بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نوافل کی اقسام اور فضیلت واہمیت

نوافل کی اقسام اور فضیلت واہمیت

محترم محمد راشد

نوافل کی ضرورت
حدیث شریف میں ہے قیامت کے دن آدمی کے اعمال میں سب سے پہلے فرض نماز کا حساب کیا جائے گا ۔اگر نماز اچھی نکل آئی تو وہ شخص کام یاب ہوگا اور بامراد اور اگر نماز بے کار ثابت ہوئی تو وہ نامراد خسارہ میں ہوگا اوراگر نماز میں کچھ کمی پائی گئی تو ارشاد خداوندی ہوگا کہ دیکھو! اس بندہ کے پاس کچھ نفلیں بھی ہیں جن سے فرضوں کو پورا کردیا جائے؟ اگر نکل آئیں تو ان سے فرضوں کی تکمیل کردی جائے گی، اس کے بعد پھر اسی طرح باقی اعمال روزہ ،زکوٰة وغیرہ کا حساب ہوگا۔

اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ آدمی کو نفلوں کا ذخیرہ بھی اپنے پاس کافی رکھنا چاہیے کہ اگر فرضوں میں کچھ کوتاہی نکلے تو میزان پوری ہوجائے، فرض روزوں میں جو کمی ہوگی وہ نفل روزوں اور فرض زکوٰة میں جو کمی ہوگی وہ دیگر صدقات سے پوری ہوجائے گی۔ان سب چیزوں میں نوافل کو ملا کر بھی اگر نیکیوں کا پلہ بھاری ہوگیا تو وہ شخص خوشی خوشی جنت میں داخل ہوجائے گا ،ورنہ جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔(فضائل ذکر، ص:75)

شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا صاحب کاندھلوی نور اللہ مرقدہ نے بحوالہ علامہ سیوطی رحمة اللہ علیہ نقل کیا ہے کہ ستر نوافل ایک فریضہ کی برابری کرتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ فرض نماز کو کتنے اہتمام سے ادا کرنا چاہیے، کیوں کہ فرائض میں کوتاہی کی تلافی کے لیے نوافل کا بہت بڑا ذخیرہ درکار ہوگا۔ لہٰذا ہر مسلمان کو فرض کی ادائیگی کے ساتھ کچھ اوقات نوافل کے لیے بھی نکالنے چاہییں۔اکابر کی زندگی کو ملاحظہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ علمی کاموں ودیگر دینی مشاغل کے باوجود نوافل بہت کثرت سے پڑھتے تھے۔ حضرت امام ابو یوسف رحمة اللہ علیہ دو سو رکعت نوافل روزانہ پڑھتے تھے، سعید بن المسیب رحمة اللہ علیہ کے متعلق لکھا ہے کہ پچاس برس تک عشاء اور صبح ایک ہی وضو سے پڑھی۔ امام اعظم رحمة اللہ علیہ کے متعلق تو بہت کثرت سے منقول ہے کہ چالیس برس عشاء اور صبح ایک ہی وضو سے پڑھی۔ حضرت امام احمد بن حنبل رحمة اللہ علیہ تین سو رکعتیں روزانہ پڑھتے تھے۔ امام غزالی رحمة اللہ علیہ نے ابو طالب مکی رحمة اللہ علیہ سے نقل کیا ہے کہ چالیس تابعین سے تواتر کے طریق سے ثابت ہے کہ وہ عشاء کے وضو سے صبح کی نماز پڑھتے تھے۔

نوافل کی اقسام
سنن غیر مؤکدہ بھی نوافل کی قسم ہیں، جیسے عصر سے قبل چار رکعت اور عشا ء سے قبل چار رکعت ۔حدیث شریف میں ان کی بھی بہت فضیلت آئی ہے، لہٰذا ان کا بھی اہتمام کرنا چاہیے۔

بعض نوافل کا تعلق مختلف اوقات سے ہے، جیسے اشراق، چاشت،اوّابین،تہجد،تحیة الوضو،تحیة المسجد۔ او ربعض کا تعلق خاص حالات اور احوال کے ساتھ ہے۔ جیسے صلوٰة الحاجات،نماز توبہ، نماز استخارہ وغیرہ۔ حدیث شریف میں اس طرح کی مختلف حاجات واحوال سے متعلق بیس قسم کے نوافل کا ذکر ملتا ہے۔ ان نوافل کو بھی اپنے موقع پر پڑھنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔ حدیث شریف میں آتا ہے بندہ میرا قرب حاصل کرنے کے لیے نوافل ادا کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں۔ پھرا گر وہ مجھ سے کچھ مانگتا ہے تو میں اسے عطا کرتا ہوں۔ اور دعا کرتا ہے تو اسے قبول کرتا ہوں۔

ذیل میں مذکورہ بالا دونوں قسم کے نوافل کا ذکر کیا جاتا ہے، ان تمام نوافل کو اپنے اوقات اور اپنے حالات میں پڑھنے کا اہتمام کرنا چاہیے۔ کیوں کہ نوافل کے ذریعے قرب خدواندی، تکمیل فرائض، قبولیت دعا اور درجات کی بلندی جیسی نعمتیں حاصل ہوتی ہیں۔

پنچ وقتہ نماز کے پابند حضرات بھی صرف فرائض، واجبات اور سنن مؤکدہ پر اکتفا کرتے ہیں، اللہ کا مزید قرب اور درجات کی بلندی کے لیے ذیل کے نوافل کا بھی اہتمام کرنا چاہیے۔ ان نوافل کے صرف فضائل ذکر کئے گئے ہیں۔ ان سے متعلق دیگر احکام ومسائل اہل علم سے معلوم کرلیے جائیں۔

تحیة الوضو
ہر وضو کے بعد دورکعت تحیة الوضو کے طور پر پڑھنا مستحب ہے۔ صحیح مسلم میں حدیث ہے کہ جو شخص بھی وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے اور دور کعتیں اس طرح پڑھے کہ اپنے ظاہر وباطن سے نماز ہی کی طرف متوجہ رہے تو اس کے لیے جنت واجب ہوجاتی ہے۔

تحیة المسجد
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی مسجد میں داخل ہو تو اس وقت تک نہ بیٹھے جب تک دو رکعتیں نہ پڑھ لے۔ اس نماز کو تحیة المسجد کہتے ہیں۔

نماز تہجد
تہجد کی نماز نوافل میں خاص طور پر سب سے زیادہ اہمیت کی حامل ہے، افضل یہ ہے کہ یہ آخر شب میں پڑھی جائے۔ یہ وقت اللہ تعالیٰ کی خاص رحمتوں کے نزول کا ہوتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:”فرض نماز کے بعد افضل ترین نماز رات کی نماز ہے“۔

حضرت جنید بغدادی رحمة اللہ علیہ کے بارے میں منقول ہے کہ ان کو کسی نے ان کی وفات کے بعد خواب میں دیکھا اورا ن سے ان کا حال پوچھا تو انہوں نے فرمایا:”عبارات اڑ گئیں، اشارات فنا ہوگئے اور ہم کو نفع نہیں دیا، مگر ان چند رکعات نے جو ہم نے رات کے وسط میں ادا کی تھیں“۔ مومن کا شرف اور وقار نماز تہجد پڑھنے میں ہے۔ تمام اولیاء صلحاء نے نماز تہجد کا اہتمام کیاہے۔ تہجد کا وقت نماز عشاء کے بعد سے طلوع فجر سے پہلے تک ہے۔ اگر آدھی رات کو اٹھنا مشکل ہو تو بعد نمازعشاء 4,2رکعت تہجد کی نیت سے پڑھی جاسکتی ہے۔

نماز اشراق
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے جماعت کے ساتھ فجر کی نماز پڑھی، پھر بیٹھ کر سورج طلوع ہونے تک اللہ کا ذکر کرتا رہا، پھر اس نے دو رکعتیں پڑھیں تو اس کو ایک حج اور ایک عمرہ کا اجر حاصل ہوگا۔ ایک دوسری روایت میں ہے کہ اس کی کھال کو جہنم کی آگ نہ چھوئے گی۔

سورج نکلنے کے پندرہ منٹ بعد دو یا چار رکعت نماز اشراق کی نیت سے پڑھی جاتی ہیں۔

نماز چاشت
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نماز چاشت کی اللہ تعالیٰ کی طرف کثرت سے رجوع کرنے والے ہی حفاظت کرتے ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف کثرت سے رجوع کرنے والوں کی نماز ہے۔ چاشت کی دو سے بارہ رکعتوں کا پڑھنا منقول ہے، لہٰذا جتنے وقت کی گنجائش ہو اتنے نوافل پڑھ لیے جائیں۔

اشراق کی نماز کے بعد سے لے کر زوال آفتاب سے پہلے پہلے چاشت نماز ادا کی جاسکتی ہے۔

صلوٰة الزوال
زوال شروع ہونے پر چاررکعت پڑھ لے۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ جس نے چاررکعت (علاوہ 4رکعت سنت مؤکدہ کے)ظہر سے پہلے پڑھیں تو اس کے لیے جنت میں ایک مکان بنایا جائے گا۔

نماز اوابین
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس نے مغرب کے بعد چھ رکعت نماز پڑھی اور اس دوران اس نے کوئی بری بات زبان سے نہیں نکالی تو اس کو بارہ سال کی عبادت کے برابر ثواب ہوگا۔ ایک روایت میں ہے کہ اس کے گناہ معاف کردیے جائیں گے، اگرچہ اس کے گناہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہی ہوں۔

مغرب کی نماز کے بعد سے عشاء کا وقت شروع ہونے سے پہلے نماز اوابین پڑھی جاسکتی ہیں۔

اوابین کی چھ رکعت ہوتی ہیں۔ اگر نماز مغرب کے بعد دو سنت پڑھ کر چاررکعت پڑھ لی جائیں تو اس طرح چھ رکعت بھی اوابین کہلاتی ہیں۔ اور اوابین کی بیس رکعت پڑھنا بھی منقول ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے مغرب کے بعد بیس رکعات پڑھ لیں اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنادیں گے۔ اس فضیلت کو حاصل کرنے کے لیے کبھی اوابین کی بیس رکعت بھی پڑھ لینی چاہیے۔

صلوٰة التوبة
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ سے مرسل روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس بندے نے بھی کوئی گناہ کیا، پھر اس نے وضو کیا اور اچھی طرح وضو کیا، پھر کسی کھلی زمین(یکسوئی والی جگہ) کی طرف چلا گیا اور وہاں دو رکعت نماز پڑھی اور اس نے اللہ تعالیٰ سے اس گناہ کی معافی مانگی تو اللہ تعالیٰ اس کو معاف فرمادیں گے۔ (شعب الایمان)

اگر کبھی کوئی گناہ صادر ہوجائے تو فوراً صلوٰة التوبة کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ لینی چاہیے۔ نماز کی برکت سے گناہ بھی معاف ہوجاتا ہے اور آئندہ گناہوں سے بچنے کی ہمت بھی پیدا ہوجاتی ہے۔

صلوٰة الحاجت
کوئی بھی حاجت ہو، اس کا تعلق مالک الملک سے ہو یا کسی بندے سے ہو۔ دورکعت نماز صلوٰة الحاجت پڑھ کر اللہ سے مانگنا چاہیے۔ حضرت عبداللہ ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس کو کوئی ضرورت ہو اللہ تعالیٰ کی طرف یا مخلوق کی طرف تو وہ وضو کرے اور اچھی طرح وضو کر کے پھر دو رکعت نماز پڑھے، پھر اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کرے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھے اور پھر ان کلمات کے ساتھ دعا کرے تو ان شاء اللہ اس کی حاجت پوری ہوگی۔ دعا یہ ہے:

لا إلٰہ إلا الله الحلیم الکریم،سبحان اللہ رب العرش العظیم،الحمدلله رب العالمین،أسألک موجبات رحمتک وعزائم مغفرتک،والغنیمة من کل برٍّ والسلامة من کل إثم، لا تدع لی ذنبا إلا غفرتہ، ولا ھما إلا فرجتہ، ولا حاجة ھی لک رضا إلا قضیتھا یا أرحم الراحمین.(جامع الترمذی)

اس کے بعد جو حاجت درپیش ہو، اپنی زبان میں دعا مانگے۔

نماز شکر
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کوئی خوشی کا واقعہ پیش آتا یا خوش کیا جاتا تو سجدہ میں گر پڑتے اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے۔ شکر گزاری میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا لمبی لمبی نمازیں پڑھنا مشہور ہے۔ ہم بھی خوشی میں اللہ کی نعمتوں کی شکر گزاری میں نماز شکر ادا کریں۔ اس سے نعمتوں کے اضافہ کے ساتھ اللہ کا قرب بھی نصیب ہوگا۔

نماز شکر ادا کرنا صحابہ کرام واولیائے عظام کا بھی معمول رہا ہے، اس لیے جب کسی مسلمان کو کوئی نعمت ملے یا راحت میسر آئے تو اسے دورکعت نماز بطور شکر ادا کرنا مستحب ہے۔

صلوٰة السفر
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سفر کرنے کا ارادہ کرتے تو دورکعت نماز پڑھتے تھے اور جب سفر سے واپس تشریف لاتے تو بھی دورکعت نماز ادا فرماتے تھے۔ سفر پر جاتے وقت ہم بھی ان نوافل کا اہتمام کریں۔

نماز منزل
دوران سفر جب کسی قیام گاہ پر اترنا ہو تو مستحب یہ ہے کہ بیٹھنے سے پہلے دورکعت نفل پڑھ لے۔

صلوٰة الکسوف
فقہ اسلامی کی رو سے سورج گرہن کے وقت جو نماز پڑھی جاتی ہے اسے صلوٰة الکسوف کہا جاتا ہے۔ سورج گرہن کے وقت دو رکعات باجماعت ادا کرنا مسنون ہے، اس کا طریقہ ودیگر احکام بہشتی زیور میں دیکھ لیں۔

صلوٰة الخسوف
چاند گرہن کے وقت جو نماز پڑھی جاتی ہے اسے صلوٰة الخسوف کہا جاتا ہے۔ چاند گرہن کے وقت نماز تنہا پڑھنی چاہیے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”جب تم گرہن دیکھ لو تو اللہ کی حمد،تکبیر اور تسبیح کرو اور نماز پڑھو، یہاں تک کہ سورج یا چاند گرہن جو بھی ہوا ہے وہ ختم ہوجائے“۔

مصیبت کے وقت نفل
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مصیبت سے دوچار ہوتے تو نفل پڑھتے۔ متعدد روایات میں آتا ہے کہ صحابہ کرام پریشانی ومصائب میں نماز کی طرف دوڑا کرتے تھے۔ حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب آندھی چلتی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم فوراً مسجد میں تشریف لے جاتے تھے، جب تک آندھی بند نہ ہوتی، حضرت نضر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ دن میں ایک مرتبہ اندھیرا ہوگیا، میں دوڑا، حضرت انس رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ذرا بھی تیز ہوا چلتی تھی تو ہم مسجدوں کو دوڑ جاتے تھے کہ کہیں قیامت تو نہیں آگئی۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سفر میں تھے، راستہ میں اطلاع ملی کہ بیٹے کا انتقال ہوگیا ہے، آپ اونٹ سے اترے، دورکعت نفل پڑھی اور إنا لله وإنا إلیہ راجعون پڑھا۔ پھر فرمایا ہم نے وہ کیا جس کا اللہ نے حکم دیا۔ ﴿واستعینوا بالصبر والصلوٰة﴾ یعنی صبر اور نماز سے مدد طلب کرو۔

نماز اللہ کی بڑی رحمت ہے، اس لیے ہر پریشانی ومصیبت کے وقت نماز کی طرف متوجہ ہونا گویا اللہ کی رحمت کی طرف متوجہ ہونا ہے، جب اللہ کی رحمت انسان کی مددگار ہوجائے تو پھر کیا مجال ہے کسی پریشانی یا مصیبت کی کہ وہ باقی رہے۔

نماز قتل
جب کسی مسلمان کو قتل کی سزا کا سامنا ہو یا کسی طرح مارا جانے والا ہو تو اس کے لیے مستحب ہے کہ دورکعت نماز پڑھ کر اپنے گناہوں کی مغفرت کی اللہ تعالیٰ سے دعا کرے ،تا کہ یہی نماز اور استغفار دنیا میں اس کا آخری عمل رہے۔

نماز استخارہ
جب کوئی اہم کام کرنے کا ارادہ کرے تو اللہ تعالیٰ سے صلاح لے لے، اس صلاح لینے کو استخارہ کہتے ہیں۔ حدیث شریف میں اس کی بہت ترغیب آئی ہے۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام کاموں میں استخارہ (اہتمام) سے سکھایا کرتے تھے۔ تازہ وضو کر کے دورکعت نفل پڑھے، اس کے بعد خوب دل لگا کر یہ دعا پڑھے۔

اللّٰہم إني أستخیرک بعلمک، وأستقدرک بقدرتک، وأسئلک من فضلک العظیم، فإنک تقدرو لا أقدر، وتعلم ولا أعلم، وأنت علام الغیوب․ اللّٰہم إن کنت تعلم أن ھٰذا الأمر خیر لي في دیني ومعاشي وعاقبة أمري فاقدرہ لي، ثم بارک لي فیہ، وإن کنت تعلم أن ھٰذا الأمر شر لي في دیني ومعاشي وعاقبة أمري فاصرفہ عني، واصرفني عنہ، واقدر لي الخیر حیث کان، ثم أرضني بہ.

جب ھٰذا الأمر پر پہنچے تو اس کے پڑھتے وقت اپنے کام کا خیال کرے۔

صلوٰة التسبیح
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ(اپنے چچا) حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا اے عباس!اے میرے چچا! کیا میں تمہیں ایک عطیہ کردوں۔ ایک بخشش کردوں۔ ایک چیز ہبہ نہ کردوں؟ کیا میں آپ کو ایسا کلام نہ بتلاؤں جس میں دس خصلتیں ہیں۔ جب تم اس کام کو کرو گے تو حق تعالیٰ تمہارے سب گناہ پہلے اور پچھلے پرانے اور نئے، غلطی سے کیے ہوئے اور جان بوجھ کرکیے ہوئے، چھوٹے اور بڑے چھپ کر کیے ہوئے اور کھلم کھلا کیے ہوئے سب معاف فرمادیں گے۔ اگر استطاعت ہو تو آپ اس نماز کو ہرروز ایک مرتبہ پڑسکتے ہیں اگر ایسا نہ کرسکیں تو جمعہ کو ایک مرتبہ پڑھ لیں۔ اور اگر ایسا بھی نہ کرسکیں تو مہینے میں ایک مرتبہ اور اس کی بھی طاقت نہ ہو تو سال میں ایک مرتبہ پڑھ لیں اور اگر ایسا بھی نہ کرسکیں تو زندگی میں ایک مرتبہ پڑھ لیں۔

حضرت عبدالعزیز بن ابی داؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جو شخص جنت میں جانا چاہے وہ صلوٰة التسبیح کا اہتمام کرے۔ اور حضرت ابو عثمان حیری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مصیبتوں اور غموں سے نجات کے لیے میں نے کوئی عمل صلوٰة التسبیح سے بڑھ کر نہیں دیکھا۔

صلوٰة التسبیح کا طریقہ ودیگر احکام اہل علم سے سمجھ لیں۔

نماز استسقا
اگر کسی علاقہ میں بارش نہ ہونے کی وجہ سے قحط سالی کی نوبت آجائے تو وہاں کے لوگوں کے لیے باجماعت نماز استسقا پڑھنا اور بارش کی دعا مانگنا مستحب ہے۔

تمام مسلمان اپنے بچوں بوڑھوں کے ساتھ باہر نکل کر اپنے گناہوں سے توبہ کریں، پھر دورکعت بغیر اذان واقامت کے جماعت سے پڑھیں، نماز کے بعد حسب قاعدہ دو خطبے پڑھیں، پھر قبلہ رو ہوکر امام اور حاضرین ہاتھ اونچے کر کے استغفار اور اللہ تعالیٰ سے پانی برسنے کی دعا کریں۔ تین روز تک یہ عمل کریں۔نماز استسقا کا طریقہ اور اس کے دیگر مسائل اہل علم سے دریافت کرلیں۔

نماز حفظ القرآن
حافظہ کی کمزوری یا حفظ قرآن بھول جاتا ہو تو شب جمعہ میں چار رکعت نماز پڑھنا منقول ہے، اس نماز کا مکمل طریقہ شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریا  کے رسالہ فضائل قرآن میں موجود ہے۔ اس نماز کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھا کر ارشاد فرمایا کہ اس طریقہ سے مانگی ہوئی دعا کبھی کسی مومن کی خالی نہیں گئی۔حفظ قرآن وحافظہ کی تقویت کے لیے یہ نماز مجرب ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں فرائض وواجبات کی ادائیگی کے ساتھ مذکورہ نوافل کو بھی اپنے اپنے اوقات اور مختلف احوال میں پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!