بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے فضائل قرآن کریم سے

نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے فضائل قرآن کریم سے

ڈاکٹر عبدالحئی عارفی رحمة الله علیہ

رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی جلالت ِ شان او رکمالات نبوت خود الله تعالیٰ کے کلام مبین میں ہے:
        محمد حامدِ حمدِ خدا بس
        خدا مدحِ آفرینِ مصطفی صلی الله علیہ وسلم بس

حق تعالیٰ جل شانہ  نے ہمارے رسول مقبول ،احمد مجتبیٰ محمد مصطفی صلی الله علیہ وسلم کو تمام انبیاء او ررسل میں ایک خاص امتیاز عطا فرمایا۔ آپ کو سید الانبیاء قرار دیا اور آپ صلی الله علیہ وسلم کی ذات اقدس کو دنیا کے لیے ایک مثالی نمونہ بنا کر بھیجا ہے۔ اس لیے اہل ِ عالم کے لیے آپ صلی الله علیہ وسلم کے تعارف اور آپ صلی الله علیہ وسلم کے اوصاف کمال بتلانے کا بھی الله تعالیٰ نے خود ہی اپنے کلام مبین میں اہتمام فرمایا اور ارشاد فرمایا:

آیات ِ قرآنیہ
٭…ترجمہ: وہ الله ایسا ہے کہ اس نے اپنے رسول کو ہدایات کا سامان ( یعنی قرآن) اور سچا دین ( یعنی اسلام) دے کر ( دنیامیں ) بھیجا ہے، تاکہ اس کو تمام دینوں پر غالب کرے او رالله کافی گواہ ہے۔ محمد، الله کے رسول ہیں اور جو لوگ آپ صلی الله علیہ وسلم کے صحبت یافتہ ہیں وہ کافروں کے مقابلہ میں تیز ہیں اور آپس میں مہربان ہیں۔ اے مخاطب! تو ان کو دیکھے گا کہ کبھی رکوع کر رہے ہیں، کبھی سجدہ کر رہے ہیں۔ الله تعالیٰ کے فضل اور رضامندی کی جستجو میں لگے ہیں ۔ (سورہٴ فتح)

٭… نیز یہ بھی ارشاد فرمایا کہ:
ترجمہ: حقیقت میں الله تعالیٰ نے مسلمانوں پر احسان کیا جب کہ ان میں انہیں کی جنس سے ایک ایسے پیغمبر کو بھیجا کہ وہ ان لوگوں کو الله تعالیٰ کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے ہیں اوران لوگوں کی (خیالات ورسومات جہالت سے) صفائی کرتے رہتے ہیں اور ان کو کتاب اور فہم کی باتیں بتاتے رہتے ہیں۔ (آل عمران، آیت: نمبر164)

٭… نیر یہ بھی واضح فرمایا کہ:
ترجمہ: جو لوگ کہ ایسے رسول نبی امی کی اتباع کرتے ہیں جن کو وہ لوگ اپنے پاس توریت اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں ( جن کی صفت یہ بھی ہے کہ ) وہ ان کو نیک باتوں کا حکم فرماتے ہیں اور بری باتوں سے منع کرتے ہیں او رپاکیزہ چیزوں کو ان کے لیے حلال بتاتے ہیں اورگندی چیزوں کو (بدستور) ان پر حرام فرماتے ہیں او ران لوگوں پر جو بوجھ اور طوق ( یعنی شرائع سابقہ کے احکامات شدیدہ) تھے ان کو دور کرتے ہیں۔ سو جو لوگ اس نبی (موصوف) پر ایمان لاتے ہیں او ران کی حمایت کرتے ہیں او ران کی مدد کرتے ہیں او راس نور کااتباع کرتے ہیں جو ان کے ساتھ بھیجا گیا ہے ایسے لوگ پوری فلاح پانے والے ہیں۔ (سورہٴ اعراف، آیت نمبر:157)

٭…آپ صلی الله علیہ وسلم کے نطق کی شان یوں ارشاد فرمائی:
ترجمہ: اور نہ وہ اپنی خواہش ِ نفسانی سے باتیں بناتے ہیں۔ ان کا ارشاد نری وحی ہے جو ان پر بھیجی جاتی ہے۔ (النجم:4)

٭…پھر اپنے بندوں سے اپنے محبوب نبی صلی الله علیہ وسلم کی خصوصیات کا اس طرح تعارف فرمایا:
ترجمہ:(اے لوگو!…) تمہارے پاس ایک ایسے پیغمبر تشریف لائے ہیں جو تمہاری جنس (بشر) سے ہیں۔ جن کو تمہاری مضرت کی بات نہایت گراں گزرتی ہے، جو تمہاری منفعت کے بڑے خواہش مند رہتے ہیں (یہ حالت تو سب کے ساتھ ہے ،پھر بالخصوص) ایمان داروں کے ساتھ تو بڑے شفیق ( اور) مہربان ہیں۔ (سورہٴ توبہ، آیت نمبر128)

٭…ترجمہ: نبی مؤمنین کے ساتھ خود ان کے نفس سے بھی زیادہ تعلق رکھتے ہیں اور آپ کی بیبیاں ان (مومنوں) کی مائیں ہیں( یعنی مسلمانوں پر اپنی جان سے بھی زیادہ آپ کا حق ہے اور آپ کی اطاعت مطلقاً اور تعظیم بدرجہ کمال واجب ہے۔ اس میں احکام اور معاملات آگئے)۔ (سورہٴ احزاب، آیت نمبر:6)

٭… پھر لوگوں کو اپنے رسول برحق اور ہادی دین مبین صلی الله علیہ وسلم کی اتباع کے لیے اس طرح حکم فرمایا:
ترجمہ: تم لوگوں کے لیے رسول الله صلی الله علیہ وسلم ( کی ذات) میں ایک عمدہ نمونہ تھا او رہمیشہ رہے گا۔ (سورہٴ احزاب، آیت :21)

٭…ترجمہ: اور رسول تم کو جو کچھ دے دیا کریں، وہ لے لیا کرو اور جس چیز ( کے لینے) سے تم کو روک دیں ( اور بعموم الفاظ یہی حکم ہے افعال او راحکام میں بھی) تم رک جایا کرو۔

٭…ترجمہ: جس شخص نے رسول کی اطاعت کی اس نے الله تعالیٰ کی اطاعت کی۔ (سورة النساء، آیت:8)

٭…ترجمہ: اور جو شخص الله اور اس کے رسول کی اطاعت میں رہے گا سو وہ بڑی کام یابی کو پہنچے گا۔ (سورہٴ احزاب، آیت نمبر:71)

٭… پھر اپنے محبوب نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے امتیوں کو یہ بھی بشارت عطا فرمائی:
ترجمہ: اور جو شخص الله اور رسول کا کہنا مان لے گا تو ایسے اشخاص بھی ان حضرات کے ساتھ ہوں گے جن پر الله تعالیٰ نے انعام فرمایا ہے، یعنی انبیاء اور صدیقین اور شہداء اور صلحاء۔ اور یہ حضرات بہت اچھے رفیق ہیں۔ (نساء:69)

٭…اور اس پر بھی متنبہ فرمایا کہ:
ترجمہ: اور جو شخص رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی مخالفت کرے گا بعد اس کے کہ اس کو امرِ حق واضح ہو چکا تھا اور مسلمانوں کا راستہ چھوڑ کر دوسرے راستہ ہو لیا تو ہم اس کو جو کچھ وہ کرتا ہے کرنے دیں گے او راس کو جہنم میں داخل کریں گے اور وہ بری جگہ ہے جانے کی۔ (نساء:115)

٭…ترجمہ: او رجو شخص الله او ر رسول کا کہنا نہ مانے گا او ربالکل ہی اس کے ضابطوں سے نکل جائے گا اس کو آگ میں داخل کریں گے، اس طور سے کہ وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا او راس کو ایسی سزا ہوگی جس میں ذلت بھی ہے۔ (النساء، آیت نمبر14)

٭… پھر اپنے محبوب نبی صلی الله علیہ وسلم کو اپنی زبان مبارک سے اپنے منصب رسالت اور مرتبہ رشد وہدایت کے اعلان کے لیے یہ الفاظ عطا فرمائے:
ترجمہ: آپ کہہ دیجیے کہ اے ( دنیا جہان کے) لوگو! میں تم سب کی طرف اس الله کا بھیجا ہوا(پیغمبر) ہوں۔ جس کی بادشاہی تمام آسمانوں اور زمین میں ہے۔ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہی زندگی دیتا ہے اور وہی مو ت دیتا ہے۔ (سورہٴ اعراف، آیت نمبر:158)

٭… ترجمہ: آپ فرما دیجیے کہ یہ میرا طریق ہے، میں ( لوگوں کو توحید) خدا کی طرف اس طور پر بلاتا ہوں کہ میں دلیل پر قائم ہوں اور میرے ساتھ والے بھی۔

٭… ترجمہ: آپ کہہ دیجیے کہ مجھ کو میرے رب نے ایک سیدھا راستہ بتلایا ہے۔ (الانعام، آیت نمبر:162)

٭…ترجمہ: آپ فرما دیجیے کہ اگر تم خدا تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو تم لوگ میری اتباع کرو، خدا تعالیٰ تم سے محبت کرنے لگیں گے اورتمہارے سب گناہوں کو معاف کر دیں گے او رالله تعالیٰ بڑے معاف کرنے والے ،بڑی عنایت فرمانے والے ہیں۔ (آل عمران، آیت:41)

٭… پھر الله تبارک وتعالیٰ نے اپنے محبوب وحبیب صلی الله علیہ وسلم کو عنایت لطف وکرم سے ان محترم الفاظ کے ساتھ مخاطب فرمایا:
ترجمہ: یٰسین، قسم ہے قرآن باحکمت کی کہ بے شک آپ منجملہ پیغمبروں کے ہیں ( اور) سیدھے راستہ پر ہیں ۔ (یٰسین، آیت:41)

٭… ترجمہ: اے نبی! بے شک ہم نے آپ کو اس شان کا رسول بنا کر بھیجا ہے کہ آپ امت کے لیے گواہ ہوں گے اور آپ (مومنین کے) بشارت دینے والے ہیں اور (کفار کے) ڈرانے والے ہیں۔(سب کو) الله کی طرف اس کے حکم سے بلانے والے ہیں اور آپ ایک روشن چراغ ہیں۔ (الاحزاب، آیت نمبر45)

٭… ترجمہ: آپ کی بعثت کا مقصد تمام انسانوں کے لیے بشیر ونذیر ہونا ہے۔ (سورة سبا، آیت نمبر:28)

٭…ترجمہ: او رہم نے ( ایسے مضامین نافعہ دے کر) آپ کو اور کسی بات کے واسطے نہیں بھیجا۔ مگر جہاں کے لوگوں (یعنی مکلفین) پر مہربانی کرنے کے لیے۔ (الانبیاء، آیت نمبر:107)

٭… ترجمہ: بے شک آپ اخلاق حسنہ کے اعلیٰ پیمانہ پر ہیں۔ (ن:4)

٭…اور ہم نے آپ کی خاطر آپ کی آواز بلند کی ۔ (الم نشرح:4)

٭… ترجمہ: اور عنقریب الله تعالیٰ آپ کو (آخرت میں بکثرت نعمتیں) دے گا، سو آپ خوش ہو جائیں گے ( والضحیٰ:5)

٭… ترجمہ: او رہم نے آپ کو سات آیتیں دیں، جو ( نماز میں) مکرر پڑھی جاتی ہیں (مراد سورہٴ فاتحہ) اور قرآن ِ عظیم دیا۔ (سورہٴ حجر،آیت نمبر:87)

٭…ترجمہ: اور الله تعالیٰ نے آپ پر کتاب اور علم کی باتیں نازل فرمائیں اورآپ کو وہ باتیں بتلائی ہیں جو آپ نہ جانتے تھے اور آپ پر الله تعالیٰ کا بڑا فضل ہے۔ (النساء، آیت نمبر:113)

٭…کثیر التعداد دشمنان ِ اسلام کی پیہم او ربے انتہا مخالفتوں ، ایذا رسانیوں اور معرکہ آرائیوں کے مقابلہ میں نبی برحق صلی الله علیہ وسلم نے نہایت قلیل عرصہ میں اپنے منصب رسالت واعلائے کلمة الحق میں جو بے مثال اور لازوال کام میابی حاصل کی۔ اس پر الله جل شانہ نے اپنے محبوب خاتم النبیین وسید المرسلین صلی الله علیہ وسلم کو اپنا خصوصی پروانہ خوش نودی اور رضائے کاملہ کی سند امتیازی عطا فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا:

ترجمہ: اے محمد(صلی الله علیہ وسلم)! جب الله تعالیٰ کی مدد اور فتح مکہ ( مع اپنے آثار کے) آپہنچے (یعنی واقع ہو جائے اور جو آثار اس فتح پر مرتب ہونے والے ہیں یہ ہیں کہ) آپ لوگوں کو الله کے دین (اسلام) میں جوق درجوق داخل ہوا دیکھ لیں ( تو اس وقت سمجھ لیجیے کہ مقصود دنیا میں رہنے کا اور آپ کی بعثت کا تکمیل دین ہے وہ پورا ہو گیا اور اب سفر آخرت قریب ہے اس کے لیے تیاری کیجیے اور) اپنے رب کی تسبیح وتحمید کیجیے اور اس سے مغفرت کی درخواست کیجیے(یعنی ایسے امور جو خلاف ِ اولیٰ واقع ہو گئے ہوں ان سے مغفرت مانگیے) وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے۔ (سورہٴ نصر)

پھر اپنے خاتم المرسلین رحمة للعالمین صلی الله علیہ وسلم کے ذریعہ سے مخلوق عالم پر اپنے تمام احسانات و انعامات کا اس طرح اعلان فرمایا:

٭… آج کے دن تمہارے لیے تمہارے دین کو میں نے کامل کر دیا اور میں نے تم پر اپنا انعام کر دیا اور میں نے اسلام کو تمہارا دین بننے کے لیے پسند کر لیا۔ (مائدہ، آیت نمبر:3)

٭… پھر الله جل شانہ نے انسانیت کے اس محسن اعظم صلی الله علیہ وسلم کو اپنے قرب ومحبت خصوصی کی خلعت سے سرفراز فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا:

ترجمہ: یقینا الله تعالیٰ اور اس کے فرشتے نبی پر دورد بھیجتے ہیں تو اے ایمان والو! تم بھی آپ صلی الله علیہ وسلم پر صلوٰة وسلام بھیجتے رہا کرو۔ (احزاب:56)

اللھم صل علیٰ محمد وعلیٰ آل محمد، کما صلیت علی ابراہیم وعلیٰ آل ابراھیم، انک حمید مجید، اللھم بارک علی محمد وعلی آل محمد، کما بارکت علی ابراھیم وعلیٰ آل ابراھیم، انک حمید مجید․

خالق کائنات الله تبارک وتعالیٰ نے تمام بنی نوع انسانی کو حصول ِ شرف انسانیت وتکمیل عبدیت کے لیے او راپنے تمام احسانات وانعامات سے مشرف اور بہرہ اندوز ہونے کے لیے جب ایسے خیر البشر نبی الرحمة صلی الله علیہ وسلم کو پیکر مثالی بنا کر مبعوث فرمایا تو ایمان لانے والوں پر ادائے شکروامتنان کے لیے جس طرح آپ پر صلوٰة وسلام بھیجنا واجب فرمایا ہے، اسی طرح ان کو ہر شعبہ زندگی میں آپ کی اطاعت واتباع کا بھی مکلف بنایا ہے۔

ان تصرحیات ِ ربانی سے بالکل واضح ہے جو بھی آپ سے جتنا قرب حاصل کرے گا وہ اسی قدر الله جل شانہ سے قریب ہو گا او رمحبوب بندہ بن جائے گا۔ گویا اتباع ِ سنت ہی روح عبادت ہے اور حاصل بندگی ہے اور بندہ کا جو فعل سنت کے خلاف ہے وہ فی نفسہ  عبادت نہیں ہے۔ بلکہ دانستہ خلاف سنت ہونے کے باعث موجب حرمان ضرور ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اتباع ِ رسول الله صلی الله علیہ وسلم افراد امت پرکن امور میں واجب اورکہاں بطور تقاضائے محبت مستحب ہے؟

سیرت ِ طیبہ کا ایک حصہ وہ عقائد واعمال ہیں جن کو آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے مامور شرعی کے طور پر ادا کیا اور جن کا ہر شخص مکلف ہے۔ ان کو سنن ہدیٰ کہا جاتا ہے او رایک حصہ ان امور کا ہے جو آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی خصوصیت وکرامت تھی۔ مثلاً صوم وصال وغیرہ۔ امت کو ان امور کی اجازت نہیں او رایک حصہ ان امو رکا ہے جن کو آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے امور شرعی کی حیثیت سے نہیں۔ بلکہ ”اتفاقیہ عادات“ کے طور پر اختیار فرمایا۔ یہ ”سنن زوائد“ کہلاتے ہیں۔ امت ان امور کی اگرچہ مکلف نہیں، مگر حتی الامکان ان امور میں بھی آپ صلی الله علیہ وسلم کی پیروی کرنا عشق ومحبت کی بات ہے، محبوب کی ہرادا محبوب ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صحابہ کرام رضی الله عنہم ایسے اتفاقیہ امور میں بھی آپ کی پیروی کا بہت اہتمام فرماتے تھے۔ اور حضرات عارفین آپ کی ادنی ٰ سے ادنیٰ سنت کی پیروی کو ہفت اقلیم کی دولت سے زیادہ قیمتی سمجھتے ہیں، مگر یہ فیصلہ کرنا کہ کونسی چیز ”سنن ہدیٰ“ میں داخل ہے اور کونسی ”سنن زوائد“ میں؟ کونسا حکم عام امت کے لیے ہے اور کون سا آپ صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ مخصوص تھا؟ یہ ماوَ شما کا کام نہیں، بلکہ حضرات مجتہدین اور ائمہ دین کا منصب ہے۔ او ران اکابر نے ان تمام اُمور کی بخوبی نشان دہی فرما دی ہے۔

یہ بھی یاد رہنا چاہیے کہ ”سنن ہدیٰ“ کے دو پہلو ہیں۔ ایک یہ معلوم کرنا کہ فلاں چیز فرض ہے یا واجب ، موکد ہے یا مستحب؟ او رپھر جو چیز جس مرتبہ کی ہوا سے اسی کے مرتبہ کے موافق عمل میں لانا۔ یہ پہلو بہت ہی لائق اہتمام ہے کہ اس میں خلط ملط ہونے سے سنت وبدعت کا فرق پیدا ہو جاتا ہے اور دین میں تحریف کا راستہ کھل جاتا ہے۔ دوسرا پہلو ہر عمل کے بارے میں یہ جاننا ہے کہ آخرت میں اس پر کیا ثواب یا عقاب مرتب ہو گا؟ یہ پہلو بھی اپنی جگہ بہت اہم ہے، کیوں کہ اعمال کی ترغیب وترہیب کا اسی پر مدار ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ کسی نیک عمل کی جو فضیلت یا کسی بُرے عمل کی جو سزا قرآن ِ کریم اور حدیث نبوی صلی الله علیہ وسلم میں آئی ہے اسی کو بیان کیا جائے۔ اپنی رائے سے اس میں کمی بیشی کر دینا غلطی ہے۔

امور مذکورہ کے مطابق رسول مقبول صلی الله علیہ وسلم کے تمام مکارم اخلاق، انداز ِ اطاعت وعبادت، حالات ِ جلوت وخلوت او رتمام اعمال واقوال اور تعلقات ومعاملاتِ زندگی ہر قوم اور ہر طبقہ وہر جماعت اور ہر ہر فرد کے لیے، ہر زمانہ اور ہر وقت میں بہترین نمونہ ومثال ہیں۔ اسی لیے الله جل شانہ نے فرمایا:

﴿لقد کان لکم في رسول الله اسوة حسنة﴾
الله تعالیٰ ہم سب مسلمانوں کو اپنے محبوب نبی صلی الله علیہ وسلم کی تمام بابرکت سنتوں کی اتباع کی اور آپ کی پاکیزہ تعلیمات پر اخلاص وصدق کے ساتھ عمل کی توفیق وافروراسخ عطا فرمائیں او راس کی بدولت اس دنیا میں حیات وممات طیبہ اور آخرت میں اپنی رضائے واسعہ وکاملہ اور آپ کی شفاعت کبریٰ کی دولت لازوال نصیب فرمادیں۔ آمین

اللھم ارزقنا حبک وحب نبیک واتباع سنتہ وتوفنا علی ملتہ واحشرنا في زمرتہ آمین یا رب العالمین! بحق محبوب رب العالمین ورحمة للعالمین صلی الله علیہ وعلی اٰلہ واصحابہ اجمعین صلوٰة وسلاما کثیراً کثیرًا․