بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نماز میں دل کیوں نہیں لگتا؟

نماز میں دل کیوں نہیں لگتا؟

ڈاکٹر عبدالحئی عارفی نوّرالله مرقدہ

ایک صاحب میرے پاس آئے او رکہا:” حضرت! نماز میں دل نہیں لگتا اور دعائیں قبول نہیں ہوتی۔“

یہ بات انہوں نے بڑی حسرت وتاسف کے ساتھ کہی اور یہ کہہ کر وہ خاموش ہو گئے۔ میں نے کہا:آپ سچ کہتے ہیں۔ یہ بالکل قدرتی بات ہے، ایسا ہی ہونا چاہیے۔ اس لیے کہ دل تو کہیں اور لگا ہوا ہے، وہاں سے فرصت پائے تو ادھر آئے۔ دل تو خرافات وتفریحات میں لگا ہوا ہے او رکہتے ہو کہ نماز میں دل نہیں لگتا۔ دل بدعات میں، منکرات میں، مکروہات میں اور فواحشات میں لگا ہوا ہے اور کہتے ہو کہ نماز میں دل نہیں لگتا۔ اچھا تم ہی بتاؤ کہ دل آخر کہاں جائے؟ تم جدھر چاہو گے ادھر ہی وہ جائے گا۔ بھائی! سچ پوچھو تو نقشہ ہماری زندگی کا یہ ہو گیا کہ #
        ترا دل تو ہے صنم آشنا، تجھے کیا ملے گا نماز میں؟

اب دیکھیے ناکہ نماز کی کون پروا کرتا ہے؟ ہر روز پانچ وقت مسجد کے میناروں سے حیّ علی الصلوٰة کی ندا بلند ہوتی ہے، لیکن مسلمان کا دل کھیل تماشے میں، سیر وتفریح میں لگا رہتاہے، وہ دنیا کمانے کی فکر میں لگے رہتے ہیں اور یہ نہیں سمجھتے کہ مسلمانوں کی دنیا دراصل دین میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ دنیا کی دل کشی اور رعنائی نے مسلمانوں کو اپنی طرف کھینچ رکھا ہے۔ پھر جب دل سارا ان ہی باتوں میں لگا رہتا ہے تو پھر نماز میں کیسے لگے گا؟ یہی وجہ ہے کہ نمازیں پھیکی اور بے مزہ ہوتی ہیں۔ پھر بھی یہ گلہ ہے کہ نماز میں دل نہیں لگتا۔ یہ عجیب بات ہے، ہمارے معاشرے کا یہ نقشہ بڑا عجیب، بھیانک اور بڑا مایوس کن ہے۔

آپ دیکھیے! شادی بیاہ میں روپیہ پیسا بے دریغ صرف کیا جاتا ہے، خوب صورت شامیانے لگائے جاتے ہیں اور روشنیوں کا ایک سیلاب امڈآتا ہے، جہیز کے سامان کا ایک انبار لگایا جاتا ہے، لذت ِ کام ودہن کے لیے بڑا شان دار اہتمام کیا جاتا ہے۔ لڑکی کے باپ کو کسی اور بات کا ہوش ہی نہیں رہتا۔ وہ اپنے مہمانوں کی پذیرائی اور تواضع میں غرق رہتا ہے۔ اس میں اس کا دل بہت لگتا ہے۔ میں پوچھتا ہوں کہ یہ دل آخر نماز میں کیوں نہیں لگتا؟

اور سنو! موت، زندگی کا بڑا عبرت ناک واقعہ ہے، جو انسان ابھی زندہ تھا، چلتا پھرتا تھا ،وہ اب بے حس وحرکت پڑا ہے، روح پرواز کر گئی ہے، جسم مٹی کا ڈھیر بن گیا ہے۔ ورثاء اسے قبر میں دفن کرتے ہیں، قبر پرچادر چڑھاتے ہیں، تیجہ کرتے ہیں اور چالیسواں کرتے ہیں اور بڑے اہتمام سے زرِ کثیر خرچ کرکے یہ تقریبیں انجام دیتے ہیں اور قبر پر اگر بتی جلائی جاتی ہے۔ ان تمام کاموں میں تو بڑادل لگتا ہے، لیکن ایک نماز بیچاری ایسی ہے کہ جس کے بارے میں لوگوں کو یہ شکایت رہتیہے کہ اس میں دل نہیں لگتا۔ بھائی! دل لگاؤ تو دل لگے گا، یہ تو تمہارے بس کی بات ہے۔ یہ کیا بات ہے کہ ہر جگہ تو دل خوب لگتا ہے، لیکن یہیں نہیں لگتا۔ بھائی! یہ بات بھی عجیب ہے کہ لوگ یہودیوں اور نصرانیوں کی وضع قطع اختیار کرتے ہیں، ان کی تہذیب، ان کی زبان، ان کی معاشرت اختیار کرتے ہیں اور اس پر فخر کرتے ہیں۔ ایک تویہ عمل قومی خودداری کے خلاف ہے، بلکہ یہ بڑی بے غیرتی کی بات ہے کہ اپنی معاشرت، اپنی تہذیب چھوڑ کر، ان کی تہذیب اور معاشرت اختیار کی جائے، جو اسلام کے دشمن ہیں، مسلمانوں کے خون کے پیاسے ہیں۔ دوسرے یہ کہ کافر اور مسلم کا کیا جوڑ ہے؟ یہود ونصاریٰ پر تو خدا نے لعنت بھیجی ہے، ایک کو ”مغضوب“ اور دوسرے کو ”ضآلّین“ قرار دیا ہے۔ پھر یہ عجیب بات ہے کہ خدا کے دشمنوں سے تعلق پیدا کرنا اور ان کی وضع قطع اختیار کرنا مسلمان گوارا کر لیتا ہے، بلکہ اسے اپنا شرف سمجھتا ہے۔ سوچو کہ کیا یہ بات خدا کے غضب کو بھڑکانے والی نہیں ہے؟ پھر کیا ایسی باتوں سے دل لگانے والے کا دل نماز میں لگ سکتا ہے؟

اب مسلمان عورتوں کودیکھو! آج کل فیشن پرستی میں خوب ڈوبی رہتی ہیں، جسے دراصل مغرب پرستی کہنا چاہیے، وہ مغربی تہذیب کی اتنی دل دادہ ہیں کہ انہیں اسلامی شعائر کی ذرا بھی پروا نہیں رہی، سورہٴ احزاب میں الله تعالیٰ کا صاف صاف حکم موجود ہیں:﴿وقرن فی بیوتکن…﴾ مسلمان عورتیں اپنے گھروں میں ٹھہری رہیں، زمانہ جاہلیت کی طرح اپنے سنگھار نہ دکھاتی پھریں۔

لیکن صورتِ حال یہ ہے کہ بازاروں اور گذر گاہوں میں اس حال میں پھرتی رہتی ہیں کہ ان کا سینہ، ان کا سر، ان کی پیٹھ، ان کا پیٹ اوران کی کہنیاں بالکل ننگی رہتی ہیں۔ یہ کس بات کی علامت ہے؟ کیا یہ خدا سے جنگ نہیں؟ پھر ہمارے گھروں میں اسلامی زندگی کا کوئی نمونہ ہی موجود نہیں، حقوق العباد کی طرف سے توجہ بالکل ہٹائی گئی ہے۔ ماں باپ کی فرماں برداری اب بالکل غیر اسلامی ہے۔ خاندانوں اور عام گھرانوں میں رنجشوں، تلخیوں، عداوتوں اور رقابتوں کا ایک لامتناہی سلسلہ قائم رہتا ہے۔غیبت سب سے بڑی لعنت ہے، مگر یہ عیب ہر گھر میں نظر آتا ہے۔ حسد، کینہ، بغض اور بد گوئی کی اسلام نے بڑی مذمت کی ہے اور ان رذائلِ اخلاق سے بچنے کا حکم دیا ہے۔ لیکن یہعادتیں ہماری عادت ِ ثانیہ بن گئی ہیں۔ آج کل خود ستائی کے نت نئے طریقے ایجاد کیے گئے ہیں۔ جو سرا سراسلام سے انحراف کی علامت ہیں۔ آج تمام کاموں میں تو لوگوں کا بڑا دل لگتا ہے، جب ان سب سے فرصت ہی نہیں ملتی تو نماز میں کیا دل لگے گا؟

ذرا غور کرو کہ یہ پریشانیاں، یہ بلائیں، یہ مصیبتیں کیوں آتی ہیں؟ وہ گھرانے جو کبھی شادی خانے تھے، اب غم کدے کیوں بن گئے ہیں۔ شادی میں جو روپیہ پیسہ خرچ کیا تھا، جو تزئیں وآرائش کی تھی، جو شان دار دعوتیں کی تھیں، اس شادی کا کیا انجام ہوا۔ اکثر گھرانوں میں بڑا حسرت ناک اور الم ناک نقشہ دکھائی دے گا۔ چار مہینے کے بعد ہی میاں بیوی میں کھٹ پٹ شروع ہو جاتی ہے، تلخیاں بڑھتی ہیں، نفرت پیدا ہوتی ہے اور زندگی عذاب بن جاتی ہے۔ سوچو ایسا کیوں ہوا؟ اس لیے ہوا کہ یہ کام الله کی مراضی کے مطابق نہیں کیا گیا تھا، اس میں اسراف تھا اور اس میں سراسر اسلام سے انحراف تھا، الله کی نافرمانی تھی اور نفس کی خوش نودی۔ اس لیے انجام بھی ایسا ہی ہونا چاہیے کہ ہر عمل کا ایک رد عمل ہوتا ہے۔

آج ہمارے معاشرے کی صورت یہ ہو گئی ہے کہ کوئی گھر ذہنی اذیت اور کلفت اور رنج وغم سے خالی نہیں، ہر جگہ بے اطمینانی ہے، پریشانی ہے اور ہراسانی ہے۔ ہر گھر میں غم واندوہ کا دھواں اٹھ رہا ہے، ہر دل میں آگ سلگ رہی ہے، باپ بیٹے میں، ماں بیٹی میں، ساس بہو میں، شوہر بیوی میں، بھائی بھائی میں جنگ جاری ہے، بڑی کربناک صورت ہے، بڑی اذیت ناک فضا ہے، اس کا واحد سبب وہ غلط کاری ہے جو ابتدا میں اختیار کی گئی تھی، غلط کام کا انجام ہوتا ہی غلط ہے۔

اب ذرا زندگی کا یہ پہلو بھی دیکھیں کہ ہمارے معاشرے میں سود، رشوت، بددیانتی، حرام کاری شدومد سے جار ی ہے۔ لوگ پیسے کے پیچھے دوڑ رہے ہیں، حلال وحرام سے لاپرواہی۔ جائز وناجائز سیبے نیازی۔ ان کے نزدیک گویا کوئی آسمانی قانون ہی نہیں ہے۔ انہیں اس کا یقین نہیں کہ خدا دیکھ رہا ہے اور وہ حاضر وناظر ہے، علیم وخیبر ہے، اب دیکھو کہ ان تمام کاموں میں دل بہت لگتا ہے۔ لگاؤ! لیکن یہ نہ بھولو کہ ہر عمل کار دِ عمل ہوتا ہے اور وہ ہو کر رہے گا، اسے کوئی روک نہیں سکتا۔ اسی طرح زندگی کے تمام شعبوں کو بھی قیاس کر لو۔ یہ اشارات بہت واضح ہیں اور یہ ہمارے معاشرے کے عکاس ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ ان برائیوں کا علاج کیا ہے؟ علاج بھی بتائے دیتا ہوں۔ تم مسلمان ہو، تمہارا خدا ہے، جو تم پر بے حد مہربان ہے، تم اس سے مایوس نہ ہو، اس کی رحمت اور بخشش کا دروازہ ہر وقت کھلا رہتا ہے، تم اس کی بارگاہ میں جاؤ، مگر اس طرح کہ تمہارے دل میں خدا کا خوف وخشیت ہو، آنکھوں میں ندامت کے آنسو ہوں اور آستانہ اُلوہیت میں جبہہ سائی کا شوق بھی ہو، تم اپنی پیشانی اس کی چوکھٹ پر رکھ دو اور یہ التجا اور یہ دعا کرو کہ:

”اے الله! میں گنہگار ہوں اور امید وار رحمت ِ کردگار ہوں، خطا کار ہوں، لیکن تری رحمت کا اُمید وار ہوں، میں نے ظلم کیا ہے، میں نے تری نافرمانی کی ہے، میں صراطِ مستقیم سے بھٹک گیا تھا، میں اب نادم وشرم سار ہوں۔ اے الله! تو مجھے معاف کر دے، بخش دے اور اپنے کرم کے دامن میں مجھے سمیٹ لے اور مجھے گناہوں سے بچنے کی توفیق دے۔“

تم جب اس طرح بارگاہِ ایزدی میں التجا کروگے، گڑگڑاؤ گے، آنسو بہاؤ گے تو ان شاء الله تمہاری دعا ضرور قبول ہوگی، تم بامراد ہو گے۔ الله تعالیٰ نے تمہیں یہ دعا بھی سکھائی ہے۔ اسے پڑھو:

﴿رَبَّنَا لاَ تُؤَاخِذْنَا إِن نَّسِیْنَا أَوْ أَخْطَأْنَا رَبَّنَا وَلاَ تَحْمِلْ عَلَیْْنَا إِصْراً کَمَا حَمَلْتَہُ عَلَی الَّذِیْنَ مِن قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلاَ تُحَمِّلْنَا مَا لاَ طَاقَةَ لَنَا بِہِ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنتَ مَوْلاَنَا فَانصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکَافِرِیْنَ﴾․ (البقرہ)
اے ہمارے پروردگار! ہماری پکڑ نہ کر اگر ہم بھول جائیں اور ہم پر بھاری بوجھ نہ رکھ، جیسا کہ تونے ہم سے پہلے کے لوگوں پر رکھا تھا۔ اے ہمارے پروردگار! ہم سے وہ چیز نہ اٹھوا جسے ہم آسانی سے نہ اٹھاسکتے ہوں، ہم سے درگزر فرما اور ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر، توہی ہمارا مالک ہے، تو ہم کو کافر لوگوں پر غالب کر دے۔“