بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرائضِ منصبی!

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرائضِ منصبی!

محدث العصر مولاناسیّد محمدیوسف بنوریؒ

قرآن حکیم نے چار مقامات پر حضرت خاتم الا نبیاء جناب رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے چار منصب بیان فرمائے ہیں:
آیات پڑھ کر سنانا۔
تزکیہ کرنا، یعنی کفر و شرک، بد عملی وبد اخلاقی اوراُمورِ جاہلیت سے ان کو پاک وصاف کرنا۔
کتاب اللہ کے احکام کی تعلیم دینا اور اس کے مضامین کی تشریح کرنا۔
حکمت ودانائی، احکام کے علل وغایات اور شریعت کے اُصول ومقاصد کی تعلیم دینا۔
تز کیہ سے مراد عقائد ونظریات اور اعمال واخلاق کی پاکیزگی ہے۔قرآن کریم نے تین مقامات پر تزکیہ کو تعلیم سے مقدم ذکر فرمایا، جس سے ایک بات تو یہ معلوم ہوتی ہے کہ بقدرِ ضرورت تز کیہ تعلیم سے پہلے ہونا چاہیے۔ تعلیم اسی وقت مفید اور بارآور ہوسکتی ہے،جب کہ قلوب میں اس کے قبول کرنے کی اہلیت اور جذب کرنے کی صلاحیت موجود ہو، زمین کو پہلے کا شت کے قابل بنایا جائے، پھر تخم ریزی کی جائے۔
یہ تز کیہ حضرت خاتم الا نبیاء صلی الله علیہ وسلم کے فیضانِ صحبت اورمکارم اخلاق سے حاصل ہوتا تھا اور اب بھی بقدرِ استعداد اللہ تعالیٰ کے مقبول بندوں سے ربط وتعلق اور ان کی صحبت اور مجالست سے حاصل ہوسکتا ہے۔
دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ تعلیم ِ کتاب وحکمت سے بھی اصل مقصود تز کیہ ہے، یہ نہ ہو تو ساری تعلیم بے کار ہے۔ اعمال واخلاق کے بغیر نرے علوم ومعارف کی حق تعالیٰ کے یہاں کوئی قدر نہیں۔ آدمی ساری دنیا کی کتابیں چاٹ لے ،لیکن اگر انسانی اخلاق اور ایمانی اعمال نہیں، تو پڑھالکھا جانور تو ہوسکتاہے، مگر انسان کہلا نے کا مستحق نہیں۔
تز کیہ کے بغیر نہ ایمان میں رسوخ کی کیفیت اور یقین واطمینان کی قوت پیدا ہوگی، نہ اخلاق درست ہو سکیں گے، نہ اخلاص کی دولت ملے گی،نہ اعمال پر مداومت نصیب ہو گی، نہ اندر کا فر عون (مکار نفس) ہلاک ہوگا ،نہ مخلوق سے لڑائی بند ہو گی۔
یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام رضی الله عنہفرماتے ہیں:”کہ ہم نے پہلے ایمان سیکھا، پھر قرآن سیکھا۔“ یہ ایمان کا سیکھنا ہی تز کیہ کہلا تا ہے کہ قلب غیر اللہ کے بتوں سے پاک ہو، اعمال ریا وغیرہ سے پاک ہوں اور نفس کمینے اخلاق سے پاک ہو، معاشرہ اُمورِ جاہلیت سے پاک ہو، کمائی حرام اور مکروہ ذرائع سے پاک ہو، وغیرہ ذلک۔
یہی تز کیہ تھا جس کی وجہ سے حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو اللہ تعالیٰ نے بہت سی بشارتوں سے نوازا اور اُنہیں آسمانی وحی کی شہادت اورسندملی۔ سورہ فتح میں ان کے امتیازی اوصاف ذکر کرتے ہوئے ایک وصف باہمی رحمت وشفقت ذکر کیا گیا ہے:رحماء بینھم، یہ وصف کامل تزکیہ کے بعد ہی حاصل ہوسکتاہے اور اسی کو نہ سمجھنے کی خرابی ہے کہ صحابہ رضی الله عنہمسے بد گمانی پیدا ہوتی ہے۔ حضرت عبد اللہ بن مسعو در رضی الله عنہنے صحابہ کرام رضی الله عنہم کا پہلا وصف یہی بیان فرمایا کہ ان کے دل بہت پاک صاف تھے ،دوسرا وصف بیان فرمایا ان کا علم بڑا گہرا تھا، تیسر اوصف بیان فرمایا ان کی زندگی تکلفات اور تصنع سے پاک تھی۔
حضراتِ صو فیاء اور اشاعتِ دین
حضرات صو فیائے کرام (رحمہم اللہ) جن کے ذریعہ دین کی تبلیغ واشاعت سلاطین کی تلوار اور علماء کے قلم سے بھی زیادہ ہوئی ہے، ان کا خاص موضوع یہی ہے کہ نفوس کی تر بیت اور اخلاق کا تز کیہ کیا جائے۔ ان کے یہاں بھی تر بیت کا ایک طریقہ یہ ہے کہ پہلے جذب ہو، پھر سلوک، اسی کانام مجذوب سالک رکھتے ہیں، بظا ہر یہ طریقہ اقر ب الی القر آن ہوگا۔
البتہ قرآن کریم میں صرف ایک جگہ جہاں آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کے بارے میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا نقل فرمائی ہے، آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کے ان چار مناصب میں سے تز کیہ کو کتاب وحکمت کی تعلیم کے بعد سب سے آخر میں رکھا ہے۔ اس سے ایک تو اس طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ تعلیم کا اول وآخر مقصد تز کیہ ہے۔ دوسرے اس طرف اشارہ ہے کہ تز کیہ بقدرِ ضرورت تو تعلیم سے پہلے ہو نا چاہیے، مگر کامل تز کیہ کی نوبت علم کے بعد ہی آسکتی ہے، یعنی علم کے بعد عمل ہوگا اور علم ہی ذریعہ بنے گا عمل کا، گو یا اس آیت میں تر بیت کا دوسرا طریقہ بیان فرمایا ہے، جو حضرات صو فیہ کے یہاں سالک مجذوب کہلا تا ہے، لوگوں کی استعدادیں مختلف ہوتی ہیں، کسی کو تعلیم کے بعد بھی تز کیہ کی ضرورت رہتی ہے اور کسی کو تزکیہ کے بعد تعلیم کی حاجت ہوتی ہے، نہ تز کیہ کے مراتب ختم ہوتے ہیں، نہ تعلیم کی انتہا ہے۔
خلاصہ یہ کہ حضرت رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کا منصب صرف تعلیم اور سمجھا نا ہی نہیں تھا، بلکہ اس کی تعمیل کر انا اور قوم کو ایک باعمل امت بنانا بھی تھا، جب تک آں حضرت صلی الله علیہ وسلم کے دیے ہوئے نقشہ کے مطابق تعلیم وتر بیت پر محنت نہیں ہوتی اور افراد کی اصلاح کے ذریعہ ایک پاکیزہ اور صالح معاشرہ وجود میں نہیں آتا، سیاسی محنت صحیح طریق پر بار آور نہیں ہوگی اور تمام قوتیں شر وفساد کی نذر ہوجائیں گی۔
اسلامی سیاست اور موجودہ سیاست
دینی تر بیت کے فقدان ہی کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ باوجود یکہ تمام زعماء اور سیاسی لیڈر اسلامی خدمت کا اعلان فرمارہے ہیں اور ملک وملت کی صحیح نمائند گی کا دم بھرتے ہیں، یقینا ان میں سے بعض حضرات مخلص بھی ہوں گے اور وہ اسلام کے نام کو محض اقتدار طلبی کے لیے استعمال نہیں کرتے ہوں گے، لیکن ان اسلامی نمائندوں کی اکثریت اس بات سے بھی واقف نہیں کہ جس اسلام کا ہم نا م لیتے ہیں، اسی اسلام نے سیاست کے بھی کچھ آداب تجو یز کیے ہیں اور بے ہنگم سیاست بازی پر کچھ پا بندیاں عائد کی ہیں، مثلاً موجودہ سیاست کی بنیادہی اس بات پر قائم ہے کہ ایک شخص اقتدار طلبی کے لیے کھڑا ہو، اپنی پارٹی بنائے، اپنا پر وگرام قوم کے سامنے رکھے اور قوم سے اپیل کرے کہ اس کوووٹ دے کر کرسی اقتدار پر فائز کیا جا ئے، اس کے بعد وہ جانے اور قوم کے مسائل ۔
اب دیکھیے کہ اسلام اقتدار طلبی کے مزاج ہی کی جڑکاٹ دیتا ہے، اسلام اقتدار کی خواہش کو پسند نہیں کرتا، بلکہ وہ یہ ذمہ داری معاشرہ پر ڈالتا ہے کہ وہ ایسے افراد کو آگے لائے جو:﴿لَایُرِ یْدُوْنَ عُلُوًّا فِی الْاَرْضِ وَلَا فَسَادًا﴾․”جو نہیں چاہتے زمین میں اونچا ہونا اور نہ فساد“ کے معیار پر پورے اُتریں۔ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کسی ایسے شخص کو جو عہدہ کی درخواست لے کر آئے عہدہ نہیں دیتے تھے، حضرت عثمان رضی الله عنہ نے ہاتھ جوڑ جوڑ کر اور منتیں کر کر کے حضرات صحابہ رضی الله عنہمکو عہدے دیے ہیں۔ حضرت عثمان رضی الله عنہنے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی الله عنہماکو عہدہ قضا کی پیش کش کی، انہوں نے انکار کیا۔ امیر المؤ منین رضی الله عنہنے فرمایا:تمہارے باپ نے بھی تو قبول کیا تھا؟عرض کیا:ان میں ہمت ہو گی، مجھ میں نہیں۔ امیر المؤ منین نے منت وسماجت کی، مگر ان کی معذرت غالب آگئی ۔ حضرت عثمان رضی الله عنہنے فرمایا:بہت اچھا، مگر کسی اور کو نہ بتانا، ورنہ کوئی بھی اس کے لیے آمادہ نہ ہوگا ۔ حضرت تھانوی رحمہ الله کے ملفوظات میں ہے کہ شاہ عبد العز یز رحمہ الله کا جامع مسجد دہلی میں وعظ تھا، جس میں ایک انگر یز بہادر بھی موجود تھا، تقریر کے بعد اس نے مسلمانوں سے سوال کیا کہ مسلمانوں کے ہاتھ سے سلطنت کیوں جاتی رہی؟ کسی نے کچھ جواب دیا، کسی نے کچھ، اس نے کہا:میں بتا تا ہوں کہ اصلی وجہ یہ تھی کہ اس منصب کے اہل لوگوں نے اس سے گر یز کیا اور نااہل لوگ اوپر آگئے اوریہی نا اہلی زوال سلطنت کا باعث بنی۔
مسلمانوں کی نمائند گی
ہم جانتے ہیں کہ اس زمانہ قحط الر جال میں جس میں انسانوں کی تو افر اط ہے، مگر آدمی بہت کم ہیں، نہ اسلام کا معیاری معاشر ہ ہے، نہ معیاری نمائندے مل سکتے ہیں، لیکن کم ازکم اتنا تو ہو کہ جو لوگ اسلام کی خدمت اور مسلمانوں کی نمائند گی کا دعویٰ لے کر اُٹھیں، ان میں صوم وصلوٰة کی پابندی، دینی شعائر کا احترام، اسلام کے ضابطہ حیات پر کامل اذعان اور اسلامی اخلاق و اعمال پائے جائیں، وہ قول کے سچے اور بات کے پکے ہوں، انہیں غریب مسلمانوں کے مسائل کی سمجھ بو جھ اور دینی احکام کا شعور ہو، ملت کے تمام افراد کے یکساں ہمدردہوں، وہ اسلام دشمن طاقتوں کے ہاتھ کا کھلو نا نہ بنیں۔ گزشتہ بائیس سالہ تجر بہ شاہد ہے کہ غیر تر بیت یا فتہ اور غیر اصلاح شدہ نمائندوں نے اسمبلیوں میں کیا گل کھلائے ہیں، اب پھر اسی قسم کے لوگوں کو آگے لانے کا مطلب اس کے سوااور کیا ہے کہ اس الیکشن اور اس کے بعد وجود میں آنے والے دستور سے جو تو قعات وابستہ کی جارہی ہیں ان کا حشر بھی وہی ہوگا جو پہلے ہو چکا ہے، یہ دستور سازی کا ساراوقت اکھاڑ پچھاڑ میں کھودیں گے اور 120دن بعد کہا جائے گا کہ اسلامی دستور پر قوم کے نمائندے متفق نہیں ہوسکے ، لا فعل اللّٰہ ذٰلک․
جن لوگوں کا بار ہا تجر بہ ہوچکا ہے، دوبارہ ان ہی کا تجر بہ کیے چلے جانا اور جن کی اسلامیت کا نقشہ آنکھوں کے سامنے ہے اور ان پر اعتماد کر لینا اس کا نتیجہ سوائے ندامت کے اور کیا ہوگا ،حافظ شیرازی رحمہ الله فرماتے ہیں :
میں نے ہر چند اُسے آز مایا، مگر مجھے اس سے کچھ نفع نہ پہنچا۔
جو شخص تجربہ شدہ کو آزماتا ہے، اسے ندامت کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا۔