بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

وحدت ِ امت کی بنیاد قرآن کریم

وحدت ِ امت کی بنیاد قرآن کریم

 

ہر باطل فرقہ اپنی آواز کو مؤثر بنانے کے لیے بظاہر قرآن کریم ہی کی دعوت لے کر اٹھتا ہے، بالخصوص موجودہ زمانے میں یہ فتنہ بکثرت پھیل رہاہے ، اس لیے استاذ المحدثین حضرت مولانا شیخ سلیم الله خان صاحب نوّر الله مرقدہ کی دیرینہ خواہش تھی کہ قرآن کریم کی اردو میں ایسی جامع تفسیر منظر عام پر لائی جائے جس میں فرق باطلہ کے مستدلات کا تفصیلی علمی تعاقب کرکے اہلسنت والجماعت کا مؤقف واضح کر دیا جائے، چناں چہ اس مقصد کے پیش نظر جامعہ کے شعبہ دارالتصنیف میں حضرت کے افادات مرتب کرنے کا سلسلہ جاری ہے ، الله تعالیٰ اپنی توفیق سے اسے پایہٴ تکمیل تک پہنچائے ۔ آمین۔ (ادارہ)

﴿قُلْ یَا أَہْلَ الْکِتَابِ لِمَ تَکْفُرُونَ بِآیَاتِ اللَّہِ وَاللَّہُ شَہِیدٌ عَلَیٰ مَا تَعْمَلُونَ ، قُلْ یَا أَہْلَ الْکِتَابِ لِمَ تَصُدُّونَ عَن سَبِیلِ اللَّہِ مَنْ آمَنَ تَبْغُونَہَا عِوَجًا وَأَنتُمْ شُہَدَاء ُ وَمَا اللَّہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ﴾․ (سورہ آل عمران:99-98)
تو کہہ اے اہل کتاب! کیوں منکر ہوتے ہو اللہ کے کلام سے اور اللہ کے روبرو ہے جو تم کرتے ہو؟ تو کہہ اے اہل کتاب! کیوں روکتے ہو اللہ کی راہ سے ایمان لانے والوں کو کہ ڈھونڈتے ہو اس میں عیب اور تم خود جانتے ہو اور اللہ بے خبر نہیں تمہارے کام سے۔

ربط و تفسیر
یہود کا دوہرا جرم:اہل ایمان میں اختلاف پیدا کرنا۔

گزشتہ کئی آیات سے اہل کتاب کے مختلف دعووں کی تردید اور ان کے مکروہ اعمال پر تنبیہ کی جا رہی ہے، اس آیت میں بھی یہود کی طرف سے کی گئی ایک سازش پر انہیں تنبیہ کی گئی ہے، زمانہ جاہلیت میں مدینہ منورہ پر یہودی قبائل کو علمی، سیاسی اور معاشی غلبہ حاصل تھا، مدینہ منورہ کی مقامی آبادی جوبنو اوس اور بنو حزرج پر مشتمل تھی، باہمی عداوت اور مسلسل جنگ کی وجہ سے اپنی معاشی وسیاسی طاقت کھو چکی تھی، جب شمعِ اسلام کی کرنیں ان کے قلب پر پڑیں، تو دشمنی، اور بغض کے سارے جذبات اتحاد و یگانگت میں بدل گئے، ان کی معاشی وسیاسی قوت ابھرنے لگی، یہود اس اتحاد سے پریشان تھے، کیوں کہ انہیں اپنا مستقبل تاریک نظر آنے لگا، چناں چہ یہود کسی ایسے موقع کی تلاش میں تھے، جس میں ان کی پرانی عداوتوں کو تازہ کر کے، پھر سے اختلاف کی بیل ڈالی جائے ، ایک دن اوس و خزرج کے لوگ مشترکہ طور پر ایک مجلس میں بیٹھے تھے، شاس بن قیس نامی یہودی مجلس میں آکر باتوں ہی باتوں میں پرانی جنگوں اور بہادروں کے تذکرے اور ان کے رجزیہ اشعار پڑھنے لگا،ہر قبیلے کے لوگ اپنے بہادروں کے تذکرے میں دوسروں کی عیب جوئی اور ان کی تحقیر پر آمادہ ہوئے تو شوروغل برپا ہوا، اوس و خزرج پھر سے ایک دوسرے کو میدان جنگ میں بلانے لگے، دن مقرر ہونے لگا، آپ علیہ السلام کو خبر ہوئی، غصے میں تشریف لائے اور انصار سے خطاب کرکے فرمایا:یہ کیا جہالت ہے؟ میری موجودگی میں واہیات ؟کیا تم پھر سے کفر کے اندھیروں میں لوٹنا چاہتے ہو؟ انصار متنبہ ہوئے، ندامت سے آنکھوں میں آنسو اتر آئے، آپس میں گلے مل کر خوب روئے، اس موقع پر ان آیات کا نزول ہوا ،جن میں یہود کی سرزنش کی گئی، ان کے دوہرے جرم کو واضح کر کے ان کی ہٹ دھرمی پر تعجب کیا گیا، پہلا جرم…اللہ تعالی کی نشانیاں (آپ علیہ السلام کی بعثت، آپ کی ذات وصفات کے متعلق معرفت) جاننے کے باوجود کفر پر اڑے رہنا، دوسرا جرم، شمع ہدایت سے فیض یاب ہونے والے لوگوں میں باہمی اختلاف پیدا کرنا۔

…حالاں کہ یہ اس بات سے خوب واقف ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے سب کرتوتوں پرنظر رکھے ہوئے ہے۔

﴿یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا إِن تُطِیعُوا فَرِیقًا مِّنَ الَّذِینَ أُوتُوا الْکِتَابَ یَرُدُّوکُم بَعْدَ إِیمَانِکُمْ کَافِرِینَ،وَکَیْفَ تَکْفُرُونَ وَأَنتُمْ تُتْلَیٰ عَلَیْکُمْ آیَاتُ اللَّہِ وَفِیکُمْ رَسُولُہُ وَمَن یَعْتَصِم بِاللَّہِ فَقَدْ ہُدِیَ إِلَیٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِیمٍ﴾․(سورہ آل عمران:101-100)
اے ایمان والو! اگر تم کہا مانو گے بعضے اہل کتاب کا تو پھر کردیں گے وہ تم کو ایمان لائے پیچھے کافراور تم کس طرح کافر ہوتے ہو اور تم پر پڑھی جاتی ہیں،آیتیں اللہ کی اور تم میں سے اس کا رسو ل ہے اور جو کوئی مضبوط پکڑے اللہ کو تو اس کو ہدایت ہوئی سیدھے رستے کی۔

ربط وتفسیر
اسلام ایک نظام زندگی ہے، جس کا دائرہ انسانی زندگی کے ہر شعبے کو محیط ہے، چاہے اس کا تعلق عبادت سے ہو یا سیاست سے،معاشرت سے ہو یا تجارت سے، تعزیرات سے ہو یا عدالت سے، جو شریعت ایسی جامع ہو، اور پھر آپ علیہ السلام جیسی اکمل ذات کے واسطے اس امت کو ملی ہو اسے غیروں کی عبادت، غیروں کی سیاست، غیروں کی خود ساختہ قوانین پر مشتمل عدالت و تعزیرات سے کیا واسطہ؟!اس آیت میں ہر اس مسلمان کو تنبیہ کی گئی ہے جو اپنے معاملات میں اہل کتاب(کفار) کی پیروی کرتا ہے، اس کا انجام بعض اوقات فسق (کفردون کفر) اور بعض اوقات کفر کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔العیاذ باللہ۔

کتاب و سنت کی موجودگی میں غیروں کی پیروکاری قابل ِتعجب ہے
وکیف تکفرون… یہودی سازش نے مسلمانوں کے قبائل اوس وخزرج میں قبائلی تفاخر کا فتنہ جگا کر انہیں قتل و قتال پر آمادہ کر لیا تھا،اللہ تعالیٰ نے اسے کفریہ عمل سے تعبیر کر کے اس پر تعجب کا اظہار فرمایا!کیف تکفرون…تم اس کفریہ عمل پر کیسے آمادہ ہو گئے،حالاں کہ تم میں کتاب اللہ اور رسول اللہ کی ذات گرامی موجود ہیں؟اپنے ہر معاملے میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرنے والا ہی ہدایت یافتہ ہوتا ہے،ان آیات کا مصداق اکثرمفسرین کے نزدیک اوس و خزرج کے صحابہ کرام ہیں۔ (روح المعانی ، اٰل عمران، ذیل آیت:101)اس لیے، ﴿ وَفِیکُمْ رَسُولُہُ﴾(تم میں اس کا رسول ہے) میں مخاطب صحابہ کرام ہیں،آپ علیہ السلام کی وفات کے بعد اُمت کے لیے آپ کے افعال و اقوال چشمہ ہدایت ہیں، ان سے اعراض کرنا کسی امتی کے لیے جائز نہیں۔

اسلام میں محبت و عداوت کا معیار اور قومیت کی بنیاد مذہب ہے
وہ کون سی بنیادیں ہیں جن پر قومیت کی عمارت قائم ہوتی ہے؟مادہ پرست لوگوں میں زمان و مکان کے اختلاف اور حالات کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ قومیت کی بنیادیں بدلتی رہتی ہیں،چناں چہ کہیں حسب ونسب کی بناء پرقومیت کا ظہور ہوتاہے اور محبت وعداوت کا معیار بنتا ہے،کہیں ہم زبان ہونے کی بنیاد پراور کہیں ملک ووطن کی بنیاد پر ،کہیں کالے گورے رنگ کی بنا پر،اسلام میں محبت و عداوت ، عزت وذلت، اخوت و وحدت کا معیار صرف اور صرف مذہب ہے، مسلمان کالا ہو یا گورا، مشرقی ہو یا مغربی ،عربی ہو یا عجمی، ملکی ہو یا غیر ملکی، سب اسلامی اخوت کی سنہری زنجیر سے جڑے ہوئے ہیں،ان کی جان و مال حقیقی بھائی کی طرح محترم اور معززہے، ”قومیتوں“کے باقی سارے ذرائع صرف تعارف کا ذریعہ ہیں ، اوس و خزرج نے نسب کی بنا پر عداوت کی آگ بھڑکانا چاہی تو اللہ تعالی نے اسے کفر سے تعبیر فرما کر تنبیہ کی۔

﴿ِ وَفِیکُمْ رَسُولُہُ﴾سے اہل بدعت کا  آپ علیہ السلام کے متعلق حاضر و ناظر ہو نے کا استدلال
اہل بدعت نے آیت کریمہ کے اس ٹکڑے سے یہ مطلب اخذ کیاہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں میں موجود اورحاضرو ناظر رہتے ہیں، چوں کہ استدلال کی بنیاد ﴿فیکم﴾میں مخاطب کی ضمیر ہے، اس لیے اولا یہ معلوم کرنا چاہیے کہ اس کامصداق کون لوگ ہیں؟اکثر مفسرین کے نزدیک اس کے مخاطب اہل انصار کا وہ مجمع ہے جو کفار یہود کی سازش سے باہمی جنگ و جدل پر تیار ہو گئے، انہیں فرمایا گیا ﴿ِ وَفِیکُمْ رَسُولُہ﴾”اور تمہارے درمیان اس کا رسول ہے “پھر بھی تم اس جہالت میں پڑتے ہو گویا اس آیت کا مصداق مخصوص ہے، لیکن حکم عام ہے، یعنی اپنے تمام تر تنازعے جب تک آپ علیہ السلام زند ہ ہیں، ان سے حل کرائے جائیں، ان کی وفات کے بعد آپ کے اقوال و افعال(سنت) سے ان کا حل نکالا جائے۔

بعض مفسرین نے اس کے حکم کے ساتھ اس کا مصداق بھی عام کر رکھا ہے، یعنی پوری امت مسلمہ اس کی مصداق ہے، یعنی پوری امت اپنے تنازعات حل کرانے کے لیے آپ کی شخصیت کی پابند ہے،آپ کی حیات میں آپ سے اور آپ کی وفات کے بعد آپ کی سنت سے ۔

دونوں اقوال کا نتیجہ ایک ہی ہے، کسی مفسر نے اس آیت سے آپ کے حاضر و ناظر ہونے کا استدلال نہیں کیا، اس عقیدے کی باقی تمام تفصیل سورة فتح میں آئے گی ان شاء اللہ۔

﴿یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّہَ حَقَّ تُقَاتِہِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُون، وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّہِ جَمِیعًا وَلَا تَفَرَّقُوا وَاذْکُرُوا نِعْمَتَ اللَّہِ عَلَیْکُمْ إِذْ کُنتُمْ أَعْدَاء ً فَأَلَّفَ بَیْنَ قُلُوبِکُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِہِ إِخْوَانًا وَکُنتُمْ عَلَیٰ شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَأَنقَذَکُم مِّنْہَا کَذَٰلِکَ یُبَیِّنُ اللَّہُ لَکُمْ آیَاتِہِ لَعَلَّکُمْ تَہْتَدُونَ﴾․ (سورہ آل عمران:103-102)
اے ایمان والو!ڈرتے رہو اللہ سے، جیسا چاہیے اس سے ڈرنا، نہ مریو مگر مسلمان اور مضبوط پکڑو رسی اللہ کی سب مل کر اور پھوٹ نہ ڈالو اور یاد کرو احسان اللہ کااپنے اوپر، جب کہ تم تھے آپس میں دشمن، پھر الفت دی تمہارے دلوں میں اب ہو گئے اس کے فضل سے بھائی اور تم تھے کنارے پر ایک آگ کے گڑھے کے، پھر تم کو اس سے نجات دی، اس طرح اللہ کھولتا ہے تم پر آیتیں، تاکہ تم راہ پاؤ۔

ربط:گذشتہ آیات کی طرح ان آیات میں بھی اہل ایمان کو تنبیہ کی گئی ہے۔

اللہ تعالیٰ سے جتنا ہو سکے ڈرتے رہنا چاہیے
﴿﴿یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّہ﴾…اس آیت میں اہل ایمان کو خطاب کر کے فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو جس طرح اس سے ڈرنے کا حق ہے۔

واضح رہے کہ انسان ظالم بھی ہے اور جاہل بھی، ان دو صفات کی وجہ سے انسان خشیت الہی کا ایسا مقام حاصل نہیں کرسکتا جس سے اللہ تعالیٰ جیسی بے نیاز ذات کا حقِ خشیت کما حقہ ادا کیا جا سکے، جب انسان فطری کمزوری کی وجہ سے خشیت الہی کا حق ادا کرنے سے قاصر ہے تو پھر اللہ نے اہل ایمان کو اس کا مکلف کیوں بنایا؟ اس کے جواب میں علماء کی ایک جماعت کی رائے یہ ہے کہ اس آیت کا حکم ایک دوسری آیت:﴿فاتقوااللہ ما استطعتم﴾(سو ڈرو اللہ سے جہاں تک ہو سکے) کی وجہ سے منسوخ ہو چکا ہے، جس میں بقدر استطاعت ڈرنے کا مکلف بنایا گیا ہے، دیگر اہل علم پہلی آیت کو منسوخ قرار دینے کے بجائے اس کی تشریح ہی ”بقدرِ استطاعت ڈرنے“سے کرتے ہیں اور دوسری آیت کو پہلی کی تفسیر قرار دیتے ہیں، جس کی وجہ سے ناسخ منسوخ کی بحث پیش ہی نہیں آتی اور ”بقدرِ استطاعت ڈرنے“کا مطلب معصیات سے دور رہنا اور اطاعتِ الہی میں مشغول رہنا ہے، چناں چہ آپ علیہ السلام نے”حق تقاتہ“کی تفسیر ان الفاظ سے بیان فرمائی ”اس کی اطاعت کی جائے نافرمانی سے بچا جائے، اس کا شکر کیا جا ئے، نا شکری سے ا جتناب کیا جائے،اس کا ذکر کیا جائے، بھلایا نہ جائے۔“

بحالتِ ایمان مرنے کی تدبیر
ولا تموتن إلا وانتم مسلمون…اس آیت میں مسلمانوں کو بحالت ایمان مرنے کی تاکید کی گئی ہے، لیکن ایک شبہ یہاں پر یہ ہوتا ہے کہ موت ایک غیر اختیاری عمل ہے، وہ کبھی بھی اور کسی بھی وقت آسکتی ہے، جب انسان عصیان میں مبتلا ہو(العیاذ باللہ)ایسے امر کے پابند بنانے کا کیا معنی ہے؟ اس شبہ کے جواب میں علماء فرماتے ہیں اس آیت کریمہ میں ایمان قلبی مراد ہے۔ (روح المعانی، اٰل عمران، ذیل آیت:102) یعنی جب موت آئے تو قلب میں ایمان کی شمع روشن ہو اور یہ اختیاری عمل ہے، بعض علماء نے ایمان قلبی کے ساتھ اعمال ایمانی بھی مراد لیا ہے، یعنی بوقت موت مومن اعمال صالحہ میں مشغول ہو، اس کی تدبیر یہ ہے کہ انسان اپنے شب و روز کے معمولات سنت مطہرہ کے مطابق ڈھال لے، انشاء اللہ موت بھی اعمال صالحہ کرتے ہوئے آئے گی۔(التفسیر الکبیر، اٰل عمران، ذیل آیت:102)

بوقت موت اللہ تعالیٰ سے حسن ظن رکھنا بھی ایمانی صفت ہے، حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں، میں نے آپ علیہ السلام سے سنا ، آپ نے فرمایا: تم میں کوئی شخص ہر گز نہ مرے مگر وہ اللہ عزوجل سے حسن ظن رکھتا ہو۔(صحیح مسلم، کتاب الجنة وصفة نعیمھا…ا، رقم:2877)․

وحدت ِ امت کی بنیاد۔ قرآن کریم
واعتصموا بحبل اللہ…اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو اختلافات سے دور رکھنے کے لیے وحدت امت کا ایک پیمانہ عطا فرمایا ہے، وہ پیمانہ قرآن کریم ہے، مفسرین کے نزدیک حبل اللہ (اللہ کی رسی) سے قرآن کریم مراد ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے مضبوطی سے پکڑے رہنے کا حکم فرمایا ہے۔( تفسیر ابن کثیر، اٰل عمران، ذیل آیت: 103)لیکن قرآن کریم پر اتحادو اتفاق کا پیمانہ اس وقت بن سکتا ہے…۔

جب اہل ایمان اس کی تشریح میں اسی تشریح پر ایمان لائیں جو صاحب قرآن آپ علیہ السلام نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے سامنے بیان فرمائی ہے، جسے اہل علم”احادیث“ کا نام دیتے ہیں، اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مبارکہ سامنے نہ رکھی جائیں اور اگر قرآنی الفاظ کی تشریحات کو قاری کی فہم و فراست پر چھوڑ دیا جائے تو پھر قرآن کریم دو آدمیوں میں بھی وحدت کا ذریعہ نہیں بن سکتا چہ جائیکہ پوری امت کے لیے ذریعہ وحدت بنے۔

ہر اختلاف مذموم نہیں ہے
جس طرح ہر اتحاد قابلِ تعریف نہیں ،اسی طرح ہر اختلاف بھی قابل ِ تنقیص نہیں، شریعت مطہرہ میں احکام بااعتبار ثبوت کے دو حصوں پرمنقسم ہیں۔

دین کے اساسی اور مجمع علیہ قطعی احکام:
اس کا اطلاق عقیدہ و عمل کے ان تمام احکام پر ہوتا ہے جو اپنے ثبوت کے اعتبار سے قطعیت کا درجہ رکھتے ہیں، اگرچہ فقہاء کی اصطلاحات میں وہ فرائض کے درجے میں ہوں یا استحباب کے درجے میں ہوں، ایسے امور کی فہرست عقائد کی کتب میں تفصیل سے مذکور ہے۔

تاہم چیدہ چیدہ یہ ہیں، توحید باری تعالیٰ، ملائکہ کا وجود، انبیاء ورسل پر ایمان ، کتب الہٰی اور کلام الہٰی(قرآن کریم) پر ایمان ، آپ علیہ السلام کے متعلق ختم نبوت کا عقیدہ رکھنا، جنات کا وجود، حجیت حدیثِ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، نماز ، روزہ، حج ، زکوة، جہاد فی سبیل اللہ کا ثبوت اور اس پر عقیدہ رکھنا،اسی طرح کے احکام کو اہل علم مختلف تعبیرات سے ظاہر کرتے ہیں، مثلاً اصولِ دین، ضروریات دین، وغیرہ، ان مسائل میں اختلاف کرنا حرام ہے اور ان سے انکار کرنے سے کفروفسق لازم آتا ہے۔

دین کے فروعی اور مجتہد فیہ احکام
اس کا اطلاق ان احکام پر ہوتا ہے جن میں ائمہ مجتہدین کے فیصلے کو بنیادی کردار حاصل ہوتا ہے، مجتہد فیہ امور دو طرح کے ہوتے ہیں، عقیدہ و عمل کے وہ مسائل جن کے نصوص میں یا تعبیرات میں باہمی اختلاف پیدا ہو جائے، یہ عقیدہ کے مسئلہ میں بھی ہو سکتا ہے، فقہ کے مسائل میں بھی ہو سکتا ہے، مثلاً ایک ہی مسئلہ میں دو متعارض احادیث ہوں، اب ان دو میں سے کون سی قابلِ استدلال ہے اور کون سی قابلِ رد؟ جب اس کے فیصلے کے لیے اسمائے رجال پر نظر دوڑائی جاتی ہے ان میں بھی اختلاف ہوتا ہے، اب ائمہ مجتہدین میں سے ہر مجتہد اپنے وسیع اور عمیق فکر کو استعمال کرتے ہوئے ایک حدیث کو راجح اور دوسری کو مرجوح قرار دیتے ہیں،جس سے ائمہ کے درمیان مسائل میں اختلاف رونما ہوتا ہے، ایسا اختلاف امت کے لیے رحمت اور آسانی کا ذریعہ ہے اور قابلِ مذمت نہیں، اور ایسا اختلاف صحابہ کرام کے درمیان بھی تھا، بلکہ آپ علیہ السلام نے ان کی مذمت نہیں فرمائی آپ علیہ السلام نے صحابہ کی ایک جماعت کو یہودی قلعے کے محاصرے کے لیے روانہ کرتے ہوئے فرمایا:تم عصر کی نماز بنی قریظہ (یہودی قلعے) کے ہاں پہنچ کر پڑھنا، جب یہ جماعت بنو قریظہ کی طرف روانہ ہوئی تو راستے میں غروب آفتاب کا وقت قریب آگیا، چناں چہ صحابہ کرام میں اختلاف ہو گیا، عصر کی نماز پڑھی جائے یا قضا کر کے بنو قریظہ کے قلعہ تک پہنچ کر پڑھی جائے، ایک جماعت نے ظاہر ی حدیث پر عمل کرتے ہوئے راستہ میں نماز نہیں پڑھی، دوسری جماعت نے کہا آپ علیہ السلام کے ارشاد گرامی کا مطلب جلد از جلد وہاں پہنچنے کا تھا ،یہ نہیں تھا کہ نماز قضا کر دینا۔ اس لیے انہوں نے راستے ہی میں نماز پڑھ لی، جب آپ علیہ السلام کو اس کا علم ہوا تو آپ نے دونوں کی تصویب فرمائی اور کسی کی مذمت نہیں فرمائی۔ (صحیح بخاری، حدیث رقم،356/صحیح مسلم حدیث رقم:1716) نیز آپ علیہ السلام نے فرمایا:مجتہد اگر مصیب ہو (یعنی اس کا اجتہاد مبنی بر صواب ہو) تو دو اجر کا مستحق ہے اور اگر مخطی ہو(یعنی اس کا اجتہاد مبنی بر خطا ہو) تو ایک اجر کا مستحق ہوتا ہے، خلاصہ یہ ہے کہ مجتہد کسی صورت بھی گناہ گار نہیں ہوتا۔

مجتہد فیہ امور میں دوسری نوعیت ان مسائل کی ہے جن کا حکم قرآن و حدیث میں صراحتاًمذکور نہیں ہے، اس لیے ائمہ مجتہدین اس کے مشابہ کوئی حکم قرآن و حدیث میں تلاش کر کے علت مشترکہ کی بنیاد اصل کا حکم فرع پر عائدکرتے ہیں، اہل علم اسے قیاس کہتے ہیں۔ (جس کی تفصیلی بحث انشاء اللہ سورة النحل میں آیت نمبر 89 کی تفسیر کے ضمن میں آئے گی)

خلاصہ یہ ہے کہ ائمہ مجتہدین کے اختلافی مسائل کو تفرقہ قرار دینا یا انہیں خلافِ حدیث کہنا یا ائمہ مجتہدین پر امت کے اعتقاد کو شرک قرار دینا اسی شخص کا کام ہو سکتا ہے ، جو دین کے صحیح فہم سے کورا ہو یا اندھی عداوت وعناد کا شکار ہو۔ (جاری)