بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نزلہ زکام احتیاط وعلاج

نزلہ زکام احتیاط وعلاج

ڈاکٹر سیّدہ صدف اکبر

 

موسم ِ سرما کی آمد آمد ہے۔ سردیوں کے آتے ہی ٹھنڈی ہواؤں کے ساتھ نزلے زکام (فلو) اور گلے کی خراش سے تقریباً سب لوگ ہی متاثر ہونے لگتے ہیں۔ نزلہ زکام متعدی وائرس والی بیماری ہے، جو ہر سال سردیوں کے مہینوں میں حملہ آور ہوتی ہے۔ یہ بیماری بہت تیزی سے پھیلتی اور دوسرے لوگوں میں منتقل ہو جاتی ہے۔ یہ بیماری وائرس کے ذریعے پھیلتی ہے اور تنفس کے نظام پر حملہ کرتی ہے۔ اس کا وائرس ناک، حلق، سانس کی نالیوں او رپھیپڑوں سمیت تنفس کے پورے نظام کو متاثر کرتا ہے۔ نزلے زکام کی علامتیں اچانک ظاہر ہوتی ہیں اور شدت بھی اختیار کرسکتی ہیں۔ بخار کے ساتھ انتہائی تھکن وسستی کا ہونا نزلے زکام کی خاص علامت ہے۔ اس کے علاوہ جسم میں درد، خاص طور پر ٹانگوں اور سر میں شدید درد ہوسکتا ہے۔ درد شروع ہونے کے ساتھ یا کچھ دیر بعد بخار چڑھنے سے قبل سردی کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ کھانسی میں مریض کا سینہ جکڑ جاتا ہے او رجیسے جیسے نزلے زکام کی شدت میں اضافہ ہوتا جاتا ہے، مریض کی کھانسی میں بلغم بھی خارج ہونے لگتا ہے او رمنھ میں تھوک کا بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔

نزلے زکام کی حالت میں گلے میں درد اور خارش بھی ہوسکتی ہے، جس کی وجہ سے مریض کو کھانے پینے او رنگلنے میں مشکل ہوتی ہے۔ گلے کی تکلیف نزلے زکام کے بڑھنے کے ساتھ بڑھتی جاتی ہے۔ اس بیماری میں مبتلا بعض مریض اسہال، متلی واُلٹی اور پیٹ کے درد میں بھی مبتلا ہوسکتے ہیں۔ ان تکالیف سے بڑوں کے مقابلے میں بچے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ اسہال اور قے ومتلی سے مریض کے جسم میں پانی کی کمی ہو جاتی ہے، ایسی حالت میں پانی او رنمکیات کا جسم میں پہنچنا ضروری ہوتا ہے۔ نزلے زکام کی علامات مختلف افراد میں مختلف ہوتی ہیں۔ کچھ علامات ایسی ہوتی ہیں، جن کے ظاہر ہونے پر مریض کو فوری طور پر معالج کے پاس لے جانا چاہیے، مثلاً سینے میں درد، سانس لینے میں دقّت، جلد اور ہونٹوں کا نیلا پڑ جانا یا جسم میں پانی کی شدید کمی کا ہونا وغیرہ۔ اس کے علاوہ غنودگی وگھبراہٹ کے ساتھ مریض کو شدید کھانسی اور بار بار بخار کی شکایت ہو جاتی ہے۔

نزلے زکام کے وائرس کے حملہ آور ہونے کے 24 سے 72 گھنٹوں کے اندر مریض وائرس کو دوسروں میں پھیلانے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ ایسی حالت میں مریض کو زیادہ وقت گھر پر گزارنا چاہیے، اس لیے کہ اس کے کھانسنے، چھینکنے اوربات کرنے کے دوران خارج ہونے والی رطوبت کے ذریعے جراثیم صحت مند افراد میں بھی منتقل ہو جاتے ہیں اور ایسی جگہ جہاں پر نزلہ زکام کا وائرس موجود ہو، اس جگہ کو چھونے سے بھی یہ وائرس منتقل ہوسکتا ہے۔

نزلے زکام کا شکار ہر عمر کے افراد ہوسکتے ہیں۔ بعض افراد نزلے زکام سے جلد صحت یاب ہو جاتے ہیں۔ جب کہ کچھ افراد کے لیے یہ دوسری بیماریوں کا سبب بھی بن سکتا ہے اور جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ نزلے زکام میں مبتلا چھے ماہ سے کم عمر بچے ، حاملہ خواتین، بزرگ، کم زور مدافعتی قوت والے افراد، ذیابیطس اور پھیپڑوں کے امراض میں مبتلا افراد یادل کی بیماریوں میں مبتلا افراد مختلف پیچیدگیوں کا شکار ہوسکتے ہیں۔

نزلے زکام کا کوئی خاص علاج نہیں ہے، اس کا زور تین دن کے بعد ٹوٹ جاتا ہے۔ اس بیماری میں مبتلا افراد کو ضد حیوی ادویہ (اینٹی بایوٹکس) نہیں کھانی چاہییں، کیوں کہ انہیں کھانے سے مدافعتی نظام کم زور ہو جاتا ہے اور تعدیہ (انفیکشن) ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ نزلہ زکام ہونے کی صورت میں مکمل صحت یابی تک آرام کرنا چاہیے۔ ایسی حالت میں پانی اور دیگر مشروبات زیادہ سے زیادہ پینے چاہییں، اس لیے کہ جسم سے پانی زیادہ خارج ہو جاتا ہے۔ پانی زیادہ پینے سے بلغم کم ہو جاتا ہے۔ موسم سرما کی بیماریوں سے محفوظ رہنے اور جسم کے مدافعتی نظام کو توانا کرنے کے لیے صحت بخش غذائیں کھانی چاہییں، مثلاً گہرے سبز، نارنجی اور سرخ رنگ کے پھل وسبزیاں وغیرہ۔ نزلے زکام میں کثیر الحیاتین ، خاص طور پر حیاتین ج او رجست ( زنک) والی حیاتیں کی گولیاں کھانے سے مدافعتی قوت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق روزانہ ورزش کرنے والے افراد نزلے زکام کی زد میں کم آتے ہیں اور اگر آبھی جائیں تو جلد صحت یاب ہو جاتے ہیں۔ سردی کے موسم میں خود کو اور دوسرے افراد کو نزلے زکام کے وائرس سے بچانے کے لیے کھانسنے یا چھینکنے کے بعد فوراً ہاتھ او رمنھ دھولینے چاہییں۔ اس دوران اپنی آنکھوں ، ناک اور منھ کو چھونے سے گریز کرنا چاہیے، کیوں کہ اس طرح وائرس کو جسم میں داخل ہونے کا موقع مل جاتا ہے۔ کمپیوٹر، اس کا کی بورڈ، ماؤز، ٹیلی فون، دروازے کا ہینڈل اور دیگر عام استعمال کی چیزیں جو ایک سے زیادہ افراد کے استعمال میں ہوں، ان کی صفائی کا بھی خاص خیال رکھنا چاہیے، کیوں کہ وائرس ان کی سطحوں پر بہت دیر تک چمٹے رہ سکتے ہیں۔ نزلے زکام کے وائرس کا شمار ایسے وائرسوں میں ہوتا ہے، جن کی شکلیں ہر سال تبدیل ہوتی رہتی ہیں، لہٰذا مکمل تحفظ کے لیے ہر سال نزلے زکام کے پھیلنے سے قبل اس کا ٹیکا لگوا لینا چاہیے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق نزلے زکام کا ٹیکا کسی بھی عمر کے ایسے افراد کو ہر سال لگوانا چاہیے، جو خاص طور پر اس کے خطرات سے دو چار ہوں۔ طویل مدت سے سینے کی شکایات یا دمے میں مبتلا افراد، سِل ودق(ٹی بی) اور پھیپڑوں کی بیماریوں میں مبتلا افراد، گردوں کی بیماری میں گرفتار افراد اور کسی بیماری کی وجہ سے جسم کے دفاعی نظام کی کارکردگی کی کم زوری کے شکار افراد( مثلاًسرطان، جگر کی بیماری، ذیابیطس اور دماغی فالج وغیرہ)، حاملہ خواتین اور6 ماہ سے5 سال کے عمر کے بچوں کو نزلے زکام کا ٹیکا لگوانا بہت ضروری ہوتا ہے۔ ضعیف افراد او رہسپتال، کلینک ولیبارٹریوں میں کام کرنے والے افراد کو بھی ہر سال نزلے زکام کا ٹیکا ضرور لگوانا چاہیے۔