بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

نبی اکرم صلی ا لله علیہ وسلم کی حربی تدابیر

نبی اکرم صلی ا لله علیہ وسلم کی حربی تدابیر

محترم محمد معاذ محسن

نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم بطور عسکری قائد
جناب رسول کرم صلی الله علیہ وسلم اپنی امت کے لیے جس طرح مربی، معلم ومصلح کی حیثیت رکھتے ہیں، بالکل اسی طرح اپنی امت کے سپاہیوں کے لیے ایک جرنیل وکمانڈر اور سپہ سالار کی حیثیت بھی رکھتے ہیں۔ سیرت کے موضوعات پڑھتے ہوئے اکثر موضوع تو ہمارے گوشہٴ نظر سے گزر جاتے ہیں، مگر یہ موضوع عام طور پر عوام الناس کی نظروں سے پوشیدہ رہتا ہے، جب کہ یہ بھی انتہائی اہم موضوع ہے۔

حربی تدابیر کی ضرورت واہمیت
یہ بات توبالکل یقینی ہے کہ سرور کونین، حبیب کبریا، سرکار دو عالم صلی الله علیہ وسلم کو جنگوں اور غزوات میں تائید اور نصرت ِ خداوندی حاصل تھی، مگر پھر بھی آپ صلی الله علیہ وسلم نے حربی تدابیر اختیار کیں اور ایسی شان دار تدابیر اختیار کیں کہ اگر ان تدابیر کو ایک جرنیل اور کمانڈر اختیار کرے تو وہ الله رب العزت کے فضل وحکم سے انتہائی شان دار فتح سے سرفراز ہو سکتا ہے۔ شرط بس یہ ہے کہ اس کی تمام ترکد وکاوش او رجنگ وجدال باطل کے خلاف ہو۔ اگر خدانخواستہ یہ تدابیر حق کے خلاف استعمال کی گئیں تو اگرچہ ظاہر میں تو اس کو فتح حاصل ہوسکتی ہے، مگر پھر ابدی ناکامیاں اس کا مقدر ہوں گی۔

آپ صلی الله علیہ وسلم نے جنگی تدابیر کیوں اختیار کیں؟
حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کو باوجود اس کے کہ تایید خدا وندی حاصل تھی، مگر پھر بھی مشفق کائنات نے جنگی اسکیمیں اختیار کیں تاکہ کفار اورمشرکین پر حجت او راپنی امت کے سپاہیوں کے لیے تعلیم ہو۔ چناں چہ ضروری ہے کہ ہمیں بھی اپنے محسن ومشفق صلی الله علیہ وسلم کی جنگی تدابیر معلوم ہوں ،تاکہ بوقت ضرورت ہم ان کی اتباع کرسکیں۔

جنگی تدابیر آپ صلی الله علیہ وسلم کی حقانیت کی دلیل
آپ علیہ السلام کی جنگی تدابیر اتنی شان دار اور اتنی مضبوط تھیں کہ یہ تدابیر صرف انتہائی تجربے کار اور مدبر ہی سوچ سکتا ہے۔ اگر کفار عالم صرف آپ صلی الله علیہ وسلم کی ان تدابیر پر غور وفکر کریں کہ بغیر کسی خاص تجربے اور بقاعدہ جنگی تعلیم کے ایسی تدابیر صرف الله کے رسول ہی اختیار کرسکتے ہیں، تو وہ بے اختیار کلمہ پڑھ لیں۔ اس مختصر تحریر میں آپ علیہ السلام کی تمام تر جنگی اسکیموں کا احاطہ ممکن نہیں، بلکہ اس کام کے لیے تو شاید کئی جلدیں بھی ناکافی ثابت ہوں، تاہم یہاں بس سرسری تذکرہ اور اشارہ مقصود ہے۔

دوران ہجرت دشمن سے حفاظت کی تدابیر
جب مکہ کی سرزمین آپ صلی الله علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب رضی الله عنہم پر تنگ ہو گئی تو آپ نے اپنے اصحاب رضوان الله علیہم اجمعین کو مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کا حکم دیا اور پھر کفار مکہ کی آپ علیہ السلام کو نعوذ بالله قتل کرنے کی سازش کے بعد خو دبھی صدیق اکبر رضی الله عنہ یار غار کے ساتھ ہجرت کاارادہ کیا ، تو آپ صلی الله علیہ وسلم نصرت خداوندی سے دشمنوں کا گھیراتوڑ کر صدیق اکبر کو ہم راہ لے کر ہجرت کے لیے نکل پڑے۔ اس موقع پر آپ علیہ السلام نے انتہائی شان دار تدبیر اختیار فرمائی کہ مدینہ کی طرف جانے کا اصل اور مانوس راستہ چھوڑ کر غیر مانوس او رگنجان آباد دشوار راستہ اختیار کیا، کیوں کہ کفار مکہ کو جب آپ علیہ السلام کے رخصت ہونے کا پتہ چلا تو وہ پاگلوں کی طرح اصل راستوں پر آپ صلی الله علیہ وسلم کو تلاش کرنے لگے او ران کے وہم وگمان میں بھی نہ گزرا کہ آپ علیہ السلام دوسرا راستہ اختیار کریں گے۔ یہ راستہ مکہ کے نشیبی جانب سے، محلہ سفلہ سے ،جنوب کی طرف جبل ثور سے ہوتا ہو ا جاتا ہے۔

دشمن سے تحفظ کی تدابیر
جب آپ صلی الله علیہ وسلم مدینہ پہنچے تو وہاں صحابہ کرام رضوان الله علیہم اجمعین کافی کس مپرسی کی حالت میں تھے، ایک تو صحابہ کرام رضوان الله علیہم اجمعین کی تعداد کافی کم تھی اور دوسرا یہ کہ آپ علیہ السلام کے حکم پر اپنا سارا مال ومتاع مکہ چھوڑ آئے تھے اور حضور صلی الله علیہ وسلم کو اپنے انصار بھائیوں کا بھی خدشہ تھا کہ مشرکین کی وجہ سے ان کو بھی اذیت ہو گی اور انہی وجوہات کی بنا پر آپ علیہ السلام کو مشرکین کے حملہ کازیادہ خدشہ تھا، تو آپ علیہ السلام نے درج ذیل تدابیر اختیار فرمائیں:

٭… مدینہ کے اطراف میں جو قبائل تھے ان سے آپ صلی الله علیہ وسلم نے حلیفانہ اتحاد یا کم از کم ناطر فداری (غیر جانب داری) کا معاہدہ کر لیاکہ اگر کفار نے حملہ کیا تو یا تو ہمارا ساتھ دیں گے یا کم از کم ان کی طرف داری نہیں کریں گے۔

٭… قریش کے تجارتی قافلے مدینہ کے سامنے ساحل کے پاس سے ہوتے ہوئے شام کی طرف جاتے تھے، تو آپ صلی الله علیہ وسلم ان قافلوں کو ڈرانے اور دھمکانے کے لیے چھوٹے چھوٹے دستے بھیجتے ، جس میں نہ تو کسی قسم کی لوٹ مار ہوتی اور نہ ہی کشت وخون اور اس کا مقصد صرف قریش پر اپنی دھاک بٹھانا تھا۔

٭…دشمنوں کی نقل وحرکت کی خبر رسانی کی غرض سے مسلح اور جمعیت کی صورت میں جاسوسوں کے دستے بھیجے جاتے ۔

٭… دشمنوں کے حملہ کی خبر سن کر مدافعت کے لیے پیش قدمی کرکے فوجیں بھیج دی جاتی تھیں۔

٭…قریش کا اکثر تجارتی قافلہ مدینہ کے اطراف سے ہوتا ہوا شام کی طرف جاتا تھا، تو آپ صلی الله علیہ وسلم اس کو رکوا کر مجبور کرواتے، تاکہ قریش دخول کعبہ کی پابندی کو ختم کریں جو انہوں نے مسلمانوں پر لگا رکھی تھی۔

٭… آپ صلی الله علیہ وسلم کی ایک انتہائی اہم تدبیروں میں سے یہ تھا کہ آپ علیہ السلام ان قبائل میں انتہائی مصلحت کے ساتھ صلح کروادیتے، جن میں زمانے سے خانہ جنگی چل رہی ہوتی او رپھر وہ قبائل آپ صلی الله علیہ وسلم کو اپنا محسن سمجھ کر سردار بنا لیتے۔ اس کے بعد آپ علیہ السلام ان میں اشاعت ِ اسلام کی محنت فرماتے۔

آپ صلی الله علیہ وسلم کی عمومی حربی تدابیر
آپ صلی الله علیہ وسلم کی وہ تدابیر جن کو آپ نے تقریباً تمام ہی جنگوں میں اختیار فرمایا، مندرجہ ذیل ہیں:

٭…اصول جنگ کے موافق اکثر غزوات میں آپ صلی الله علیہ وسلم اپنا ارادہ پہلے سے نہ بتاتے تھے کہ کہاں حملہ کرنا ہے۔

٭…غیر سمت چلنا، نامانوس راستوں سے گزرتے ہوئے اچانک دشمن کے سروں پر پہنچ جاتے۔

٭…فوج کی تعداد کی کمی اور اس کی بنا پر کم زوری کا علاج مختلف تدابیر سے کرنا، مثلاً چولہوں کو زیادہ تعداد میں روشن کروانا یا رات میں پہاڑی سے اترتے ہوئے شمعیں بڑی تعداد میں جلوا دینا اور دشمن کی تیاری سے پہلے اس کا پیچھا کرنا اور اس کو مرعوب کر دینا۔

٭… محکمہٴ جاسوسی کے ذریعے دشمن کی نقل وحرکت معلوم کرکے اچانک حملہ کر دینا، مگر رات کو حملہ نہ کرنا آپ کی امتیازی سنت رہی ہے۔

٭… اکثر اوقات میں قدرت کی عطا کردہ جغرافیائی پوزیشن سے پورا فائدہ اٹھانا۔

٭… اونٹوں کی کمی کی وجہ سے کئی کئی افراد کا سوار ہونا یا باری باری سوار ہونا، رسد کی کمی پر فاقہ کشی اختیار کرنا۔

٭…آلات جنگ استعمال کرنا اور جنگوں میں اپنا شعار مقرر کرنا، تاکہ دوست اور دشمن میں شناخت ہو سکے۔

٭… بہادر، تجربے کار او رقابل سپاہیوں او رصحابہ کی موجودگی اور ان کے مفید مشوروں سے فائدہ اٹھانا۔

یہ تو آپ صلی الله علیہ وسلم کی عام تدابیر تھیں ،جو کہ نمونے کے طور پر ذکر کی گئیں۔ اس کے علاوہ آپ علیہ السلام کی ہر غزوہ میں علیحدہ انتہائی شان دار اور منفردتدابیر ہیں تو جہاں ہمیں آپ صلی الله علیہ وسلم کی سیرت کے اور گوشے معلوم ہونا ضروری ہیں، تو اسی طرح ہمیں آپ علیہ السلام کی امت ہونے کے ناطے یہ گوشہ بھی معلوم ہونا چاہیے ، تاکہ اگر اعلائے کلمة الله کے لیے جنگ لڑنا پڑے تو ان تدابیر کو استعمال کرکے دنیا وآخرت کی کام یابی اور سرفرازی ہمارا مقدر بنے۔