبَا وَقَدْ نُہُوا عَنْہُ وَأَکْلِہِمْ أَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ﴾․ (النساء:161-160)
ترجمہ:” سود یہود کے گناہوں کی وجہ سے ہم نے حرام کیں ان پر بہت سی پاک چیزیں جو اُن پر حلال تھیں اور اس

وجہ سے کہ روکتے تھے الله کی راہ سے بہت اور اس وجہ سے کہ سود لیتے تھے اور ان کو اس کی ممانعت ہوچکی تھی اور اس وجہ سے کہ لوگوں کا مال کھاتے تھے ناحق۔“

انہی یہودیوں نے دنیا کے اقتصاد اور حکم رانوں کو اپنے کنٹرول میں کرنے، پوری دنیا پر اپنادبدبہ وغلبہ قائم کرنے اور جب چاہیں دوسرے ممالک او رخاص طور سے جن سے ان کی عداوت اور دشمنی ہو، کے اقتصاد کو تہہ وبالا کرنے کے لیے یہ سودی نظام رائج کیا اور دنیا پر اس کو اس طرح مسلط کیا کہ لوگوں کے لیے اس سے نجات او ربلا سود لیے کوئی بڑا کاروبار کرنا مشکل ہو گیا ہے، یہودی پروٹوکولرز میں ہے:

”ہماری انتظامیہ کو ماہرین ِ معیشت کی بہت بڑی تعداد کی خدمات میسر ہوں گی یا یہ کہہ لیجیے کہ وہ ماہرین ِ اقتصادیات سے گھری ہوئی ہوگی، یہی وجہ ہے کہ یہودیوں کو دی جانے والی تعلیم میں اقتصادی سائنس کو ایک اہم مضمون کی حیثیت حاصل ہے، ہمارے چاروں طرف بنکاروں، صنعت کاروں، سرمایہ کاروں اور کروڑ پتیوں کا ایک مجمع ہو گا، ہمیں ان کی خدمات بہت سے کاموں کے لیے درکار ہوں گی، کیوں کہ ہم ہر مسئلے کا فیصلہ اعداد وشمار کی روشنی میں کرتے ہیں۔ وہ وقت بہت قریب ہے جب ہماری مملکتوں کے کلیدی عہدوں پر ہمارے یہودی بھائی تعینات ہوں گے، ان کی تقرریوں میں نہ کوئی رکاوٹ ہوگی او رنہ کوئی خطرہ ہو گا، لیکن وہ وقت آنے تک ہم معاملات کی باگ ڈور ایسے لوگوں کو دیں گے جن کا ماضی او رحال یہ ثابت کرسکے کہ ان کے اور عوام کے درمیان ایک وسیع خلیج حائل ہے۔ ہماری ہدایت کی خلاف ورزی کرنے پر انہیں سخت الزامات کا سامنا کرنا پڑے گا یا پھر شرم وندامت کی وجہ سے خودکشی کییبغیر کوئی چارہ نہ ہو گا۔ اس طریقہ کار سے دوسرے لوگوں کو نافرمانی کرنے والوں کے انجام سے سبق ملا کرے گا اور وہ آخری وقت تک ہمارے مفاد کے لیے کام کرنے پر مجبور ہوں گے۔“ (یہودی پروٹوکولز، ص:133)
سودی نظام کی بنا پر پوری قوم کو ناکارہ، بے غیرت اور بے دین بنایا جارہا ہے۔ شنید ہے کہ آئی ایم ایف نے ایک ارب ڈالر قرض کے بدلہ میں اب یہ شرط رکھ دی ہے کہ ”پاکستان اسٹیٹ بینک“ کا کنٹرول ہمارے ہاتھ میں دیا جائے اور ہم سے پاکستان کا کوئی ادارہ مقننہ ہو یا عدلیہ کوئی باز پرس نہیں کرسکتا۔ اگر ایسا ہے تو آپ بتائیے پاکستان کی آزادی کہاں گئی؟ گویا اس صورت میں ہماری تمام اقتصاد پر قبضہ انہیں کا ہو گا اور خدانخواستہ پاکستان کو اتنا نیچے لے جائیں گے کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ یہ کہیں گے کہ تم دیوالیہ ہوچکے ہو، لہٰذا تمہارا جوایٹم بم ہے وہ تم نہیں سنبھال سکتے، لہٰذاوہ ہمارے حوالہ کردو، اس وقت حکومت کے پاس کیا جواب ہو گا؟!

خدا را! آنکھیں کھولیں او راتنا زیادہ قرضوں پر انحصار نہ کریں کہ ہماری خود مختاری داؤ پر لگ جائے۔ اگرحکومت ِ پاکستان اور اس کے ماہرین ِ اقتصادیات عقل وشعور، احساس ِ ذمہ داری، سلیقہ مندی اور فرض شناسی سے کام لیں تو انہیں چاہیے کہ آئی ایم ایف سے بھیک مانگنے کی بجائے آج تک 74 سالوں میں جتنے لوگوں نے بینکوں کے ذریعہ جتنے قرض حاصل کرکے معاف کرائے ہیں ، ان سب کی فہرست بنائی جائے او ران سے وہ تمام قرضے واپس لیے جائیں ، چاہے ان کے اثاثے ہی کیوں نہ بیچنے پڑیں۔ اسی طرح بے نظیر انکم اسکیم میں بہت سارے حاضر سروس حضرات، ان کی بیویوں اور جعلی لوگوں نے فراڈ کے ذریعہ جو رقومات حاصل کی ہیں، ان سب سے ریکوری کرکے خزانہ میں جمع کرائی جائے۔

جن لوگوں نے اس ملک میں ناجائز اثاثے بنائے ہیں، ان سب کے اثاثے بحق ِ سرکار ضبط کیے جائیں، خود حکومتی کابینہ میں جو آٹا چور، چینی چور، دوائیوں کی قیمتوں میں من مانا اضافہ کرکے مال بنانے والے موجود ہوں، ان سب کے اثاثے ضبط کیے جائیں۔

اسی طرح سابق چیف جسٹس جناب ثاقب نثار صاحب نے ڈیم فنڈ کے نام پر جتنے پیسے لوگوں سے اکٹھے کیے وہ سب ان سے وصول کرکے قرض کی ادائیگی میں دیے جائیں۔ شنید ہے کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے انکشاف کیا ہے کہ کرونا میں جو امداد پاکستان کو دی گئی اس کا کثیر حصہ خوردبرد ہو گیا ہے اور اس کا حساب وکتاب بھی کسی کے پاس نہیں،حکومت کو چاہیے کہ جن کی جیبوں میں یہ پیسہ گیا ہے، ان سے اسے واپس لیا جائے او ران کو اس قومی چوری پر عبرت ناک سزا دی جائے۔اسی طرح بے جا خرچ ہونے والی سرکاری رقوم پر کنٹرول کرکے سرکاری قرضوں کی وصولی کو یقینی بنایا جائے اور حکومتی اخراجات میں کمی کرکے پہلی فرصت میں یہ تمام قرضے اُتارے جائیں۔
ہمار ی حکومت کو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ امریکا اپنی غلط پالیسیوں کی وجہ سے افغانستان سے 20 سالہ طویل جنگ ہارچکا ہے اور اس نے افغانستان میں بہت بری شکست کھالی ہے، لیکن وہ اپنی اس شکست کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرا کر اسے اقتصادی نقصان پہنچانے کا منصوبہ رکھتا ہے، ان حالات میں ہمیں ذمہ دارانہ کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے ، تاکہ ہمارا ملک اقتصادی بحران سے بچ جائے، وما ذلک علی الله بعزیز․

بہرحال اب بھی وقت ہے کہ ملکی معیشت کو سنبھالا دیا جائے اورسنجیدگی سے روپے کی گرتی ہوئی قدر کو روکا جائے، اس کے لیے سادگی اورکفایت شعاری کو رواج دیاجائے او رملک وقوم کی خیر خواہی کے جذبہ کے تحت قومی خزانہ کو امانت سمجھتے ہوئے اس کے تحفظ کے لیے ممکنہ اقدامات کیے جائیں۔ بین الاقوامی تجارت کے لیے مسلمانوں کو ڈالر پر انحصار کرنے کے بجائے اسلامی ممالک کو اتفاق ِ رائے سے الگ کوئی کرنسی متعین کرنی چاہیے اور ان سب سے بڑھ کر یہ ضروری ہے کہ الله کے حضور توبہ کرکے، ملک میں اسلامی نظام نافذ کرنے کے اعلان کے ساتھ ساتھ ملک کو سود سے پاک کرنے کا اعلان کرنا چاہیے۔ ان اقدامات سے ان شاء الله! الله تعالیٰ کی مدد آئے گی اور دشمنوں کے عزائم خاک میں ملیں گے۔
وصلی الله تعالیٰ علی خیر خلقہٖ سیدنا محمد وعلیٰ آلہ وصحبہ أجمعین․