بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

ٹی وی چینلز کی تباہ کاریاں

ٹی وی چینلز کی تباہ کاریاں

شیخ الحدیث حضرت مولانا سلیم الله خان رحمہ الله

الحمدلله وکفی وسلام علی عبادہ الذین اصطفیٰ ، وبعد
﴿أَلَمْ یَعْلَمُواْ أَنَّہُ مَن یُحَادِدِ اللّہَ وَرَسُولَہُ فَأَنَّ لَہُ نَارَ جَہَنَّمَ خَالِداً فِیْہَا ذَلِکَ الْخِزْیُ الْعَظِیْم﴾․ (التوبہ:63)
ترجمہ:”کیا ان کو خبر نہیں کہ جو شخص الله کی اور اس کے رسول کی مخالفت کرے گا تو یہ بات ٹھہر چکی ہے کہ ایسے شخص کو دوزخ کی آگ اس طور پر نصیب ہو گی کہ وہ اس میں ہمیشہ رہے گا؟ یہ بڑی رسوائی ہے“۔

﴿إِنَّ الَّذِینَ یُحِبُّونَ أَن تَشِیعَ الْفَاحِشَةُ فِی الَّذِینَ آمَنُوا لَہُمْ عَذَابٌ أَلِیمٌ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَةِ وَاللَّہُ یَعْلَمُ وَأَنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ﴾․ (النور:19)
ترجمہ:”جو لوگ چاہتے ہیں کہ بے حیائی کی بات کا مسلمانوں میں چرچا ہو ان کے لیے دنیا اور آخرت میں سزائے دردناک ہے، الله ان کو جانتے ہیں ،چاہے تم نہ جانو“۔

﴿وَالَّذِینَ ہُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ ﴾․ (المومنون:3)
ترجمہ:”ایمان داربے ہودہ اور لغو باتوں سے اعراض کرتے ہیں“۔

﴿إِنَّ الَّذِینَ یُحَادُّونَ اللَّہَ وَرَسُولَہُ أُولَٰئِکَ فِی الْأَذَلِّینَ﴾․ (المجادلہ:20)
ترجمہ:”جو لوگ الله اور رسول کا مقابلہ کرتے ہیں ذلیل ہیں“۔

﴿وَمَا آتَاکُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوہُ وَمَا نَہَاکُمْ عَنْہُ فَانتَہُوا وَاتَّقُوا اللَّہَ إِنَّ اللَّہَ شَدِیدُ الْعِقَابِ ﴾․ (الحشر:7)
ترجمہ:”اور رسول جو تمہارے پاس لائیں اس کو لے لو اور جس چیز سے منع کریں اس سے باز رہو، خدا سے ڈرو، اس کا عذاب بہت سخت ہے“۔

”من أحدث في أمرنا ہذا ما لیس منہ فہو رد“․ (متفق علیہ)
ترجمہ:”دین کے خلاف کوئی بھی نئی چیز جاری کی جائے تو وہ مردود ہے“۔

”قال رسول الله صلی الله علیہ وسلم في خطبتہ:أما بعد، فإن خیر الحدیث کتاب الله، وخیر الھدي ھدي محمد، وشر الأمور محدثاتھا، وکل بدعة ضلالة“․
ترجمہ:”پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وسلم نے خطبے میں چند چیزوں کے ساتھ یہ بھی فرمایا نئی نئی چیزیں ( خلاف شرع) بدترین ہیں“۔

”عن ابن عباس رضي الله عنہ قال: قال رسول الله صلی الله علیہ وسلم: أبغض الناس إلی الله ثلٰثة: ملحد في الحرم، ومبتغ في الإسلام سنة الجاہلیة، ومطلب دم امریٴ مسلم بغیر حق یہریق دمہ“․ ( رواہ البخاری)
ترجمہ:”اسلام میں جاہلیت اور کفر کا طریقہ جاری کرنے والا الله کے یہاں مردو ومبغوض ہے…“۔

الله تعالیٰ نے انسان کو تمام مخلوقات میں اشرف بناکر جہاں اس میں چند ا یسی صفات ودیعت فرمائی ہیں جو اسے دیگر مخلوقات سے ممتاز کرتی ہیں وہیں اس کی بعض کمزوریوں کو جوں کا توں باقی رکھا ہے، تاکہ اسے اپنا عاجزاور ناتواں ہونا یادر ہے۔ مشاہدہ یہ ہے کہ زیادہ راحت واطمینان کی زندگی گزارنے والے اکثر اپنے خالق کے نافرمان ہو جایاکرتے ہیں اور مصیبت وابتلا میں آجانے والوں کو اپنے مالک کی طرف رجوع کا خیال رہتا ہے۔

بشری کمزوریوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ آدمی آہستہ آہستہ ماحول کا عادی ہوجاتا ہے اور اس ماحول کے مطابق زندگی گزارنا اسے چنداں مشکل محسوس نہیں ہوتا۔ جب کہ اپنے ماحول کے برخلاف کوئی عمل کرنا اس پر بہت دشوار ہوتا ہے، ماحول کے مطابق سرزد ہونے والے جن اعمال میں راحت محسوس ہوتی ہے یا ماحول کے خلاف انجام پانے والے جن اعمال میں دقّت کا احساس ہوتا ہے، ان اعمال کا تعلق صرف اعضاء و جوارح سے وقوع پذیر ہونے والے اعمال سے ہی نہیں ہے، بلکہ ان میں وہ افعال بھی شامل ہیں جن کا تعلق صرف قلب سے ہے ۔ مثلاً یورپ وامریکا کے مستقل رہائشی، خواہ مسلمان ہی کیوں نہ ہوں، ان کی نگاہیں مغربی خواتین کے ناموزوں لباس سے اتنی مانوس ہوچکی ہوتی ہیں کہ بقول ان ہی احباب کے ہمیں احساس بھی نہیں ہوتا کہ یہ کوئی غیر معمولی بات ہے ۔ مگر یہی لوگ جب حج وعمرہ کے لیے حجاز مقدس تشریف لے جاتے ہیں تو وہاں بعض خواتین کے لباس سے متعلق کوتاہی کو نہ صرف محسوس کرتے ہیں، بلکہ دوسروں سے اس کی شکایت کرتے ہوئے بھی پائے جاتے ہیں۔

یہ انسانی فطرت ہے کہ آنکھیں اپنے ماحول میں موجود اشیاء سے آہستہ آہستہ مانوس ہو جاتی ہیں۔ کان اپنے ماحول کی آوازوں کے عادی ہو جاتے ہیں۔ زبان اپنے ماحول کی گفتگو پر بلاتکلف قدرت حاصل کر لیتی ہے۔ذہن ودماغ کو اپنے ماحول کے مطابق سوچنے اور سمجھنے میں ذرا بھی دقت محسوس نہیں ہوتی۔ گویا اکابر کا یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ آدمی دراصل اپنے ماحول میں رفتہ رفتہ ڈھل ہی جاتا ہے #
        ہر کہ در کان نمک رفت، نمک شد

ماحول کا یہی بدیہی اثر انسان کے اپنے عقائد پر بھی پڑتا ہے اورپھر انہی عقائد کے زیر اثر اس کے اعمال وافعال بھی متاثر ہونے لگتے ہیں۔ عالم عرب میں تیل کی شکل میں دریافت ہونے والے ”سیال سونے“ نے مادی اشیاء کی وہ ریل پیل کردی کہ دیکھنے والوں کی آنکھیں چکاچوند ہو گئیں۔مغرب کی سائنسی ترقی کے نتیجے میں جنم لینے والی جدید ٹیکنالوجی عرب کے ریگزاروں میں کیا داخل ہوئی کہ پہلے پہل تو صرف چند اہل مغرب اس ٹیکنالوجی کی تنصیب اور اسے چلانے کے لیے آئے، مگر بعد ازاں خود مغربی تہذیب اپنے اثرات سمیت نمودار ہونے لگی۔ گویا فطرت کی چھتری تلے بسر ہونے والی سادہ بدوی زندگی مادی اشیاء کی بہتات کے نتیجے میں مصنوعی طرز حیات میں بدل گئی۔

مادیت کا یہ اثر صرف معاشرت اور معاملات ہی پر نہ رہا، بلکہ عقائد واعمال بھی اس کی لپیٹ میں آگئے ۔لگژری گاڑیوں کا کارواں ہی کالی سیاہ سڑکوں پر نظر نہ آیا، بلکہ سڑک کے کنارے کوہ ہمالیہ جیسی عمارتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں۔ دنیا بھر سے آنے والے تاجروں کے لیے جدید ترین ہوٹل ہی قائم نہیں ہوئے، بلکہ مغرب سے آنے والے سیاحوں کی دلچسپی کے لیے ان کی طبیعت کے موافق کلب بھی وجود میں آگئے۔ مغربی مادیت کے نفوذ کے نتیجے میں ہونے والی تبدیلی یہیں تک نہ رکی۔ گھروں کے اندر خاندانوں کی آسانی کے لیے صرف ٹیلی فون، فریج، واشنگ مشین ہی کو جگہ نہ دی گئی، بلکہ ٹیلی ویژن، وی سی آر اوردیگر آلات لہو ولعب بھی ضروریات زندگی میں شامل ہو گئے۔

یہ ماحول مغربی اثرات قبول کرتا کرتا یہاں تک جا پہنچا کہ پانچ وقت نماز کے لیے لوگوں کو بلانے والا مؤذن بھی مسجد کے حجرے ہی میں اپنے لیے ٹی وی لا کر رکھ لیتا ہے اور اس کی قباحت پر نکیر تو درکنار، کسی کی پیشانی پر بل بھی نہیں آتا۔ نوبت بہ ایں جارسید کہ حج وعمرہ کے لیے جانے والا سیدھا سادھا مسلمان اس وقت حرمین کے قریب ایسا کوئی ہوٹل نہیں حاصل کر پاتا جہاں کمرے میں ٹیلی ویژن اور بیت الخلاء میں انگریزی کموڈ موجود نہ ہو۔

الله تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہمارے ہاں برصغیر میں معاملہ ابھی تک کچھ اتنا نہیں بگڑا۔ دارالافتاء میں اب بھی عام مسلمانوں کی طرف سے ایسے سوالات پوچھے جارہے ہیں کہ جو امام مسجد ٹی وی دیکھنے کے عادی ہوں ان کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں ۔ اور سوال کرنے والے کا مقصد یہ نہیں ہوتا کہ ٹی وی صحت اوروقت خراب کرنے کا آلہ ہے، بلکہ یہ سوال اس لیے کیا جاتا ہے کہ الحمدلله اب بھی عام مسلمان اس عمل کو غیر شرعی سمجھ کر گناہ شمار کرتا ہے۔

بہت عام سی مثال لے لیجیے۔ کراچی کے چند ایسے علاقوں کی مساجد میں (جہاں بقول شخصے اعتدال پسند، روشن خیال مسلمانوں کی اکثریت ہے) اگر کوئی ایسا شخص امامت کے منصب کے لیے درخواست دے جو داڑھی منڈواتا یا کٹواتا ہو تو اہل محلہ پر مشتمل کمیٹی میں ایسے افراد جو خود داڑھی تراشتے یا منڈاتے ہوں اس شخص کو منصب امامت کا اہل تسلیم نہیں کریں گے۔ الحمدلله اس خطے میں بے سروسامانی کے باوجودعلمائے کرام کی شب وروز مخلصانہ محنت کے مقابلے میں باطل قوتیں ماحول کے اندر وہ لچک یا دراڑ پیدا نہیں کرسکیں ،جومذہبی سوچ کو آلودہ کرسکے۔

ہزاروں علمائے حق کو پھانسی پر لٹکانے والے انگریزی اقتدار کے عین عروج کے زمانے میں حضرت مولانا محمدقاسم نانوتوی نے دارالعلوم دیوبند کی بنیاد رکھ کر بقائے دین کے لیے وہ قلعہ تیار کیا کہ قرآن وحدیث کی تعلیمات کو اپنی اصل شکل پر باقی رکھنے والوں کی کھیپ درکھیپ فوج کی تیاری کے ادارے برصغیر کے گلی کوچوں میں نظر آنے لگے ہیں۔

شرک وبدعت کی گمراہ کن تاریکیوں میں حضرت مولانا اشرف علی تھانوی اوران جیسے دوسرے بزرگان دین نے توحید وسنت کی وہ شمعیں جلائیں کہ اب عام مسلمانوں کو خانقاہوں کے نام پر نہ تو بدظن کیا جاسکتا ہے، نہ اندھی عقیدت کے نام پر انہیں بہلایا پھسلایا جاسکتا ہے۔ نہ صرف یہ، بلکہ خانقاہوں اور تصوف کے سلسلوں میں شامل ہو کر روحانیت کی شمع اپنے دل میں جلانے والوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہی ہو رہا ہے۔

جب سرکاری سرپرستی میں مغربی تہذیب وتمدّن کو پھیلانے والے روشن خیالوں کو” سر“ اور” خان بہادر“ کے خطابات سے نواز کر عوام الناس کو ان کی اقتدا کی ترغیبات مہیا کی جارہی تھیں تو اس وقت حضرت مولانا محمد الیاس کاندھلوی نے تبلیغی تحریک کے ذریعے عوام کے ذہنوں سے مغربی مرعوبیت کا بخار اس طرح اتارا کہ آج ڈاکٹر، انجینئر، پروفیسر، اکاؤنٹنٹ اور دیگر دنیاوی پیشوں میں مشغول افراد میں بھی سنت پر چلنے والے جابجا نظر آرہے ہیں۔ ایک ایسا مجمع تیار کردیا گیا جو دنیاوی راحت کے مقابلے میں آخرت کی زندگی کو ترجیح دے کر مجاہدے اور قربانی کے لیے آمادہ نظر آرہا ہے۔ فالحمدلله علی ذلک․

مگر دوسری طرف ٹیلی ویژن کے ابتدائی دور کے پروگراموں کے ذریعے معاشرے میں پیدا ہونے والی بے راہ روی اب چینلوں کی بھرمارکے بعد ہزار گنا بڑھ چکی ہے۔ڈرامے اور سیریل بالکل سینما میں دکھائی جانے والی فلموں کی طرح تیار اور پیش کیے جارہے ہیں۔ ٹیلی ویژن دیکھنے والے بتاتے ہیں کہ موضوع تاریخی ہو یا معاشرتی، ہر ڈراما نوجوان لڑکے اور نوجوان لڑکی کے درمیان آزادانہ تعلق کے ساتھ چلتا ہے اور یہ دونوں اپنی اصل کے اعتبار سے (ڈرامے کے باہر کی نجی زندگی میں ) ہی ایک دوسرے کے لیے نامحرم نہیں ہوتے، بلکہ خود ڈرامے کے کرداروں کے مطابق بھی نامحرم ہوتے ہیں۔ یہ اختلاط حقیقی ہو یا ڈرامے کے کردار کے مطابق خیالی اور فرضی، دونوں ہی قرآن اور حدیث کی صریح تعلیمات کے خلاف ہیں۔

ٹیلی ویژن پر ان کو خوش نما انداز میں پیش کرکے گویا مسلمان نوجوان نسل کو مسلسل ان غیر شرعی اور دین دنیا دونوں تباہ کرنے والے اعمال کی ترغیب دی جارہی ہے۔ اس ساری صورت حال کو انتہائی عمومی انداز سے بغیر کسی جھجھک اور ہچکچاہٹ کے پیش کرنے کا اثر معاشرے پر یوں پڑ رہا ہے کہ چند ہی سالوں کے اندر بجائے اس کے کہ یہ غیر اسلامی انداز مسلم معاشرے میں اجنبی اور قابل گرفت بنتا ،الٹا اسلامی رویہ معذرت خواہانہ بنتا جارہا ہے۔ قابل فکر بات یہ ہے کہ یہ نتائج غیر متوقع نہیں ہیں ۔ کیوں کہ ٹیلی ویژن کے متعلق یہ بات معروف ہے کہ ذہنوں کو مسموم کرنے کا یہ ایک موثر اور طاقت ور میڈیا ہے، لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ اس میں پیش کیے جانے والے ڈراموں کے اندر دکھائے جانے والے مظالم کے مناظر پر خود اپنے اوپر قابو نہیں رکھ پاتے اور یہ جاننے کے باوجود کہ یہ مناظر مصنوعی ہیں اور محض کھیل تماشے کی فلم بندی ہے، ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے ہیں اور کمزور دل والے باقاعدہ بیمار ہو جاتے ہیں۔

سوال یہ ہے کہ باحیا اور باپردہ خواتین سے پہچانے جانے والے گھرانوں میں بے پردہ اور فیشن کی دل دادہ بے باک لڑکیوں کا وجود کیسے ہوا؟ شریف اور نجیب الطرفین خاندانوں کے کم عمر لڑکوں میں ہتھیاروں اور مار دھاڑ کے رحجانات کیسے داخل ہوئے؟ ماں بیٹے اور باپ بیٹی کے رشتوں کا تقدس، اولاد و والدین کے درمیان خدمت ومحبت کا رشتہ ، شرافت اور اخلاق کی مال ومنصب پر برتری، کلام الہٰی کی تلاوت کا معمول، دین اور دینی شعائر کا ادب واحترام، سب کچھ قصہ پارینہ بنتا چلا جارہا ہے اور اس مادر پدر آزاد معاشرے کے قیام واستحکام کا سب سے بڑا محرک ٹی وی ہے ۔ یہی آلہ ہے جس کے ذریعے باطل نے پہلے گھر گھر کو سینما بنایا اور اب اخلاق باختگی کے مراکز میں تبدیل کرنے پر تلا ہوا ہے۔

معاشرے کے رستے ہوئے ناسوروں کا یہی وہ منبع ہے جس نے بقول کسی کے، مسلم معاشرے کو اس حال تک پہنچا دیا ہے کہ مسلمان باپ اور مسلمان بیٹے ڈراموں کے حوالے سے اداکاروں کی اداکاری پر تبصرے کرتے ہیں اور انہیں یہ احساس بھی نہیں ہوتا کہ وہ مسلمان مرد (باپ ، بیٹے) کسی نامحرم عورت کی اداؤں پر تبصرہ کر رہے ہیں۔ اور تو اور ہمیں تویہ خبر بھی دی گئی کہ اسی ذریعہ ابلاغ پر ایک مغرب زدہ مرد اپنی ہیئت تبدیل کرکے عورت کی شکل اور لباس میں مختلف لوگوں سے انٹرویو لیتا رہا ہے اور اس میں شریک ہونے والے معاشرے کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ” معززین“ تھے۔ یہ ایک جھلک ہے ٹی وی زدہ معاشرے کے” معززین“ کی اخلاقی گراوٹ کی #
        آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آسکتا نہیں
        محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی

کچھ عرصہ قبل ایک مؤقر جریدے میں ایک کالم نگار نے یہ انکشاف کیا تھا کہ عراق اور افغانستان جہاں اسلام دشمنوں نے برسوں سے جنگ مسلط کر رکھی ہے اور جس کے نتیجے میں غربت وافلاس میں روز بہ روز اضافہ ہو رہا ہے اور لوگوں کی ضروریات زندگی تک پہنچ مشکل سے مشکل تر ہوتی چلی جارہی ہے، وہاں شراب اور شباب کی دست یابی کے ساتھ ساتھ ٹی وی کو دنیا میں سب سے کم قیمت پر فراہم کیا جارہا ہے۔کیوں ؟یہ صرف اس لیے ہے کہ اسلام دشمن پروپیگنڈے اور قوموں کی تنزلی کے لیے ضروری اخلاق باختگی کو ایک ہی آلے کے ذریعے پھیلا دیا جائے۔ اس کالم نگار نے تاریخی حقائق کی روشنی میں اس بات کا انکشاف بھی کیا تھا کہ امریکیوں نے یہی ہتھیار ”ویتنام“ پر قبضے کی عملی کوششوں کے دوران بھی استعمال کیا تھا۔فاتح فوجوں کی پہلی کوشش یہی ہوتی ہے کہ مفتوحہ اقوام کو زیر کرنے اوررکھنے کے لیے انہیں لہوو لعب میں مشغول کیا اور رکھاجائے #
        آتجھ کو بتاؤں میں تقدیر امم کیا ہے
        شمشیر و سناں اول طاؤس و رباب آخر

یہی صورت اس وقت درپیش ہے۔ طاؤس اور رباب کو جہاد کے مقابلے میں رواج دیا جارہا ہے۔

ایک آلہ شیطانی جس سے خیر برآمد کرنے کی خواہش کی جارہی ہے، جس کی ایجاد سے لے کر اب تک کا استعمال ثابت کر رہا ہے کہ اسے انسانیت کی اخلاقیات میں زوال پیدا کرنے کے لیے بنایا گیا تھا، وہ یقینا اسی کام میں مشغول ہے۔ جتنی گراوٹ اور زوال طبیعتوں میں آرہا ہے، اخلاقیات کا معیار اور ذوق بھی اتنا ہی پست ہوتا چلا جارہا ہے اور وہی معیار ان ذرائع ابلاغ کی منزل ہے۔ لہٰذا بعض لوگوں کا یہ کہنا کہ ٹی وی کو ایک اچھے آلے کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے یہ ان کی خام خیالی ہے۔ ایک ایسا آلہ جو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں خالص معصیت الہٰی اور خالق کائنات سے انسانیت کو غافل کرنے کے لیے ایجاد کیا گیا ہے اس سے صرف اس لیے اچھی توقعات وابستہ کرنا کہ اب ابتلائے عام ہے، کسی بھی طرح درست نہیں کہ عذر گناہ بدتراز گناہ ہوا کرتا ہے۔

اسی طرح اس قسم کی باتیں کرنا کہ اس میں معصیت سے بھرپور ڈرامے نہ دیکھے جائیں، مگر کم ازکم خبروں اور معلومات کے لیے دیکھنا جائز سمجھا جائے، بشرطیکہ مرد مرد کو دیکھیں اور عورت عورت کو دیکھے کیسا شیطانی دھوکا ہے؟! کیا جب ٹی وی کی اسکرین پر عورت نمودار ہو گی تو مرد صاحبان اپنی آنکھیں بند کرکے اپنی بیگم اور بچیوں کو آوازدیں گے کہ اب آپ اپنی آنکھیں کھول لیں۔ وائے افسوس، صد افسوس، اس دلیل جواز پر!
        وائے ناکامی متاعِ کارواں جاتا رہا
        کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا

ایک دلیل یہ بھی دی جارہی ہے کہ ایک ایسا اسلامی چینل قائم کر لیا جائے جس میں صرف مرد ہی کام کریں۔ اس کے پروگرام او راس کے اشتہارات میں نہ عورت کی تصویر ظاہر ہو اور نہ عورت کی آواز۔ موسیقی کسی قسم کی اس پر نشر نہ ہو۔ اور اس کے بعدٹی وی خریدنے اور دیکھنے کو جائز سمجھا جائے اور اسے جائز سمجھنے والے کو برا نہ سمجھا جائے۔ مگر اس دلیل میں ایک بہت بڑا سوالیہ نشان پوشیدہ ہے۔ اور وہ یہ کہ جو لوگ اسلامی چینل دیکھنے کے لیے ٹی وی اپنے گھروں میں لائیں گے، ان کے بچوں اور بچیوں کو بقیہ سینکڑوں چینلوں سے محفوظ رکھنے کی ضمانت کون دے گا؟ وہ پاک باز باپ جو صرف اسلامی چینل کے لیے گھر میں ٹی وی لائے گا، کیا وہ سارا دن اپنی ناپختہ ذہن والی اولاد کی نگرانی کے لیے گھر میں بیٹھا رہے گا؟؟ فیا للعجب!!!

خلاصہ یہ ہے کہ ڈیجیٹل تصاویر کو ممنوع تصویر کے زمرے سے خارج قرار دینا جیسا کہ بعض ناعاقبت اندیش اور حقائق سے منھ چھپانے والے نام نہاد امت مسلمہ کے خیر خواہ کہہ رہے ہیں یہ ایک بدیہی اور سامنے موجود حقیقت کا انکار ، ہر گز قابل التفات نہیں۔ ٹی وی جو منکرات وفواحش کا منبع ہے اس کو تبلیغ اسلام اور دفاع اسلام کے لیے استعمال کرنا ایسا ہی ہے جیسے کسی ناپاک برتن کو پاکیزہ اور خوش ذائقہ مشروب کے لیے استعمال کیا جائے۔

آج ہم اسلامی تعلیمات پر عمل کے بجائے مغربی تہذیب کے زیر اثر فواحش ومنکرات کی طرف مائل ہو رہے ہیں، عوام اور خود اپنے آپ کو دھوکا دے کر ٹی وی اور چینل کو اسلام کی تبلیغ اور دفاع اسلام کی خاطر استعمال کرنے کے منصوبے بنا رہے ہیں ، یاد رکھیے! آپ جو چاہے کہتے رہیں اور کرتے رہیں، خدا وند کو دھوکا نہیں دے سکتے۔ اسلام کی تبلیغ اور اس کا دفاع آج ہی کا مسئلہ نہیں ہے، یہ مسئلہ تو چودہ سو سال سے زیادہ زمانے سے ٹی وی اور چینل کے بغیر بڑی کام یابی سے جاری ہے۔

الله تعالیٰ ہمیں صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائیں اورہرباطل کو باطل جان کر اس سے دور رہنے کی توفیق نصیب فرمائیں۔ آمین!