بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نکاح کا شرعی حکم

نکاح کا شرعی حکم

ہر باطل فرقہ اپنی آواز کو مؤثر بنانے کے لیے بظاہر قرآن کریم ہی کی دعوت لے کر اٹھتا ہے، بالخصوص موجودہ زمانے میں یہ فتنہ بکثرت پھیل رہاہے ، اس لیے استاذ المحدثین حضرت مولانا شیخ سلیم الله خان صاحب نوّر الله مرقدہ کی دیرینہ خواہش تھی کہ قرآن کریم کی اردو میں ایسی جامع تفسیر منظر عام پر لائی جائے جس میں فرق باطلہ کے مستدلات کا تفصیلی علمی تعاقب کرکے اہلسنت والجماعت کا مؤقف واضح کر دیا جائے، چناں چہ اس مقصد کے پیش نظر جامعہ کے شعبہ دارالتصنیف میں حضرت کے افادات مرتب کرنے کا سلسلہ جاری ہے ، الله تعالیٰ اپنی توفیق سے اسے پایہٴ تکمیل تک پہنچائے ۔ آمین۔ (ادارہ)

﴿وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوْا فِیْ الْیَتَامٰی فَانْکِحُوْا مَا طَابَ لَکُمْ مِّنَ النِّسَاء ِ مَثْنَی وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ ذٰلِکَ أَدْنٰی أَلَّا تَعُوْلُوْا﴾․ (النساء:3)

(اور اگر ڈرو کہ انصاف نہ کر سکو گے یتیم لڑکیوں کے حق میں تو نکاح کر لو جو اور عورتیں تم کو خوش آویں دو دو، تین تین، چار چار، پھر اگر ڈرو کہ ان میں انصاف نہ کر سکو گے تو ایک ہی نکاح کرو یا لونڈی جو اپنا مال ہے، اس میں امید ہے کہ ایک طرف نہ جھک پڑو گے)۔

تفسیر
اور اگر تمہیں اس بات کا محض گمان ہی ہو کہ تم یتیم لڑکیوں سے نکاح کر کے ان کے مہر و حقوق زوجیت کے بارے میں انصاف نہ کر سکو گے تو ان سے نکاح نہ کرو اور اگر پورا یقین ہو تو بطریق اولیٰ تم پر لازم ہے کہ ان سے نکاح کرنے سے باز رہو، بلکہ ان کے علاوہ جو عورتیں تمہیں پسند ہوں اور ان سے نکاح کی مناسب صورت بھی بن سکتی ہو اور تم ان کے حقوق بھی اچھی طرح ادا کر سکتے ہو تو صرف ایک ہی نہیں بلکہ دو دو، تین تین، اور چار چار عورتوں کو بھی تم بیک وقت اپنے نکاح میں رکھ سکتے ہو، لیکن اگر تمہیں اس بات کا ڈر ہو کہ بیک وقت دو، تین یا چار بیویاں کر کے ان کے حقوق ادا نہ کر سکو گے تو پھر ایک بیوی ہی کر لو کہ ایک بیوی کے حقوق ادا کرنا ایک سے زائد کی نسبت سہل ہے، لیکن اگر یہ سمجھو کہ ایک سے بھی نبھا نہ سکو گے تو جو باندی شرعاً تمہاری ملکیت میں ہو اسی کو اپنے پاس ٹھہرائے رکھو کہ اس کے حقوق بہت ہی تھوڑے اور سہل الاداء ہیں، مثلاً مہر، صحبت اور عزل وغیرہا کی بابت اس کا کوئی حق نہیں۔ اور اس آخری امر میں یعنی ایک بیوی یا محض باندی ہی رکھ لینے میں زیادتی اور ناانصافی نہ ہونے کی زیادہ امید ہے۔

ربط…یتیموں کے حقوق کا بیان چل رہا ہے، گذشتہ آیت میں یتیموں کے حقوق کی حفاظت کے لیے بعض ایسے امور سے منع کیا گیا جو جاہلیت میں رائج تھے اور ان کی بنا پر یتیموں کا مالی نقصان ہو رہا تھا، اس آیت میں ایک دوسرے عنوان سے ان کے حقوق تلف کرنے سے منع کیا گیا ہے کہ اگر کسی کی ولایت میں کوئی یتیم لڑکی ہو تو اس خیال سے اس سے نکاح نہ کرے کہ یہ لڑکی ہر طرح سے اپنے قبضے میں ہے اور کوئی اس کے حقوق کا مطالبہ کرنے والا نہیں لہذا جتنا جی چاہے گا مہر مقرر کر دیں گے اور اس کا جو مال ہے وہ بھی اپنے قبضے میں آجائے گا۔

شانِ نزول
صحیح بخاری میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ ایک شخص کی ولایت میں ایک یتیم لڑکی تھی اور اس کا ایک باغ تھا جس میں یہ لڑکی بھی شریک تھی اس شخص نے اس لڑکی سے خود ہی نکاح کر لیا اور اپنے پاس سے مہر دینے کے بجائے اس کے باغ کا حصہ بھی اپنے قبضہ میں کر لیا، اس پر آیت :﴿وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوْا فِیْ الْیَتَامٰی﴾ نازل ہوئی۔(صحیح البخاری، رقم الحدیث:4573)

صحیح بخاری ہی کی ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اللہ رب العزت کے ارشاد ﴿وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوْا فِیْ الْیَتَامٰی﴾ کے بارے میں پوچھا تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا:اے بھانجے! یہ آیت اُس یتیم لڑکی سے متعلق ہے جو کسی ایسے شخص کی ولایت میں ہوتی تھی جو (قرابت کی وجہ سے) مال میں اس کے ساتھ شریک ہوتا تھا اور اس لڑکی کے مال اور جمال میں رغبت کی وجہ سے خود ہی اس سے نکاح کر لیتا لیکن مہر کی ادائیگی میں انصاف سے کام نہ لیتا کہ اس کو اتنا ہی مہر دے دے جتنا کہ اگر کوئی دوسرا شخص اس سے نکاح کرتا تو دیتا، لہٰذا اس آیت میں ان اولیا کو ان یتیم لڑکیوں سے نکاح ہی کو منع کر دیا گیا، ہاں مگر یہ کہ وہ انصاف سے کام لیں اوران کے مہر کو بڑھا کر اتنا ہی دیں جتنا کہ ان جیسی لڑکیوں کو دیا جاتا ہے۔(صحیح البخاری، رقم الحدیث:4544)

نکاح کرنے کا حکم
یہاں پر ”فَانْکِحُوْا“صیغہ امر لایا گیا ہے اور مطلق امر وجوب کا تقاضا کرتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ نکاح کرنا فرض یا کم از کم واجب تو ضرور ہے۔ (جیسا کہ عام حالات میں ظاہریہ کا مذہب بھی یہی ہے)، لیکن صحیح بات یہ ہے کہ نکاح کا حکم وجوب، فرضیت، سنیت، حرمت، کراہت اوراباحت کے اعتبار سے ہر ایک کے لیے یکساں نہیں ہے بلکہ اس میں کسی قدر تفصیل ہے۔

تنبیہ:یہاں پر نکاح سے مراد شادی ہے اس لیے کہ جن مصالح کی وجہ سے نکاح کرنے کا حکم تبدیل ہوتا ہے وہ ان حالات پر موقوف ہیں جو نکاح بمعنیٰ رخصتی ہو جانے یا نہ ہونے کی صورت میں پیش آتے ہیں۔

شدت شہوت میں نکاح کرنا واجب ہے یعنی جب کسی شخص کو غلبہ شہوت کی وجہ سے بدکاری وغیرہ میں پڑ جانے کا اندیشہ ہو تو اس پر نکاح کرنا واجب ہے۔ اور اگر بدکاری وغیرہ میں پڑ جانے کا اندیشہ اس قدر بڑھ جائے کہ نکاح کیے بغیر اسے زنا سے بچنا ناممکن معلوم ہوتا ہو تو نکاح کرنا فرض ہے۔(بدائع الصنائع، کتاب النکاح:3/311)

البتہ اس بات کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے کہ یہ دونوں قسمیں دو شرطوں کے ساتھ مشروط ہیں:
1..مہر و نفقہ پر قدرت ہونا۔
2..ظلم کے ارتکاب کا خوف نہ ہونا۔

1..مہر و نفقہ پر قدرت ہونا: یعنی مذکورہ بالا حالات میں یہ شخص بیوی کا مہر ادا کرنے اور نفقہ برداشت کرنے پر بھی قادر ہو، لہٰذا اگر کوئی شخص شہوت میں مغلوب الحال ہے مگر مہر و نفقہ کی ادائیگی سے عاجز ہے تو یہ شخص شادی نہ کرنے پر گنہ گار نہ ہو گا۔(البحرالرائق، کتاب النکاح:3/140) اور عفیف رہنے کے لیے مسلسل روزے رکھے، اور اسباب عفت اختیار کرے۔

ہاں اگر وہ اس حالت مہر و نفقہ بھی برداشت کر سکتا ہے لیکن پھر بھی شادی نہیں کرتا تو گنہ گار ہے، جیسا کہ بدائع میں ہے:
”جو شخص مہر و نفقہ پر قادر ہے اور (شادی کیے بغیر) اس کا زنا سے بچنا بھی ممکن نہیں، اس کے باوجود بھی وہ شادی نہ کرے تو گنہ گار ہے۔“(بدائع الصنائع، کتاب النکاح:3/211)

2..ظلم کے ارتکاب کا خوف نہ ہونا: حالتِ توقان میں شادی کے واجب یا فرض ہونے کی دوسری شرط یہ ہے کہ اسے (اپنی تند خوئی، تلخ روی یا دیگر عوامل کی بنا پر) اس بات کا اندیشہ نہ ہو کہ شادی کے بعد بیوی کے ساتھ ظلم و ناانصافی کا برتاؤ کیا کرے گا، اور اگر اس کا اندیشہ ہو تو ناصرف یہ کہ اس پر نکاح فرض نہیں بلکہ مکروہ ہے۔

وجہ اس کی یہ ہے کہ نکاح تو اس لیے مشروع ہے تاکہ اس کے ذریعے آدمی عفت و پاک دامنی کو اپنائے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والی اولادِ صالحہ حاصل کر کے ثواب کا مستحق ہو، لیکن اگر اس بات کا خوف ہے کہ ظلم میں پڑ جائے گا جس کی وجہ سے گناہ اور محرمات کا مرتکب ہو گا تو نکاح کے مصالح ہی فوت ہو جائیں گے۔

اور علامہ ابن نجیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”ظلم کرنا معصیت اور گناہ ہے، اور اس کا تعلق حقوق العباد سے ہے، (ایسے ہی زنا کرنا بھی حرام ہے) اور زنا (سے بچنے) کا تعلق حقوق اللہ سے ہے لیکن انسان محتاج ہے اور اللہ تعالیٰ محتاج نہیں اس لیے انسان کے حقوق کو مقدم کرتے ہوئے ان حالات میں نکاح نہ کرنے کا حکم ہے۔“(البحرالرائق، کتاب النکاح:3/140)

علامہ ابن ہمام رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
”اس کا تقاضا تو یہ ہے کہ اس صورت میں نکاح کرنا حرام ہو لیکن نصوص میں اس کی کوئی تفصیل نہیں ملتی، اس لیے مناسب یہ ہے کہ ظلم وناانصافی کے خوف میں بھی وہی تفصیل کی جائے جو زنا و بدکاری کے خوف کے بارے میں کی گئی تھی۔“(فتح القدیر، کتاب النکاح:3/140)

یعنی اگر اس بات کا ڈر ہو کہ شادی کے بعد ظلم کرے گا تو اس کا شادی کرنا مکروہ ہے، اور اگر یہ اندیشہ یقین کی حد تک بڑھ جائے کہ بیوی کے ساتھ ظلم و ناانصافی کرنے سے رک نہ سکے گا تو شادی کرنا حرام ہے۔

علامہ زین الدین ابن نجیم رحمہ اللہ یہ تفصیل اس طرح سے بیان فرماتے ہیں:
”اور چوتھی قسم (یعنی حرام تو اس وقت ہے) جب ظلم و ناانصافی کے ارتکاب کا اندیشہ اس قدر بڑھ جائے کہ اس سے بچنا ناممکن معلوم ہوتا ہو… اور پانچویں قسم (یعنی مکروہ اس وقت ہے) جب یہ خوف مذکورہ درجے کا نہ ہو (بلکہ اس سے کم ہو) اور مراد اس کراہت سے کراہت تحریمی ہے۔“

تنبیہ:اوراوپر جو یہ کہا گیا ہے کہ اس صورت میں نکاح کرنا حرام ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ نکاح منعقد ہی نہ ہو گا، بلکہ منعقد تو ہو جائے گا لیکن اس شخص کا اس وقت شادی کرنا گناہ ہے، جیسے جمعہ کی اذان کے بعد بیع و شراء کرنا کہ اگر کوئی شخص جمعہ کی پہلی اذان کے بعد بیع و شراء کرتا ہے تو معاملہ تو منعقد ہو جائے گا لیکن شریعت نے ایسا کرنے کو ناپسند کرتے ہوئے منع کیا ہے اس وجہ سے گنہ گار ہو گا۔

اور اگر کسی شخص کا خیال ہو کہ وہ شادی کے بعد کاندھوں پر پڑنے والی ذمہ داریوں کو اچھی طرح سے نبھا نہ سکے گا تو اس کے لیے شادی کرنا محض مباح اور جائز ہے۔(دیکھیے تفصیل البحرالرائق، کتاب النکاح:3/142)

حالتِ اعتدال میں نکاح کرنا
حالت اعتدال سے مراد یہ ہے کہ مہر، نفقہ اور جماع پر قدرت ہو، زنا کے ارتکاب کا اندیشہ نہ ہو اور شادی کے بعد بیوی پر ظلم کا مظنہ اور فرائض وسنن کے ترک کا خوف نہ ہو۔

اس صورت میں اصحاب ظواہر کے نزدیک نکاح کرنا نماز روزے کی طرح فرض ہے، اس لیے کہ قرآن و حدیث میں نکاح کا حکم صیغہ امر کے ساتھ آیا ہے، جیسے

﴿فَانْکِحُوْا مَا طَابَ لَکُمْ مِّنَ النِّسَاءِ﴾ (النساء:3)
اور ﴿وَأَنْکِحُوا الْأَیَامَی مِنْکُمْ وَالصَّالِحِینَ مِنْ عِبَادِکُمْ وَإِمَائِکُمْ﴾ (النور:32)

اور حضور نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے:
﴿وتزوجوا فانی مکاثر بکم الأمم﴾(سنن الکبری للبیہقی، رقم الحدیث:1345)
(تم شادی کیا کرو پس (تمہاری شادیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اولاد اور نسل میں اضافے کے سبب) میں تمہاری کثرت پر دوسری امتوں کے سامنے فخر کروں گا)۔

ان سب جگہوں پر نکاح کا حکم صیغہء امر کے ساتھ آیا ہے اور مطلق امر وجوب کا تقاضا کرتا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ نکاح کرنا فرض ہے۔

امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک حالت ِاعتدال میں نکاح کرنا بیع و شراء کی طرح محض مباح اور جائز ہے، اور اللہ تعالیٰ کی عبادت میں یک سوئی کے لیے نکاح نہ کرنا اور اپنے آپ کو تنہا رکھنا افضل ہے۔(فتح القدیر، کتاب النکاح:3/179)

دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد مبارک ہے:
﴿وأُحِلَّ لَکُمْ مَّا وَرَاء َ ذٰلِکُمْ أَنْ تَبْتَغُوْا بِأَمْوَالِکُمْ﴾․ (النساء:24)
(اور حلال ہیں تم کو سب عورتیں ان کے سوا بشرطیکہ طلب کرو ان کو اپنے مال کے بدلے)۔

یہاں پر نکاح کا حلال ہونا بتلایا گیا ہے، اور حلال اور مباح ایک دوسرے کے مترادف ہیں، جس سے نکاح کا محض مباح ہونا ثابت ہوتا ہے۔ نیز ”وَأُحِلَّ لَکُمْ“ میں ”لَکُمْ“کا لفظ اسی بات کی تائید کرتا ہے ،اس لیے کہ یہ لفظ مباحات کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اور پھر نکاح تو قضائے شہوت کا ایک سبب ہے جس کا نفع خود انسان ہی کو حاصل ہوتا ہے، جس طرح جماع کے لیے باندی خریدنا، اور یہ کہیں بھی ثابت نہیں ہے کہ انسان پر اپنے آپ کو نفع پہنچانا واجب ہو۔

اور خود اللہ رب العزت نے ایک جگہ حضرت یحییٰ علیہ السلام کی تعریف اس طرح فرمائی ہے:
﴿وَسَیِّدًا وَحَصُورًا وَنَبِیًّا مِنَ الصَّالِحِینَ﴾․(آل عمران:39)
اور ”حصور“اسے کہتے ہیں جو باوجود قدرت کے عورتوں کے پاس نہ جاتا ہو (یعنی ان سے قضائے شہوت نہ کرتا ہو)لہٰذا اگر نکاح کرنا ضروری ہوتا تو اس فعل پر ان کی تعریف نہ کی جاتی اس لیے کہ واجب کے ترک پر تعریف نہیں مذمت کی جاتی ہے۔

احناف کا مذہب
علمائے احناف میں امام کرخی رحمہ اللہ کا مذہب ہے کہ حالتِ اعتدال میں نکاح کرنا مستحب ہے، اس لیے کہ حضور نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے:
من استطاع منکم الباء ة فلیتزوج، فإنہ أغض للبصر أحصن للفرج، ومن لم یستطع فعلیہ بالصوم فإنہ لہ وجاء․(صحیح البخاری، رقم الحدیث:1905)

(ترجمہ:تم میں سے جو شخص (نکاح کے سبب حلال ہونے والے) جماع (کے جائز تقاضوں کو پورا کرنے) کی قدرت رکھتا ہو تو اسے چاہیے کہ شادی کر لے، اس لیے کہ شادی کرنا (حرمت کی جگہوں پر) نظروں کو جھکا دینے کا باعث اور شرم گاہ کی حفاظت کا موجب ہے، اور جسے یہ قدرت حاصل نہ ہو اسے چاہیے کہ روزے رکھا کرے اس لیے اس کا روزے رکھنا اس کی شہوت کو کم زور کر دینے والا ہے)۔

یہاں پر روزے کو نکاح کا قائم مقام قرار دیا گیا ہے، حالانکہ روزہ رکھنا واجب نہیں ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ نکاح کرنا بھی واجب نہیں ہے، اس لیے کہ غیر واجب کو واجب کا قائم مقام قرار نہیں دیا جاتا۔(بدائع الصنائع، کتاب النکاح:3/123)

اور بعض حضراتِ حنفیہ فرضیت علی الکفایہ کے قائل ہیں، دلیل وہی آیات و حدیث ہیں جو ظاہریہ اپنے مذہب کی تائید میں پیش کرتے ہیں۔ لیکن ان کا طرزِ استدلال یہ ہے کہ خطاب کا عام ہونا حکم کے علی سبیل الکفایہ ہونے کے منافی نہیں ہے، اس لیے کہ فرض کفایہ میں بھی وجوب ہر ایک کی طرف متوجہ ہوتا ہے، البتہ ایسا حکم جس میں خطاب عام ہو اور تمام مکلفین کو شامل ہو، اس کی مشروعیت کے سبب اور غرض میں غور کرنے سے اگر یہ معلوم ہو کہ یہ غرض بعض حضرات کے عمل کرنے سے حاصل ہو جائے گی تو اس کی فرضیت علی سبیل الکفایہ قرار دی جائے گی، اور یہاں اس مسئلے میں بھی یہی بات ہے، اس لیے کہ نکاح کی مشروعیت سے مقصود ایک جائز طریقے سے مسلمانوں کی تعداد کو بڑھانا ہے، جیسا کہ خود حدیث شریف میں اس غرض کی صراحت موجود ہے، چنانچہ آپ صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے:
تزوجوا الودود الولود؛ فانی مکاثر بکم الأمم․ (سنن أبی داؤد، رقم الحدیث:2050)
(ترجمہ:زیادہ محبت کرنے والی اور زیادہ بچے جننے والی عورت سے شادی کرو تاکہ میں (کل قیامت کے روز) تمہاری کثرت کی وجہ سے دوسری امتوں کے سامنے تم پر فخر کر سکوں)۔

اور یہ مقصود بعض افراد کے عمل کرنے سے بھی حاصل ہو سکتا ہے۔

اور بعض حضرات نکاح کے واجب علی الکفایہ ہونے کے قائل ہیں، ان کا کہنا ہے کہ جہاں تک حدیث کا تعلق ہے تو یہ خبر واحد ہے جو کہ یقین کا فائدہ نہیں دیتی اور آیت:﴿فَانْکِحُوْا مَا طَابَ لَکُمْ مِّنَ النِّسَاء ِ مَثْنَی وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ﴾ کا سیاق نکاح کا حکم بیان کرنے کے لیے نہیں بلکہ تعددِ ازواج کی حد بیان کرنے کے لیے ہے، لہذا اس سے فرضیت ثابت کرنا درست نہیں ہے۔(فتح القدیر، کتاب النکاح:3/179)

لیکن احناف کا صحیح اور راجح مذہب یہ ہے کہ حالتِ اعتدال میں نکاح کرنا سنتِ مؤکدہ ہے، اور جو حضرات اسے مستحب بتاتے ہیں تو ان کے بیان کردہ استحباب کا محمل بھی یہی سنتِ مؤکدہ ہے، اس لیے کہ فقہا کی عبارتوں میں بسا اوقات سنت کے لیے بھی مستحب کا لفظ بول دیا جاتا ہے۔

اور سنتِ مؤکدہ ہونے کا تقاضا یہ ہے کہ اس کا ترک گناہ ہو اس لیے کہ سنتِ مؤکدہ کا چھوڑنا گناہ کا موجب ہے۔ (البحرالرائق، کتاب النکاح:3/142)

نکاح کرنا سنتِ مؤکدہ اس لیے ہے کہ امت پر سرور دو عالم صلی الله علیہ وسلم کا اتباع لازم ہے اور آپ صلی الله علیہ وسلم نے نکاح کو اپنی سنت قرار دیا ہے، چنانچہ سنن ابن ماجہ میں ہے:
عن عائشة رضي اللہ تعالیٰ عنہا قالت: قال رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم: النکاح من سنتي فمن لم یعمل بسنتي فلیس مني․(سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث:1846)
(ترجمہ:حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ارشاد فرماتی ہیں کہ رسولِ خدا صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”نکاح کرنا میری سنت ہے اور جو میری سنت پر عمل نہ کرے وہ مجھ سے نہیں“)۔

اور آپ علیہ الصلاة و السلام نے ان صحابہ سے سخت ناراضگی کا اظہار کیا تھا جو عبادات کی کثرت اور ان میں یک سوئی کی غرض سے رات بھر نوافل پڑھنے، ہمیشہ روزہ رکھنے اور کبھی شادی نہ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے، جس کا قصہ یہ ہے:
”حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:تین آدمی حضور سرورِ دو عالم صلی الله علیہ وسلم کی عبادت کا حال معلوم کرنے کے لیے ازواج مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن کے ہاں حاضر ہوئے، لیکن جب انہیں آپ کی عبادت کا حال بتایا گیا تو انہوں نے اسے بہت تھوڑا گمان کیا (یعنی پہلے وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ آپ اس سے بہت زیادہ عبادت کرتے ہوں گے لیکن جب انہیں حقیقت حال بتائی گئی تو انھوں نے اسے بہت تھوڑا سمجھا) اور کہنے لگے کہ کہاں ہم کہاں نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلے سب گناہ معاف کر دیے ہیں (یعنی آپ تو اللہ کے رسول اور اس کے مقرب بندے ہیں آپ کے لیے تو تھوڑی سی عبادت کافی ہو جاتی ہو گی، لیکن ہم تو آپ کی طرح نہیں ہیں اس لیے) ایک نے کہا:میں ہمیشہ رات بھر نمازیں پڑھا کروں گا، دوسرے نے کہا:میں ہمیشہ روزہ رکھا کروں گا اور (کوئی دن بھی) بغیر روزے کے نہ رہوں گا، اور تیسرے نے کہا: میں عورتوں سے کنارہ کش رہوں گا اور کبھی شادی نہ کروں گا۔

جب آپ صلی الله علیہ وسلم لوٹے تو ان سے پوچھا:کیا تم ہی وہ لوگ ہو جنھوں نے ایسے ایسے کہا ہے؟ خدا کی قسم میں تم میں سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا اور پرہیز گار ہوں، لیکن اس کے باوجود میں روزہ بھی رکھتا ہوں، اور افطار بھی کرتا ہوں (یعنی بغیر روزہ کے بھی رہتا ہوں) اور (رات کو) نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں، اور عورتوں سے شادی بھی کرتا ہوں، بس جو شخص میری سنت سے اعراض کرے گا وہ مجھ سے نہیں۔“ (صحیح البخاری، رقم الحدیث:5063)

دیکھیے حضور سرورِ دو عالم صلی الله علیہ وسلم نے اپنی سنت اور طریقے سے اعراض کرنے والوں پر کتنی سختی اور تاکید کے ساتھ ردّ فرمایا کہ ان سے براء ت ہی کا اعلان کر دیا۔ خلاصہ یہ کہ افضلیت اور اولویت کا مدار تو آپ صلی الله علیہ وسلم کے اتباع پر ہے نہ کہ اس عمل پر جسے انسانی سوچ عبادت سمجھ کر افضل قرار دے۔(فتح القدیر، کتاب النکاح:3/180)

اور حضور علیہ الصلاة و السلام نے جب سے شادی کی اس کے بعد سے لے کر وصال تک اس پر عمل پیرا رہے بلکہ وقتاً فوقتاً اس میں اضافہ ہی فرماتے رہے۔

نیز حضور سرورِ دو عالم صلی الله علیہ وسلم اشرف الناس اور اشرف الانبیاء ہیں اور نکاح کرنا آپ کی سنت اور آپ کا طریقہ ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ رب العزت آپ صلی الله علیہ وسلم کو ساری عمر افضل الاحوال کے بجائے ادنیٰ حالت پر برقرار رکھیں۔

باقی جہاں تک حضرت یحییٰ علیہ الصلاة و السلام کے عمل کا تعلق ہے تو ایسا کرنا ان کی شریعت میں تو افضل ہو گا لیکن ہماری شریعت میں رہبانیت منسوخ ہو چکی ہے اب اس کی گنجائش نہیں، دوسرا یہ کہ اگر آنحضرت صلی الله علیہ وسلم اور حضرت یحییٰ علیہ السلام کے عمل میں تعارض دکھائی دے تو ظاہر ہے کہ ہمارے لیے تو سرورِ دو عالم اور خاتم المرسلین صلی الله علیہ وسلم کا اتباع ہی افضل ہو گا۔(فتح القدیر، کتاب النکاح:3/180)

فائدہ
نکاح کا جمعہ کے روز مسجد میں ہونا اور اس سے پہلے خطبہ پڑھا جانا، نکاح خواں کا نیک اور متقی ہونا اور گواہوں کا شریف ہونا مستحب ہے، نکاح کے موقع پر دف بجانا جائز ہے (بشرطیکہ اس میں گھنگرو یا گھنٹیاں لگی ہوئی نہ ہوں) آدمی اگر تنگ دست ہے کہ شادی کے جائز اخراجات بھی برداشت نہیں کر سکتا تو قرض لے لے یہ شریعت میں پسندیدہ ہے، اور جب کہ مقصود عفت اور پاک دامنی حاصل کرنا ہو تو تنگ دستی سے نہ گھبرائے، اللہ تعالیٰ ایسے آدمی کی مدد فرماتے ہیں، حضور سرورِ دو عالم صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے:
”تین آدمی ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی مددد کرنے کو اپنے ذمے لے لیا ہے:اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والا، اور وہ مکاتب جو بدلِ کتابت ادا کرنا چاہتا ہو اور عفت و پاک دامنی کی غرض سے نکاح کرنے والا شخص۔“ (جامع الترمذی:1661)

تنبیہ: لیکن فضولیات او ر لغویات میں پیسہ اڑانے کے لیے قرض لینے کی شریعت میں قطعاً کوئی گنجائش نہیں۔

نیک سیرت، معروف النسب والدیانة عورت سے شادی کرے ”خوبصورت لیکن بدخلق“عورت سے شادی نہ کرے، عورت کے انتخاب میں اس کے حسب نسب، جاہ و مرتبہ، مال و دولت اور محض خوبصورتی کو مطمح نظر نہ بنائے۔

حسنِ اخلاق، ادب، پرہیز گاری اور خوبصورتی میں عورت مرد سے بڑھی ہوئی ہو، البتہ عزت و مرتبہ، حسب نسب (خاندانی) پیشہ اور مال ودولت میں مرد سے کم درجہ رکھتی ہو لیکن مرد اگر مال دار ہے تو بہت زیادہ غریب عورت سے بھی شادی نہ کرے بلکہ یا تو ہمپلہ عورت سے شادی کرے یا جو معمولی طور پر مال داری میں کم ہو (تفصیل کے لیے دیکھیے:خطبات حکیم الامت، وعظ بنام ”اسباب الغفلة:3/271 تا316)، اور عورت عمر اور قد و قامت میں مرد سے چھوٹی ہو، ایسی عورت کو ترجیح دے جسے نکاح کا پیغام بھیجنا اور اس کے اخراجات برداشت کرنا زیادہ آسان ہو، کنواری دوشیزہ سے شادی کرنا زیادہ اچھا ہے، حضورِ اقدس صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے:

”کنواری دوشیزاؤں سے شادی کیا کرو اس لیے کہ وہ شیریں دہن، زیادہ بچے جننے کی صلاحیت رکھنے والی اور تھوڑے پر راضی ہو جانے والی ہوتی ہیں۔“(سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث:1861)

نہ بہت لمبی تڑنگی عورت سے شادی کرے نہ بالکل ٹھگنی سے، فضول خرچ اور بدخلق عورت سے شادی نہ کرے اور نہ ایسی عورت سے شادی کرے جس کے ساتھ بچے ہوں، (اگر خود جوان ہو تو)زیادہ عمر والی عورت سے شادی نہ کرے (اس لیے کہ اس میں بچے جننے کی صلاحیت یا تو ہوتی ہی نہیں اور اگر ہوتی بھی ہے تو جوان عورت کی نسبت کم ہوتی ہے، جب کہ نیک صالح اولاد کا حصول نکاح کے اہم مقاصد میں سے ہے)حضور نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے:
”کالی کلوٹی بچے جننے والی عورت خوبصورت بانجھ سے بہتر ہے“۔ (المعجم الکبیر للطبرانی، رقم الحدیث:1004)

آزاد عورت کے اخراجات برداشت کر سکتا ہو تو باندی سے شادی نہ کرنا بہتر ہے، عورت کے اولیاء کی اجازت اور رضامندی کے بغیر اس سے شادی نہکرنا بہتر ہے، زانیہ سے بھی شادی نہکرنا بہتر ہے۔

عورت کے لیے دین دار، سخی، خوبصورت، مالی طور پر آسودہ حال مرد کا انتخاب کیا جائے، بدصورت اور فاسق و فاجر سے عورت کی شادی نہ کرائی جائے، اور نہ جوان عورت کی بوڑھے سے شادی کرائی جائے، ایسے خاندان میں شادی کی جائے جو دین داری، حسب نسب، مالداری اور پیشے میں عورت کے خاندان کے ہم پلہ یا اس سے بہتر ہو، اور جب ایسی جگہ سے رشتہ آجائے تو شادی کرنے میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔

گھر میں بچیوں کو مناسب زیورات اور اچھے کپڑے اس غرض سے پہنائے رکھنا کہ دیکھنے والوں میں ان کے رشتوں کی مانگ ہو یہ مستحب ہے۔(البحرالرائق، کتاب النکاح:3/142)

تنبیہ: مذکورہ بالا باتیں عام حالات کے اعتبار سے بطورِ فائدہ لکھی گئی ہیں اور ان کا مقصد یہ ہے کہ عام حالات میں اگر ان باتوں کی رعایت کی جائے تو میاں بیوی دونوں ہی سفر حیات خوش گوار انداز میں قطع کر سکتے ہیں اور ازدواجی زندگی میں بہت سی ناگواریوں اور تلخ کامیوں سے بچ سکتے ہیں، ان باتوں کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ان کے خلاف کرنا ناجائز یا گناہ ہے، بلکہ عین ممکن ہے کہ بعض خاص حالات میں ان کے خلاف کرنے میں ہی مصلحت ہو، جیسا کہ حضور سرورِ دو عالم صلی الله علیہ وسلم نے ام المؤمنین حضرت خدیجة الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے شادی کی تھی جب کہ آپ علیہ الصلاة و السلام نوجوان اور حضرت خدیجة رضی اللہ تعالیٰ عنہا سن رسیدہ خاتون تھیں اور وہ پہلے سے صاحب اولاد بھی تھیں اور جیسا کہ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کنواری کے بجائے بیوہ سے اس لیے شادی کر لی تھی کہ ان کی بیوی ان کی بہنوں کی دیکھ بھال کر سکے۔ اور جیسے کہ حضور سرورِ دو عالم صلی الله علیہ وسلم نے پیرانہ سالی میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی تھی جبکہ وہ ابھی کم سن لڑکی تھیں۔ (جاری)